شہید امام خامنہ ای؛ دور حاضر کے عظیم اسلامی دانشور، مفکر اور ایک عظیم انقلابی
عدلیہ کی انسانی حقوق کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹر محمد جواد لاریجانی نے، جو کافی طویل عرصے سے شہید رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں، .khamenei.ir سے بات کرتے ہوئے ان کی شخصیت، نمایاں اور ممتاز خصوصیات اور بعض بے مثال پہلوؤں کا ذکر کیا ہے۔
سوال: بسم اللہ الرحمن الرحیم جناب ڈاکٹر صاحب، وقت دینے کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔ 28 فروری 2026 کو رہبر انقلاب اسلامی شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای، امریکا اور صیہونی حکومت کے دہشت گردانہ حملے میں اپنے دفتر میں شہید کر دیے گئے اور 36 سال 8 مہینے اور 27 دن تک اسلامی انقلاب کی قیادت کی سنگین ذمہ داری نبھانے کے بعد شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ اگر آپ مختصراً ایک جملے یا ایک پیراگراف میں اپنی نظر میں شہید رہبر انقلاب کی توصیف کرنا چاہیں تو کیا کہیں گے؟
جواب: بسم اللہ الرحمن الرحیم، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بلاشبہ میرے لیے شہید امام کی شخصیت کے بارے میں بات کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ جب ان کا نام آتا ہے تو ہمارا زخم تازہ ہو جاتا ہے اور ہمیں شدید غم گھیر لیتا ہے، جس کا اثر ہماری سوچ اور گفتگو پر پڑتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود ہمیں اپنی نسل، اپنی ملت اور دنیا کے سامنے انسانیت کے اس تابناک گوہر کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ اگر میں آپ کے سوال کا مختصر جواب دینا چاہوں تو وہ یہ ہے کہ ہمارے عظیم شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای، ہمارے شہید امام، دین اسلام کے عصر حاضر کے ایک عالم اور مکمل معنی میں ایک انقلابی تھے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو انھوں نے اپنے کئی بیانوں میں اشارہ کیا تھا کہ "میں ایک انقلابی ہوں۔" یہ بہت اہم ہے کہ انقلاب کے بارے میں ان کا کیا تصور تھا اور وہ آخری لمحے تک انقلابی کیوں رہے؟
وہ دور حاضر کے ایک عظیم عالم تھے، اس معنی میں کہ انھوں نے دین اسلام کو گہرائی سے سمجھا تھا، اس کے تمام پہلوؤں کو، بنیادی پہلوؤں، تاریخی جہتوں اور ان مختلف پہلوؤں کو جو آج کے انسان اور عالم اسلام کو درپیش حالات کے مطابق ہیں، وہ ان مسائل کو بیان کرتے تھے، چاہے انقلاب سے پہلے ہو یا انقلاب کے بعد۔ وہ ایسے شخص نہیں ہیں جن کی سرگرمیاں انقلاب کے بعد شروع ہوئی ہوں۔ انقلاب سے پہلے ان کی تقاریر اور وسیع سرگرمیاں ان کی انتہائی اہم اور عمیق شخصیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہ اس معنی میں انقلابی تھے کہ وہ سمجھ چکے تھے کہ جب تک ہمارا ملک اور عالم اسلام کے ممالک غیروں کے تسلط سے باہر نہیں نکلیں گے، ان کی پیشرفت کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس لیے ان کا ماننا تھا کہ ترقی اور خوشحالی کے لیے ہمارا، مغربی ممالک کی طرف جانا اور یہ کہنا کہ "ہم کچھ تیل دیتے ہیں تاکہ سرمایہ آئے"، یہ فارمولے کارگر نہیں ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں تسلط پسندی کے ہاتھ کاٹنے ہوں گے اور یہ ممکن ہے۔
البتہ یہ اس کا واحد ستون نہیں ہے۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ، جو درحقیقت ہمارے شہید امام کے اصل استاد تھے، ملک کی پیشرفت اور اس کے راستوں کے بارے میں ایک خاص نظریہ رکھتے تھے۔ اصل میں انقلاب کے بارے میں امام خمینی کی فکرمندی ہماری قوم کی پسماندگی پر توجہ سے شروع ہوئی تھی۔ یعنی انقلاب سے کئی سال پہلے ان کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ ہم جو کبھی دنیا کے علم، دانش اور طاقت کا مرکز تھے، پچھلے 300 برس میں اس افلاس اور پسماندگي کا شکار کیوں ہوئے؟ ایک گروہ مغرب گیا تھا اور واپس آ کر کہتا تھا کہ اسلام اصل رکاوٹ ہے اور ہمیں از سر تا پا یورپی بن جانا چاہیے، یہاں تک کہ زبان اور رسم الخط بھی بدل دینا چاہیے۔ وہ اس طرح کی دلیلوں کو تسلیم نہیں کر سکتے تھے۔ وہ اصل جڑ کی تلاش میں تھے اور اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ "تسلط پسندی" پسماندگی کی پہلی وجہ ہے، مغربی ممالک اور غیروں کا تسلط، ترقی و پیشرفت میں اصل رکاوٹ ہے اور اسے ہر صورت میں جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے۔
البتہ یہ پہلا ستون ہے۔ اب فرض کیجیے کہ ہم نے تسلط کو ختم کر دیا، پھر کیا ہوگا؟ اب کس چیز کی ضرورت ہے؟ اگلی ضرورت ایک اچھی حکومت ہے۔ امام خمینی کی نظر میں اچھی حکومت وہ تھی جو قانونی ہو اور عوامی ہو۔ یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کے معنی "انقلابی ہونے" میں وجود پاتے ہیں۔ ہمارے شہید امام نے وہ تمام باتیں جو میں نے عرض کیں، اپنی رفتار، گفتار اور افکار میں سمو رکھی تھیں۔ یہ بھی کافی نہیں ہے۔
تیسرے یہ کہ امام خمینی کا ماننا تھا کہ پیشرفت کے لیے اگر ہم نے اچھی حکومت بنا بھی لی، تب بھی ہمیں "جہادی" انداز میں کام کرنا ہوگا۔ درحقیقت یہ تین ستون ترقی کے بارے میں امام خمینی کا نظریہ ہیں۔ ہمارے شہید امام نے اپنی قیادت کے دوران نظریاتی اور عملی طور پر بالکل انہی چیزوں کو وسعت دی۔ یہ دنیا میں صرف ایران کی نہیں بلکہ ہم عصر اسلامی فکر کی ایک بہت بڑی خدمت ہے۔ ہمارے رہبر شہید کی یہ فکر اور یہ نسخہ ہر اسلامی ملک بلکہ غیر اسلامی ممالک کے لیے بھی بہت راہ گشا ہے۔ یہ ایک مکتب ہے۔ یہ صحیح ہے کہ امام خمینی اس مکتب کے بانی تھے لیکن وہ پہلو، باریکیاں، وسعتیں اور جدت طرازیاں جو ہمارے شہید امام نے اس میں شامل کیں، بہت اہم ہیں۔ اس لیے میری نظر میں اگر میں آپ کے جواب کو ایک جملے یا آدھے جملے میں سمیٹنا چاہوں تو: ہمارے شہید امام دور حاضر کے ایک عظیم اسلامی دانشور و مفکر اور ایک عظیم انقلابی تھے۔
سوال: رہبر شہید انقلاب اسلامی اس انقلاب اور حکومت کے محور تھے جس نے برسوں سے مغرب کے تسلط پسندانہ نظام کو چیلنج کر رکھا تھا، ایسی صورتحال میں شہید خامنہ ای کی مغرب کے بارے میں سمجھ بہت اہم ہے، وہ سیاسی، ثقافتی اور حکمرانی کے نقطۂ نظر سے مغرب کو کیسے دیکھتے تھے؟
جواب: مغرب بعض ممالک کا ایسا مجموعہ ہے جس کا محور امریکا ہے، اس کا انجن صیہونی حکومت اور عالمی صیہونیت ہے اور اس کے پاس مغربی کارندے ہیں جیسے فرانس، برطانیہ، جرمنی، ان کے نام ہے امریکا کے اتحادی، لیکن یہ کارندے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر مغرب کے تسلط کی تعریف کرتے ہیں۔ مغرب کی تسلط پسندی کیا ہے؟ سب سے پہلے "ثقافتی تسلط" ہے، مغرب کا ماننا ہے کہ دنیا کی دوسری قوموں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی کی بنیاد خود طے کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک لبرل سیکولر فکر ہے، یہی ہر جگہ حاکم ہونی چاہیے۔ تو قوموں کو یہ حق کیوں نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی گزارنے کا طریقہ خود منتخب کریں؟ تو دیکھیے، مغرب کے ساتھ ہمارے شہید امام کی مخالفت مثال کے طور پر کوئی صحافتی مخالفت نہیں تھی بلکہ وہ بالکل کلیدی نکات پر انگلی رکھتے تھے۔ مغرب والے "انسانی حقوق" کے دعویدار ہیں، تو شہید خامنہ ای نے کہا کہ انسانی حقوق کا کیا مطلب ہے؟ کیا ہم انسانی حقوق کے مخالف ہیں؟ آپ انسان کا سب سے اہم حق، جو کہ طرز زندگی کا انتخاب ہے، اس سے چھین لینا چاہتے ہیں تاکہ جو آپ کہیں وہی ہو۔
پیشرفت کے معاملے میں بھی یہی حال ہے، یعنی مغربی ممالک نے پیشرفت کے محور کو اپنے نام کر لیا، عالمی معیشت کے نام پر وہ خود محور بن گئے اور سوچ لیا کہ باقیوں کو اس کا حصہ ہونا چاہیے۔ اس کا نام انھوں نے "گلوبلائزیشن" رکھا۔ علوم و فنون کے معاملے میں انھوں نے مکمل اجارہ داری قائم کر رکھی تھی۔ علم و فن کے کچھ شعبے ایسے ہیں جو صرف ان کے پاس ہونے چاہیے، یہ وہ چیزیں تھیں جن پر ہمارے رہبر نے بالکل صحیح انگلی رکھی اور ہمارے انقلاب نے، ہمارے ملک نے، اس پردے کو چاک کر دیا۔ ہم نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہمارے لیے علوم کی کوئی سرحد نہیں ہے، یعنی اگر میں آپ کو بتاؤں تو رہبر شہید نے ملک میں سائنسی پیشرفت کے لیے جو خدمات انجام دیں، اس کے وہ لوگ بھی جو یونیورسٹیوں میں دھوکہ کھا گئے اور تھوڑے بہت سیکولر ہیں، شہید امام کے کردار کے قدرداں ہیں۔
ان کا ماننا تھا کہ "العلم سلطان" (علم، طاقت ہے) اور ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم علم کو بنیاد بنائیں گے تو ہمارے اندر صلاحیت پیدا ہوگی۔ اگر ہم علم سے دور ہو گئے تو دوسرے ہم پر غالب آ جائیں گے۔ یہ حضرت علی علیہ السلام کے قول کا متن ہے اور وہ علم، ٹیکنالوجی، صنعت اور سرمائے کی پیداوار کے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہونے کے قائل تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ بیسک سائنسز بچت کے اکاؤنٹ کی طرح ہیں، ہمیں ہمیشہ بیسک سائنسز کو سائنسی پیشرفت کے انجن کے طور پر برقرار رکھنا چاہیے۔ اس لیے انھوں نے نینو ٹیکنالوجی، اسٹیم سیلز، بنیادی علوم، فلکیات و نجوم اور ایٹامک علوم کی وسیع پیمانے پر حمایت کی اور اس پر نظر رکھی۔ مثال کے طور پر ان کا ماننا تھا کہ ہمیں دنیا کے سائنسی مقابلے میں شامل ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اپنے ایران میں ہی کچھ بنا کر خود ہی خوش ہوتے رہیں، بلکہ ہماری بات دنیا میں سراہی جانی چاہیے۔
اسی کے ساتھ ایٹمی علوم و فنون کی پیشرفت کے دوران، جو اپنے ساتھ 120 سے زائد سائنسی شعبوں میں پیشرفت لاتی ہے، انھوں نے ایٹمی ہتھیاروں اور عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے (استعمال کے) حرام ہونے کا فتویٰ دیا۔ یہ ایک حیرت انگیز چیز ہے اور دنیا میں اس فتوے کو صحیح طرح سمجھا نہیں گیا۔ مثال کے طور پر مغرب والوں نے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ وہ نہیں سمجھے کہ اس شخصیت کی بات جب کسی بنیاد پر ہوتی ہے، تو وہ بنیاد بہت مستند ہوتی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی حرمت کے بارے میں امام خامنہ ای کا فتویٰ بطور "حکم اولی" فقہ اہلبیت میں ایک عظیم اور دقیق جڑ رکھتا ہے۔ ایک ایسا فقیہ سامنے آیا جو، دور حاضر کا عالم ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جو لوگ فہم کی گہرائی تک پہنچ چکے ہیں، جب وہ قرآن پڑھتے ہیں تو انھیں ایسا لگتا ہے جیسے قرآن ابھی ابھی ان پر نازل ہوا ہے۔ یعنی وہ دین کو "آج" کے تناظر میں سمجھتے تھے نہ کہ "کل" کے، جیسے ابھی قرآن نازل ہوا ہو اور وہ اسی وقت اپنے دین کو سمجھ رہے ہوں۔
اسی کے ساتھ ان کی سوچ یہ نہیں تھی کہ ہمیں مغرب والوں کے ساتھ ہمیشہ جنگ کرنی چاہیے، بلکہ ان کا ماننا تھا کہ ہمیں آپس میں بات کرنی چاہیے لیکن مغرب والوں کو سیکھنا ہوگا کہ ہمارا احترام کریں، ہم ان کی برتری تسلیم نہیں کرتے لیکن انسانی تجربے کے طور پر ہمیں کچھ چیزیں ان سے سیکھنی چاہیے۔ رہبر شہید کی فکر بہت عاقلانہ اور جدید فکر تھی کیونکہ بائیں بازو کے کچھ گروہ تھے جو خود کو انقلابی کہتے تھے لیکن ہمیشہ مغرب سے دشمنی (Antagonism) کی حالت میں رہتے تھے اور اسے ہی اصل سمجھتے تھے۔ ہمارے شہید امام ایسی دشمنی کو اصل نہیں سمجھتے تھے، وہ اصل چیز تسلط پسندی کے خاتمے کو سمجھتے تھے۔ جب تسلط پسندی نہ ہو، تو ان کا ماننا تھا کہ ایران اور مغرب کے درمیان تسلط پسندی سے عاری تعاون ایک معقول چیز ہے۔ ہم بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور ہو سکتا ہے ہم بھی ان سے کچھ چیزیں سیکھیں۔ تو مغرب کے بارے میں ان کی سوچ ایک بہت ہی بنیادی اور مستند سوچ تھی۔ وہ مغرب کی تسلط پسندی اور قوموں کی دولت کی لوٹ مار کو مکمل طور پر مسترد کرتے تھے۔ اب پردے ہٹ چکے ہیں۔ رہبر شہید کا آخری بیان یہ تھا کہ "وہ شخص (ٹرمپ) جو اس وقت وائٹ ہاؤس میں ہے، اس نے مغرب کو سمجھنے میں بہت مدد کی ہے"، یعنی وہی باتیں، وہی خیالات جو پہلے اشارے کنائے میں بیان کیے جاتے تھے، وہ اب کھلم کھلا کہہ رہا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ ابھی کچھ دن پہلے اس نے کہا کہ "میں ایران کا تیل چاہتا ہوں"، بچوں کی طرح، جیسے کوئی آئس کریم ہو۔
یہ وہ چیز ہے جسے رہبر شہید پہلے ہی پسند نہیں کرتے تھے، اس کی مخالفت کرتے تھے، ہم نے انھیں ایک ٹکا بھی نہیں دیا اور ان سب کے سامنے ڈٹ بھی گئے۔ ہمارے پورے خطے پر علاقائی ممالک کے تسلط کے لیے ہمارے شہید امام کی فکر ضروری ہے۔ یہ بین الاقوامی پہلو ہے، البتہ حکومتی اور داخلی پہلوؤں میں بھی بہت سے مسائل ہیں۔ میں نے اشارہ کیا کہ وہ ایک ایسے عالم دین تھے جو دین کو آج کے حالات اور تقاضوں کے مطابق سمجھتے تھے۔ مثال کے طور پر حکومت کے بارے میں ان کی رائے حکومت کے عوامی ہونے کے بارے میں تھی، آپ جانتے ہیں کہ وہ ہمارے حکومتی نظام کے عوامی میکنزم کے سخت حامی تھے۔ 2009 کا فتنہ، جمہوریت کے خلاف ایک بغاوت تھی، مخالفین نے کہا کہ بجائے اس کے کہ ووٹ بیلٹ باکس میں گنے جائیں، انھیں سڑکوں پر لایا جائے، جس کے خلاف وہ مضبوطی سے ڈٹے رہے اور اس فتنے کو اس کی تمام تر داخلی و غیر ملکی حمایت کے باوجود شکست دی۔ اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں۔ اب میں ایک فقہی نکتہ بتانا چاہتا ہوں، وہ ایک فقیہ تھے، ایک جدت طراز فقیہ، وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو نام نہاد من گھڑت فقہ کے دعوے کرتے ہیں، نہیں، صحیح استنباط کے ساتھ "فقہ اصیل"۔ ان شعبوں میں سے ایک جن میں انھیں فقہی مباحث میں ید طولیٰ حاصل تھا، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور جہاد کا موضوع تھا جس میں ان کے فقہی مباحث میں واقعی جدت طرازی ہے اور وہ بہت مفصل بھی ہیں۔
اب میں انہی پہلوؤں سے فقہی مباحث کا ایک نکتہ بتانا چاہتا ہوں جس پر شاید ہماری نئی نسل نے کبھی غور نہ کیا ہو۔ فقہی لحاظ سے جہاد اس میدان کے لیے ہے جہاں دشمن نے ہمارے مفادات پر حملہ کیا ہو اور ہمیں اس کے مقابلے میں دفاع کرنا ہو۔ اگر دشمن نے کسی میدانی شعبے پر حملہ نہ کیا ہو، تو ہماری کوشش پر ثواب تو ہے لیکن وہ جہاد نہیں ہے۔ شہید امام نے جہاد کے نئے میدانوں کا استنباط کیا۔ پہلا "ثقافتی یلغار" کا میدان، 1994 میں انھوں نے ثقافتی یلغار کی بحث چھیڑی، بہت سے لوگ نہیں سمجھے کہ ثقافتی یلغار کیا ہے، اس کے بعد "ثقافتی نیٹو"، پھر اسے جاری رکھا۔ ثقافت کا میدان، یلغار کا میدان ہے، اس لیے اس میدان میں کام کرنے کو "جہاد فی سبیل اللہ" قرار دیا، یعنی انھوں نے جہاد کی تعریف میں صرف بندوق اٹھانے کو نہیں رکھا، جہاد فی سبیل اللہ۔ اسی طرح وہ تبلیغ کے شعبے میں آئے، میڈیا کے شعبے میں، علم کے شعبے میں۔ میں یہاں آپ کو علم کے میدان میں جہاد کے بارے میں ان کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ کورونا کی بیماری آنے سے پہلے، ایک جمعرات کو انھوں نے کہا کہ جو فورسز اور سائنسداں بنیادی ریسرچ سینٹر میں کام کرتے ہیں وہ ان کے ساتھ ایک میٹنگ کریں۔ خیر ہم جمعرات کو گئے، ان کے پیچھے نماز پڑھی اور نماز کے بعد رات گئے تک بیٹھے رہے اور انھوں نے "ہگز بوزون" (Higgs boson) کے بارے میں بات کی، سوالات کیے کہ بلیک ہول کا کیا مطلب ہے؟ جدید علم الکائنات (Cosmology)، وقوفی سائنسز (Cognitive Sciences)، بنیادی ذرات سے متعلق مباحث، بہت سی دلچسپ چیزیں۔ یہاں میں ایک لطیفہ بھی سنا دوں کہ ہم نے آہستہ سے کہا کہ اگر آپ رات کے کھانے کا بھی حکم دے دیں تو برا نہیں ہوگا، انھوں نے فرمایا کہ فی الحال یہ مٹھائی کھا لیں، ورنہ یہ بھی ہاتھ سے جا سکتی ہے۔ پھر آخر میں انھوں نے ہمیں ایک تحفہ دیا، کہا کہ "میں اپنا ایک فقہی فتویٰ آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔" انھوں نے کہا کہ "میری نظر میں علم کے میدان میں اگر آپ کی نیت جہاد کی ہو، تو یہ عین جہاد فی سبیل اللہ ہے، بالکل ان لوگوں کی طرح جو صحراؤں میں لڑ رہے ہیں" اور ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا، "البتہ اس میں شہادت بھی مل سکتی ہے" اور ویسا ہی ہوا۔ آپ نے دیکھا کہ امریکا جو کچھ کر رہا ہے وہ تاریخ میں بے مثال ہے، تاریخ میں سائنسدانوں کو ان کے عقائد کی وجہ سے شہید کیا جاتا تھا، لیکن جناب طہرانچی کا وہ کون سا عقیدہ تھا جس کی وجہ سے انھیں شہید کیا گيا؟ وہ ایک ماہر طبیعیات تھے، مقناطیسیت کے شعبے میں کام کرتے تھے، اس شعبے کا کوئی مخالف تو نہیں ہے! ان کی شہادت ان کے نظریے کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اس لیے تھی کہ وہ ملک کی خودمختاری کے لیے "علمی جہاد" کے میدان میں کام کر رہے تھے۔ یہ رجحان بالکل نیا ہے، یعنی سائنس کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ ایک ظالم اور جابر ملک دوسرے ممالک کے سائنسدانوں کو اس لیے قتل کر دے کہ وہ پیشرفت نہ کریں، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ تو ظاہر ہے کہ جب رہبر شہید نے "العلم سلطان" پر انگلی رکھی تو وہ جانتے تھے کہ کہاں ہاتھ رکھنا ہے۔
سوال: یہ ہمارے لیے کتنا کارآمد ہے؟ کن پہلوؤں سے یہ ہمارے لیے راہ گشا رہا ہے؟
جواب: دیکھیے پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا اسلامی فکر ہمیں اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ہمارے پاس ایک ایسا اسلامی نظام ہو جس میں جمہوریت کے بنیادی معیار ملحوظ ہوں، جمہوریت کے مختلف حقوق ہوتے ہیں۔ میکس ویبر نے جس طرح کی جمہوریت کی بات کی اسے ہم "فنکشنل ڈیموکریسی" (عملیاتی جمہوریت) کہہ سکتے ہیں، یعنی نعرے بازی کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت میں جمہوری اسلامی نظام میں طاقت کے تمام مراکز عوامی ووٹوں سے تشکیل پاتے ہیں، خواہ براہ راست ہوں یا بالواسطہ۔ رہبریت کا بھی یہی حال ہے، حال ہی میں آپ نے دیکھا کہ ہمارے عظیم رہبر کی شہادت کے بعد عوام کے نمائندے مجلس خبرگان رہبری (ماہرین کونسل) میں بیٹھے، اگلے رہبر کو کثرت رائے سے منتخب کیا اور اس کا اعلان کیا۔ یہ فنکشنل ڈیموکریسی ہے۔ خیر، یہ خود ایک سنجیدہ بحث تھی کہ کیا اسلام پر مبنی ایک ایسا شہری-سیاسی نظام ہو سکتا ہے جس میں عملیاتی جمہوریت، حکومت کی بنیاد بنے۔ امام خمینی کا ماننا تھا کہ یہ ہو سکتا ہے اور ہمارے عظیم الشان رہبر شہید، امام خمینی کی اس فکر کے علمبردار تھے اور اس پر ڈٹے رہے۔ یہ دنیا کے مختلف ممالک کے لیے پہلا سبق ہے کہ وہ اس بات پر مجبور نہیں ہیں کہ یا تو سیکولر اور جمہوری حکومت رکھیں یا اسلامی اور غیر جمہوری حکومت۔ نہیں، ایران کا ماڈل اتفاق سے ایک کامیاب اور راہ گشا ماڈل ہو سکتا ہے۔
دوسرا سبق جو اسلامی جمہوریہ، دوسرے ممالک کے لیے رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ کیا یہ ماڈل، یعنی اسلام پر مبنی ایک جمہوریہ آج کی دنیا میں ایک طاقتور ملک بن سکتا ہے یا اسے پچھڑا اور دبا ہوا رہنا چاہیے؟ اسلامی جمہوریہ نے دکھا دیا کہ ہم ایک عظیم طاقت بن سکتے ہیں، ایک ایسی طاقت کہ آج آپ دیکھیے کہ ایک منہ زور اور بدمعاش سپر پاور اور ایک انتہائی شرپسند حکومت (جو جرائم کی کوئی حد نہیں مانتی) دونوں ایٹمی طاقتیں ہونے کے باوجود ایران پر حملہ آور ہوئے اور ایران کے سامنے بے بس ہو گئے۔ آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ وہ ایران کے سامنے شکست کھا گئے ہیں اور ان شاء اللہ آگے بھی کھائیں گے۔ یہ ایک اور عملی کامیابی ہے۔
ایک اور نکتہ جو بہت اہم ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے شہید امام خامنہ ای دنیا کے ساتھ تعلقات کا ایک خاص نظریہ رکھتے تھے، یعنی اول تو وہ دنیا کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ امام شہید، امام خامنہ ای کی نظر میں دنیا صرف مغرب نہیں ہے، دنیا بہت بڑی ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ ہماری سفارتی ترجیحات، خطے سے شروع ہونی چاہیے، پڑوسی ممالک، ای سی او (ECO)، اسلامی کانفرنس اور پھر ناوابستہ ممالک، وہ ان کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ جیسے ان کا پاکستان کا دورہ ای سی او کے معاملے کو گہرائی عطا کرنے کے لیے تھا اور پاکستان میں وہاں کے عوام نے ان کا ایسا استقبال کیا کہ حکومت ڈر گئی، وہ واقعی خوفزدہ ہو گئے تھے۔ پاکستان کے عوام کو کس نے منظم کیا تھا؟ کسی نے نہیں، عوام خود ان سے محبت کرتے تھے۔ استقبال کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ لوگوں کو لائن میں کھڑا کر دیا جائے اور پھر وہ جذبات کا اظہار کریں، لوگ خود آئے تھے، نہ پولیس انھیں روک سکتی تھی اور نہ کوئی اور چیز۔ اور ایک گفتگو میں، اس وقت کے صدر ضیاء الحق نے ان سے کہا: "آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ لوگ کیوں اور کیسے آپ سے اتنی محبت کرتے ہیں؟" اس کا تعلق آپ کے انقلاب سے ہے۔ یقیناً کوئی بھی ملک ہو، اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے، وہ سچ کہہ رہے تھے۔
اب آپ نے مجھ سے کچھ یادیں سنانے کو کہا: ایک ناشتے کے دوران جو ان کا ضیاء الحق کے ساتھ تھا، میں نے ضیاء الحق سے ایک سوال کیا: میں نے کہا "آپ بہت ذہین آدمی ہیں۔ میں ایک دو بار آپ کے گھر بھی آیا ہوں۔ آپ اتنے مذہبی نہیں ہیں لیکن آپ نے سعودی عرب کے پیسے سے طالبان کے مدارس بنوائے جو ایک بہت ہی سخت سلفی اسلام کی تشہیر کر رہے ہیں۔ آپ جو خود اسلام کے اتنے قائل نہیں ہیں، ان کی اہلیہ محترمہ بھی حجاب نہیں کرتی تھیں، وہ خود بھی بس ایسے ہی نماز پڑھتے تھے، لیکن یہ چیز اس حد تک؟" انھوں نے کمرے میں موجود کچھ لوگوں کو باہر نکالا۔ پھر کہا کہ "حقیقت یہ ہے کہ آپ کے انقلاب نے آ کر ہمارے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور یہ ہمیں گرا دے گا۔ آپ ہمیں نہیں گرانا چاہتے، انقلاب خود یہ کام کر رہا ہے۔ ہم مجبور تھے کہ آپ کے انقلاب کے سامنے کھڑے ہوں۔ ہمیں صرف یہی راستہ سمجھ میں آیا کہ ایک ایسا اسلامی رخ پیدا کریں جو اس ہمہ گیر انقلابی تحریک کو روک سکے اور اس کی رفتار کم کر سکے، اس لیے ہم نے القاعدہ اور طالبان بنائے تاکہ وہ اس معاملے کے سامنے کھڑے ہو سکیں۔"
وہاں کے حالات کے بارے میں یہ ایک بہت اہم نکتہ ہے۔ ایسے حالات میں، آقائے خامنہ ای رحمت اللہ علیہ کا ماننا تھا کہ "ہمیں عالم اسلام کے قلب میں جانا چاہیے۔" ٹھیک ہے کہ یہ (حکمراں) ناراض ہوتے ہیں، فکر مند ہوتے ہیں لیکن ہم ان کے خلاف نہیں ہیں، ہمارے پاس ایک آئیڈیا ہے، اس آئیڈیا کو ہمیں عالم اسلام کے قلب تک لے جانا چاہیے۔ تو وہ بین الاقوامی تعلقات کی ایسی سمجھ رکھتے تھے جو ممالک کی بھرپور شناخت پر مبنی تھی۔ اس لیے ان کا چین کا دورہ اور مختلف جگہوں کے دورے سوچے سمجھے تھے۔ وہ ایران کی سفارت کاری کی دنیا کو کھولنا چاہتے تھے تاکہ وہ صرف یورپی ہونے کے حصار سے نکل سکے، جس کا ایک تاریخی پس منظر تھا اور ہمارے کچھ سفارت کاروں کے ذہنوں میں اس کی تہیں جمی ہوئی تھیں، وہ ان کو ختم کرنا چاہتے تھے۔
یہ دنیا کو سمجھنے میں ایک بہت ہی کلیدی نکتہ ہے۔ اس لیے آپ دیکھتے ہیں کہ وہ ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک پر بہت توجہ دیتے تھے اور چاہتے تھے کہ ناوابستہ ممالک کو ایک ایسے ادارے میں بدل دیں جو بین الاقوامی سیاسی میدان میں اپنا وجود منوا سکے۔ ان کے زمانے میں راجیو گاندھی، کاسترو اور موگابے وہ لوگ تھے جو ناوابستہ ممالک کے بڑے لیڈر تھے اور ان کے ساتھ مل کر، خاص طور پر تین لوگوں یعنی شہید خامنہ ای، راجیو گاندھی اور کاسترو نے پورے ناوابستہ بلاک کو بڑی حد تک متاثر کر رکھا تھا۔
وہ مغرب کو جاننے کے ساتھ ساتھ ناوابستہ ممالک کو بھی پہچانتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ ان کے ساتھ کام کرنا چاہیے اور ایک تحریک پیدا کرنی چاہیے۔
البتہ مجھے یہ بھی بتانا چاہیے کہ بین الاقوامی مسائل کی درست سمجھ کے علاوہ وہ مذاکرات میں اسٹریٹیجی کے معاملے میں بہت ہی عمیق فہم والے انسان تھے، اول تو گھنٹوں پہلے ان کے لیے مواد تیار کیا جاتا تھا، ترتیب دیا جاتا تھا، وہ اسے دیکھتے تھے اور کہتے تھے کہ کن جگہوں کی اصلاح ہونی چاہیے۔ وہ مذاکرات میں "کتابی" انداز میں بات نہیں کرتے تھے، یعنی یہ کہ بار بار دیکھ کر پڑھیں، ان کا ذہن بہت منظم تھا اور وہ مذاکرات کے فن میں بہت ماہر تھے۔ یعنی جب وہ دیکھتے تھے کہ سامنے والے کا کوئی حساس نکتہ ہے، تو وہ اس نکتے کو چھوڑ کر اس کے لیے کوئی اور بیان پیش کر دیتے۔
البتہ ہمارے عظیم امام خامنہ ای مجموعی طور پر بہت خوش بیان اور فصیح انسان تھے۔ خواہ آپس کی عام گفتگو ہو یا پھر رسمی بات چیت ہو، مختلف ممالک کے بڑے بڑے لیڈر ان کے ساتھ مذاکرات میں بہت متاثر ہوتے تھے۔ ان کی باتیں منظم، مدلل، بلیغ اور سماعت نواز ہوتی تھیں۔ اس زمانے میں جو دنیا کے لیڈر تھے، وہ اگر آدھا گھنٹہ بات کرتے تھے، سب کا دل جیت لیتے تھے، لیکن ان کی باتیں دقیق، وقت کے مطابق اور فریق مقابل سے تعاون کی صورت میں ہوتی تھیں، اس حد تک کہ راجیو گاندھی، جو بعد میں ہندوستان میں قتل کر دیے گئے، جب میں ہرارے اجلاس کی ہم آہنگی کے لیے گیے تھے تو انھوں نے مجھ سے کہا: "جناب خامنہ ای سے ہماری محبت ایک فرد کی محبت سے بالاتر ہے۔" اگرچہ گاندھی خاندان کا ایران کے بارے میں ایک خاص مثبت نظریہ تھا لیکن وہ کہتے تھے: "میں ان کی شخصیت کا گرویدہ ہوں اور میں ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کے لیے بے تاب رہتا ہوں۔" جب رہبر شہید ہرارے میں تھے تو راجیو گاندھی زیادہ تر وقت ان کے پاس آتے تھے اور مختلف مسائل پر ان سے بات کرتے تھے۔
میں یہاں آخری نکتہ بھی کہہ دوں کہ وہ اس عظیم اسلامی حمیت، خود مختاری، خوش بیانی اور بین الاقوامی فکر کے ساتھ پوری شدت سے "ایرانی" ہونے کا جذبہ بھی رکھتے تھے۔ یعنی ایسا نہیں تھا کہ وہ کہیں کہ ایران اہم ہے، نہیں، ایران بھی اسلامی ممالک میں سے ایک تھا۔ ایرانی ثقافت، ایرانی ادب، ایرانی شاعری اور تاریخ میں ان کی مہارت اور اس سرزمین اور ثقافت سے ان کی بے پناہ محبت نے ان کی ایک منفرد شخصیت بنائی تھی۔ میں صرف بین الاقوامی طور پر انھیں نہیں دیکھنا چاہتا، میری نظر میں ہم ایرانیوں میں صدیوں میں کوئی ایسا شخص نہیں رہا جو ان کے جتنا محب وطن اور وطن پرست ہو، جبکہ کچھ لوگ اسلام کے خلاف بات کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے دینی رہنما صرف اسلام کو پکڑے ہوئے ہیں اور ملک کو چھوڑ دیا ہے، یہ ان کی نادانی ہے۔ کوئی بھی ایرانی رہنما تاریخ میں ہمارے شہید امام جتنا ادب، شاعری، ثقافت اور تاریخ ایران سے واقف نہیں تھا۔ وہ شعراء کے مختلف اسلوب جانتے تھے، خود بھی صاحب ذوق شاعر تھے اور ہم عصر و قدیم شعراء کے کلام سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ان کے بارے میں بہترین بات وہی ہے جو (امام خمینی) نے کہی تھی: "وہ عالم اسلام اور ہمارے ملک کے لیے ایک درخشاں سورج تھے۔
سوال: آپ نے ہرارے اجلاس، یعنی ناوابستہ ممالک کے سربراہی اجلاس کا بھی ذکر کیا، کیا اس اجلاس اور اس میں ان کے خطاب کی کچھ یادیں ہیں؟
جواب: ہمارے شہید امام نے وہاں ناوابستہ ممالک کا مستقبل کا ڈھانچہ ترتیب دیا۔ یہ بہت اہم تھا۔ ان کی تقریر بہت ہی نپی تلی تھی۔ میں یہاں امام (خمینی) کا کردار آپ کو بتانا چاہتا ہوں کیونکہ ان کے تقریر کرنے سے پہلے، امام خمینی نے کہا تھا: "اپنی تقریر کا متن مجھے بھیجیے۔" امام خمینی کے لیے یہ اہم تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں، درحقیقت وہ انھیں اس بڑے مرتبے کے لیے تیار کر رہے تھے جو مستقبل میں انھیں ملنا تھا۔ امام خمینی کے فرزند مرحوم احمد آقا نے ان سے کہا کہ امام تقریر کا متن مانگ رہے ہیں، آقائے خامنہ ای نے کہا: "جی ہاں، مجھ سے بھی کہا ہے، بھیج دیں۔" امام خمینی نے اس کی مکمل ایڈیٹنگ کی: یہ جملہ لمبا ہے، یہاں فل اسٹاپ لگائیں۔ ایک جگہ جہاں امام نے اضافہ کیا تھا، وہ یہ تھا کہ فرمایا: "آپ صرف ہمارے پیغمبر پر درود سے شروع نہ کریں بلکہ تمام انبیاء پر درود سے شروع کر کے ہمارے پیغمبر تک آئیں۔" فلسطین کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس پر مزید تفصیل سے بات کریں، ہم نے فلسطین پر ایک پیراگراف رکھا تھا، انھوں نے اسے دو بڑے پیراگراف میں بدل دیا اور تعاون کے بارے میں دو تین نکات کہے۔ ایک اسلامی رخ بھی امام خمینی نے بتایا تھا۔ یعنی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس تقریر کی درخشانی کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کے اصل خیالات خود شہید امام کے تھے۔ آپ کو اس میں امام خمینی کی ادارتی مہارت نظر آتی ہے اور پھر ان کا بلیغ بیان۔
یہ بلاغت جو کہ ایک بہت بڑا فن ہے، امام علی علیہ السلام بھی ایسے ہی تھے، جب منبر پر ہوتے تھے اور بات کرتے تھے تو ان کی بلاغت کا جوش سب کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا تھا، اس حد تک کہ جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کے دربار میں بات کرنا شروع کیا تو یزید نے اپنے برابر والے کو کہنی ماری اور کہا: "اوہ، یہ اسی باپ کی بیٹی ہے!" یعنی بلاغت میں مشہور ہونا۔ جی ہاں، وہ اسی بلیغ سلسلے سے تعلق رکھتے تھے۔ الفاظ کا انتخاب، الفاظ ان کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی کی طرح تھے جس سے وہ کھیلتے تھے، لفظ کو بالکل صحیح جگہ پر بولنا ان کی ذہانت کا حصہ تھا۔ ایک بات یاد آ گئی، آپ کو سناتا ہوں: ایک بڑے لیڈر سے ملاقات کے دوران، ہمارا مترجم کمزور تھا اور کبھی کبھی ایسی چیزیں ترجمے میں ملا دیتا تھا جو آقا کی بات میں نہیں ہوتی تھیں، وہ بس اپنی رو میں ترجمہ کرتا جا رہا تھا۔ آقا نے مجھ سے پوچھا: "یہ کیا ترجمہ کر رہا ہے"؟ میں نے کہا: "یہ خود اجتہاد کر رہا ہے۔" انھوں نے کہا: "میں جانتا ہوں کہ جب میں کوئی بات کرتا ہوں، تو لوگوں کے چہرے کے تاثرات نہیں بدلتے، یقیناً وہ میری بات کو نہیں سمجھے"۔ ذرا باریک بینی دیکھیے! وہ چہرے سے سمجھ جاتے تھے کہ یہ سامنے والے کا ردعمل ان کی بات پر ہے یا نہیں۔ پھر انھوں نے مجھ سے کہا: "اچھا، اب آپ خود ترجمہ کریں۔" مجھے براہ راست زبانی ترجمہ کرنے کا کبھی تجربہ نہیں تھا، انھوں نے کہا: "یا علی! بسم اللہ۔" مجھے کبھی اتنی مشکل پیش نہیں آئی تھی، یعنی میں نے اپنی زبان دانی کے تمام ہنر استعمال کیے تاکہ جو الفاظ وہ بول رہے ہیں وہ ان کے بیان کے قریب ہوں۔ البتہ بعد میں میں نے مترجم کی دلجوئی کی اور کہا کہ چونکہ وہ تھک گیا تھا اور رات بھر ٹھیک سے سو نہیں سکا تھا اس لیے شاید ایسا ہوا۔ میں مذاکرات میں ان کی اس باریک بینی کو، بتانا چاہتا ہوں۔
12 اپریل 2026

