پاکستان افغانستان جنگ رہبر انقلاب کا قائدانہ پیغام
رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے اپنے پیغام نوروز میں پاکستان افغانستان جنگ پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس مسئلہ کو حل کرنے کےلئے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ معروف ڈپلومیٹ اور تجزیہ نگار جناب محسن پاک آئين نے اس موضوع پر اپنے انٹرویو میں اس صورت حال کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
سوال: طالبان اور پاکستان کے خوشگوار تعلقات اچانک جنگ میں کیوں بدل گئے؟ اس کے اسباب مکمل طور پر داخلی ہیں یا بیرونی ہاتھ بھی کارفرما ہے؟
جواب: افغانستان کے ساتھ پاکستان کے اختلافات کافی پرانے اور بہت پیچیدہ ہیں۔ اگرچہ بظاہر 2021 میں طالبان کے برسرِاقتدار آنے کے بعد دونوں ممالک کے تنازعات میں شدت آئی ہے لیکن ان اختلافات کی جڑیں ہندوستان سے پاکستان کی آزادی کے وقت سے کابل اور اسلام آباد کے درمیان تاریخی اور جیو پولیٹیکل کشیدگیوں میں پیوست ہیں۔ ڈیورنڈ لائن (Durand Line) دونوں ممالک کے اختلافات کی جڑ ہے، جس کا تعلق امیر عبدالرحمن خان کے دور سے ہے جو 1880 سے 1901 تک افغانستان کے بادشاہ تھے۔ انھوں نے 1893 میں برٹش انڈیا کے سینیئر ڈپلومیٹ مارٹیمر ڈیورنڈ کے ساتھ اس وقت ڈیورنڈ معاہدے پر دستخط کیے تھے جب ہندوستان برطانیہ کی نوآبادی تھا۔ افغانستان کے عوام اور خاص طور پر وہاں کے مورخین کا ماننا ہے کہ امیر عبدالرحمن خان نے اقتدار میں رہنے کے لیے برطانیہ کے حکم پر ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے جو مکمل طور پر افغانستان کے گھاٹے میں تھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں نئی جغرافیائی سرحدیں بنیں اور ڈیورنڈ لائن وجود میں آئی، جس نے پختون اکثریتی علاقوں کو افغانستان سے الگ کر دیا۔ 1947 میں تقسیم ہند اور پاکستان کے قیام سے اب تک ڈیورنڈ لائن معاہدے نے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات پر منفی اثرات ڈالے ہیں اور یہ دونوں ممالک کی دوستی کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا ہے۔ افغانوں کا خیال ہے کہ پاکستان، افغانستان کے پختونوں کے ساتھ مل کر ایک "بڑا پختونستان" بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ افغانستان کی ارضی سالمیت کو نظر انداز کرتا ہے۔ اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے اور طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد یہ سوچا جا رہا تھا کہ یہ گروہ، جسے ہمیشہ پاکستان کی حمایت حاصل رہی ہے، اسلام آباد کا اسٹریٹیجک اتحادی بنے گا لیکن طالبان نے پاکستان کے ساتھ دوستی جاری رکھنے پر قومی مفادات کو ترجیح دی اور دونوں ممالک کے اختلافات بدستور لاینحل ہیں۔ حالیہ وقت میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) کا مسئلہ موجود ہے جس نے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان پر حملوں کا مرکز بنا رکھا ہے اور اسلام آباد کی سیکورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان نے بھی افغانستان کی سرزمین پر جوابی فوجی کارروائیاں کی ہیں جس سے اسلام آباد اور کابل کے اختلافات دوچند ہو گئے ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے جب دونوں ممالک اپنے سیاسی تعلقات کو اچھا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، یہاں تک کہ افغانستان خطے میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شریک ہے اور پاکستان بھی افغانستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
خارجی پہلو سے دیکھا جائے تو پاکستان اور افغانستان کے اختلافات کو گہرا کرنے میں ہندوستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستانی، پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ اختلافات کے تناظر میں کسی بھی حال میں یہ نہیں چاہتے کہ اسلام آباد اور کابل کے تعلقات بہتر ہوں۔ ہندوستان، افغانستان میں ایک معاشی شریک اور سرمایہ کار کے طور پر کام کرتا ہے اور افغانستان کی حمایت کر کے اس ملک کو پاکستان کے ساتھ علاقائی رقابت میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ طالبان نے بھی ہندوستان سے قربت کو پاکستان کے مقابلے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے ایک حربے کے طور پر قبول کیا ہے اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد، پاکستان کی توقع کے برخلاف افغانستان، ہندوستان کی طرف مائل ہو گیا ہے۔
سوال: ان حالات میں جب ایران خود امریکا اور صیہونی حکومت کے حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے، اس موضوع پر رہبر انقلاب کی توجہ کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا آپ اس معاملے میں رہبر انقلاب کی دلچسپی کو امت مسلمہ کے بارے میں اسلامی جمہوریہ کی وسیع سوچ کی عکاس سمجھتے ہیں؟
جواب: اس موضوع کو دو پہلوؤں سے دیکھنا ضروری ہے۔ پہلا پہلو اسلامی جمہوریۂ ایران اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے دیرینہ اور گہرے تعلقات ہیں، جسے ہمارے شہید رہبر (امام خامنہ ای) کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اپنے دور صدارت (فروری 1986) میں ان کا پاکستان کا دورہ، جس کا وہاں کے عوام نے بے مثال استقبال کیا تھا اور پاکستان میں آئے خطرناک سیلاب سمیت مختلف مواقع پر پاکستانی عوام سے شہید رہبر کی محبت کا اظہار دونوں ملکوں کی دوستی کی علامت ہے۔ ہمارے شہید رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا: "یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ بعض پہلوؤں سے اسلامی ممالک میں کوئی دوسرا ملک پاکستان جتنا ہمارے قریب نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام وہ بھائی ہیں جو تاریخ، ثقافت، زبان، ادب اور آرٹ میں ہماری قوم کے ساتھ بہت سے اشتراکات رکھتے ہیں۔ دوسری طرف چونکہ پاکستان ایک اسلامی ملک کے طور پر قائم ہوا ہے، یہ بھی ایک اور پوائنٹ ہے جو ہمیں اس ملک سے جوڑتا ہے۔ ہماری طویل سرحدیں اور مشترکہ مفادات اس تعلق کے دیگر اسباب و عوامل ہیں۔ لہذا پاکستان ہمارے لیے ایک پڑوسی، دوست اور برادر ملک ہے۔ یہ ایک عظیم، مخلص اور عزیز قوم ہے۔ پاکستان میں بڑے علماء، مصنفین اور مفکرین رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اسلامی مسائل پر کام اور تحقیق کر رہے ہیں۔ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ بھائی چارے کا احساس رکھتے ہیں اور یہ سفر اس اخوت کو مزید گہرا اور تعلقات کو زیادہ ٹھوس اور مستحکم بنا سکتا ہے۔ ہم انقلاب سے پہلے اور بعد کے برسوں سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھانے چاہیے۔ آج ہمارے تعلقات کی قربت سے دونوں اقوام فائدہ اٹھائیں گی۔" (ارنا، 14 جنوری 1986)
اس وقت جب اسلامی جمہوریۂ ایران، امریکا اور صیہونی حکومت کی مسلط کردہ ایک ظالمانہ جنگ کا سامنا کر رہا ہے، ہم پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے ایران کی بھرپور حمایت کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جو دونوں اقوام کے درمیان گہرے رشتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ہمسایہ ممالک بالخصوص جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لحاظ سے آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے وسیع اور اسٹریٹیجک وژن کے مطابق، حکومت کو یقیناً پاکستان کے ساتھ تعلقات کے لیے ایک جامع اور اسٹریٹیجک پروگرام رکھنا چاہیے۔
رہبر انقلاب کے پیغام نوروز کا دوسرا پہلو، دو مسلمان اور ایران کے پڑوسی ممالک کے طور پر پاکستان اور افغانستان کے اختلافات کو حل کرنے کی ضرورت پر تاکید ہے۔ اس جملے میں انھوں نے خطے میں اور بالخصوص ایران کے قرب و جوار میں امن کے قیام کی ضرورت پر توجہ دی ہے۔ یقیناً اسلام آباد اور کابل کے اختلافات کی وجہ سے ایران کے جنوب میں عدم استحکام، خطے سے باہر کی طاقتوں بالخصوص امریکا کے قدم جمانے، روس کے ساتھ اس کی رقابت میں شدت آنے اور خطے میں بدامنی بڑھنے کا باعث بنے گا۔ مزید برآں داعش جیسے تکفیری دہشت گرد گروہوں کو، جو امریکا کی سرپرستی میں کام کرتے ہیں، خطے میں اپنی موجودگی کو مضبوط کرنے اور شیطانی حرکتیں جاری رکھنے کا زیادہ موقع ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس موضوع پر رہبر انقلاب کی توجہ کو مسلمانوں اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کو مضبوط بنانے کی ضرورت کی نظر سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ طویل عرصے سے امریکا بعض یورپی ممالک اور خطے کے کچھ ممالک اپنے مفادات کو مسلمانوں بالخصوص پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں اور عوام کے درمیان اختلافات بڑھانے میں تلاش کر رہے ہیں۔ عالم اسلام میں اختلافات کو بڑھانا، مسلمانوں کے خلاف مغربی دنیا کی "نرم جنگ" (Soft War) کا حصہ ہے اور اس لحاظ سے ایران کو، جو اسلامی اتحاد کا علمبردار ہے، افغانستان اور پاکستان سمیت مسلمانوں کے اختلافات کو کم کرنے کی خصوصی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ موضوع فطری طور پر رہبر انقلاب کے پیغام نوروز میں پیش نظر رہا ہے۔
سوال: اسلامی جمہوریہ اس مسئلے کے حل میں کس طرح کا کردار ادا کر سکتی ہے؟
جواب: ایران ایک مخلص دوست، منصفانہ امن کے قیام کے خواہاں ملک اور ایک ہمسایہ ہونے کے ناطے فریقین کے لیے ایک "قابل اعتماد" کھلاڑی ہے۔ یہ اعتماد، جو جیو پولیٹکل پوزیشن اور خطے میں استحکام پیدا کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے حاصل ہوا ہے، ظاہر کرتا ہے کہ تہران دوسرے بعض کھلاڑیوں کے برخلاف، سیاسی مصلحت کے بجائے ایک اسٹریٹیجک ضرورت کی بنیاد پر اس بحران کے حل میں شرکت کا خواہاں ہے۔ اسلام آباد اور کابل اچھی طرح جانتے ہیں کہ بحران کا جاری رہنا نہ صرف ان کے قومی مفادات کے حق میں نہیں ہے بلکہ پورے جنوبی ایشیا پر یہ بحران اثر انداز ہوگا کیونکہ افغانستان اور پاکستان علاقائی سلامتی، معیشت اور استحکام کا محور ہیں۔ ایران نے بارہا افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے لیے ثالثی کی آمادگی ظاہر کی ہے اور کابل و اسلام آباد سے کہا ہے کہ وہ اختلافات کو تنازعے میں بدلنے سے گریز کریں اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔ اس راہ میں، یقینی طور پر فریقین کو اختلافات کو کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی میکنزم کا استعمال کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی، ایران دوطرفہ کوششوں کے ساتھ ایک علاقائی میکنزم بنانے کی طرف بڑھنے کا خواہاں ہے۔ اسلام آباد اور کابل کے اختلافات علاقائی نوعیت کے بھی ہیں اور خطے کے ممالک کی منظم مشارکت کے بغیر ان کا حل ممکن نہیں ہے۔ کچھ ماہ قبل تہران میں افغانستان کے ہمسایہ ملکوں اور روس کے اجلاس کا انعقاد بحران کے حل کے لیے علاقائی اقدام کی سمت میں ایک مثبت قدم تھا۔ پاکستان اور افغانستان کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا تسلسل اور علاقائی کوششوں میں اضافہ، بحران کے حل میں مدد کر سکتا ہے۔ اس مرحلے پر، اس انتہائی اہم موضوع میں شمولیت کے لیے رہبر انقلاب کے ارادے کو مدنظر رکھتے ہوئے، ضروری ہے کہ وزارت خارجہ، قومی سلامتی کی سپریم کونسل کو ایک منصوبہ پیش کرے اور ان دو دوست اور مسلمان ممالک کے اختلافات کو حل کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو پہلے سے بہتر اور زیادہ مؤثر طریقے سے بروئے کار لائے۔
27 مارچ 2026

