logo khamenei

سوگ اور فخر کا وقت

سوگ اور فخر کا وقت

خدا کا درود و سلام ہو سرور کائنات، ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کی آل اطہار پر۔ میں شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے چالیسویں کی مناسبت سے اختصار کے ساتھ کچھ باتوں کی یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں۔ آپ کی شہادت رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں یا اس تاریخ کو واقع ہوئی جب اکثر اسلامی ملکوں میں دس رمضان المبارک تھی اور ماہ شوال کے ان ایام میں آپ کا چالیسواں ہے۔

 ہم نے آپ کا ہفتم منایا اور مختلف مواقع پر آپ کی شہادت کا غم منایا اور آپ کے چالیسویں پر خصوصی مجالس کا اہتمام کیا ۔ ان چالیس دنوں کے دوران بہت سے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے بتایا کہ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی شخصیت کیا تھی۔  عوام نے ثابت کر دیا کہ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ایک فرد نہیں ہیں کہ انھیں درمیان سے اٹھا لیا جائے۔ آپ ایک پائیدار ہستی اور آئیڈیالوجی ہیں جو سبھی مسلم معاشروں کے دلوں میں گھر کر چکی ہے۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں میں صرف ایران کے ہی مسلمانوں کے قلوب میں نہیں، بلکہ پوری اسلامی دنیا کے دلوں میں۔ اس ہستی نے سبھی کو بالخصوص مسلمانوں اور حریت پسندوں کو متاثر کیا ہے۔

حتی آپ کے دشمنوں نے بھی اس عبد خدا کے اثرات کا مشاہدہ کیا ہے۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ سارے امور یہی ہستی چلا رہی ہے، اس کو قتل کر دیں گے تو ہر چیز کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ چونکہ قاتل خود سنگدل انسان ہیں اس لئے انہیں اس بات کا یقین تھا کہ رہبر انقلاب کے قتل پر عوام خوش ہوں گے اور کہیں گے کہ آج ہم آسودہ خاطر ہو گئے؛ آج  وہ چلا گیا جو ہماری تکلیفوں کا باعث تھا۔ لوگ سڑکوں پر نکل کر اعلان کریں گے کہ وہ اسلامی جمہوریہ نہیں چاہتے اور چند دن میں سب کچھ ختم ہو جائے گا۔

لیکن اب ان کی سمجھ میں آیا کہ ایسا نہیں ہے۔ اب انہیں معلوم ہوا کہ آیت اللہ العظمی سیدعلی خامنہ ای درمیان سے نہیں گئے۔ پہلے مرحلے میں عوام نے ثابت کر دیا  کہ وہ آپ کو باپ کی طرح چاہتے ہیں اور گویا کسی نے قوم کو یتیم کر دیا ہے اور دوسرے مرحلے میں دشمنوں کو معلوم ہوا کہ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ایک فرد نہیں ہیں وہ ایک آئیڈیالوجی ہیں، ایک ادراک ہیں، ایک ثقافت ہیں، ایک نظریہ ہیں، ایک تاریخ ہیں ایک دانش ہیں اور آپ کی ہستی ہمیشہ موجود اور پائیدار ہے۔

اس کے علاوہ اس اقدام کے بعد دشمنوں کو پتہ چل گیا کہ آپ کا جانشین آپ سے مختلف نہیں ہے۔ وہ بھی خامنہ ای ہے۔ اس  کا نام ہی خامنہ ای نہیں ہے بلکہ اس کا گوشت و پوست، اس کی ہڈیاں بھی خامنہ ای کی یڈیاں ہیں۔ دشمنوں کو معلوم ہو گیا کہ انھوں نے ایک خامنہ ای کو قتل کیا تو اس کی جگہ آنے والا بھی خامنہ ای ہی ہے اسی گوشت و پوست، انھیں ہڈیوں اور اسی استقامت کے ساتھ۔

یہ جانشین بہت ہی سخت امتحان سے گزرا ہے۔ اس کے والد قتل ہو گئے، اس کی شریک حیات، اس کی بہن، اس کے بہنوئی اور بھانجی سبھی قتل کر دیے گئے۔ اس کا گھر اجڑ گیا اور وہ خود بھی موت کے خطرے سے دوچار ہوا لیکن خدا نے اس کو اس ذمہ داری کے لئے زندہ رکھا۔

بنابریں دشمنوں کے اقدامات (خود ان کے لئے) ہلاکت خیز غلطی ثابت ہوئے۔ اگر وہ کچھ اور کر سکتے تو وہ صرف یہ تھا کہ اس اہم ذمہ داری کی طاقت و توانائی میں مزید اضافہ ہوتا۔ اس لئے کہ آیت اللہ العظمی خامنہ ای بدستور باقی ہیں۔

  اول تو جیسا کہ خداوند عالم نے فرمایا ہے، جو لوگ راہ خدا میں قتل کئے جاتے ہیں وہ زندہ ہیں۔ دوسرے عوام آپ  جیسے ہو گئے اور تیسرے آپ کا جانشین، صرف آپ کا رسمی جانشین نہیں ہے بلکہ گوشت وپوست اور ہڈی، ہر لحاظ سے آپ کا جانشین ہے۔ سب کچھ اسی طرح باقی ہے۔

 دشمنوں کی یہ امید برعکس ثابت ہوئی کہ لوگ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ آئیے ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا دیکھا؟ عوام، بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام نے دکھا دیا کہ آپ کی حمایت جاری رکھیں گے ۔ رات دن، ان تمام بربادیوں کے باوجود جو تم نے مچائی ہے، لوگ استحکام اور پائیداری کے ساتھ سڑکوں پر نظام کی حمایت میں کھڑے ہیں۔

 دنیا کے دیگر مسلم ملکوں میں کیا دیکھا؟ خود امریکا میں کیا دیکھا؟ اس عبد خدا کے ساتھ یک جہتی کے علاوہ اور کیا دیکھا؟ آپ کی عزت اور احترام کے علاوہ اور کیا دیکھا؟ اپنی توقع کے برخلاف تم نے دیکھا کہ ( اس قتل سے) تم نے آپ کی زندگی  جاویدانی بنا دی۔ تم سوچ رہے تھے کہ چار دن میں سب کچھ ختم کر دوگے اب تمھاری سمجھ میں آیا کہ نابود کرنے پر قادر نہیں ہو۔ تمھارے سامنے واحد راستہ یہ ہے کہ گھٹنے ٹیک دو اور اس کے بعد جو شرائط تم پر مسلط کی جائيں انہیں تسلیم کر لو۔ ان سبھی علاقوں سے جہاں سے تم جارحیت کر سکتے ہو، اپنے فوجی اڈے مکمل طور پر اٹھا لے جاؤ اور عہد کرو کہ پھر کبھی اس طرح مہم جوئی شروع نہیں کروگے۔ البتہ تمہیں  اپنے تمام جرائم کا تاوان بھی ادا کرنا ہوگا۔

   یہ بھی جان لو کہ اب آبنائے ہرمز اور باب المندب اس علاقے کے عوام کے رہیں گے۔ ان کا تعلق سب سے نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز ایرانی عوام کی ہے بالکل نہر سوئز کی طرح جو خود تمھارے بقول، اس سرزمین کے قلب سے گزرتی ہے۔ اس کو بھی ارادہ خداوند عالم نے اس سرزمین میں قرار دیا ہے جس کا نام ایران ہے اور اسی طرح باب المندب کو سرزمین یمن میں قرار دیا ہے۔

 بنابریں، مستقبل میں، یہاں سے گزرنے والے جہازوں کو اس راستے سے سامان لے جانے سے پہلے، معینہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا کیونکہ ان کا تعلق ان کے محترم عوام سے ہے۔ خدا کی قسم، اگر یہ جگہیں تمھاری ہوتیں تو مدتوں پہلے لوگوں کے یہاں سے گزرنے پر پابندی لگا چکے ہوتے۔ لیکن خود تم یہاں سے بغیر روک ٹوک کے گزرتے رہے۔ تمہیں صرف یہ اعتراف کرنا تھا کہ یہ جگہ مخصوص لوگوں سے تعلق رکھتی ہے اور صرف ان کی اجازت سے یہاں سے گزر سکتے ہو۔

بنابریں، تم نے جو اقدامات بھی انجام دیئے انھوں نے ایک حقیقت واضح کر دی  اور وہ حقیقت یہ ہے کہ تم نے ختم کرنا چاہا لیکن اس کام سے اس کی تقویت کر بیٹھے اور اپنے لئے رسوائی خرید لی۔ تمھاری ماہیت بے نقاب ہو گئی۔  انگریزی میں تم جیسے لوگوں  کو کاغذی شیر اور ہوسا زبان میں مردہ شیر کہا جاتا ہے یعنی وہ شیر جو مر چکا ہے لیکن کچھ لوگ اب بھی اس کو زندہ سمجھتے ہیں۔

  تمھاری یہ حقیقت سامنے آنے کے بعد، جو لوگ کبھی تم سے ڈرتے تھے، اب ان کا ڈر بھی ختم ہو گیا۔ لوگوں کے دلوں میں ڈر بیٹھنے کے بجائے، خود اعتمادی اور سلامتی کا احساس پیدا ہو گیا۔

 تم نے خود اپنی حیثیت ختم کر لی۔ تمھارا دعوی ہے کہ تم سب سے زیادہ طاقتور ہو، سب سے برتر ہو، صرف ڈینگ مارتے ہو۔

   حقیقی طاقت، تم سے آگے بڑھ رہی ہے۔ جو بات تم نہیں جانتے، میں جانتا ہوں کہ نہیں سمجھتے، وہ یہ ہے کہ تم خدا کو نہیں جانتے۔ خداوند عالم قوم عاد کے بارے میں فرماتا ہے:

"فامَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي ألارْضِ وَقَالُوا مَن أشَدُّ مِنَّا قُوَّۃ أوَلَمْ يَرَوْا أنَّ اللَّـہ الَّذِي خَلَقھمْ ھوَ أشَدُّ مِنھم ْ قُوَّۃ وَ كَانُوا بِآيَاتہ يَجْحَدُونَ"

  قوم عاد نے کہا کہ ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ جس طرح کہ امریکا دعوی کرتا ہے کہ کوئی بھی طاقت میں اس سے آگے نہیں بڑھ نہیں سکتا۔ اس کے موجودہ لیڈر تو مستقل طور پر مبالغہ کرتے ہیں  کہ وہ سب سے زیادہ طاقتور ہیں۔ دعوی کرتے ہیں کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور ہیں اور ان کی فوج ہر ملک سے زیادہ طاقتور ہے۔ لیکن اب تمھیں خدا کی حقیقی فوج کا سامنا ہے اب تمھاری اوقات پوری طرح آشکار ہو گئی۔

 میں جانتا ہوں کہ تم خدا کے وجود کو نہیں مانتے اور اپنی جگہ پر سوچتے ہو کہ دیگر اقوام اسلامی جمہوریہ کی حمایت کر رہی ہیں۔ درحقیقت خداوند عالم کے علاوہ جو زمین اور آسمانوں کا خالق ہے، کوئی بھی اسلامی جمہوریہ کی مدد نہیں کر رہا ہے۔ تم کبھی بھی اس کے مقابلے پر کھڑے نہیں رہ سکتے۔  کامیاب نہیں ہو سکتے۔ یہ جان لو۔

یہ عزاداری کا وقت ہے لیکن اسی کے ساتھ افتخار کا وقت بھی ہے۔ میں مسلمان ایرانی عوام کی استقامت پر فخر کرتا ہوں۔ جو حقیقی قوتیں ان کی حمایت کرتی ہیں، حزب اللہ لبنان، انصاراللہ یمن، عراق کی حشد الشعبی اور دیگر استقامتی جماعتیں اور فلسطین کی مزاحمتی جماعتیں، ان سب نے مزاحمت کی ہے اور انھوں نے تم پر ثابت کر دیا ہے کہ تم انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتے اور تم کبھی بھی انہیں شکست نہیں دے سکوگے۔ اب دنیا کو یہ حقیقت بتانے کا وقت ہے کہ تم سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور تمھاری افواج پر فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ عزاداری کے ساتھ ہی اس افتخار کے اظہار کا بھی وقت ہے۔

 میں دعا کرتا ہوں کہ خداوند عالم ایرانی عوام کو فتحمندی عطا کرے۔ خداوند عالم اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے رہبر، آیت اللہ العظمی سید مجتبی خامنہ ای کی، اپنے والد اور حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے راستے پر ثابت قدم رہنے میں نصرت فرمائے۔ میرے خدا! اسلامی جمہوریہ ایران اور سبھی استقامتی جماعتوں کی مدد فرما۔ پالنے والے! ان شر پسند ستمگروں کو ختم کر دے۔ امریکا اور دنیا کے سبھی ستمگروں کے سازشی منصوبوں کو ناکام بنا دے۔

خدا کی رحمتیں اور درود و سلام ہو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  اور آپ کی طیب و طاہر صاحب عصمت  آل پر۔ 

(رہبر شہید کے چہلم کی مناسبت سے آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزکی کی تحریر)

30 اپریل 2026