مقالات مقالات

rss
سوگ اور فخر کا وقت

خدا کا درود و سلام ہو سرور کائنات، ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کی آل اطہار پر۔ میں شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے چالیسویں کی مناسبت سے اختصار کے ساتھ کچھ باتوں کی یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں۔ آپ کی شہادت رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں یا اس تاریخ کو واقع ہوئی جب اکثر اسلامی ملکوں میں دس رمضان المبارک تھی اور ماہ شوال کے ان ایام میں آپ کا چالیسواں ہے۔

30 اپریل 2026

امام شہید کی شہادت اور فتح کا عملی جامہ پہننا

"ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل اللہ امواتاً بل احياء عند ربھم يرزقون" اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انھیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے یہاں رزق پا رہے ہیں۔ (سورۂ آل عمران، آیت 169)

19 اپریل 2026

شہید خامنہ ای اور قرآن مجید

تمہید طاقتور مظلوم یعنی امام شہید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی شہادت کے جانکاہ غم کے ان ایام میں، یہ مقالہ ان کی شخصیت کی تعمیر اور اس عظیم المرتبت شہید کی سیاسی و سماجی زندگی اور قیادت میں قرآن کے کردار کے ایک گوشے کو بیان کرنے کے مقصد سے لکھا جا رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ جو اپنی ظاہری زندگی کے آخری لمحے تک قرآن کے ساتھ جیے، قرآن سے ثابت قدمی لی، اپنے عوام کو قرآنی استقامت کی دعوت دی اور اس مزاحمت کو شہادت کے وقت اپنی بند مٹھی سے ظاہر کیا، قرآن کے ساتھ محشور ہوں اور بہشت الہی میں حاملان قرآن کے اعلیٰ مقام پر سکونت اختیار کریں۔

13 اپریل 2026

عالمی سطح کے ایک بنیادی مسئلے کی حیثیت سے "عورت کا بحران"

ایک کلیدی مسئلہ جس پر شہید آيت اللہ خامنہ ای خاص طور پر خواتین کے ساتھ اپنی گفتگو میں توجہ مرکوز کرتے تھے، وہ چیز تھی جسے وہ بحران زن (عورت کا بحران) کہا کرتے تھے۔ 22 مئی 2011 کو انھوں نے کہا تھا کہ اگرچہ عام طور پر موسمیاتی تبدیلیوں، توانائی یا پانی جیسے بحرانوں کی بات کی جاتی ہے لیکن انسانیت کے اصل بنیادی مسائل، روحانیت، اخلاق اور انسانی تعلقات کے میدان میں پوشیدہ ہیں۔ معاشرے میں عورت کا مسئلہ اور اس کی عزت و وقار ایک مرکزی اور بہت گہرا بحران شمار ہوتا ہے۔

11 اپریل 2026

جب کشمیری خواتین نے اپنا پورا اثاثہ ایران کے لیے پیش کر دیا

ایسے عالم میں جب کشمیر کی بہت سی خواتین کے پاس بچت کے لیے سونے کا ایک بھی زیور نہیں ہے، عورتوں، لڑکیوں یہاں تک کہ چھوٹی بچیوں کی ایسی قطاریں بن گئی ہیں جو اپنا سب سے قیمتی اثاثہ ایران اور ایرانی عوام کو ہدیہ کر رہی ہیں۔

30 مارچ 2026

امریکی-اسرائیلی محاذ سے جنگ میں مزاحمتی محاذ کا بڑھتا ہوا اتحاد

ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے پچیسویں دن دو اہم مزاحمتی محور بھی امریکی و اسرائیلی دشمن کے خلاف سرگرم ہو گئے ہیں: لبنانی محاذ اور عراقی محاذ۔ مزاحمت کا ایک اور ضلع یمن کے محاذ میں پہلے دن سے ہی ایرانیوں کی قومی مزاحمت کے ساتھ رہا ہے۔ البتہ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس یمنی محور کے حالات اور اس پر جس طرح کی ذمہ داری ہے اس کے پیش نظر جنگ میں اس کے شامل ہونے کے لیے جن حالات کی ضرورت ہے وہ ابھی میدانی طور پر سامنے نہیں آئے ہیں۔ تاہم اس بات میں کوئي شک نہیں ہے کہ یہ محاذ بھی خود کو اس جنگ کا ایک حصہ مانتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اور حالات کے حساب سے وہ جنگ میں شامل ہونے کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔

25 مارچ 2026

علاقائی جہنم

ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔ وہ جنگ جو ایران کے خلاف ہمہ گير حملوں اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کے قتل سے شروع ہوئی اور دشمن سوچ رہا تھا کہ وہ 48 گھنٹوں میں اپنا مقصد حاصل کر لے گا اور اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنے اور اس کے ٹکڑے کرنے کا اس کا گزشتہ 47 سال کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو جائے گا تاہم جو کچھ عملی طور پر سامنے آيا وہ بالکل مختلف تھا۔ ایسے عالم میں جب سپریم کمانڈر اور متعدد سینئیر کمانڈر درجۂ شہادت پر فائز ہو چکے تھے لیکن کمانڈ اور کنٹرول کی زنجیر پہلے سے لگائے گئے اندازوں اور منصوبہ بندیوں کی بنیاد پر نہ اس نے علاقائي سطح پر ایک بھرپور اور ہمہ گیر جنگ شروع کر دی۔

8 مارچ 2026

غزہ سے میناب تک؛ بچوں کے قاتل ایپسٹین جزیرے والے

"ویتنام کی جنگ کے بعد کا سب سے بڑا سانحہ" اور "عالمی تاریخ میں ایک اسکول کی بچیوں کا سب سے بڑا قتل عام" یہ وہ جملے ہیں جو ایک برطانوی سیاستداں نے میناب کے شجرۂ طیبہ پرائمری گرلز اسکول پر بمباری کے سلسلے میں استعمال کیے ہیں۔

6 مارچ 2026

دشمن کی جارحیت کی صورت میں ایران کی اسٹریٹیجی کیا ہوگي؟

دشمن پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آ گیا ہے، خطے میں فوجی سازوسامان کی ترسیل سے لے کر سیاسی دھمکیوں اور بڑبولے پن تک اور شاید سب سے وسیع اور پیچیدہ، بے تحاشا اور ہمہ گير نفسیاتی اور میڈیا آپریشنز تک۔ طریقے اور اسٹریٹیجیز مختلف ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کر رہے ہیں لیکن ہدف ایک ہی ہے؛ سامراجی پالیسیاں مسلط کرنا اور ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا۔ وہی چیز جس کا اعلان امریکی صدر نے بارہ روزہ جنگ کے دوران "غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے" کی صورت میں کیا تھا اور اس کا خواب دیکھا تھا لیکن آخر کار ایران کی مسلح فورسز کی مردانہ وار استقامت اور ایرانی عوام کی مزاحمت و قومی اتحاد کے نتیجے میں دشمن کو پسپائی اختیار کرنے اور جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا۔

25 فروری 2026

...