logo khamenei

شہید خامنہ ای عورت کی موجودہ صورتحال کو کس نظر سے دیکھتے تھے اور کیا راہ حل پیش کرتے تھے؟

عالمی سطح کے ایک بنیادی مسئلے کی حیثیت سے "عورت کا بحران"

عالمی سطح کے ایک بنیادی مسئلے کی حیثیت سے "عورت کا بحران"

ایک کلیدی مسئلہ جس پر شہید آيت اللہ خامنہ ای خاص طور پر خواتین کے ساتھ اپنی گفتگو میں توجہ مرکوز کرتے تھے، وہ چیز تھی جسے وہ بحران زن (عورت کا بحران) کہا کرتے تھے۔ 22 مئی 2011 کو انھوں نے کہا تھا کہ اگرچہ عام طور پر موسمیاتی تبدیلیوں، توانائی یا پانی جیسے بحرانوں کی بات کی جاتی ہے لیکن انسانیت کے اصل بنیادی مسائل، روحانیت، اخلاق اور انسانی تعلقات کے میدان میں پوشیدہ ہیں۔ معاشرے میں عورت کا مسئلہ اور اس کی عزت و وقار ایک مرکزی اور بہت گہرا بحران شمار ہوتا ہے۔

ان کی نظر میں، یہ ایک محدود یا علاقائی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ محض ایک ملک یا ایک خاص ثقافت سے متعلق نہیں ہے بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے جسے اکثر نظر انداز کیا گیا ہے۔ وہ اس موضوع کو ایک منظم طرز فکر کے تحت دیکھتے تھے اور پوچھتے تھے: اس بحران کی جڑ کیا ہے؟ اس کی تشخیص کیسے ہو سکتی ہے؟ اس کے حل کے راستے کیا ہیں؟ اور اس بحران کا سامنا کرنے اور اسے حل کرنے میں خود خواتین کا کیا کردار ہے؟

جدید مغربی تمدن پر ایک منظم تنقید

اگر میں ان کی رائے کا ایک خلاصہ پیش کرنا چاہوں، تو یہ کہنا چاہیے کہ وہ عورت کے مسئلے کو ایک زیادہ بڑے نظام سے جڑا ہوا دیکھتے تھے، ایک ایسا نظام جو عورت کی "غیر انسان سازی" (Dehumanization) سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ان کے نزدیک، یہ نظام، پوری گہرائی سے مغربی تمدن کے ساتھ، جس طرح وہ سامراج (Colonialism) کے تناظر میں تشکیل پایا، جڑا ہوا ہے۔ وہ بار بار اس بات پر زور دیتے تھے کہ یہ مسئلہ، کوئی الگ تھلگ مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ڈھانچہ جاتی اور منصوبہ بندی پر مبنی ہے۔

مغربی تمدن پر ان کی تنقید دو بنیادی محوروں پر استوار تھی: منافع خوری اور لذت پرستی۔ ان کا ماننا تھا کہ یہ نظام، انسان کو اور خاص طور پر عورت کو، منافع اور لذت کے ایک وسیلے میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ چیز سماجی زندگی میں عورت کو ایک "شئے" سمجھنے (Objectification) پر منتج ہوتی ہے، جہاں خواتین پر ظاہری شکل و صورت اور طرز عمل کے بارے میں سخت اور اکثر غیر حقیقی توقعات مسلط کی جاتی ہیں، ایسی توقعات جو مردوں پر مساوی طور پر لاگو نہیں ہوتیں۔

امام سید علی خامنہ ای یہ سوال بھی اٹھاتے تھے کہ کیوں یہ نظام نہ صرف مغربی معاشروں کے اندر مسلط ہے بلکہ بڑی سرگرمی کے ساتھ اسے عالمگیریت کی طرف لے جا رہا ہے؟ کیوں ان اقدار کو دوسری ثقافتوں کی طرف برآمد کرنے پر اتنا اصرار ہے؟ ان کی نظر میں، یہ سامراج سے نکلے ہوئے ایک وسیع تر تمدنی رجحان کا حصہ ہے، یعنی اپنی برتری کا یقین جو دنیا کے باقی حصوں پر ایک ہی نمونہ مسلط کرنے پر منتج ہوتا ہے۔

یہ بات مسئلے کی دوسری تہہ کی طرف لے جاتی ہے: یہ نظام نہ صرف موجود ہے، بلکہ خود کو عالمگیر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ دوسری ثقافتوں کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے اور یہاں تک کہ عورت کے بارے میں ان متبادل تصورات کو بھی ختم کر دیتا ہے جو اس کی جسمانی ساخت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ اس راستے میں، وہ اپنے آئیڈیل کو، کمیوں کے باوجود، آزادی اور طاقتور بنانے کے معیار کے طور پر متعارف کراتا ہے۔

امام سید علی خامنہ ای کہتے تھے کہ نفسیات اور عمرانیات میں بہت سی تحقیقات نے خواتین کی زندگی پر "شئے سازی" اور "جنسی سازی" کے نقصان دہ اثرات واضح کر دیے ہیں۔ یہ چیزیں انفرادی فلاح و بہبود کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں اور سماجی ڈھانچوں کو بھی کمزور کرتی ہیں۔ تاہم ان شواہد کے باوجود، وہی نظام اب بھی ان رجحانات کی آزادی کی شکلوں کے طور پر ترویج کرتا ہے۔

نتیجے کے طور پر ہم خواتین کے شعبے میں ایک عالمی بحران کا سامنا کر رہے ہیں جس کی جڑیں ایک مادہ پرست اور سامراج پسند نظام میں پیوست ہیں۔ ان کے بقول، یہ بحران ایک انتہائی خطرناک کھائی تک پہنچ چکا ہے۔ انھوں نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں "ایپسٹین جزیرے" کا بھی ذکر کیا تاکہ یہ دکھائیں کہ حالات کس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں اور ہم اخلاقی زوال کی ایک عدیم المثال سطح کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

اسی کے ساتھ ان کا ماننا تھا کہ دنیا کے لوگ رفتہ رفتہ اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ ایک مشکل پائی جاتی ہے۔ یہ چیز مشکل کے حل کی راہوں کے بارے میں سوچنے کا موقع فراہم کرتی ہے لیکن ان کے نزدیک، حل سطحی یا بکھرا ہوا نہیں ہو سکتا، جس طرح مسئلہ منظم ہے، اسی طرح حل بھی منظم ہونا چاہیے۔

اسلامی نقطۂ نظر اور عورت کے عزت و وقار کی بحالی

مسئلے کے حل کے بارے میں ان کا نقطہ نظر دو اصل پہلو رکھتا تھا۔ پہلا، نمونہ ہائے عمل یا رول ماڈلز کی اہمیت۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ ہمیں متبادل مثالوں کو دیکھ کر عورت کے بارے میں اپنے تصور پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں وہ بار بار حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو ایک مکمل عورت کے نمونے کے طور پر پیش  کرتے تھے۔ ایک ایسی شخصیت جس نے روحانیت، علم، سماجی کردار، خاندانی ذمہ داری اور سیاسی کردار کو اپنے اندر اکٹھا کر رکھا تھا۔

وہ انھیں تاریخ میں ایک ناقابل رسائی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ اور اسی طرح عصر حاضر کے نمونے کے طور پر متعارف کرواتے تھے۔ 27 جولائی 2005 کو انھوں نے کہا تھا: اسلام، فاطمہ کو، اس ممتاز اور آسمانی وجود کو عورت کے نمونے اور آئیڈیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ان کی ظاہری زندگی، ان کی جدوجہد، ان کی کوششیں، ان کا علم، ان کی فصاحت، ان کی قربانی، بیوی اور ماں کے طور پر ان کا کردار، ان کی ہجرت، تمام سیاسی، فوجی اور انقلابی میدانوں میں ان کی موجودگی اور ان کا وہ جامع کمال جو بڑے بڑے مردوں کو بھی ان کے سامنے سر خم کرنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ ان مثالی نمونوں کے علاوہ وہ ہم عصر معاشرے کے قابل دید نمونوں کی طرف بھی اشارہ کرتے تھے: وہ خواتین جو انقلاب کے دوران، آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں، شہداء کی ماؤں اور بیویوں کے طور پر اور مختلف سماجی کرداروں میں سرگرم عمل تھیں۔ ان نمونون کے ذریعے وہ یہ دکھاتے تھے کہ عورت کے بارے میں ایک متبادل ادراک، محض نظریاتی اور فکری نہیں ہے بلکہ عملی طور پر بھی موجود ہے۔

یہ بات ایک وسیع تر تصور پر منتج ہوتی ہے: ان کی رائے میں اسلام ایک ایسا ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جو خاندان کے بنیادی کردار کو معاشرے کی بنیاد کے طور پر محفوظ رکھتے ہوئے عورت کی انسانیت کو بحال کرتا ہے، اس کی عزت کی حفاظت کرتا ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں اس کی فعال شرکت کے امکانات فراہم کرتا ہے۔

وہ خواتین کے وقار اور فعال کردار پر زور دیتے ہوئے، ان چیزوں کی طرف بھی اشارہ کرتے تھے جو دنیا پر مسلط عالمی نظام میں کھو گئی ہیں۔ ان کی ایک بڑی تنقید یہ تھی کہ منافع خوری کے عمل میں، انسانی زندگی کے کچھ بنیادی پہلو کمزور ہوئے ہیں یا تباہ ہو گئے ہیں۔ ان پہلوؤں میں، وہ بار بار شادی اور فیملی کا ذکر کرتے تھے۔

ان کا ماننا تھا کہ ماڈرن مغربی سماجی ڈھانچے میں، شادی ایک مستحکم اور بامعنی رشتہ نہیں رہ گيا ہے بلکہ یہ بتدریج ایک عارضی اور ایسی چیز بن گئی ہے جس کا کوئي متبادل بھی ہو سکتا ہے۔ خاندانی زندگی، جسے صحیح و سالم انسانوں کی پرورش اور تربیت کا اصل محور ہونا چاہیے، کمزور ہو گئی ہے۔ ان کے نزدیک یہ کوئی حادثہ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے نظام کا براہ راست نتیجہ ہے جو معاشی منافع اور انفرادی لذت کو طویل مدتی انسانی بہبود پر ترجیح دیتا ہے۔

اسی لیے جب وہ حل کی بات کرتے تھے تو ہمیشہ خاندان کی اہمیت پر بہت تاکید کرتے تھے۔ وہ خاندان کو معاشرے کی بنیادی اکائی، ایک صحت مند معاشرے کو بنانے والا خلیہ سمجھتے تھے۔ اگر خاندان کمزور ہوں گے تو معاشرہ بھی مضبوط نہیں ہو سکتا۔ اس تناظر میں، خواتین کا کردار مرکزی ہے، محدود کرنے والے کسی معنی میں نہیں بلکہ متوازن، اخلاقی اور روحانی بنیاد رکھنے والے انسانوں کی تشکیل میں کلیدی عناصر کے طور پر۔

اسی کے ساتھ وہ کبھی بھی خواتین کے کردار کو فیملی تک محدود نہیں کرتے تھے بلکہ اس کے برخلاف وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ خواتین کو زندگی کے تمام شعبوں میں سرگرم ہونا چاہیے: تعلیم، سائنس، سیاست، معیشت اور یہاں تک کہ دفاع جیسے شعبوں میں۔ بات، فیملی اور سماجی مشارکت میں سے کسی ایک کے انتخاب کی نہیں ہے بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ یہ کردار ایک متوازن اور بامعنی ڈھانچے میں کس طرح اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ توازن وہ چیز ہے جسے حاصل کرنے میں، دنیا پر مسلط عالمی نظام، ناکام رہا ہے۔

خاندان، معاشرہ اور تمدنی سمت کی تبدیلی کی ضرورت

یہاں سے وہ ایک زیادہ وسیع مفہوم اور تصور تک پہنچتے ہیں جسے تمدنی سمت کی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عورت کا بحران، اس پورے ڈھانچے پر نظر ثانی کیے بغیر حل نہیں ہو سکتا جس کے ذریعے ہم زندگی کو سمجھتے ہیں۔ آج دنیا کے بہت سے مفکرین "استعمار سے نجات" (Decolonization) کی بات کرتے ہیں، یہ خیال کہ جسے عالمگیر جدیدیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، درحقیقت اس کی جڑیں استعماری تسلط کے ایک خاص تاریخی تجربے میں پیوست ہیں۔

اس تناظر میں رہبر شہید کہتے ہیں کہ ہمیں نہ صرف سیاسی اور معاشی نظاموں بلکہ اپنے سوچنے کے طریقوں کو بھی سامراج سے عاری کرنا چاہیے، پیشرفت، آزادی اور انسانی تعلقات کے بارے میں ہمارے نظریات اور ہماری سوچ۔ عورت، اس کے کردار اور اس کی قدر کے بارے میں ہماری جو سمجھ ہے، وہ ان بنیادی ڈھانچوں سے گہرا اثر لیتی ہے۔ بنابریں بحران کے حل کے لیے سوچ میں بنیادی تبدیلی لازمی ہے۔

یہ دعوت محض مسلم معاشروں تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام انسانیت کے لیے ہے۔ ہر وہ شخص جو ماڈرن دنیا کے راستے کے بارے میں، خاص طور پر پچھلی چند صدیوں میں، جو سامراج کے زیر اثر بنی، فکرمند ہے، اسے اس سمت کی تبدیلی کی ضرورت پر غور کرنا چاہیے۔ چونکہ خواتین انسانیت کا نصف حصہ ہیں، اس لیے ان کی صورتحال پورے معاشرے کے ڈھانچے پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ اگر انسانیت کے اس نصف حصے کو محدود، مسخ یا غلط طریقے سے پیش کیا جائے تو پورا انسانی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔

وہ ایک اہم نکتے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں: اس بحران کے عالمی ہونے کے باوجود، یہ مسئلہ بیرونی اور مخصوص معاشروں سے الگ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ایران میں بھی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ مسائل موجود ہیں۔ عالمی میڈیا اور ثقافتی صنعتوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے، وہی آئیڈیل مختلف معاشروں میں سرایت کر گئے ہیں، بشمول ان معاشروں کے جنھوں نے اس کے خلاف مزاحمت کی کوشش کی ہے۔

وہ ایران کے تاریخی تجربے، خاص طور پر پہلوی دور کی طرف اشارہ کرتے ہیں، وہ وقت جب مغربی آئیڈیل اس طرح مسلط کیے گئے کہ مقامی ثقافت درہم برہم ہو گئی۔ ترقی اور جدیدیت کے نام پر ایسی تبدیلیاں لائی گئیں جو درحقیقت اسی "غیر انسان سازی" کے عمل پر منتج ہوئیں، اگرچہ بظاہر وہ آزادی اور ترقی کو فروغ دے رہی تھیں۔

اسی لیے وہ کسی بھی معاشرے کو اس مسئلے سے لا تعلق نہیں سمجھتے بلکہ واضح طور پر داخلی چیلنجوں پر بھی بات کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ بار بار ایک مشہور روایت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو عورت کو ایک "نازک اور قیمتی وجود" کے طور پر متعارف کرواتی ہے نہ کہ کام یا استعمال کے ایک آلے کے طور پر۔ اس طرح کے بیانات کا بار بار ذکر ظاہر کرتا ہے کہ غلط فہمیاں اور عدم توازن نہ صرف بیرونی اثرات کا نتیجہ ہیں بلکہ داخلی ثقافتی سوچ کی پیداوار بھی ہیں۔

وہ فیملی میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ عورت کا پہلا حق محبت، مہربانی اور تشدد سے عاری زندگی سے لطف اندوز ہونا ہے۔ یہ کوئی تجریدی تصورات نہیں ہیں بلکہ ٹھوس اصول ہیں جن پر روزمرہ کی زندگی میں عمل ہونا چاہیے۔ ان باتوں پر ان کا زور دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ گھریلو تشدد جیسے مسائل کسی خاص علاقے تک محدود نہیں ہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہیں جن پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔

وہ خواتین کو نقصانات سے بچانے کے لیے قانونی ڈھانچوں کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں اور میڈیا اور ثقافتی اداروں کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرتے ہیں کہ وہ نقصان دہ بیانیوں کو دوبارہ پیدا کرنے سے گریز کریں۔ خاص طور پر وہ خواتین کے بارے میں مغرب کے مسلط کردہ بیانیے کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے کے سلسلے میں خبردار کرتے ہیں، وہ بیانیہ جو اکثر عورت کی قدر کو اس کی ظاہری شکل یا اس کی افادیت کی بنیاد پر بیان کرتا ہے۔ اس کے برخلاف وہ ایک بالکل مختلف ادراک پر زور دیتے ہیں: عورت انسان ہے، منافع یا لذت کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس کی عزت و وقار کو فی نفسہ تسلیم کیا جانا چاہیے۔

ایک روش جس سے وہ اس مفہوم کی وضاحت کرتے ہیں، سورہ احزاب کی آیت 35 کا حوالہ دینا ہے جو بنیادی انسانی فضائل، ایمان، سچائی، صبر، انکساری، اللہ کی راہ میں خرچ اور ذکرِ الٰہی وغیرہ کو مردوں اور عورتوں کے لیے یکساں طور پر بیان کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت اور مرد، دونوں یکساں روحانی صلاحیت کے حامل اور انسانی کمال کی طرف ایک مشترکہ راستے پر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس تناظر میں عورت کا بحران در حقیقت روحانیت اور انسانی تعلقات کا بحران ہے۔ یہ بحران معاشرے میں انسانی قدر کو سمجھنے میں زیادہ وسیع عدم توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ جب مادی مفادات غالب آ جاتے ہیں اور انسانوں کو ان کے استعمال یا ظاہری شکل تک محدود کر دیا جاتا ہے تو زندگی کے گہرے پہلو نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔

اسی لیے رہبر شہید زور دے کر کہتے ہیں کہ مسئلے کو منظم طریقے سے سمجھا جانا چاہیے۔ مسائل کو الگ الگ کر کےدیکھنا، خواہ وہ تشدد ہو، امتیازی سلوک ہو یا عدم مساوات ہو، کافی نہیں ہے، یہ مختلف ڈھانچوں میں گہرے مسائل کی علامتیں ہیں۔ اس ڈھانچے پر توجہ دیے بغیر ہر حل عارضی اور نامکمل ہوگا۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آج، پہلے سے کہیں زیادہ ان مسائل کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے۔ تحقیق، اعداد و شمار اور سماجی تحریکوں سے حاصل ہونے والے شواہد نے دکھا دیا ہے کہ موجودہ نظام کے بہت سے پہلو ناکارہ ہیں لیکن مسئلے کی پہچان محض پہلا قدم ہے، اصل چیلنج بکھرے ہوئے ردعمل سے نکل کر ایک جامع تبدیلی کی طرف بڑھنا ہے۔ یہاں وہ عملی مثالوں کی اہمیت پر زور دیتے ہیں، ایسے کیسز جہاں ایک متبادل نقطۂ نظر کو نافذ کیا گیا اور آزمایا گیا ہے۔

وہ حل بیان کرنے میں صرف نظریے تک محدود نہیں رہتے بلکہ زور دے کر کہتے ہیں کہ ایک متبادل نقطۂ نظر، عملی طور پر بھی آزمایا جا چکا ہے، خاص طور پر اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے تجربے میں۔ تمام تر دباؤ، چیلنجوں اور بیرونی حملوں کے باوجود وہ اس تجربے کو خواتین کی پیشرفت اور انھیں مضبوط بنانے کے ایک مختلف نمونے کے ممکن ہونے کی گواہی مانتے ہیں۔

وہ خاص طور پر سائنسی، فکری اور سماجی میدانوں میں خواتین کی موجودگی میں نمایاں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ماضی میں علم اور معاشرے کے میدان میں سرگرم خواتین کی تعداد بہت محدود تھی جبکہ آج اس میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان کی نظر میں اس سے پتہ چلتا ہے کہ ترقی، آزادی یا طاقتور اور بااختیار بننے کے لیے لازمی طور پر ثقافتی یا دینی اصولوں، جیسے حجاب کو ترک کرنا ضروری نہیں ہے۔

اسی کے ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس متبادل نمونے کو ہمیشہ مخالفت کا سامنا رہا ہے: ثقافتی دباؤ، اسے بدنام کرنے کی کوششیں اور ثقافتی تصادم کی وسیع تر شکلوں میں۔ اس کے باوجود وہ زور  دے کر کہتے ہیں کہ نتائج، خود سچائی بیان کر رہے ہیں اور دوسروں کو اس راستے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ترغیب دلانی چاہیے۔

"عورت کا تیسرا ماڈل" اور ایرانی تجربہ

یہ بحث رہبر شہید کے ایک مرکزی خیال پر منتج ہوتی ہے: "عورت کے تیسرے ماڈل" کی تجویز پر۔ ان کے بقول اکثریتی عالمی بیانیہ عام طور پر صرف دو آپشن سامنے رکھتا ہے۔ ایک طرف "مشرقی" خواتین کی ایک دقیانوسی تصویر پیش کی جاتی ہے جو کہ غیر فعال، گھر میں مقید اور سماجی کردار سے محروم ہیں۔ دوسری طرف، مغربی آئیڈیل ہے جسے وہ عورت کو ایک شئے میں تبدیل کرنے، ظاہری شکل، جنسیت اور صارفیت پر حد سے زیادہ زور دینے کی وجہ سے ہدف تنقید بناتے ہیں۔

وہ دونوں آئیڈیلز کو مسترد کرتے ہیں۔ پہلا ماڈل غلط فہمی اور تحریف کی بنیاد پر بنا ہے اور اکثر سامراجی بیانیوں سے اسے تقویت ملی ہے۔ دوسرا نمونہ بھی، اگرچہ آزادی کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے، لیکن وہ عملی طور پر ایک اور طرح کی پابندی پر منتج ہوتا ہے کیونکہ وہ عورت سے اس کا گرانقدر انسانی وقار چھین لیتا ہے۔

وہ "تیسرا ماڈل" جس کی وہ تجویز دیتے ہیں، اس غلط دوغلے پن سے نکلنے کے کوشش کرتا ہے۔ اس آئیڈیل میں، عورت کو پوری طرح ایک انسان کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، ایک ایسا انسان جو زندگی کے تمام پہلوؤں میں عزت، ذمہ داری اور ترقی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ معاشرے میں، فکری، سیاسی اور معاشی میدانوں میں، سرگرمی کے ساتھ شریک ہو اور ساتھ ہی خاندان کے مرکزی کردار کو بھی قائم رکھے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ ماڈل تمام خواتین کے لیے ایک خشک اور یکساں نسخے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ ایک ایسا فریم ورک ہے جو حالات کے مطابق لچکدار ہے۔ خود زندگی اور حالات کے تقاضے، ان کرداروں کے درمیان توازن کا تعین کرتے ہیں۔ تاہم خاندان بدستور ترجیح میں رہتا ہے کیونکہ یہ وہ بنیاد ہے جس پر معاشرہ کھڑا ہے۔

اس آئیڈیل کی تشریح کے لیے شہید رہبر انقلاب اکثر حقیقی مثالوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ وہ اپنی والدہ کی بات کرتے ہیں اور انھیں محض ایک گھریلو خاتون کے طور پر نہیں بلکہ ایک مکمل انسان کے طور پر متعارف کراتے ہیں جنھوں نے خاندان کے اخلاقی اور روحانی ماحول کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انھوں نے تعلیم، پرورش اور رہنمائی کے ذریعے آنے والی نسلوں کی تربیت میں حصہ لیا۔

اسی طرح وہ اپنی سوانح حیات "زنداں سے پرے رنگ چمن" میں اپنی اہلیہ کا ذکر کرتے ہیں اور سادگی، ایثار اور مادی چیزوں سے بے تعلقی جیسی ان کی خصوصیات کو بیان کرتے ہیں۔ یہ مثالیں اس بات کو دکھانے کے لیے ہیں کہ انسانی کمال صرف بیرونی عہدے یا دکھاوے کی سطح سے متعین نہیں ہوتا بلکہ یہ قربانی، اخلاص اور فرض شناسی جیسی گہری خصوصیات سے جڑا ہوا ہے۔

اسی کے ساتھ وہ ان خواتین کا بھی ذکر کرتے ہیں جو سماجی اور عوامی کرداروں میں نمایاں رہی ہیں۔ مقصد خاندانی اور سماجی کرداروں کے درمیان کوئی درجہ بندی پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ دونوں پہلوؤں کے قیمتی ہونے پر زور دینا ہے۔ عورت کے بارے میں مکمل ادراک میں ان دونوں پہلوؤں کا ہونا ضروری ہے۔

مجموعی بحث کی طرف لوٹتے ہوئے وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ اگر ہم عالمی سطح پر عورت کے بحران کو حل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں پہلے ایک قسم کے فکری تکبر پر، جسے "تمدنی غرور" کہا جا سکتا ہے، قابو پانا ہوگا۔ یہ مسئلہ خاص طور پر ان معاشروں کے لیے اہم ہے جو اپنے نمونے کو واحد معتبر راستہ سمجھتے ہیں۔ ان مفروضات کو چیلنج کیے بغیر حقیقی حل کی طرف پیشرفت ممکن نہیں ہوگی۔

وہ دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خواتین کے خلاف تشدد جیسے مسائل کو حل کرنے کی بہت سی کوششیں ناکارہ رہی ہیں کیونکہ ان مسائل کا الگ الگ اور انفرادی طور پر جائزہ لیا جاتا ہے۔ قوانین بنائے جاتے ہیں، مقدمات نمٹائے جاتے ہیں اور معاوضے ادا کیے جاتے ہیں لیکن بنیادی وجوہات نہیں بدلتیں۔ نتیجے کے طور پر مسائل باقی رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر خواتین کے خلاف تشدد کا مسئلہ ان وسیع تر ثقافتی اور سماجی پس منظروں کا جائزہ لیے بغیر پوری طرح حل نہیں ہو سکتا جن میں یہ رونما ہوتا ہے۔ اگر خواتین کو اب بھی شئے کے طور پر دیکھا جائے، خواہ میڈیا میں ہو، اشتہارات میں ہو یا روزمرہ کے معاملات میں، تو کوئی بھی قانونی مداخلت اکیلے اس مسئلے کو مکمل طور پر حل کرنے کے قابل نہیں ہوگی۔

اسی طرح گھریلو ڈھانچوں کا بکھرنا بھی منتشر اقدامات سے حل نہیں ہو سکتا۔ یہ چیز اقدار، ترجیحات اور انسانی تعلقات کو سمجھنے کے طریقے پر گہری نظر ثانی کی متقاضی ہے۔ اگر مسلط کردہ نظام اب بھی انفرادیت پسندی اور قلیل مدتی لذت کو طویل مدتی عزم پر ترجیح دے گا تو خاندانوں کا استحکام بدستور خطرے میں رہے گا۔ اسی وجہ سے، رہبر شہید کہتے ہیں کہ جواب منظم ہونا چاہیے۔ معاشرے کے تمام طبقات میں عورت کو شئے بنانے کے اثرات ختم کرنے کے لیے ایک شعوری کوشش ہونی چاہیے۔ اس میں تعلیمی نظام، جہاں اقدار بنتی ہیں، میڈیا، جو تصاویر اور بیانیے بناتا ہے، ثقافتی مصنوعات جیسے فلم اور تفریح، اور روزمرہ کے سماجی روابط شامل ہیں۔

یہ چیز اسی طرح افراد کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کے طریقے میں تبدیلی کی بھی متقاضی ہے۔ خواتین اور مردوں کے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کا طریقہ، ایک دوسرے سے ان کی توقعات اور وہ اقدار جو ان تعلقات کی رہنمائی کرتی ہیں، ان سب پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔ اس لحاظ سے عورت کا مسئلہ انسانیت کے ایک وسیع تر بحران کو سمجھنے کا دریچہ بن جاتا ہے۔ یہ مسئلہ محض ایک گروہ سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ معاشرے کی تنظیم نو اور انسانوں کی قدر متعین کرنے کے طریقے میں موجود گہری خرابیوں کا عکاس ہے۔

نتیجے کے طور پر وہ اس صورتحال کو ایک ٹرننگ پوائنٹ بتاتے ہیں۔ یہ وقت، موجودہ ڈھانچوں پر نظر ثانی کرنے اور متبادل آپشنز تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے لیکن یہ چیز رائج مفروضوں سے نکلنے اور مختلف نقطہ ہائے نظر کے ساتھ سنجیدہ مقابلے کے لیے آمادگی کا تقاضا کرتی ہے۔ جس تجربے کی وہ بات کرتے ہیں، وہ دوسروں پر مسلط کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ ممکنہ راستوں میں سے ایک راستے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، ایک ایسا راستہ جس نے نتائج دکھائے ہیں اور اسی لیے وہ توجہ کا طالب ہے۔

بنابریں جب میں ان کی فکر کے مجموعی ڈھانچے کو دیکھتی ہوں، خاص طور پر عورت کے بارے میں تو میں پاتی ہوں کہ وہ اس مسئلے کو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں پر اپنے اسی جامع نقطۂ نظر کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ وہ عورت کے مسئلے کو انسانیت کی عمومی صورتحال سے الگ نہیں کرتے بلکہ اسے براہ راست مسلط کردہ عالمی نظام سے جوڑتے ہیں، ایک ایسا نظام جس کی جڑیں مادہ پرستی، منافع خوری اور لذت پرستی میں پیوست ہیں اور جو زندگی کے تمام پہلوؤں پر غلبہ پانا چاہتا ہے۔ اس زاویے سے مسئلہ واضح ہے: خواتین "غیر انسان سازی" کا شکار ہوئی ہیں۔ انھیں اشیاء تک محدود کر دیا گیا ہے، خواہ آزادی، مضبوط اور بااختیار بنانے کے نام پر یا پھر پیشرفت کے نام پر۔ اور چونکہ یہ عمل ایک وسیع تر نظام سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کی اصلاح جزوی اور سطحی حل کی راہوں سے نہیں ہو سکتی۔

اسی وجہ سے وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ ہمیں اس مسئلے پر تمدنی سطح پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم آزادی، وقار، طاقتور اور بااختیار بنانے اور یہاں تک کہ ترقی و پیشرفت جیسے بنیادی تصورات کے بارے میں اپنی سمجھ کو تبدیل کریں۔ اگر یہ تصورات اب بھی اسی ڈھانچے میں بیان کیے جائیں گے جو خود اس مسئلے کو پیدا کرنے والا ہے، تو ہر قسم کی اصلاح محدود ہی رہے گی۔ وہ بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے عارضی روشوں سے نکلنا ضروری ہے۔ جب تک کہ بنیادی وجوہات پر توجہ نہ دی جائے تب تک صرف علامات، جیسے تشدد، امتیازی سلوک یا عدم مساوات پر توجہ نہیں دی جا سکتی۔ یہ ایک گہرے مسئلے کی جھلکیاں ہیں: یعنی ایک مادہ پرست نظام میں عورت کی شئے سازی اور اس کی بے وقعتی۔ مثال کے طور پر، خواتین کے خلاف تشدد کے مسئلے پر صرف قوانین کی منظوری یا پالیسیاں بنانا کافی نہیں ہے۔ اگرچہ یہ اقدامات ضروری ہیں لیکن کافی نہیں ہیں۔ مسئلے پر ثقافت، اقدار اور سماجی تعلقات کی سطح پر توجہ دینی چاہیے۔ یہی بات گھرانوں کے بکھرنے یا عورت کے جسم کے، تجارت بننے جیسے موضوعات پر بھی صادق آتی ہے، یہ مسائل الگ الگ اور انفرادی طور پر حل نہیں ہو سکتے۔

وہ دو ٹوک الفاظ میں کہتے ہیں کہ یہ تبدیلی مختلف شعبوں میں ہونی چاہیے۔ تعلیم کے میدان میں انسانی عزت و وقار کی ایک مختلف سمجھ پیدا ہونی چاہیے۔ میڈیا اور ثقافتی مصنوعات میں، ان نمائشوں سے دوری اختیار کرنی چاہیے جو عورت کو ایک شئے تک محدود کر دیتی ہیں۔ سماجی زندگی میں تعلقات کو احترام اور باہمی ذمہ داری کی بنیاد پر دوبارہ بیان کرنا چاہیے۔ یہ عمل، جسے عورت کی شئے سازی ختم کرنا کہا جا سکتا ہے، کسی خاص معاشرے یا ثقافت تک محدود نہیں ہے، بلکہ ایک عالمی فریضہ ہے۔ تاہم مختلف معاشروں میں ایسی تبدیلیوں کو نافذ کرنے کی مختلف صلاحیتیں ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ایسے تناظر میں جہاں سیاسی اور ثقافتی ڈھانچہ پہلے ہی ان اقدار کے ساتھ ہم آہنگ ہو، منظم اصلاحات کا نفاذ زیادہ آسان ہوگا۔

اسی کے ساتھ شہید رہبر کہتے ہیں کہ ایسے پلیٹ فارمز میں بھی چیلنجز پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایران میں، طویل مدتی ثقافتی دباؤ کے اثرات، جو پچھلے تاریخی ادوار سے چلے آ رہے ہیں، اب بھی سماجی سوچ پر اثر انداز ہیں۔ یہ دباؤ ختم نہیں ہوئے بلکہ بدل کر مختلف شکلوں میں جاری ہیں۔ اس لیے تبدیلی کا عمل، ایک مسلسل عمل ہے اور مستقل کوشش کا متقاضی ہے۔ ان چیلنجوں کے باوجود وہ تبدیلی کے امکان کے بارے میں پرامید ہیں۔ وہ موجودہ وقت کو ایک موقع سمجھتے ہیں، ایک ایسا وقت جب مسلط کردہ نظام کی محدودیت اور ناکامیاں پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو گئی ہیں۔ یہ چیز متبادل نظریات کے ابھرنے اور انھیں سنجیدگي سے غور کیے جانے کی گنجائش پیدا کرتی ہے۔

وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ یہ ذمہ داری صرف خواتین کی نہیں ہے۔ مردوں اور عورتوں کو اس بحران کو حل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کوشش کرنی چاہیے۔ معاشرے کی تبدیلی، اجتماعی مشارکت کی طالب ہے کیونکہ مسئلہ خود مشترکہ ڈھانچوں اور تعلقات میں جڑا ہوا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ خواتین کا ایک خاص کردار بھی ہے۔ انسانی سماج کا نصف حصہ ہونے کے ناطے کسی بھی بامعنی تبدیلی کے لیے ان کی مشارکت ضروری ہے۔ اگر خواتین اپنے آپ کو اس نظام کی پابندیوں سے آزاد کر سکیں جو ان کی صلاحیتوں کو قید کرتا ہے تو اس کے پورے معاشرے پر وسیع اثرات مرتب ہوں گے لیکن اس آزادی کو صحیح طریقے سے سمجھنا چاہیے۔ آزادی محض موجودہ اقدار کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے یا ایک ایسے نظام میں شرکت کرنے کا نام نہیں ہے جو اپنی ذات میں ناقص ہے بلکہ اس کا مطلب اپنی شناخت اور کردار کو ایک ایسے ڈھانچے میں بیان کرنے کی صلاحیت ہے جو انسانی وقار کو پوری طرح تسلیم کرتا ہے۔

یہ چیز ہمیں ایک بار پھر متبادل آئیڈیل کے نظریے کی طرف لوٹاتی ہے۔ مقصد ایک طرح کی پابندی کو دوسری قسم کی پابندی سے بدلنا نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی کے بارے میں ایک متوازن اور مربوط سمجھ پیدا کرنا ہے۔ اس آئيڈیل میں خواتین نہ قید ہیں اور نہ ہی انھیں شئے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے بلکہ وہ گھرانے اور معاشرے میں سرگرم، ذمہ دار اور محترم شریک کار ہیں۔ رہبر شہید کا ماننا ہے کہ اگر ہم اس طرح سے سوچیں گے تو نئے امکانات سامنے آئیں گے۔ جب ہم مسلط کردہ فریم ورکس سے باہر نکلیں گے، تو ہم سماجی زندگی کو منظم کرنے، تعلقات کو سمجھنے اور کامیابی و اطمینان کی تعریف کرنے کے مختلف طریقے سوچ سکیں گے۔ اسی لیے وہ دیکھنے کے زاویے میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ ہمیں عورت کے مسئلے اور مجموعی طور پر انسان کے مسئلے کو ایک مختلف نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ ہمیں ان مفروضوں پر سوال اٹھانے چاہیے جنھیں یقینی اور بدیہی مان لیا گیا ہے اور ان آپشنز کا جائزہ لینا چاہیے جو زیادہ پائیدار اور زیادہ انسانی حل پیش کر سکیں۔

المختصر یہ کہ شہید رہبر انقلاب کے نقطۂ نظر سے جو کچھ مجھے سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ عورت کا بحران کوئی ثانوی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانیت کی موجودہ صورتحال کے مرکز میں ہے۔ یہ بحران، ہماری اقدار، نظاموں اور سوچنے کے طریقوں میں گہرے عدم توازن کا عکاس ہے۔ اس بحران پر توجہ دینا، اصلاحات سے بالاتر ہے اور اسے ایک تبدیلی کی ضرورت ہے، ایسی تبدیلی جو خود تمدن پر نظر ثانی کی متقاضی ہے یعنی ان نظاموں سے جو منافع اور لذت کو ترجیح دیتے ہیں، ان نظاموں کی طرف حرکت جو انسانی وقار، روحانیت اور اخلاقی تعلقات کو محور بناتے ہیں۔ اور میرے خیال میں ہم ابھی اس راہ کی شروعات میں ہیں۔ نظریات موجود ہیں، آئیڈیلز دستیاب ہیں اور ضرورت واضح ہے۔ اب جو چیز باقی رہ جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ انسانیت اس مسئلے پر سنجیدہ ہو جائے، سوچے، سوال کرے اور اس طرح سے کام کرے جو ہمیں ایک زیادہ متوازن اور زیادہ انسانی مستقبل کی طرف لے جائے۔

تحریر: ڈاکٹر حکیمہ سقای بی ریا، اسسٹنٹ پروفیسر، تہران یونیورسٹی

11 اپریل 2026