logo khamenei

مغربی جوانوں کے نام رہبر انقلاب کے خطوط

مغربی جوانوں کے نام رہبر انقلاب کے خطوط

سوال: ڈاکٹرصاحب! شہید رہبر انقلاب اسلامی نے 2010 کی دہائی میں یورپ والوں اور امریکیوں کے نام دو خط لکھے تھے، جو بنیادی طور پر ان ممالک کے نوجوانوں کے نام تھے۔ براہ کرم وہ سیاسی، سماجی اور مذہبی پس منظر واضح کریں جس میں یہ خط لکھے گئے؟ آپ کے خیال میں پہلے اور دوسرے خط میں شہید خامنہ ای کے اہداف کیا تھے؟

جواب: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ شہید رہبر انقلاب کا پہلا خط 21 جنوری 2015 کو جاری ہوا تھا اور ان کا ارادہ یہ نہیں تھا کہ یہ خطوط کسی سرکاری ڈھانچے میں شائع ہوں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ یورپ اور امریکا کی نوجوان نسل کے ساتھ پدرانہ اور دوستانہ انداز میں حکیمانہ گفتگو کریں۔ پہلے خط کا محور "اسلامو فوبیا" اور "دیگری سازی" تھا، جو اس وقت یورپ اور امریکا میں تیزی سے پھیل رہا تھا۔ ان اقدامات کا مقصد اسلام سے دوری کو تقویت دینا تھا۔ مثال کے طور پر، فرانس میں شارلی ایبڈو میگزین کا واقعہ جو کہ بڑے پیمانے پر جانا جاتا ہے۔ یہ جریدہ، جو ایک طنزیہ میگزین سمجھا جاتا ہے، عالمی مسائل کا مذاق اڑاتا تھا اور اس نے اپنے ایک شمارے میں پیغمبر اسلام کا توہین آمیز خاکہ شائع کیا جس پر فرانس کے مسلمانوں کا شدید ردعمل سامنے آیا۔ شہید رہبر انقلاب نے اس موضوع کو ایک اہم پس منظر کے طور پر مد نظر رکھا اور پہلے خط میں اسلامو فوبیا کا مسئلہ اٹھایا۔ اسلامو فوبیا کے بارے میں ابتدائي مضامین 2000 اور 2001 کے برسوں میں لکھے گئے اور پھر یہ موضوع پھیلتا گیا۔ اسلامو فوبیا اور دیگر ہراسی (دوسروں سے ڈرانے) کے مخصوص مقاصد تھے اور اس کی تاریخی مثالیں بھی موجود تھیں۔ مثال کے طور پر ماضی میں جاپانیوں کے بارے میں "جاپان فوبیا" اور روسیوں کے بارے میں "روس فوبیا" پیش کیا گیا تھا۔ اس قسم کی "دیگری ہراسی" جنگ، تشدد اور دہشت گردی کے لیے زمینہ اور جواز فراہم کرتی تھی۔ شہید رہبر انقلاب بعد کے افقوں پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے۔ اس قسم کی دیگر ہراسی اور اسلام اور مسلمانوں کو بڑے خوف کے محور کے طور پر پیش کرنے کے بعد کیا واقعات رونما ہو سکتے تھے؟ اسلامو فوبیا میں قدرتی طور پر پہلی چیز جو پیدا ہوتی ہے، وہ مسلمانوں کا اندرونی بکھراؤ ہے۔ یعنی خوفناک تصاویر اور بیانات کے پیش کیے جانے کے بعد ممکن ہے مسلمان خود یہ مان لیں کہ وہ واقعی کسی مسئلے کا شکار ہیں؛ جیسا کہ یہ سوچ ہماری اپنی نوجوان نسل میں بھی سرایت کر گئی ہے۔

یہ سوال کہ ہم کیوں اس طرح زندگی گزار رہے ہیں؟ دوسرے کیوں اس طرح زندگی گزار رہے ہیں؟ کیوں تمام اچھی چیزیں مغرب اور یورپ والوں کے لیے ہیں؟ اور کیوں تمام مسائل، سختیاں، پابندیاں، غربت اور جنگیں صرف ہمارے حصے میں آتی ہیں؟ درحقیقت، وہ معاملہ جس کی وجہ خود مغرب والے تھے، وہ ہماری سرزمین سے متعلق تھا اور ایسا مسئلہ تھا جس کی مداخلت اتفاق سے سکون بخش ہے۔ اسلام، رحمت اور عاقلانہ زندگی کا دین ہے؛ یہ روحانیت اور عقلانیت کے درمیان ہمہ جہت توازن کی سفارش کرتا ہے لیکن یہ راستہ بنایا گیا اور شہید رہبر انقلاب نے یورپ اور امریکا کے نوجوانوں کو مخاطب کیا کہ آپ کو ہوشیار رہنا چاہیے کہ یہ دیگر ہراسی اور اسلامو فوبیا آپ کو اسلام سے دور کرنے کی ایک سازش ہے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ آپ خود قرآن مجید پڑھیے اور وہ 114 سورے جو سورۂ توبہ کے علاوہ سب کے سب "بسم اللہ الرحمن الرحیم" سے شروع ہوتے ہیں، ان کا مطالعہ کیجیے۔ قرآن کی آیات کا ایک بڑا حصہ تدبر، عقلانیت، رائے، فکر اور غور و خوض کی دعوت سے بھرا ہوا ہے۔ شہید رہبر انقلاب نے تجویز دی کہ آپ خود براہ راست قرآن پڑھیے تاکہ مغرب میں قرآن پڑھنے کا ماحول پیدا ہو۔

خط پر بات کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ یہ جائزہ لیں کہ شہید رہبر انقلاب نے یورپ اور امریکا کے نوجوانوں کے نام خط کیوں لکھا؟ کیونکہ مغربی ایشیا، برصغیر اور افریقا میں کچھ حساسیت پیدا ہوئی اور کچھ لوگوں نے پوچھا کہ شہید رہبر انقلاب ہمارے نام خط کیوں نہیں لکھتے؟ اس پورے معاملے میں مظلوم تو ہم ہیں۔ اس کی وجہ واضح تھی۔ دنیا میں شرارت کا منبع اور مرکز یورپ اور امریکا تھے اور اب بھی ہیں۔ ان ممالک نے بہت سی شرارتیں پیدا کیں اور تاریخ میں بہت سے قتل عام کیے۔ شہید رہبر انقلاب کے دوسرے خط میں جو تھوڑے وقفے کے بعد یعنی دسمبر 2015 میں لکھا گیا، انھوں نے مستقبل شناسی کے مسئلے کی طرف اشارہ کیا۔ کیوں ہمیشہ تاریخی تاخیر کے ساتھ سانحات پر بات کی جائے؟ کیوں ہمیں اپنے وقت کے سانحات کا مشاہدہ اور تجزیہ نہیں کرنا چاہیے؟ درحقیقت، کچھ سانحات ہمارے دور میں رونما ہو رہے ہیں جن پر سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔ داعش کا مسئلہ پیدا ہو چکا تھا اور وہ یورپ میں بہت سی دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہے تھے اور اس فتنے کو جو اسلامی ممالک بالخصوص عراق اور شام کے اندر سے شروع ہوا تھا، یورپ منتقل کر دیا تھا۔ یہ ایک اسرائیلی چال بھی تھی۔ یہ واضح تھا کہ یہ صہیونیوں کی تکنیک ہے کہ فتنے کو، ان کے بقول، مرکزی ممالک کے اندر منتقل کر دیں۔ ہو سکتا ہے اسے 'سازش کی تھیوری' سمجھا جائے لیکن یہ نظریہ خود ایک سازش ہے، یہ کہ آپ کسی سازش کو دیکھیں ہی نہیں۔ یہاں تک کہ 11 ستمبر کا واقعہ اب بھی اسلامو فوبیا کے لیے ایک سازش کے طور پر سامنے ہے۔ نیویارک میں دو اہم عمارتیں دھماکے سے اڑتی ہیں اور پھر ایک طیارہ عمارت کے اندر جاتا ہے لیکن عمارت بنیاد سے گر جاتی ہے۔ اس نظریے میں، دنیا کے معاشی وسائل پر غلبہ پانا اور قربانیاں لینا ایک سادہ اور قابل تحمل بات ہے۔

لہذا شہید رہبر انقلاب کا دوسرا خط مغربی دنیا، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ایک قسم کی بیداری تھی، وہ نوجوان جن کا ضمیر پاک ہے اور وہ حقائق سننے کے لیے تیار ہیں۔ آخر کار سب جانتے ہیں کہ داعش گروہ موساد اور امریکا کا بنایا ہوا ہے اور اسے صہیونیوں کے سیکورٹی نظام میں ٹریننگ دی گئی ہے۔ ان کے طریقوں کا نمونہ ہم نے ایران کے حالیہ فسادات میں دیکھا۔ سر قلم کرنا، قرآن اور مساجد کو آگ لگانا اور ایسے ہی دوسرے اقدامات، داعش کے اسی بڑے خوفناک پیٹرن کے تحت کیے گئے۔ مجھے یاد ہے کہ جب آپ سرچ انجنوں میں لفظ "شیعہ" تلاش کرتے تھے، تو خون اور قمہ زنی کی تصاویر سامنے آتی تھیں جو کہ ایک چھوٹے سے گروہ سے تعلق رکھتی تھیں لیکن ان تصاویر کو شیعہ کے ایک رخ کے طور پر دکھایا جاتا تھا۔ اسی طرح کا کام لارڈ احمد نے کتاب "اسلام ان دی ورلڈ" میں کیا تھا۔ اس نے مثال کے طور پر ایرانی کردستان میں ایسے درویشوں کو دکھایا جو اپنے چہرے پر چاقو مار رہے تھے یا زبان میں موٹی سوئیاں چبھا رہے تھے، پھر ان تصاویر کے نیچے لکھ دیا "ایران میں اسلام"۔ یہ اورینٹلزم جس کے بطن سے اسلام شناسی بھی پیدا ہوئی، بدقسمتی سے ایک بڑی سازش کا شکار رہی ہے۔ ایک وجہ جس کے سبب ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے بارے میں اس بڑی غلطی کا شکار ہو رہے ہیں، یہی اورینٹلزم ہے۔ وہ اسلام کو نہیں جانتے، نہ اس کے ایمانی پہلو کو، نہ عقلانی پہلو کو اور نہ ہی اسلامی فکر کے منظم ڈھانچے کو۔ اس لیے جب وہ میدان میں آتے ہیں تو ان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ وینزوئیلا کے معاملے کی طرح ملک کے صدر کو ایک بظاہر پہلے سے طے شدہ آپریشن کے ذریعے پکڑ کر لے جائیں گے اور کچھ نہیں ہوگا۔ نہ عوام احتجاج کریں گے، نہ ایثار و شہادت کے جذبے کا کوئی ڈر ہوگا۔ وینزوئیلا کے اسی ماڈل کے ساتھ وہ ایران میں ایسی جنگ چھیڑنا چاہتے ہیں جو ان کے خیال میں باہر اور اندر کی ایک ہائبرڈ جنگ کے ذریعے معاملے کو ختم کر دے گی۔ تاہم ان کے تصور کے برخلاف ایران کے عوام اس ہائبرڈ جنگ کے خلاف ڈھال بن جاتے ہیں، یعنی عوام کا دفاعی اور مزاحمتی نظام، ان کے مقابلے میں ایک بنیادی رکاوٹ اور ڈھال کے طور پر کام کرتا ہے۔

سوال: ان کا تیسرا خط، امریکی طلباء کے نام، پچھلے خطوط کے مقابلے میں 10 سال سے زیادہ کے فاصلے کے بعد جاری کیا گیا، ایک ایسے وقت میں جب فلسطین کا مسئلہ دنیا کی رائے عامہ کا مرکزی مسئلہ بن چکا تھا۔ ایسے سماجی اور سیاسی موقع پر اس خط کے جاری ہونے کی اہمیت کا آپ کیسے تجزیہ کرتے ہیں؟

جواب: ہمارے شہید و عزیز مقتدا کی شہادت کو جتنا وقت گزر رہا ہے، لگتا ہے ہمارا غم اتنا ہی تازہ ہوتا جا رہا ہے۔ اللہ کے فضل سے ان کے جانشین اسی سوچ، تجربے اور نقطۂ نظر کو آگے بڑھا رہے ہیں جو ان کے پہلے بیان اور نوروز کے پیغام سے بالکل واضح ہے کہ "خامنہ ای جوان ہو گئے۔" ہمارے شہید رہبر کی سوچ میں ایک یکجہتی تھی۔ آپ ان کے خیالات میں متضاد بات نہیں پا سکتے۔ کچھ لوگ دو پہلو یا تین پہلو والے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جو ان کی پچھلی بات کے بالکل برخلاف ہوتی ہیں اور وقت و حالات کے مطابق بدل جاتی ہیں۔ شہید رہبر انقلاب کی سوچ میں ایک استحکام تھا اور اس استحکام کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں ایک مربوط الہی فکر تشکیل پا چکی تھی۔ وہ بات جو انھوں نے "250 سالہ انسان" کے بارے میں کہی تھی، ایک طرح سے کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا واسطہ ایک "1400 سالہ انسان" سے ہے، یعنی انھوں نے تاریخ میں اس الہی روایت اور سماجی روایت پر عمل کیا اور وہ آج کی دنیا کا سامنا کرنے کے لیے ایک بالکل واضح اور شفاف ذہنیت رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے ان کی باتیں ہمیشہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی تھیں۔ پہلے خط میں شہید رہبر انقلاب نے نئے تشدد کو، جو وہی "دیگر ہراسی" ہے، آج کی دنیا میں مسائل کی جڑ کے طور پر پیش کیا۔ انھوں نے اسے ہمیں اسلام اور مسلمانوں سے ڈرانے کی ایک سازش قرار دیا۔ دوسرے خط میں عملی طور پر اس طاقت کی طرف اشارہ کیا گیا جو مسلمان معاشرے کے اندر سے خوف پیدا کرتی ہے، یعنی داعش۔ داعش کا گروہ عراق اور شام میں اسلامی حکمرانی کا دعوی کرتا تھا اور مغربی ایشیا کو متاثر کرنا چاہتا تھا۔ اس گروہ نے ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی اور کچھ سرحدی مقامات تک پر آپریشن کیے۔ شہید رہبر انقلاب کا تیسرا خط یورپ میں پیدا ہونے والی ایک صلاحیت و گنجائش کی بنیاد پر لکھا گیا۔ 1955 سے 1975 کے برسوں کے دوران، جب ویتنام کی جنگ چل رہی تھی اور امریکی دو عشروں تک ویتنام میں الجھے رہے تھے، 30 لاکھ سے زیادہ انسان مارے گئے اور خود امریکیوں کا بھی بہت جانی نقصان ہوا۔ 1965 کے بعد سے امریکا میں عوامی احتجاج شدت اختیار کر گیا اور نوجوان نسل نے فوری ردعمل دکھایا۔ شہید رہبر انقلاب نے اپنے پہلے خط میں جس بات کا ذکر کیا تھا وہ یہ ہے کہ ہم عالمگیریت کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ سرحدیں اب بھی موجود ہیں اور سنجیدہ بھی ہیں لیکن اب ایک "ماورائے سرحد" ماحول پیدا ہو گیا ہے جو سائبر اسپیس میں سامنے آتا ہے۔ یہ مواصلات ایک دو دھاری تلوار ہے، یعنی یہ دنیا کو امریکی رنگ میں رنگنے کا ذریعہ بھی ہے اور دوسری طرف دوسری قسم کے سامراجی مسائل عملی طور پر سامنے آتے ہیں تاکہ لوگوں کے ذہنوں اور افکار پر غلبہ حاصل کیا جا سکے۔ یہ بات ان کے خطوط میں بخوبی جھلکتی ہے۔ انھوں نے ذہنی سامراج اور ذہنوں کو سامراج سے آزاد کرانے کی بحث کو نمایاں طور پر پیش کیا۔ یہ تصورات واقعی بہت اعلی ہیں۔ آج سماجی تحریکوں میں بہت سے لوگ ذہنی اجارہ داری اور انفرادی سوچ کی تباہی پر احتجاج کر رہے ہیں۔ مواصلات میں ہم کہتے ہیں کہ انسان بعض اوقات انکار کے مرحلے پر ہوتا ہے، نہ اس کے کان سنتے ہیں اور نہ آنکھیں دیکھتی ہیں۔ یہ لوگ ذہنوں کی انجینئرنگ کے درپے تھے اور شہید رہبر انقلاب نے اس ذہنی انجینئرنگ پر خصوصی توجہ دی۔ انھوں نے یورپ اور امریکا کے نوجوانوں سے کہا کہ میں آپ کو مزاحمتی محاذ  کا تسلسل سمجھتا ہوں اور آپ درحقیقت آج کی مغربی دنیا میں مزاحمتی محاذ ہیں۔ یہ بات ایک خاص باریکی اور ظرافت کی حامل ہے جو بے مثال قیادت کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انبیائے بنی اسرائیل، خدا سے ہزار سال کی عمر پاتے تھے اور ان کی پوری عمر میں چالیس-پچاس لوگ ایمان لاتے تھے۔ اس الہی رہنما نے خود کو ہر چیز سے منقطع کر لیا تھا۔ ابن عربی کے بقول: "جس قدر تم نہیں ہو، اسی قدر تم ہو۔" انھوں نے خود کو مٹا دیا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ رہبر شہید 86 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔ آيت اللہ خامنہ ای پہلے ہی شہید ہو چکے تھے اور ان کی وہ باطنی شہادت اس (ظاہری) شہادت کا سبب بنی۔ وہ ہمیشہ رشک کرتے تھے اور روتے تھے کہ شہادت کی توفیق کے لیے ہمیں کیوں نہیں چنا گیا۔ ان کے دوسرے خط میں دنیا کے لوگوں کے لیے ہمدردی بہت نمایاں تھی۔ غیر مسلموں کے لیے انھوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا کہ یہ منظر ہمارے لیے تکلیف دہ ہے کہ کوئی بم پھٹے اور کوئی بچہ یا ماں ماری جائے۔ ہم بنیادی طور پر انسانوں کے قتل عام اور بچوں کے مارے جانے کے خلاف ہیں۔ ان کے تیسرے خط میں میدان بہت واضح ہو گیا ہے: "غزہ میں 20 ہزار مظلوم فلسطینی بچے شہید ہو گئے۔" فلسطینی جو پہلے اسرائیل پر مار کرنے کے لیے صرف پتھر رکھتے تھے، اب ایسے وسائل تک ان کی دسترسی ہے کہ وہ مزاحمت کر سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات کیوں ہوں؟ رہبر شہید نے درست اشارہ کیا کہ مغربی دنیا واقعی ایران اور دنیا کو نگلنے کے درپے ہے۔ جہاں کہیں معاشی وسائل موجود ہیں، یہ ممالک انھیں قبضے میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ واقعی یہ ایک ذہنیت ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ اس رویے کو ٹرمپ کی دیوانگی اور اس کی خود پسندی سے منسوب کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یورپی اور امریکی نظام ایک نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے۔ یہی کہ انسان خود کو کائنات کا مرکز سمجھے اور "یورپ و امریکا مرکزیت" کے زاویے میں پھنس جائے اور تمدنی وسائل کو صرف یورپ کا حق سمجھے، امریکا کی تو کوئی خاص تاریخ ہے نہیں، لیکن یورپ کی ہزاروں سال کی تاریخ ہے، تو یہ نظریہ غلط ہے۔ میرے خیال میں امریکا دوبارہ پہلے سامراج کے دور میں لوٹ گیا ہے اور کشور گشائی کے درپے ہے۔ اس سوچ نے یورپ اور امریکا کے نوجوانوں میں ایک طرح کی بیداری پیدا کر دی ہے۔ شہید رہبر نے یورپ اور امریکا کی نوجوان نسل کو صحیح طریقے سے مخاطب کیا اور کہا کہ آپ مزاحمتی محاذ کا تسلسل ہیں اور تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑے ہیں۔ "تاریخ کی صحیح سمت" کی عبارت شاید کائناتی فکر (یونیورسلزم) کے اس پورے مفہوم کو بیان نہ کر سکے جو عالمی اقدار اور مشترکہ انسانی اقدار کی تلاش میں ہے۔ یہ سیکولر سوچ ہے اور اسے صرف دین کے ڈھانچے میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جن بند گلیوں کا انسان کو سامنا ہے ہے، ان میں وہ نجات کے لیے ہر چیز کا سہارا لیتا ہے۔ جب پوسٹ ماڈرنزم سامنے آيا تو وہ ماڈرن نظام سے ایک قسم کی تھکن کی عکاسی تھی لیکن اس نے بھی غلط راستہ اختیار کیا اور ایسی افراتفری پیدا کی جس میں اب نسلیں قربان ہو رہی ہیں۔ ان کے تینوں خطوط میں ایک قدر مشترک تھی: یورپ اور امریکا کی بیداری۔ وہ عالم اسلام کی بیداری کو مغربی دنیا کی بیداری میں بدلنا چاہتے تھے۔ دوسری قدر مشترک یہ تھی کہ مغربی معاشرہ با مقصد بنے کیونکہ واقعی مغربی دنیا محض مادہ پرستی میں پھنسی ہوئی ہے۔ اب سوشلزم اور لبرلزم میں کوئی فرق نہیں رہا۔ یہ دونوں مادہ پرستی کا شکار ہیں اور انسان کی حقیقی ضروریات کو پورا نہیں کرتے۔ خدا نے کائنات کے لیے ایک حقیقت پیدا کی ہے اور سب سے بڑھ کر اشرف المخلوقات یعنی انسان کے لیے ایک وقار رکھا ہے جس سے نکلنا زندگی کے آلودہ ہونے کے مترادف ہے۔ رہبر شہید نے کوشش کی کہ ان تینوں خطوط میں اس آلودگی کو ایک ہدف میں بدل دیں۔ تیسری قدر مشترک یہ تھی کہ انسانوں کے اندر طاغوتی نظام کے خلاف احتجاج کا جذبہ مضبوط ہو۔ ہم ایک طاغوتی اور سامراجی نظام میں پھنسے ہوئے ہیں جو دوسروں پر غلبہ چاہتا ہے اور اتفاق سے اس کے غلبے کا پہلا نشانہ اس کے اپنے عوام ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یورپ یا امریکا ایک دوسرے سے الگ ہیں لیکن نہیں! ہمیں صہیونی نظام کو، جو یورپی اور امریکی نظام کے اوپر بیٹھا ہے، وہاں کے عوام، دانشوروں اور غیر معمولی لوگوں سے الگ کرنا ہوگا۔ معاشرے کا ایک حصہ صہیونی حلقے میں ہے لیکن اس معاملے کے پہلے شکار خود وہاں کے لوگ ہیں۔ امریکا میں جب 70 فیصد مالی وسائل معاشرے کے 5 فیصد لوگوں کے پاس ہوں تو یہ ایک بڑا تضاد ہے! امریکا میں مالی لحاظ سے سب سے زیادہ عدم مساوات ہے جو سماجی امتیاز کو ظاہر کرتا ہے۔ مالی معاملات تو صرف ایک پہلو ہیں۔ ایپسٹین کا معاملہ دکھاتا ہے کہ یہ شہوانیت انسان کو کہاں لے جاتی ہے کہ وہ ایسے بھیانک جرائم کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب کی تاریخ میں شہوانیت، لذت پرستی اور حرص و طمع کا ایک حلقہ موجود ہے جس پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، بشمول وہ کتاب جس میں مغربی فلاسفہ کے عجیب و غریب جذبات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے بعض فلاسفہ کتنے آلودہ اور مبتلا تھے۔ یہ چیز مغربی معاشرے میں ایک فکری بنیاد بن گئی ہے۔ المختصر آگہی، مقصدیت اور تاریخ کے صحیح راستے کی طرف رہنمائی، رہبر شہید کے تینوں خطوط کی روح ہے۔ شاید شہید رہبر نے اس "تاریخ کی صحیح سمت" کو تھوڑا عام رکھا ہے، یعنی انسان کی اپنی الہی فطرت کی طرف واپسی، اب چاہے وہ کسی بھی دین سے تعلق رکھتا ہو لیکن آخرکار اسے اپنی فطرت کی طرف لوٹنا چاہیے اور اس کی توجہ زندگی کی اس حقیقت کی طرف ہونی چاہیے جو قرآن کریم اور اسلام پیغمبر خاتم کے دین کے طور پر پیش کرتا ہے۔

سوال: رہبر انقلاب کا تیسرا خط یورپی اور امریکی ماحول میں مسئلۂ فلسطین کو آگے بڑھانے میں کس حد تک مددگار ثابت ہوا؟ خود یہی بات کہ ایک ملک کا رہبر اور ایک لحاظ سے امت مسلمہ کا رہبر، دوسری قوموں کے نوجوانوں کو تین بار خط لکھتا ہے اور ان سے براہ راست بات کرتا ہے، اسے آپ شہید خامنہ ای کی کس خصوصیت کی علامت سمجھتے ہیں؟

جواب: میں سمجھتا ہوں کہ شہید رہبر انقلاب خود کو سب سے پہلے ایرانی معاشرے کے لیے ذمہ دار سمجھتے تھے اور ان کی توجہ کا پہلا مرکز دنیا کا انقلابی معاشرہ تھا۔ اگلے مرحلے میں وہ دنیا کے تمام لوگوں کے لیے ایک فریضہ اور ذمہ داری محسوس کرتے تھے جو کہ اسلام سے ماخوذ ہے کیونکہ اسلام کا خطاب عام ہے۔ خداوند عالم قرآن مجید میں واضح طور پر پیغمبر سے فرماتا ہے: "ہم نے آپ کو پوری دنیا کے لوگوں کے لیے بھیجا ہے۔" یا ایمانی خطاب جو عمومی طور پر تمام مومنین سے کیے گئے ہیں: "یا ایھا الذین آمنوا" جو کہ پوری دنیا کے تمام مومنوں کے لیے ہے۔ اسی طرح "یا ایھا الناس" کے خطاب میں دنیا کے تمام لوگ شامل ہیں۔ لہذا ایک مسلمان اور ایک مسلمان لیڈر جیسے ہمارے عزیز اور شہید رہبر، جو دنیا کے لیے ایک بلند و بالا، تمدنی اور دانش مندانہ نظریہ رکھتے تھے، یقیناً خود کو دنیا کے لوگوں کے لیے ذمہ دار سمجھتے تھے، خاص طور پر حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، ہمارے عزیز دانشور رہبر کے نقطۂ نظر میں۔ وہ فرماتے ہیں کہ رابطے کے لیے ہماری پہلی ترجیح انقلابی معاشرے اور ممالک ہیں؛ لبنان، فلسطین، عراق اور دنیا کی ہر وہ جگہ جو اس انقلابی قدر کی حامل ہو۔ اس نظریے کی وجہ واضح ہے: یہ گروہ اور اقوام تسلط کے نظام کا مقابلہ کرنے کی تیاری رکھتی ہیں؛ اس معنی میں کہ وہ ایک شرمندہ شناخت کے بجائے ایک مجاہدتی شناخت کی حامل ہیں۔ آج ہمارے حکیم اور شہید رہبر کی شہادت کے بعد ایران میں مجاہدت کے جذبے کی تقویت ہوئي ہے۔ ہمارے عزیز رہبر کا مبارک خون، وہ بھی ماہ رمضان میں، یہ اثر لایا۔ مجاہدت ہمارے حکیم رہبر کی شناخت تھی، وہ خود ایک مجاہدتی شخصیت کے حامل تھے۔ ان کی 65 سالہ سیاسی زندگی مجاہدت کی زندگی تھی، جیل اور جلاوطنی کے ساتھ، 44 سال ایک ایسے ناتواں جسم کے ساتھ جس کا ایک ہاتھ مفلوج تھا۔ جب وہ قنوت پڑھتے تھے، تو اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے نیچے رکھتے تھے تاکہ پروردگار کے حضور اپنا ہاتھ بلند کر کے دعا کر سکیں۔ یہ زخمی بدن جس کی گلے کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، دایاں ہاتھ کام نہیں کرتا تھا اور پاؤں زخمی تھا، 44 سال اس عظمت کے ساتھ جو حسینیۂ امام خمینی میں داخل ہوتے وقت، فوجی پریڈوں میں اور عوام سے بات کرتے وقت نظر آتی تھی، ایک انسان اور مجاہدتی شناخت کو ظاہر کرتی تھی۔ اس کے برخلاف ایک شرمندہ تشخص تھا جس کی ایک وجہ نام نہاد ایمان کی کمزوری ہے اور دوسری یہ کہ مغرب والوں نے اسلامو فوبیا میں ایسا کام کیا ہے کہ لوگ اپنے آپ سے شرمندہ ہو جائیں۔ لہذا اس سلسلے میں مجھے کہنا چاہیے کہ آج ہم نے عالمی سطح پر ایسے لوگ ڈھونڈ لیے ہیں جو صرف لبنان، عراق، شام اور یمن میں نہیں ہیں بلکہ پوری دنیا میں موجود ہیں۔ یہی خط جو ہم نے اقوام متحدہ کو لکھا، اس پر ایک بہت بڑی تعداد نے دستخط کیے۔ یونان کے سابق وزیر تعلیم، پروفیسر الگار، رامون اور اسٹیو ہیو سے لے کر دنیا کے بہت سے مفکرین تک جو آج اس موضوع کے حامی ہیں۔ میں نے ہمارے دانشور رہبر کے، جو شہید رہبر کے صالح جانشین ہیں، فکری نمونے کی خصوصیات پر ایک مضمون لکھا اور اس کا انگریزی ترجمہ ہونے کے بعد وہ دنیا کے متعدد مفکرین تک پہنچا۔ جو تاثرات ہمیں موصول ہوئے وہ واقعی حیران کن تھے۔ وہ ابھی تک اجتماعی طور پر منظر عام پر نہیں آئے ہیں لیکن یہی سوچ دنیا کے مفکرین پر اثر انداز رہی ہے۔ میرے خیال میں یہ اثر آفرینی دنیا کے مفکرین اور نوجوان نسل میں ہمہ گیر ہے۔ یقیناً ہمیں اس بات سے غافل نہیں ہونا چاہیے کہ ایران کو اس قدر دیگر ہراسی اور ناانصافی پر مبنی لیبلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ ہم چار قسم کے فوبیاز میں گھر گئے ہیں: اسلامو فوبیا، ایران فوبیا، شیعہ فوبیا اور انقلابی فوبیا۔ ان چار فوبیاز کے ذریعے ایران کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی اور درحقیقت عالمی سماجی کیمپینز میں ایران کے سلسلے میں ایک شرمندگی کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ لوگ ایران کے قریب آنے سے پرہیز کریں۔ لیکن برطانیہ میں ہونے والے اسی جنگ مخالف مظاہرے میں، میں نے سنا کہ قریب 12 ہزار ایرانی پرچم تقسیم کیے گئے اور وہ کم پڑ گئے اور لوگ ایرانی پرچم ہاتھ میں لینے کے خواہاں تھے۔ ان سماجی تحریکوں میں "ہم ایرانی ہیں" کے نعرے بلند ہوئے۔ یہ ان طویل کوششوں کا نتیجہ ہے جنھوں نے ذہنوں پر اثر کیا اور آگہی پیدا کی۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اس انتظار میں نہیں رہنا چاہیے کہ جب رہبر شہید کوئی خط لکھتے ہیں اور اسے یورپ کے نوجوانوں کے نام بھیجتے ہیں تو ہم اگلے ہی دن اس کا اثر دیکھیں۔ نہیں! یہ چیزیں وقت گزرنے کے ساتھ حقیقت پسندی کی ثقافت پیدا کرتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ ایک بار قرآن مجید کو کسی تفسیر کے بغیر پڑھیں، جہاں کہا گیا ہے: "اگر ہم سنتے یا عقل سے کام لیتے تو ہم دوزخ والوں میں نہ ہوتے۔" اس سے بڑھ کر دور اندیشی اور کیا ہوگی کہ اگر ہم ان لوگوں میں سے ہوتے جو اچھا سنتے اور اچھا سوچتے، تو ہماری جگہ جہنم کی آگ میں نہ ہوتی۔ دوسرے الفاظ میں، وہ جہنم جو آج صہیونی نظام نے دنیا میں برپا کر رکھا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا نے حقیقت سننے والے کان اور عقل کھو دی ہے۔

سوال: آپ نے حال ہی میں آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان "رہبر حکیم" ہے، براہ کرم مختصر طور پر ہمیں اس کتاب کے بارے میں بتائیے۔ اگر آپ اپنے نقطۂ نظر سے رہبر شہید کو ایک جملے یا ایک پیراگراف میں بیان کرنا چاہیں تو کیا کہیں گے؟

جواب: کتاب "رہبر حکیم" انگریزی زبان میں بارہ روزہ جنگ کے دوران شائع ہوئی اور یہ دنیا بھر کے بڑے ورچوئل بک اسٹورز پر دستیاب ہے۔ اسے بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہ کتاب مختصر ہے اور اس میں رہبر شہید کی زندگی کا جائزہ لیا گیا ہے، بچپن سے لے کر قیادت کے دور تک اور ان کی قیادت کی خصوصیات کو دس مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ ان خصوصیات میں سے ایک "توحید گرائی" یا خدا پرستی ہے۔ وہ ایک موحد اور خدا پرست انسان تھے اور مسلسل اللہ کے ساتھ باطنی رابطے میں رہتے تھے۔ اللہ کے احکامات ان کے لیے ایک قانون کی حیثیت رکھتے تھے اور روزمرہ کی زندگی میں وحی کا تسلسل ان کے لیے ایک اہم اصول تھا۔ ان کی ایک اور نمایاں خصوصیت "حکمت" تھی، جس سے کتاب کا عنوان بھی ماخوذ ہے کیونکہ حکیم وہ ہے جو خیر اور شر کا فرق سمجھ سکے اور ہمیشہ خیر و خوبی کا انتخاب کرے، نہ کہ شر اور برائی کا۔ وہ حقیقی معنی میں حکیم تھے اور ان کی حکمت کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ ان کی دیگر اہم خصوصیات میں سے ایک "ہمہ جہت نظر" تھی۔ وہ ایک فنکار، آرٹ کے دلدادہ، فن شناس، ادیب اور شاعر تھے اور ان کا مطالعہ بہت گہرا تھا۔ وہ جدید ترین ناولز اور داستانوں کا مطالعہ کرتے تھے اور انھوں نے شہداء اور ایثار و شہادت کی ثقافت سے متعلق لکھنے لکھانے کو دوبارہ زندہ کیا۔ وہ علم و دانش پر گہری توجہ رکھتے تھے اور نئے ایران میں علم و دانش کے فروغ کے معمار سمجھے جاتے تھے۔ رہبر شہید ایک روشن خیال انسان تھے اور حال اور مستقبل پر نظر رکھتے تھے۔ وہ انسان کے لیے نئے افق کھولتے تھے اور جدت طرازی کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ وہ کبھی اس بات پر راضی نہیں ہوتے تھے کہ ہم صرف علم کی سرحدوں کے اندر ہوں بلکہ ان کا ماننا تھا کہ ہمیں دنیا میں نئے علوم کا بانی ہونا چاہیے۔ اسی طرح وہ ٹیکنالوجی کو بھی بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ ملک کے جامع سائنسی نقشے کی تدوین کے لیے انھوں نے جو احکامات دیے، وہ اس موضوع پر ان کی توجہ کی ایک مثال ہے۔ اس دستاویز کا مطلب تمام شعبوں؛ بنیادی علوم، انجینئرنگ، تجرباتی علوم، انسانی علوم اور سماجی علوم، میں پورے ملک کے لیے ایک سائنسی روڈ میپ تیار کرنا تھا۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے اور سب سے بڑھ کر، دور اندیش تھے۔ پائیدار ترقی کے سلسلے میں، رہبر شہید لفظ "ترقی" کے مغربی ترجمے "توسیع"  کی وجہ سے اسے پسند نہیں کرتے تھے اور مقامی نقطۂ نظر پر بہت زور دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ عالم اسلام کا اپنا ایک منفرد فکری ماحول ہے جس سے اسے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسی وجہ سے انھوں نے "توسیع" کی جگہ "پیشرفت" کا لفظ استعمال کیا۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ پیشرفت کے راستے میں تمام عوامل پر توجہ دی جانی چاہیے: ماحولیات، معیشت اور انسان، اس طرح کہ خود پیشرفت ہی ماحولیات کی تباہی کا باعث نہ بنے۔ ایک زیادہ صحیح تصور جو ان کے فکری افق میں موجود تھا، وہ "دائمی پیشرفت" کا مسئلہ تھا۔ "پائیدار پیشرفت" کے بجائے، وہ دائمی پیشرفت کی بات کرتے تھے، یعنی صرف دنیا اور مادی زندگی پر توجہ دینے کے بجائے اس دنیا کے بعد کی دنیا پر بھی توجہ دینا۔ روایات میں آیا ہے کہ یہ دنیا آخرت کے مقابلے میں صرف ایک دن اور رات (چوبیس گھنٹے) کے برابر ہے۔ بنابریں ان کے لیے ہمیشگی بہت اہم تھی اور وہ انسانوں کو نصیحت کرتے تھے کہ وہ اس طرح زندگي گزاریں کہ ماحول ان کے لیے ہمیشہ مطلوبہ رہے۔ درحقیقت وہ "ابدی انسان" پر توجہ رکھتے تھے۔ اس راہ میں ان کی ہدف بندی بہت اہم تھی۔ انقلاب کے دوسرے مرحلے کے لیے، فروری 2019 میں، رہبر شہید نے قریب 17 دن تک اپنے تمام کام چھوڑ دیے اور مکمل توجہ کے ساتھ اس اعلامیے کے متن پر کام کیا جو کہ بہت ہی اعلیٰ درجے کا تھا۔ یہ اعلامیہ اسلامی انقلاب کی اہم ترین دستاویزات میں سے ایک ہے اور اگر کوئی اسلامی انقلاب کو سمجھنا چاہے تو یہ متن اس کے لیے کافی ہے۔ شہید رہبر انقلاب نے اس اعلامیے میں انقلاب کے سرمائے کا خلاصہ بیان کیا اور مستقبل کے لیے اہداف مقرر کیے۔ انھوں نے اسلامی معاشرے کے لیے تین بڑے اہداف مقرر کیے جن میں "جدید اسلامی تمدن" بنیادی رکن تھا۔ اس ہدف بندی میں بہت ہی اعلیٰ اور گہرا نقطۂ نظر تھا۔ اللہ نے انقلاب کے اس حکیم اور شہید رہبر کو یہ توفیق دی کہ 65 سال کی مجاہدت کے بعد 86 سال کی عمر میں ایک باوقار فضا میں اور دنیا کے پست ترین لوگوں کے ہاتھوں شہادت پائیں۔ وہ کسی پناہ گاہ یا خفیہ جگہ پر نہیں تھے بلکہ وہ اپنے کام کے دفتر میں، ماہ رمضان میں، قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ ان کی شہادت کی کیفیت بعض لوگوں نے یہ بتائی ہے کہ ان کے دونوں ہاتھ قلم ہو گئے اور وہ ایک طرح سے اسلامی انقلاب کے ابوالفضل العباس بن گئے۔ انھوں نے اپنا وجود، امت مسلمہ کی بیداری کے لیے قربان کر دیا۔ اگر ایک سادہ جملے میں کہنا چاہوں تو، انقلاب کے حکیم رہبر وہ لیڈر تھے جو ہمیشہ دین، ایمان، علم اور عزیز ایران کی آزادی کے خواہاں تھے۔ بلاشبہ وہ ایران کی ہم عصر تاریخ کے سب سے زیادہ محب وطن انسان ہیں اور میں یہاں تک کہنا چاہوں گا کہ وہ ایران کی قابل فخر تاریخ کے سب سے زیادہ "قومی" انسان ہیں، ایک ایسا انسان جس نے جدید اسلامی تمدن کے قیام کے لیے اپنی تمام تر توانائی، جان اور سوچ وقف کر دی اور اپنے پورے وجود کو اس مقصد کے لیے وقف کر دیا۔

15 اپریل 2026