رہبر شہید آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے ان کی شخصیت کے بعض پہلوؤں کے بارے میں باقر العلوم یونیورسٹی میں اسلامی تمدن کے مطالعے کے پروفیسر حبیب اللہ بابائی کا انٹرویو۔
1 مئی 2026
خدا کا درود و سلام ہو سرور کائنات، ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کی آل اطہار پر۔ میں شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے چالیسویں کی مناسبت سے اختصار کے ساتھ کچھ باتوں کی یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں۔ آپ کی شہادت رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں یا اس تاریخ کو واقع ہوئی جب اکثر اسلامی ملکوں میں دس رمضان المبارک تھی اور ماہ شوال کے ان ایام میں آپ کا چالیسواں ہے۔
30 اپریل 2026
رہبر شہید آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رحمت اللہ علیہ کی شہادت کے چہلم کے موقع پر تہران میں فلسطی کی تحریک جہاد اسلامی کے نمائندے جناب خالد القدومی سے khamenei.ir نے ایک خصوصی انٹرویو لیا، جو آپ کی خدمت میں پیش ہے۔
19 اپریل 2026
"ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل اللہ امواتاً بل احياء عند ربھم يرزقون" اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انھیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے یہاں رزق پا رہے ہیں۔ (سورۂ آل عمران، آیت 169)
19 اپریل 2026
سوال: ڈاکٹرصاحب! شہید رہبر انقلاب اسلامی نے 2010 کی دہائی میں یورپ والوں اور امریکیوں کے نام دو خط لکھے تھے، جو بنیادی طور پر ان ممالک کے نوجوانوں کے نام تھے۔ براہ کرم وہ سیاسی، سماجی اور مذہبی پس منظر واضح کریں جس میں یہ خط لکھے گئے؟ آپ کے خیال میں پہلے اور دوسرے خط میں شہید خامنہ ای کے اہداف کیا تھے؟
15 اپریل 2026
تمہید طاقتور مظلوم یعنی امام شہید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی شہادت کے جانکاہ غم کے ان ایام میں، یہ مقالہ ان کی شخصیت کی تعمیر اور اس عظیم المرتبت شہید کی سیاسی و سماجی زندگی اور قیادت میں قرآن کے کردار کے ایک گوشے کو بیان کرنے کے مقصد سے لکھا جا رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ جو اپنی ظاہری زندگی کے آخری لمحے تک قرآن کے ساتھ جیے، قرآن سے ثابت قدمی لی، اپنے عوام کو قرآنی استقامت کی دعوت دی اور اس مزاحمت کو شہادت کے وقت اپنی بند مٹھی سے ظاہر کیا، قرآن کے ساتھ محشور ہوں اور بہشت الہی میں حاملان قرآن کے اعلیٰ مقام پر سکونت اختیار کریں۔
13 اپریل 2026
عدلیہ کی انسانی حقوق کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹر محمد جواد لاریجانی نے، جو کافی طویل عرصے سے شہید رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں، .khamenei.ir سے بات کرتے ہوئے ان کی شخصیت، نمایاں اور ممتاز خصوصیات اور بعض بے مثال پہلوؤں کا ذکر کیا ہے۔
12 اپریل 2026
ایک کلیدی مسئلہ جس پر شہید آيت اللہ خامنہ ای خاص طور پر خواتین کے ساتھ اپنی گفتگو میں توجہ مرکوز کرتے تھے، وہ چیز تھی جسے وہ بحران زن (عورت کا بحران) کہا کرتے تھے۔ 22 مئی 2011 کو انھوں نے کہا تھا کہ اگرچہ عام طور پر موسمیاتی تبدیلیوں، توانائی یا پانی جیسے بحرانوں کی بات کی جاتی ہے لیکن انسانیت کے اصل بنیادی مسائل، روحانیت، اخلاق اور انسانی تعلقات کے میدان میں پوشیدہ ہیں۔ معاشرے میں عورت کا مسئلہ اور اس کی عزت و وقار ایک مرکزی اور بہت گہرا بحران شمار ہوتا ہے۔
11 اپریل 2026
ایسے عالم میں جب کشمیر کی بہت سی خواتین کے پاس بچت کے لیے سونے کا ایک بھی زیور نہیں ہے، عورتوں، لڑکیوں یہاں تک کہ چھوٹی بچیوں کی ایسی قطاریں بن گئی ہیں جو اپنا سب سے قیمتی اثاثہ ایران اور ایرانی عوام کو ہدیہ کر رہی ہیں۔
30 مارچ 2026
رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے اپنے پیغام نوروز میں پاکستان افغانستان جنگ پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس مسئلہ کو حل کرنے کےلئے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ معروف ڈپلومیٹ اور تجزیہ نگار جناب محسن پاک آئين نے اس موضوع پر اپنے انٹرویو میں اس صورت حال کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
27 مارچ 2026
ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے پچیسویں دن دو اہم مزاحمتی محور بھی امریکی و اسرائیلی دشمن کے خلاف سرگرم ہو گئے ہیں: لبنانی محاذ اور عراقی محاذ۔ مزاحمت کا ایک اور ضلع یمن کے محاذ میں پہلے دن سے ہی ایرانیوں کی قومی مزاحمت کے ساتھ رہا ہے۔ البتہ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس یمنی محور کے حالات اور اس پر جس طرح کی ذمہ داری ہے اس کے پیش نظر جنگ میں اس کے شامل ہونے کے لیے جن حالات کی ضرورت ہے وہ ابھی میدانی طور پر سامنے نہیں آئے ہیں۔ تاہم اس بات میں کوئي شک نہیں ہے کہ یہ محاذ بھی خود کو اس جنگ کا ایک حصہ مانتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اور حالات کے حساب سے وہ جنگ میں شامل ہونے کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔
25 مارچ 2026
جو چیز آپ کی نظروں کے سامنے ہے وہ رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای دام ظلہ کا اب تک کا واحد انٹرویو ہے۔ وہ ہمیشہ میڈیا میں آنے اور کسی بھی طرح کے انٹرویو سے پرہیز کرتے رہے ہیں۔ اس غیر معمولی انٹرویو میں، جو آيت للہ سید جواد خامنہ ای رحمت اللہ علیہ کے علمی اور معنوی مقام کو خراج عقیدت پیش کرنے کے موقع پر انجام پایا، وہ صرف اپنے مرحوم دادا کے حق کی ادائیگی کے لیے یہ انٹرویو دینے کو تیار ہوئے۔ سنہ 2021 کے اوائل میں انجام پانے والے اس انٹرویو میں انھوں نے مرحوم آيت اللہ سید جواد خامنہ ای کے بارے میں گفتگو کرنے کے دوران رہبر شہید انقلاب کے بارے میں بھی بہت سی دلچسپ باتیں بیان کیں۔ کئی گھنٹوں کے اس انٹرویو کے بعض حصے KHAMENEI.IR کے قارئین کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔
20 مارچ 2026
ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔ وہ جنگ جو ایران کے خلاف ہمہ گير حملوں اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کے قتل سے شروع ہوئی اور دشمن سوچ رہا تھا کہ وہ 48 گھنٹوں میں اپنا مقصد حاصل کر لے گا اور اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنے اور اس کے ٹکڑے کرنے کا اس کا گزشتہ 47 سال کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو جائے گا تاہم جو کچھ عملی طور پر سامنے آيا وہ بالکل مختلف تھا۔ ایسے عالم میں جب سپریم کمانڈر اور متعدد سینئیر کمانڈر درجۂ شہادت پر فائز ہو چکے تھے لیکن کمانڈ اور کنٹرول کی زنجیر پہلے سے لگائے گئے اندازوں اور منصوبہ بندیوں کی بنیاد پر نہ اس نے علاقائي سطح پر ایک بھرپور اور ہمہ گیر جنگ شروع کر دی۔
8 مارچ 2026
"ویتنام کی جنگ کے بعد کا سب سے بڑا سانحہ" اور "عالمی تاریخ میں ایک اسکول کی بچیوں کا سب سے بڑا قتل عام" یہ وہ جملے ہیں جو ایک برطانوی سیاستداں نے میناب کے شجرۂ طیبہ پرائمری گرلز اسکول پر بمباری کے سلسلے میں استعمال کیے ہیں۔
6 مارچ 2026
دشمن پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آ گیا ہے، خطے میں فوجی سازوسامان کی ترسیل سے لے کر سیاسی دھمکیوں اور بڑبولے پن تک اور شاید سب سے وسیع اور پیچیدہ، بے تحاشا اور ہمہ گير نفسیاتی اور میڈیا آپریشنز تک۔ طریقے اور اسٹریٹیجیز مختلف ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کر رہے ہیں لیکن ہدف ایک ہی ہے؛ سامراجی پالیسیاں مسلط کرنا اور ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا۔ وہی چیز جس کا اعلان امریکی صدر نے بارہ روزہ جنگ کے دوران "غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے" کی صورت میں کیا تھا اور اس کا خواب دیکھا تھا لیکن آخر کار ایران کی مسلح فورسز کی مردانہ وار استقامت اور ایرانی عوام کی مزاحمت و قومی اتحاد کے نتیجے میں دشمن کو پسپائی اختیار کرنے اور جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا۔
25 فروری 2026
ایران کی حکمت عملی، دفاعی ہے۔ ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنی اسٹریٹیجی کو جامۂ عمل پہنانے کی خاطر اپنے دفاع کے لیے صرف دفاعی حکمت عملی استعمال کرے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو گزشتہ کچھ مہینوں میں ملک کے فوجی اور دفاعی حکام مختلف انداز میں بیان کر چکے ہیں۔
24 فروری 2026
ایپسٹین جزیرے پر منظم جرائم کا کیس صرف ایک جنسی رسوائی یا کچھ دولت مندوں کی جنسی بے راہ روی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ کیس اب مغربی انسانی حقوق کے نظریات کی تاریخی مذمت میں ایک مکمل دستاویز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جہاں مغرب کے سیاستدانوں، سرمایہ داروں، میڈیا سیلیبریٹیز اور دانشوروں کا ایک نیٹ ورک، جو برسوں تک خود کو "انسانی حقوق" اور "خواتین کے حقوق" کا علمبردار بتاتا رہا ہے، آج جنسی استحصال، لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی غلامی کے سیاہ ترین مقدمات میں سے ایک میں، ان کا نام براہ راست یا بالواسطہ طور پر سامنے آ چکا ہے۔ جو کچھ شائع شدہ دستاویزات، فلائٹس کی فہرست اور باقی ماندہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے، وہ محض جنسی بدعنوانی کا ایک نیٹ ورک نہیں بلکہ اس نظام کی حقیقی تصویر ہے جو کئی عشروں سے خواتین کے حقوق اور آزادی کا علمبردار ہونے کا دعویدار رہا ہے۔
23 فروری 2026
اجتماعی حفظان صحت قومی ترقی کے اہم ترین اشاریوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ایسا اشاریہ ہے جو نہ صرف عوام کے معیار زندگی کا تعین کرتا ہے بلکہ سماجی انصاف قائم کرنے اور عوام کو خدمات فراہم کرنے میں حکومتوں کی کارکردگی کی بھی عکاس کرتا ہے۔ ایران میں حفظان صحت اور میڈیکل کے شعبے کی موجودہ حالت اور اسلامی انقلاب سے قبل کی صورتحال سے اس کا موازنہ یہ بتاتا ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران نہ صرف حفظان صحت اور میڈیکل کے اشاریوں کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوا ہے بلکہ اس نے تاریخ کی سخت ترین پابندیوں کے دوران حفظان صحت اور علاج معالجے کے شعبے میں انصاف اور خود انحصاری کا ایک مؤثر نمونہ بھی پیش کیا ہے۔ یہ ایک قابل ذکر تبدیلی ہے جسے مغرب کے دعوؤں کے برخلاف ٹھوس اعداد و شمار سے بھی ثابت کیا جا سکتا ہے۔
8 فروری 2026
انسان کو نجات دہندہ کی ضرورت انسانی تاریخ میں شاید شاذ و نادر ہی ایسا ہوا ہوگا کہ جب ساری دنیا میں انسانوں کو اور انسانی معاشروں کو اس شدت کے ساتھ ایک نجات دہندہ کی ضرورت کا احساس ہوا ہو۔ ایک نجات دہندہ کی ضرورت کا احساس، امام مہدی کی ضرورت کا احساس، دست قدرت پروردگار کی ضرورت کا احساس، ایک معصوم کی امامت کی ضرورت کا احساس، عصمت اور ہدایت الہی کی ضرورت کا احساس۔ تاریخ میں بہت کم ہی ایسے دور ہوں گے جب انسان کو اس عظیم حقیقت کا اس شدت کے ساتھ احساس ہوا ہو۔ (9 اپریل 2020)
5 فروری 2026
صدر مملکت ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے KHAMENEI.IR سے ایک تفصیلی گفتگو کی جس میں انھوں نے ملک کے مختلف مسائل کے ساتھ ہی اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ صدر مملکت کے اس انٹرویو کے اہم حصے پیش کیے جا رہے ہیں۔
27 دسمبر 2025
رہبر انقلاب اسلامی کی ویب سائٹ KHAMENEI.IR نے لبنان کے مصنف اور سیاسی تجزیہ نگار طارق ترشیشی سے ایک انٹرویو کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ صیہونی حکام سنہ 1948 سے ہی پورے فلسطین پر غاصبانہ قبضے اور گریٹر اسرائيل کی تشکیل کے درپے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "دو ریاستی راہ حل" صرف ایک سیاسی وہم ہے اور فلسطینی قوم کے حق کی بازیابی اور مقبوضہ علاقوں کی آزادی کی واحد راہ مسلحانہ مزاحمت ہے۔ ذیل میں اس انٹرویو کے اہم حصے پیش کیے جا رہے ہیں۔
1 نومبر 2025
رہبر انقلاب نے 23 ستمبر 2025 کو ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "جب ہم کہتے ہیں کہ (امریکا سے مذاکرات) ہمارے فائدے میں نہیں ہیں، ہمارے لیے سود مند نہیں ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی فریق مذاکرات کے نتائج پہلے ہی سے طے کر چکا ہے، یعنی اس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ صرف ان مذاکرات کو قبول کرتا ہے اور وہ ایسے مذاکرات چاہتا ہے جن کا نتیجہ ایران میں جوہری سرگرمیوں اور یورینیم کی افزودگی کا خاتمہ ہو۔ یعنی ہم امریکا کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور اس سے ہونے والی گفتگو کا نتیجہ وہی بات ہو جو اس نے کہی ہے کہ "یہ ہونا چاہیے!" یہ پھر مذاکرات نہیں رہے، یہ ڈکٹیشن ہے، یہ زبردستی ہے۔" اسی مناسبت سے KHAMENEI.IR نے ایران کی خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل کے سربراہ اور سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر کمال خرازی سے ان کے ماضی کے تجربات کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کے اصولوں اور اسی طرح بارہ روزہ جنگ سے ملنے والے سبق اور عبرتوں کے بارے میں گفتگو کی ہے۔
18 اکتوبر 2025
"اس جنگ کے اہم نکات میں سے ایک رہبر معظم کی تدابیر تھیں۔ انھوں نے پہلے دن سے ہی بہت غور سے امور پر نظر رکھی، تدبیر کی، کمانڈروں کو مقرر کیا، جنگی امور کی انجام دہی کی اور عوام سے بات کی۔ لہٰذا ان حالات میں، اس رہنما اور اس رہبر کی مکمل حمایت کی جانی چاہیے، البتہ اس بات کا عقلی پہلو بھی بہت مضبوط ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ سیاسی معاملات میں لوگوں کی مختلف آراء ہوں لیکن جب ہم ایک بڑے بحران میں ہوں تو ہمیں ضرور اس شخص کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے جو رہبر ہے اور درحقیقت جنگ کی قیادت کر رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ زمانے کے حالات کی سمجھ کا ایک اہم حصہ ہے۔"
30 اگست 2025