امام شہید کی شہادت اور فتح کا عملی جامہ پہننا
"ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل اللہ امواتاً بل احياء عند ربھم يرزقون" اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انھیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے یہاں رزق پا رہے ہیں۔ (سورۂ آل عمران، آیت 169)
امام عزیز ، حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے ملکوتی عروج کو چالیس دن گزر گئے۔ ان کی شہادت کو چالیس دن بیت گئے اور ایرانی قوم اور مزاحمت کے سپوت، میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ چالیس دن سے میدان میں وفاداری اور مزاحمت کی راہ کی داستان لکھی جا رہی ہے؛ اسلام کا وہ راستہ جس کی سربلندی کے لیے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مبعوث ہوئے، امت مسلمہ کی بیداری کا منصوبہ اور انسانیت کی خدمت کے لیے اس کی پیش قدمی اور مزاحمت کا وہ راستہ جس کے بغیر قوموں کے حقوق محفوظ نہیں رہتے اور جس کے بغیر امتوں کی حرمت پامال ہوتی ہے اور ان کے حقوق غصب کر لیے جاتے ہیں۔ یہ، اس رہبر سے وفاداری کی روایت ہے جس نے اس راہ کی خدمت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔
ہم تحریک حماس میں، حضرت آیت اللہ خامنہ ای رحمت اللہ علیہ اور فلسطین کے بارے میں ان کے موقف کو ان سے ملاقات سے پہلے ہی میڈیا کے ذریعے جانتے تھے۔ سنہ 1992 میں ان سے پہلی ملاقات کے وقت سے ہم ان کے عملی موقف سے آگاہ ہوئے، وہ موقف جو بغیر کسی شرط اور ہچکچاہٹ کے، بغیر کسی کمی کے فلسطینیوں کے مکمل حق کی حمایت کرتا تھا۔ اور تمام ممکنہ وسائل کے ساتھ اور کسی بھی چیلنج کی پرواہ کیے بغیر مزاحمت کی پشت پناہی کرتا تھا۔ یہ موقف محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک گہرا اصول اور راسخ ایمان تھا جو، جیسا کہ ہم نے ان سے سنا، اللہ تعالیٰ کے اس کلام سے ماخوذ تھا: "جو لوگ ایمان لائے وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنھوں نے کفر اختیار کیا وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے ساتھیوں سے لڑو کہ یقیناً شیطان کی چال کمزور ہے۔" رہبر شہید رحمت اللہ علیہ اس مسئلے کو بنیادی، مرکزی اور ناقابل سمجھوتہ سمجھتے تھے اور ان کا ایمان تھا کہ فلسطینی قوم کی کامیابی اور ان کی سرزمین کی "بحر سے دریا تک" آزادی ایک یقینی امر اور الٰہی وعدہ ہے اور مسلح مزاحمت کا راستہ ہی غاصبانہ قبضے کے مقابلے کا واحد راستہ ہے۔
سنہ 1998 میں شیخ احمد یاسین کے ساتھ اپنی ملاقات میں، انھوں نے بیت المقدس اور مسلمانوں کے قبلۂ اول، مسجد الاقصیٰ کی آزادی تک مسئلۂ فلسطین پر ان کے دوٹوک موقف پر شیخ کے شکریے کے جواب میں یوں فرمایا: "میرا ماننا ہے کہ آپ اور فلسطین میں مجاہد بھائی، اسلام اور کفر کی جنگ اور حق و باطل کی جنگ کی صف اول میں کھڑے ہیں۔ ہم نے فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کرنے والی حکومت کو ایک گھنٹے کے لیے بھی تسلیم نہیں کیا۔ ہم صہیونیوں اور غاصب حکومت اور اس کینسر کے پھوڑے کے دشمن ہیں جسے انھوں نے اسلامی سرزمین میں بو دیا ہے اور ہم اس کے خلاف لڑیں گے۔ مستقبل کے بارے میں ہمیں کوئی شک نہیں لیکن عملی منصوبے میں اہم بات یہ ہے کہ ہم اس مدت کو مختصر کر سکیں۔ اور اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ یقیناً ان کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے، بے شک اللہ طاقتور اور غالب ہے۔ ہمیں آپ پر فخر ہے اور ہم اس تحریک کو اسلام کی عزت کا باعث سمجھتے ہیں۔"
رہبر شہید رحمت اللہ علیہ مزاحمت کی صلاحیتوں اور وسائل کو بڑھانے میں بہت دلچسپی رکھتے تھے اور ہمیشہ اس کی ضرورتوں کے بارے میں باریک بینی سے سوال کرتے تھے اور اسلامی جمہوریہ میں ذمہ دار بھائیوں، بالخصوص سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بھائیوں کو ان کی فراہمی کی ہدایت فرماتے تھے۔ وہ ہمیشہ اس آیت کریمہ کو دوہراتے رہتے تھے: "واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخيل ترھبون بہ عدو اللہ وعدوكم." (تم جس قدر استطاعت رکھتے ہو ان (کفار) کے لیے قوت و طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو۔ تاکہ تم اس (جنگی تیاری) سے خدا کے دشمن اور اپنے دشمن کو خوفزدہ کر سکو۔ سورۂ انفال، آيت 60) اور اس سلسلے میں کوئی بھی کامیابی سننے پر یا صلاحیتوں کی تعمیر میں کسی بھی ترقی پر بہت خوش ہوتے تھے۔ وہ اس کوشش کے بدلے میں ہر شکریے کا جواب، اس واضح پیغام سے دیتے تھے: آپ اپنے حق اور اپنی سرزمین کا دفاع کر رہے ہیں اور آپ اسلام اور امت کا فخر ہیں اور ہم اس جہاد میں آپ کے ساتھ ہیں۔
امام شہید، ہمیشہ شہداء اور ان کی بہادری کی داستانوں اور بے انتہا مصائب و آلام برداشت کرنے والے اسیروں اور ان کی استقامت کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے۔ ان کے اہل خانہ کے لیے ان کی مستقل فکر مندی اور ان کی دیکھ بھال کا اہتمام عیاں تھا۔ یہ سب کچھ ایک بڑے اور وسیع تر تناظر میں تھا جسے "مجاہد اور مزاحمت کار انسانوں اور اسلامی تشخص کی تعمیر" کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہی چیز فتح تک مزاحمت کی اس سمت اور راستے کے تسلسل کی ضامن ہے۔
تحریک حماس کے مرحوم رہنما، شہید مجاہد، اسماعیل ہنیہ رحمت اللہ علیہ کی نماز جنازہ میں، حضرت امام خامنہ ای رحمت اللہ علیہ نے نماز پڑھانے پر اصرار کیا اور وعدہ کیا کہ اس جرم کا جواب دینے میں تاخیر نہیں ہوگی اور ایسا ہی ہوا۔ "وعدۂ صادق-1" صہیونی حکومت کے جرم کا جواب تھا اور اس کے بعد "وعدۂ صادق-2 اور 3" اور ایران پر امریکا اور صہیونیوں کی جارحیت کے مقابلے میں "وعدۂ صادق-4" اس بات کی علامت تھا کہ ہمارا وقار اللہ کی طرف سے شہادت ہے اور فتح تک اس راستے پر چلنے کا ہمارا وعدہ، ایک سچا وعدہ ہے جسے ہم اپنے خون سے لکھتے ہیں۔
چونتیس سال سے میں اور تحریک حماس کی قیادت میں میرے بھائیوں نے دسیوں بار ان سے ملاقات کا شرف حاصل کیا ہے۔ ہم نے ان سے فتح پر یقین، فلسطین کے لیے عہد، استقامت پر اصرار، مزاحمت کی حمایت میں عزم و حوصلہ اور صہیونی حکومت کے خلاف امت اسلامی کی وحدت کی فکر کے علاوہ کچھ نہیں سنا۔ وہ مزاحمت کی ہر کامیابی کا، چاہے وہ فوجی، سیکورٹی یا سیاسی میدان میں ہو، خیر مقدم کرتے تھے اور اس بات کی فکر رکھتے تھے کہ (مزاحمت کا) پرچم بلند رہے اور راستہ، ہدف کے حصول تک آگے بڑھتا رہے۔
اے اسلامی انقلاب کے سردار! اے جہادی مزاحمت کے سردار!، اے سامراج کے ساتھ مقابلے کے محور کے سردار! آپ کی شہادت کے چالیسویں دن ہم دیکھ رہے ہیں کہ دشمن اپنی ذلیل جارحیت میں کس طرح شکست فاش سے دوچار ہوا ہے۔ اس طرح تلوار پر خون کی فتح ایک بار پھر رقم ہو رہی ہے اور شیطان، شکست خوردہ اور سرگرداں، پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اس جنگ کی قیادت حضرت امام سید مجتبیٰ خامنہ ای کر رہے ہیں اور کریں گے، جو آپ کے بعد ایران میں اسلامی انقلاب کے علمبردار ہیں۔
اے رہبر شہید! تاریخ اس دن کو شر کی سلطنت کے خاتمے کے آغاز کے دن کے طور پر درج کرے گی۔ تاریخ میں یہ بھی درج ہوگا کہ عظیم قربانیوں اور مزاحمت کے عظیم شہداء کی معراج کے باوجود، "طوفان الاقصیٰ" اور وہ چالیس روزہ جنگ جو آپ کی معراج (شہادت) سے شروع ہوئی، اس کینسر کے پھوڑے کے زوال کا آغاز ثابت ہوئی جس کا نام کسی دن "اسرائیل" رکھا گیا تھا۔
اور اللہ اپنے ہر کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ (یہ حقیقت) نہیں جانتے۔
تحریر: اسامہ حمدان، حماس کے رہنما
19 اپریل 2026

