وہ نابغۂ روزگار جس نے جغرافیا کو امریكا کے خلاف استعمال کیا
جیوپولیٹکس، غیر متوازن (Asymmetric) جنگ اور عوام۔ اگر سائنسی جرائد اور عسکری و دفاعی مجلّوں میں شائع ہونے والے ڈاکٹر غلام علی رشید کے متعدد مقالوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ تینوں کلیدی الفاظ سب سے زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ عراق کے ساتھ 8 سالہ مسلط کردہ جنگ کے تجربہ کار کمانڈر نے جنگ کے بعد سیاسی جغرافیا کے شعبے کا رخ کیا اور اس میدان میں اعلیٰ علمی درجات حاصل کیے۔ جنگی تجربے، علمی و سائنسی مطالعات اور یونیورسٹی کے ان کے خاص سبجیکٹ کے جیوپولیٹیکل نظریات کے امتزاج نے انھیں مستقبل کی جنگ کے لیے ایران کے دفاعی نظریے اور فکری ڈھانچے تک پہنچا دیا تھا۔ وہ اسی نتیجے تک پہنچے تھے جو بعد میں امریکی اور صیہونی دشمن کے خلاف 40 روزہ جنگ میں حقیقت میں اور عملی طور پر میدان میں سامنے آيا۔
انھوں نے اپنی ایک کتاب کے مقدمے میں لکھا تھا: "میں نے متعدد تقاریر اور نشستوں میں ایران اور عراق کی جنگ کے مطالعے کے طریقۂ کار میں تبدیلی اور مقدس دفاع کے تجربات کو نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت کے بارے میں کچھ اہم باتیں بیان کی ہیں۔ موجودہ صورت حال پر قابو پانے کے لیے ایسا نظر آتا ہے کہ 8 سالہ مقدس دفاع کے تجربے کا دوبارہ تجزیہ کرنے اور اس پر پھر سے غور کرنے کی ضرورت ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب جنگ میں عسکری اور اسٹریٹیجک صلاحیتوں کے مطالعے کے لیے جدید تحقیقی طریقے اختیار کیے جائیں۔" وہ خود بھی مسلح افواج کے ان اولین کمانڈروں میں سے تھے جنھوں نے عسکری اور اسٹریٹیجک صلاحیتوں کے مطالعے کے لیے جدید طریقوں سے استفادہ کیا تاکہ امریكا کے ساتھ اگلی جنگ میں ایران کی مزاحمت و استقامت کی طاقت بڑھائی جا سکے۔
سماج کے ہنگاموں سے دور اور گمنامی میں رہنے والے ایران کے یہ کمانڈر، مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے خاتمے کے بعد کے تمام برسوں میں مسلح فورسز کے جنرل اسٹاف اور خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز میں مستقبل کی جنگ کے لیے ایران کی دفاعی حکمت عملیوں پر تحقیق اور غور و فکر میں مصروف رہے۔ جرنلز اور جریدوں میں شائع ہونے والے ان کے مقالے اور مضامین بھی بڑی حد تک اسی موضوع پر مرکوز تھے۔ یہ تجربہ کار ایرانی کمانڈر یونیورسٹی میں بھی مکمل طور پر اس مسئلے پر توجہ مرکوز کر کے آگے بڑھتے رہے تھے۔ ایسے کچھ مقالوں کے عناوین پر ایک سرسری نظر جنھیں لکھنے اور ان کے بارے میں تحقیق کرنے میں انھوں نے شرکت کی تھی:
عراق کی سرزمین سے پیدا ہونے والے امریکی فوجی خطرات کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی حکمت عملی کی تشکیل میں قدرتی جیوپولیٹیکل عوامل کا کردار، جیوپولیٹیکل عوامل کی بنیاد پر دفاعی حکمت عملی کی تیاری کا نظریاتی ماڈل، قومی سلامتی پر ساحلی اور سمندری علاقوں کے جغرافیائی اور جیوپولیٹیکل عوامل کے اثرات کی نظری تشریح، مستقبل کی جنگ کے لیے ہمہ گير دفاعی اسٹریٹیجیز کی تدوین، میدان جنگ میں ذہین کمانڈ اینڈ کنٹرول کی خصوصیات اور عناصر، مغربی ایشیا کی حالیہ تین جنگوں میں سیاسی اور ڈپلومیٹک تعلیمات کی تشریح اور فوجی کامیابیوں کو سیاسی فتوحات میں تبدیل کرنے کی کیفیت اور مستقبل کی جنگ کے نمونوں کا جائزہ اور 8 سالہ جنگ اور حالیہ جنگوں سے ان کا موازنہ۔
جنگ کے تجربے سے مالامال یہ کمانڈر، جو ٹیچرز ٹریننگ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکے تھے اور قومی دفاعی یونیورسٹی میں پڑھاتے بھی تھے، اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ امریكا کے خلاف آئندہ جنگ میں ایران کے جغرافیا اور جیوپولیٹیکل پوزیشن کو ایک ہتھیار میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ امریکی فوج کے ساتھ تکنیکی فرق کو دور کیا جا سکے۔ حالیہ جنگ میں خلیج فارس کے جنوبی محاذ پر امریکیوں کے خلاف جو کچھ ہوا وہ دراصل انھی کے دفاعی نظریات کے بعض حصے تھے، جنھیں آخرکار عملی اور آپریشنل شکل اختیار کرنے کا موقع ملا۔ یہ گمنام ایرانی کمانڈر ایران میں غیر مساوی دفاع اور فعال ڈیٹرینس کے تصور کے اولین معماروں میں سے ایک تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے عسکری، سائبر اسپیس، انٹیلی جنس اور نفسیاتی صلاحیتوں کو بیک وقت مضبوط کرنا ضروری ہے۔ ملک کی بہت سی فوجی مشقوں، ائیر ڈیفنس سسٹمز اور حساس آپریشنل منصوبوں نے ان کی نگرانی اور منصوبہ بندی میں عملی جامہ پہنا۔
دزفول کے رہنے والے 33 سالہ رشید، جن کے والد امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ الصلاۃ و السلام سے غیر معمولی عقیدت رکھتے تھے اور اسی لیے انھوں نے اپنے تمام بیٹوں کا نام علی رکھا تھا، سنہ 1986 سے 1989 تک سپاہ پاسداران کے جوائنٹ اسٹاف کے وائس چیف برائے آپریشنز رہے۔ اس کے بعد سنہ 1989 میں وہ مسلح افواج کے جنرل اسٹاف میں منتقل ہوئے۔ رشید نے 10 برس تک، یعنی 1999 تک، جنرل اسٹاف میں وائس چیف برائے انٹیلی جنس و آپریشنز کی ذمہ داری نبھائی۔ پھر 1999 سے 2016 تک 17 سال مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ رہے اور 2016 سے اپنی شہادت تک خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر رہے۔ یہ وہ عسکری ہیڈکوارٹر ہے جو بحرانی حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی آپریشنل کمان سنبھالتا ہے۔
وہ جوان جس نے دسمبر 1981 میں ان الفاظ کے ساتھ اپنے سپاہیوں کو آپریشن طریق القدس کا کوڈ ورڈ بتایا تھا: "بسم اللہ الرحمن الرحیم، میں رشید، سپاہ پاسداران کے کمانڈر ان چیف کے حکم سے کارروائی کرنے والی تمام یونٹوں کو آپریشن کا کوڈ ورڈ بتاتا ہوں: رشید کی طرف سے تمام یونٹوں کے لیے، یا حسین!" 44 سال بعد 13 جون 2025 کو علی الصباح قدس کی راہ میں اور بیت المقدس کے غاصب دشمن کے ہاتھوں شہادت کے درجے پر فائز ہوا اور ملکوت اعلیٰ سے متصل ہو گیا۔
15 جون 2026
