logo khamenei

آیت اللہ خامنہ ای مسئلۂ فلسطین کو عالم اسلام کا دل سمجھتے تھے

آیت اللہ خامنہ ای مسئلۂ فلسطین کو عالم اسلام کا دل سمجھتے تھے

رہبر شہید آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رحمت اللہ علیہ کی شہادت کے چہلم کے موقع پر تہران میں فلسطی کی تحریک جہاد اسلامی کے نمائندے جناب خالد القدومی سے khamenei.ir نے ایک خصوصی انٹرویو لیا، جو آپ کی خدمت میں پیش ہے۔

سوال: شہید امام خامنہ ای کی نگاہ میں مسئلۂ فلسطین کی کون سی خصوصیت آپ کے لیے خاص تھی؟

جواب: آیت اللہ خامنہ ای قدس سرہ مسئلۂ فلسطین کو عالم اسلام کا دل سمجھتے تھے۔ وہ قدس کو عالم اسلام کے مرکز میں قرار دیتے تھے اور قدس کے دل میں، مزاحمت کو، حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو دیکھتے تھے۔ وہ جب فلسطین کے ہدف اور نصب العین کی حمایت کی بات کرتے تھے تو ہمیشہ اس بنیاد پر زور دیتے تھے کہ تمام مسلمانوں کے دل میں فلسطین کی محبت ہے اور وہ اس کی حمایت کے خواہاں ہیں۔ اس لیے یہ نصب العین تمام مسلم گروہوں کے درمیان اتحاد کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ درحقیقت یہ وہ ورثہ تھا جو اسلامی انقلاب کے بانی امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے چھوڑا ہے۔ ماہ رمضان کے آخری جمعے کو "عالمی یوم قدس" کے طور پر منانے کی سوچ، ایک عظیم اور اہم نصب العین یعنی مسئلۂ فلسطین کے گرد دنیائے اسلام کے لیے ایک اتحاد پیدا کرنے والی سوچ تھی۔

انھوں نے تہران میں منعقدہ ناوابستہ تحریک کے آخری اجلاس میں، نہ صرف اسلامی ممالک کی سطح پر بلکہ ان تمام ممالک کے درمیان جو فلسطین کے حق کی حمایت اور مستضعفین کے ساتھ کھڑے ہونے کے خواہاں ہیں، کوششوں کو ایک ساتھ لانے پر زور دیا اور انھیں ان کے انسانی فرض کی یاد دہانی کرائی کہ وہ فلسطینیوں کے حق کی نصرت میں متحد رہیں۔ اسی طرح انھوں نے یہ مسئلہ بھی اٹھایا کہ کیوں ملت فلسطین اپنے مستقبل کا فیصلہ خود نہیں کر سکتی، جبکہ یہ اس کا فطری حق ہے۔

بنابریں اس میں کوئی شک نہیں کہ آیت اللہ خامنہ ای رحمت اللہ علیہ تمام لوگوں، فلسطین کے حامیوں اور اسلامی ممالک کی کوششوں کے اشتراک کے خواہاں تھے اور ان کا ماننا تھا کہ مسئلۂ فلسطین اس مقصد کی حمایت اور صہیونی حکومت کے مقابلے کے لیے اتحاد کا بہترین محور ہے۔

سوال: گزشتہ چار عشروں میں شہید خامنہ ای کی قیادت کے دوران ان کے نقطۂ نظر اور اقدامات کا مسئلۂ فلسطین پر کیا اثر رہا ہے؟

جواب: صہیونیت مخالف مزاحمت کی حمایت اور پشت پناہی میں اس عظیم شہید، آیت اللہ خامنہ ای رحمت اللہ علیہ کے بہت سے موقف موجود ہیں۔ جیسا کہ پہلے اشارہ کیا گیا، ان کی ان راستوں پر کھلی اور وسیع نظر تھی جو تکنیکی یا اسٹریٹجک لحاظ سے صہیونی دشمن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ دنیا، انسانیت اور لوگوں کی مختلف نسلوں کے لیے اپنی تقریروں میں، وہ ہمیشہ مسئلۂ فلسطین کا ذکر ایک ایسے موضوع کے طور پر کرتے تھے جو انسانیت کے خیر خواہ طبقات کو شرپسند قوتوں، صہیونی حکومت اور امریکی و صہیونی سامراج کے خلاف اکٹھا کر سکتا ہے۔

ان کی شخصیت میں نظریے کی شفافیت، جو ایک مفکر بھی تھے، ایک عملی انسان بھی، ایک سپاہی بھی اور اس راستے کے کمانڈر بھی تھے، مکمل طور پر عیاں تھی۔ جیسا کہ کہا گیا، وہ شہید اسماعیل ہنیہ سے بہت محبت کرتے تھے۔

سوال: جیسا کہ آپ جانتے ہیں شہید قدس، امام خامنہ ای ایران اور اسرائیل مخالف مزاحمتی گروہوں کے درمیان تعلقات پر بہت زور دیتے تھے۔ اس لحاظ سے قائد شہید کی کوئی خاص یاد یا بات آپ کے ذہن میں ہے؟

جواب: کچھ سال پہلے، جب الحاج ابوالعبد (شہید ہنیہ) رحمت اللہ علیہ ابھی غزہ میں تھے اور وہاں سے باہر نہیں نکل سکتے تھے اور کچھ مدت تک ملاقاتوں سے دور رہے تھے تو ایران کے دورے کے لیے شہید بزرگوار شیخ صالح العاروری رحمت اللہ علیہ کی سربراہی میں ایک وفد تشکیل دیا گیا۔ جب ہم نے آقا (شہید خامنہ ای) سے ملاقات کی اور الحاج ابومحمد نے الحاج ابوالعبد کا خط انھیں پیش کیا، تو ان کا ردعمل بہت حیران کن تھا۔ تصور کیجیے کہ انھوں نے خط کے پورے دو صفحے لفظ بہ لفظ اور بلند آواز میں وفد کے سامنے پڑھے، گویا وہ اپنے شہید بھائی ابوالعبد سے گفتگو کر رہے ہوں۔ وہ اس خط سے بہت متاثر ہوئے اور ایک بار پھر فلسطینی قوم کی مکمل حمایت پر زور دیا۔ انھوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ شہید الحاج قاسم سلیمانی نے جو اہم منصوبے پیش کیے تھے، ان میں سے ایک مسئلۂ فلسطین کے سلسلے میں امت مسلمہ کے کردار کے تعین کے بارے میں ہے، ایک بڑا منصوبہ جس کا نتیجہ وہ عظیم مقابلہ تھا جو مومن اور مجاہد فلسطینی نوجوانوں نے صہیونی دشمن کے خلاف مزاحمت میں رقم کیا۔

بہت سے دوسرے موقف اور اقدامات بھی ہیں جن کے بیان کا شاید ابھی موقع نہ ہو لیکن یقیناً تاریخ گواہی دے گی کہ اس مومن انسان نے کبھی کوتاہی نہیں کی اور فلسطین میں اپنے بھائیوں کی مدد اور فلسطین کے نصب العین کی حمایت میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا۔ ہم اس مجاہد عالم کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں، وہ انسان جس نے راستہ پہچان لیا اور جان لیا کہ اس دنیا سے کیسے جانا ہے، اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کے ساتھ کھڑے ہو سکیں لیکن ساتھ ہی دین کی نصرت اور فلسطین کے مقصد کی پشت پناہی کے لیے کوئی بڑی چیز پیش کر سکیں۔ ہم اس مرد اور اس کمانڈر کو فلسطین میں محبت، مزاحمت، دین، اسلام اور انسانیت کے مقصد سے وابستگی کے تمام معانی کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای علیہ الرحمہ کی شہادت مسئلۂ فلسطین کے لیے ایک بڑا نقصان تھی لیکن ہماری امید یہ ہے کہ اس عظیم رہنما نے ایسا ورثہ چھوڑا ہے جس پر اسلامی انقلاب کے تیسرے رہبر سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای حفظہ اللہ قدم بڑھائیں گے، ایک ایسا ورثہ جو صہیونی اور امریکی مجرموں کی آنکھوں میں کانٹا ہوگا اور مستضعفین کی حمایت اور فلسطین کے نصب العین کے دفاع میں اسلامی انقلاب کے بانی کے شروع کردہ راستے کو جاری رکھے گا۔

سوال: شہید قائد نے کہا تھا کہ پوری عرب دنیا اور عالم اسلام کو بغیر کسی توقع کے فلسطین اور فلسطینیوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ ان کا مزاحمتی تحریکوں اور فلسطین کے ساتھ تعلق اور عمل کا طریقۂ کار کیسا تھا؟ کیا وہ آپ سے کوئی توقع بھی رکھتے تھے؟

جواب: جب مومن دنیا سے جاتا ہے، تو دو جگہیں اس پر روتی ہیں: آسمان میں وہ جگہ جہاں سے اس کے اعمال اوپر جاتے تھے اور زمین میں وہ جگہ جہاں وہ نماز پڑھتا تھا۔ جی ہاں، یہاں تک کہ جہاں انسان خدا کی عبادت کرتا تھا، وہ بھی اس کی کمی محسوس کرتی ہے اور اس کے نہ ہونے پر روتی ہے۔ زہد کی بعض کتابوں میں یہ بھی آیا ہے کہ زمین، عالِم کی وفات کے بعد چالیس دن تک اس پر روتی ہے۔ رہبر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت، زمین سے آسمان کی طرف ایک عالم باعمل، سچے مجاہد اور مظلوموں کے مددگار کے اٹھ جانے کے مترادف ہے۔ انھوں نے بارہا شہادت کے لیے اپنے اشتیاق اور بیت المقدس کے دفاع کی راہ میں جان دینے کی آرزو کا اظہار کیا تھا۔ یہاں تک کہ اپنی آخری تقریر میں، جو گویا ان کا الوداعی کلام تھا، انھوں نے اس بات پر زور دیا اور دنیا بھر میں اپنے لوگوں، شاگردوں اور پیروکاروں کو وصیت کی کہ وہ مغربی ثقافت اور سامراجی قوتوں کے سامنے ڈٹ جائیں، بیت المقدس کی پاسبانی اور اس کے دفاع کے لیے ایک مشعل اور دھار دار تلوار بنیں اور مجرم صہیونی حکومت کی نابودی کے لیے جدوجہد کا راستہ جاری رکھیں۔

مرحوم رہبر نے مسئلۂ فلسطین کو اپنی سوچ، دل اور عقل میں ایک خاص جگہ دی تھی۔ فلسطین ان کے لیے کوئی تاریخی موضوع یا کلام میں کوئی گزرتا ہوا لفظ نہیں تھا بلکہ عقیدہ، دین، فرض اور ایمان تھا۔ انھوں نے مسئلۂ فلسطین کو اسلامی جمہوریہ کے بانی امام، امام خمینی رحمت اللہ علیہ سے ورثے میں پایا اور لوگوں کو مجرموں، ظالموں اور استکباری قوتوں کے مقابلے کی دعوت دی۔ اپنی تحریروں، تقریروں اور نجی ملاقاتوں میں آیت اللہ خامنہ ای رحمت اللہ علیہ ہمیشہ فلسطین اور مزاحمت کی مدد پر زور دیتے اور حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ مسئلۂ فلسطین کے فریقوں کے ساتھ ان کا تعلق، خواہ وہ فلسطینی ہوں یا غیر فلسطینی، مسلمان ہوں یا غیر مسلمان، بہت خاص تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ انھوں نے یورپی نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ فلسطین ایک مظلوم قوم ہے اور یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ اس تصور کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کیونکہ رہبر مرحوم مسئلۂ فلسطین کے مذہبی اور اعتقادی پہلو پر اپنے گہرے ایمان کے باوجود، اس بات پر زور دیتے تھے کہ فلسطین ایک انسانی موضوع ہے اور پوری دنیا کی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ وہ ہمیشہ فلسطین کے بارے میں مختلف پہلوؤں سے گفتگو کرتے تھے۔

میرے خیال میں فلسطین کے بارے میں ان کی باتوں کو جو چیز ممتاز بناتی ہے، وہ چند نکات میں سمٹ جاتی ہے: پہلا، سمت کا واضح ہونا۔ ان کا ماننا تھا کہ ہر چیز، ثقافت، معاشرہ اور سیاست کا رخ قدس کی طرف ہے کیونکہ وہ بیت المقدس کو مسلمانوں کا قبلۂ اول اور ایک ایسا مرکزی عنصر سمجھتے تھے جس کی طرف انسانیت رکھنے والے ہر شخص کو متوجہ ہونا چاہیے۔ وہ فلسطین کی سرزمین پر قابض دشمن کو نہ صرف فلسطینیوں کا دشمن بلکہ پوری انسانیت کا دشمن سمجھتے تھے۔ رہبر شہید ہمیشہ ان مجرموں کی جانب سے پیدا ہونے والے سیکورٹی اور انسانی خطرے کی طرف اشارہ کرتے تھے۔

مسئلۂ فلسطین کے بارے میں امام شہید کے نقطۂ نظر کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ وہ صرف ایک سیاسی مبصر یا مذہبی مبلغ نہیں تھے، وہ اسلام کے مبلغ تھے۔ آیت اللہ خامنہ ای میں شدید انکساری کی وجہ سے وہ فلسطینی مجاہدین کی استقامت سے انسانی پہلوؤں کی تشریح کے لیے تمام تر ارادہ حاصل کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ان سے میری آخری ملاقات شہید اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے دن ہوئی تھی۔ انھوں نے بہت گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا اور سیاسی بحث شروع کرنے سے پہلے شہید ابوالعبد اور ان کے وفد کے استقبال میں جو اصل بات کہی وہ یہ تھی کہ انھوں نے فرمایا: "میں اسلام کا مبلغ ہوں اور میں نے لوگوں کو دین کی دعوت دینے میں تمام مذہبی اور اسلامی نظریات کا تجربہ کیا ہے۔ بعض میں ہم کامیاب رہے اور بعض میں نہیں لیکن آپ نے طوفان الاقصیٰ میں کیا کیا کہ غیر مسلم اسلام کی طرف مائل ہو گئے؟"

وہ کہتے تھے کہ انہیں یورپ کے مذہبی مراکز سے ایسی رپورٹیں مل رہی ہیں جن میں طوفان الاقصیٰ کی وجہ سے اسلام کی طرف شدید رجحان کا ذکر ہے۔ وہ اس تجربے سے بہت خوش تھے کہ فلسطین کے فرزندوں نے امت مسلمہ کے دفاع کا علم بلند کر رکھا ہے۔ اس لیے انھوں نے فیصلہ کیا اور مصمم ارادہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ رہیں گے، ان کی مدد کریں گے اور ان کے شریک بنیں گے نہ صرف حامی بلکہ ان کے شریک۔ بنابریں مسئلۂ فلسطین کے بارے میں آیت اللہ خامنہ ای کا نظریہ ایک عالمی، عملی، جہادی اور اس یقین کے ساتھ تھا کہ حقیقی قبلہ، فلسطین اور قدس کی طرف ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس عظیم انسان، اسلامی انقلاب کے رہبر حکیم کی شہادت، ایک طرف جیسا کہ میں نے کہا، ان کی آرزو کی تکمیل تھی اور دوسری طرف، ہم اس مرد کی جدائی پر غمزدہ ہیں۔ وہ مرد جس کا ہم پر حق ہے کیونکہ وہ شہادت کی خندق میں مسئلۂ فلسطین کے ساتھ کھڑے رہے۔ وہ سچ مچ طوفان الاقصیٰ کی راہ کے شہید اور قدس کی راہ کے شہید ہیں۔ اللہ ان پر رحم کرے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ انھیں صالحین کے زمرے میں قبول فرمائے۔

19 اپریل 2026