شہید خامنہ ای کی تمدنی جہت
رہبر شہید آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے ان کی شخصیت کے بعض پہلوؤں کے بارے میں باقر العلوم یونیورسٹی میں اسلامی تمدن کے مطالعے کے پروفیسر حبیب اللہ بابائی کا انٹرویو۔
سوال: 28 فروری 2026 کو رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اپنے دفتر میں، امریکا اور صیہونی حکومت کے دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنے اور اسلامی انقلاب کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے کے 36 برس، 8 ماہ اور 7 دن بعد، درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔ آگر آپ شروع میں، اپنے نقطہ نگاہ سے، ایک مختصر جملہ میں رہبر انقلاب اسلامی کی شخصیت بیان کرنا چاہیں تو کیا کہیں گے؟
جواب: اگر ہم شہید امام کی عظیم ہستی پر غور کریں اور چند جملوں میں بیان کرنا چاہیں تو میرے خیال میں، "مفکر" کی اصطلاح آپ کے لئے کم ہے۔ کیونکہ دنیا اور عالم اسلام میں بہت سے بڑے مفکرین گزرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں، جو نظریاتی اور عملی لحاظ سے عظیم ہیں۔ اگر آپ کو سیاستداں کہیں توکہنا پڑے گا کہ آج کی دنیا میں اور اسی طرح اسلامی معاشرے میں، قابل توجہ سیاستداں موجود ہیں۔ لیکن اگر شہید رہبر انقلاب کے لئے کوئی ممتاز اصطلاح بروئے کار لانا چاہیں تو شاید کوئی مخصوص اصطلاح نہ مل سکے۔ درحقیقت شہید رہبر انقلاب، عالم اسلام کی تہذیب وتمدن کے لیڈر اور رہنما تھے۔ آپ کی شخصیت کے اس تمدنی پہلو نے دو جہت سے عمل کیا؛ آپ کی شخصیت کا یہ عملی پہلو صرف دعوی نہیں تھا بلکہ آج کے معاشرے کی عینی حقیقت ہے۔ آپ کی شخصیت کا ایک پہلو طاغوت سے انکار تھا۔ یہ طاغوت کا انکار تمدن کی سطح پر جلوہ گر ہوا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں بڑے بڑے بت کس طرح یکے بعد دیگرے ٹوٹ رہے ہیں اور عالمی معاشرے کے اذہان میں ان کی بڑائی اور ابہت ختم ہورہی ہے۔ دوسری طرف آیہ شریفہ " فَمَنْ یَکْفُرْ بالطَّاغُوت وَ یُؤْمنْ باللّہ" کے ذیل میں، آپ کا ایجابی اور ایمانی پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ کس طرح ایمان سے علم پیدا کیا جاسکتا ہے، کس طرح ایمان سے تمدن خلق کیا جاسکتا ہے، ایمان سے آزادی و خودمختاری کیسی لائی جاسکتی ہے، ایمان سے انسان کیسے بنائے جاسکتے ہیں اور ایمان سے حقیقت کیسے معرض وجود میں لائی جاسکتی ہے۔ میرے خیال میں آپ کی شخصیت کے اس پہلو پر صرف ہم طلاب اور ایرانیوں نے ہی نہیں بلکہ دنیا کے بہت سے بڑے تجزیہ نگاروں اور مفکرین نے بھی جو اپنے سیاسی رجحانات سے بالاتر ہوکر اور پہلے سے کوئی رائے قائم کئے بغیر تجزیہ کرتے ہیں،بحث کی ہے۔ یہ افراد ایک نئے ایران اورایک سپر پاور ایران کی بات کرتے ہیں۔ اور یہ وہی بات ہے جو شہید رہبر انقلاب نے بیان کی تھی۔ لہذا میرا خیال یہ ہے کہ شہید رہبر انقلاب سامراج کے مقابلے میں صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک امت تھے۔ آپ نے عالمی تعلقات میں، ایک نیا عالمی نظم رقم کیا؛اپنی حیات میں، اپنے مسیحیائی بیانات سے بھی اور اپنے خون الہی سے بھی، میری نظر میں آپ تاریخ انقلاب میں ایک ثاراللہ جدید میں تبدیل ہوگئے۔ اس خون الہی نے عملا جوش وخروش، اشتیاق اور رزمیہ جذبہ پیدا کیا اور اس کے اثرات اور علامتیں آج ہم معاشرے میں دیکھ رہے ہیں۔
سوال: اسلامی انقلاب نے معرض وجود میں آنے کے بعد سے ہی ایک تمدن کی حیثیت سے خود کو مغربی تمدن کے مقابلے پر محسوس کیا اور مغربی تمدن نے مختلف سیاسی، ثقافتی، سائنسی، تکنیکی، فوجی اور دیگر سطح پر،اسلامی انقلاب اور اس کے تمدن پر حملہ کیا اور مسلسل دباؤ ڈالا۔ اس تصادم میں اہم نکتہ، مغرب کے حملہ آور تمدن کے بارے میں رہبران انقلاب کی رائے ہے۔ شہید رہبر انقلاب اسلامی نے تقریبا چالیس برس انقلاب اور امت اسلامیہ کی قیادت کی ہے، اس حیثیت سے مغربی تمدن کے بارے میں آپ کا نظریہ اور مغربی تمدن کی شناخت کے بارے میں آپ کا نقطہ نگاہ کیا تھا؟
جواب: کتاب "غروب کے سائے" میں، جس میں، میں نے شہید رہبر انقلاب کی مغرب شناسی بیان کی ہے۔ " ہم اور مغرب کے زیر عنوان منعقدہ سیمینار میں اس کتاب کی رونمائی ہوئی تھی۔ اس کے بعد میں نے آپ کی روش اور سبک شناسی پر لکھا ہے۔ میرے خیال ميں آپ کی مغرب شناسی اور مغرب کے بارے میں آپ کا نظریہ تین پہلوؤں پر مشتمل پراسیس کے ذریعے وجود میں آیا ہے۔ پہلا، پہلو وہ ہے جس سے بہت سے مغرب شناس واقف ہیں اور وہ زیادہ تر کتب خانوں پر استوار ہے۔ جو شخص مغرب سے واقف ہونا چاہتا ہے، وہ اصولی طور پر یورپ کی تاریخ پڑھتا ہے۔ مغرب کا فلسفہ پڑھتا ہے۔ مغرب کے دینی علوم کا مطالعہ کرتا ہے۔ مغربی دنیا سے متعلق ناول پڑھتا ہے اور مغرب کے بارے میں بنائی جانے والی فلمیں دیکھتا ہے۔ اس اس کے اندر، مغرب کا ایک تصور قائم ہوتا ہے۔ یہ پہلو ممکن ہے کہ زیادہ نمایاں نہ ہو لیکن بہرحال شہید امام رحمت اللہ علیہ، ایک مفکر اور کتابوں کا مطالعہ کرنے والی ہستی کے عنوان سے عملی طور پر مغرب کو پہچانتے تھے اور اس کے بارے میں قابل توجہ واقفیت رکھتے تھے۔ لیکن جس چیز نے شہید امام کی مغرب شناسی کو مختلف اور دیگر مغرب شناسوں سے ممتاز بنایا، وہ میرےخیال میں، بعد کے دو نکات اور پہلو ہیں جن پر بہت کم کام ہوا ہے۔ آپ کی مغرب شناسی کا دوسرا پہلو، مغرب کے بارے میں رہبر کی حیثیت سے آپ کا تجربہ تھا۔ بہت سے لوگوں نے مغرب کا سفر کیا ہے۔ تعلیم کے لئے مغرب گئے یا سیاحت کی غرض سے مغرب کو دیکھا ہے۔ سیاستدانوں نے بھی ماضی میں بھی مغرب کے دورے کئے ہیں اور آج بھی جاتے ہیں اور مغرب نے جوکچھ حاصل کیا ہے، اس کا، مغربی تہذیب کا، اور مغرب کی ٹیکنالوجی اور ترقیات کا مشاہدہ اور کوشش کرتے ہیں کہ اس سے اپنے معاشرے کے لئے استفادہ کریں۔ لیکن مغرب کے تعلق سے شہید امام کا تجربہ اس نوعیت کا نہیں تھا کہ صرف مغرب کی سڑکوں پر جائيں، ان کی تعریف کریں اور ہم سے کہیں کہ لفٹ لائيں، میٹرو لائیں اور مجموعی طور پر مغربی سبک زندگی اپنائيں۔ مغرب کے بارے میں آپ کا تجربہ، رہبری کی سطح کا تھا۔ یہ تجربہ ایک سیاستداں حتی ایک مرجع تقلید کے تجربے سے بھی مختلف ہے۔ کیونکہ اگر آپ رہبر ہیں تبھی مغرب کے زمینی حقائق سے متعلق عظیم نظریات تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ رہبری اور قیادت کا تقاضا ہے جو آپ کو ان حقائق تک پہنچا سکتا ہے۔ حتی ممکن ہے کہ کوئی وزیر بھی ان حقائق تک رسائی حاصل نہ کرسکے لیکن ایک رہبر ان حقائق تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ اس کی رہبری اور قیادت کی حیثیت اس بات کی متقاضی ہوگی کہ وہ اطلاعات اس کو حاصل ہوں۔ ان چالیس پچاس برسوں میں، جب آپ صدر مملکت اور اس کے بعد رہبر تھے، مغرب کے تجربہ نے آپ کے لئے یہ ممکن بنایا کہ مغرب کے حقائق ایک خاص زاویہ نگاہ سے آپ پر منکشف اور آشکارا ہوں۔ ممکن ہے کہ یہ حقائق روشنفکر حضرات حتی علما کے لئے آشکارا نہ ہوں۔ ہم کتابوں اور تحریروں کے ذریعے بعض حقائق تک پہنچ سکتے ہیں، حتی مغرب کا سفر کرکے، وہاں کچھ لوگوں کے ساتھ نشست وبرخاست کے ذریعے کچھ باتیں معلوم ہوسکتی ہیں لیکن مغرب کے بارے میں حقیقی شناخت اورہماری تجرباتی معلومات بہت محدود ہیں۔ لیکن رہبر اپنی مخصوص حیثیت میں، مغرب کے مختلف حقائق کا مشاہدہ اور اس کا صحیح ادراک حاصل کرسکتاہے۔ جب مغرب خیانت کرتا ہے، جب وہ دروغ بیانی کرتا ہے، جب صحیح عمل کرتا ہے، جب سمجھوتہ کرتا ہے، جب اس کے اندر سے تضاد ظاہر ہوتا ہے، حتی جب وہ ایٹمی معاہدہ کرتا ہے اور پھر اس کو پھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔ یہ سب وہ حقائق ہیں جو رہبر اپنی مخصوص حیثیت میں بہتر سمجھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ رہبر معظم انقلاب نے بہت سی بڑی شخصیات سے ملاقات کی تھی۔ ان شخصیات کے پاس بھی مغرب کے بہت سے حقائق تھے۔ مثال کے طور پر جب شہید رہبر انقلاب نلسن منڈیلا، فیڈل کاسترو مغرب پر تنقید کرنے والے عالمی سطح کے بڑے سیاستدانوں سے ملاقات اور گفتگو کرتے تھے، تو عملی طور پر مغرب کے نئے چہرے آپ کے سامنے بے نقاب ہوتے تھے کہ جن سے حتی کوئی مغرب شناس دینی پیشوا بھی واقف نہیں ہوسکتا۔ میرے خیال میں یہ دوسرا پہلو تھا جس نے شہید رہبرکی مغرب شناسی کو مختلف کردیا ہے۔ جو آپ دیکھ لیتے تھے ، ہم نہیں دیکھ پاتے تھے۔ جو تجربہ آپ کوحاصل ہوا تھا وہ ہمیں حاصل نہیں ہوا۔ رہبر معظم انقلاب رحمت اللہ علیہ کو جو تجربہ ہوا وہ ہمیں نہیں ہوا۔ بعض اوقات امریکا، مغرب اور یورپ کے بارے میں رہبر کے موقف پر جو تنقید اور اعتراضات ہوتے تھے، ان میں سے کچھ کی وجہ مغرب کو سمجھنے میں پایا جانے والا یہی اختلاف تھا۔ بعض لوگ سجھتے تھے کہ چند کتابیں پڑھ کر مغرب کے بارے میں دوسروں سے بہتر تجزیہ کرسکتے ہیں اور وہ اپنا موازنہ شہید امام سے کرنے لگے تھے۔
تیسرا پہلو جو میری نظر میں بہت اہم ہے اور افسوس کہ ہماری یونیورسٹیوں کے مغرب شناسی کے شعبوں میں اس پر بہت کم کام ہوا ہے، حتی بعض لوگ اس پر یقین بھی نہیں رکھتے، وہ یہ ہے کہ جب آپ کو کتابوں سے کچھ باتیں معلوم ہوتی ہیں یا بعض اطلاعات مغرب کے زمینی حقائق اور اس کی ثقافت سے حاصل ہوتی ہیں توان اطلاعات و معلومات کا ایک نظریاتی بنیاد اور دائرے میں تحلیل وتجزیہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر یونیورسٹیوں میں رائج تحلیل وتجزیہ کی یہ بنیاد اور دائرہ مغربی دنیا کے نظریات ہوتے ہیں۔ یعنی آپ کتب خانوں اور زمینی حقائق سے جو اطلاعات حاصل کرتے ہیں، اس کو مغرب کے تجزیاتی نظریئے کی بنیاد پر پرکھتے ہیں اور ایک نظریہ پیش کرتے ہیں۔ لیکن شہید رہبر انقلاب ان اطلاعات کا، اس متن کی بنیاد پر جائزہ لیتے تھے، جس سے آپ تجزیہ، تنقید، تدبیر اور سیاست کے تعین میں استفادہ کرتے تھے۔ آپ کا متن قرآن کریم تھا۔ شاید بعض لوگوں کے لئے یہ بات حیرت انگیز ہوکہ مغربی دنیا کے تحلیل و تجزیئے میں قران سے کیسے استفادہ کیا جاسکتا ہے؟ قرآن روم ، یونان اور مغرب کے فلسفے کے بارے میں براہ راست کچھ نہیں کہتا، لیکن قرآن میں ایسی روایات پائی جاتی ہیں کہ جن سے اطلاعات و معلومات کے تحلیل و تجزیئے میں استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ قرآن کے نقطہ نگاہ سے، استکبار، استعمار، طاغوت اور شیطان کی فکر اور ماہیت کو سمجھا جاسکتا ہے اور پھر مغربی دنیا میں ان کے مصداق دیکھے جاسکتے ہیں۔ میری نظر میں جو چیز شہید رہبر انقلاب کی مغرب شناسی کو استحکام اور ممتاز حیثیت عطا کرتی ہے، وہ، قرآن پر آپ کا ایمان، آپ کا قرآن کا ادراک اور قرآنی تعلیمات کی بنیاد پر تمدن کے امور چلانے کے بارے میں آپ کی تدابیر تھیں۔ کیونکہ آپ نے ہمیشہ مغرب کے مقابلے میں قرآن کو اپنا رہنما قرار دیا ہے۔
سوال: شہید خامنہ ای کے لئے مغربی تمدن کے تحلیل وتجزیہ، شناخت اور تجربہ میں اسلام اور قران کی حیثیت کیا تھی؟
جواب: شاید ایک قدم آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ ایک وقت ہمارے لئے یہ سوچنا ممکن تھا کہ جب رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ امریکا کے لئے شیطان کا لفظ استعمال کرتے تھے، تو یہ صرف اپنے ایک حریف کے مقابلے میں ایک رہبرکی جانب سے غصے اور جذبات کا اظہار ہوسکتا ہے۔ اس وقت ہمارا بچپن تھا۔ ہم یہ سوچ سکتے تھے کہ شیطان کہنا ایک طرح کی گالی اورغصہ بھرا اعتراض ہوسکتا ہے۔ لیکن جب ہم نے اس سلسلے میں، مغرب شناسی کا تحزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ شیطان کا مسئلہ، مغرب کے حقائق کے بارے میں خدائی تعلیمات پر مبنی ماہیت کی شناخت کی ایک تفسیر ہے۔ اگراسلامی فلسفے اوراسلامی دینی تعلیمات اور قرآن کی اصطلاح میں شیطان کی جستجو کریں تو دیکھیں گے کہ شیطان کی بحث میں جو عناصر پائے جاتے ہیں،ان میں تکبر، فریب، دھوکہ اور خوفزدہ کرنا وغیر شامل ہے۔ یہ درحقیقت شیطان کے حوالے سے ماہیت شناسی کا تجزیہ ہے۔ جبکہ مخاطب معاشرے نے بعض اوقات اس اصطلاح کا یہ مطلب نہیں لیا ہے۔ بنابریں جب امام خمینی رحمت اللہ علیہ یا شہید امام انقلاب جیسا عظیم مفکر مغربی تمدن کی حقیقت کے بارے میں، کوئی تجزیہ پیش کرتا ہے تو یہ تجزیہ نظریاتی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے۔ مغرب سے مقابلے اور اس کے بارے میں ہمارے تجزیوں میں، ان نظریات اور تجزیوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ اسی بنا پرشہید رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای تاکید فرمایا کرتے تھے کہ قرآن پڑھیں اور قرآن کو اپنی زندگی سے دور نہ کریں اور اس کو اپنی زندگی کا دستور العمل اور اپنا راہنما قرار دیں ۔ یہ تاکیدات ایک طرف ہمارے سبک زندگی کے پہلوؤں سے، ہمارے ایمان، توحید اور معنویت وغیرہ سے مرتبط ہیں تو دوسری طرف، معاشرے کے لئے ایک طرح کے ویکسینیشن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ شہید رہبر انقلاب اسلامی اس سلسلے میں اس طرح اقدام کرتے تھے کہ اپنا معاشرہ مغرب زدگی اور مغربی رجحان سے محفوظ کردیں اور اس کو مغرب کے سیاسی و ثقافتی جال میں پھنسنے سے بچالیں۔ میرے خیال میں آپ معاشرے میں جو چیز پھیلانا چاہتے تھے، وہ وہی نور قرآن تھا۔ آپ نے قرآنی تعلیمات اورروایات، قرآنی اصطلاحات اور قرآنی علامتوں کے ذریعے ہمیں یہ سمجھایا کہ ہم قران سے جتنا زیادہ مانوس ہوں گے اتنا ہی مغرب کی جانب کم جائیں گے۔
سوال: ایک دینی اور سیاسی رہبر کی حیثیت سے شہید خامنہ ای مغربی تمدن کے جن اہم نکات اور ابواب پر تنقید کیا کرتے تھے، وہ کیا تھے؟
جواب: میرے خیال میں آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کو مغرب کے سبھی پہلوؤں کا صحیح ادراک تھا اور آپ پورے مغرب کو غلط نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ آپ مسلمان ایرانی مخاطبین کو مغرب کے مثبت اور تعمیری پہلوؤں کے مشاہدے کی دعوت دیا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر آپ مغربی علوم کے تعلق سے ہماری حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ مغربی علوم یعنی مغربی دنیا، مغربی یونیورسٹیوں، مغربی مفکرین اور مغربی دانشوروں نے جو کچھ حاصل کیا ہے، اس سے استفادے کی سفارش کیا کرتے تھے۔ آپ تاکید فرمایا کرتے تھے کہ دینی ہدایات کی بنیاد پران سے استفادہ کیا جائے؛اُطْلُبُوا اَلْعلْمَ وَ لَوْ بالصّين (علم حاصل کرو چاہے اس کے لئے چین بھی جانا پڑے ) آپ کی تاکید تھی کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ جہاں بھی علم ملے، حاصل کریں اور اس سے اپنے اور معاشرے کے فائدے میں استفادہ کریں۔ بنابریں بہت سے مواقع پر آپ نے یونیورسٹی طلبا اور یونیورسٹیوں سے وابستہ دیگر افراد کو مغربی علوم حاصل کرنے کی تاکید کی ہے۔ آپ نے ان علوم کے تعلق سے رائج تکنیکی شعبوں کے علوم، فزکس، ٹیکنالوجی وغیرہ اور انسان کی عام زندگی سے متعلق بعض علوم کی طرف اشارہ کیا ہے۔ لیکن آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے علمی مباحث سے ہٹ کر، مغرب والوں کے احساسات جذبات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ آپ نے مغرب والوں کی اچھی خصوصیات جیسے ان کے حوصلے،جوچـیزیں ان سے دور ہیں، انہیں بھی دیکھنے کی توانائی، خطرات مول لینے اور ان کے نظم وضبط کی بات بھی کی ہے اور ان پر مثبت خصوصیات کی حیثیت سے توجہ دی ہے۔ لیکن مغرب پر آپ کی تنقید زیادہ تر مغرب کی سامراجی فکر پر مرکوز رہی ہے۔ لیکن شہید رہبر کے نقطہ نگاہ سے مغرب کا استعمار صرف اسلامی ملکوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ غیر اسلامی ممالک شامل ہیں۔
آپ نے اپنے سفر کے تذکروں میں مختلف ملکوں میں ان مجسموں کی طرف اشارہ کیا ہے جو استعمار کی علامت ہیں۔ یہ مجسمے بعض ملکوں میں اب بھی مقدس سمجھے جاتے تھے۔ آپ نے غیر مغربی دنیا میں، استعمارکی آشکارا اور خفیہ موجودگی کی علامت کے عنوان سے تنقید کی ہے۔ آپ کی یہ روش حتی غیر تکنیکی علوم ( ادبیات اور آرٹس وغیر) یا سنیما اور ناولوں کے جائزے میں بھی جاری رہی ہے۔ آپ نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کو مغربی سوچ اور ثقافت سے نجات دلانے کا کوئی راستہ نکالا جائے۔ آپ نے ( اس سلسلے میں) صرف سلوگن نہیں دیا ہے بلکہ عملی راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے تاکہ مسلمین نجات کی طرف آگے بڑھ سکیں۔ آپ کی کوشش تھی کہ یہ نجات حقیقی نجات ہو، ایسی نہیں کہ انسان اپنی سوچ اور ذہن میں مسلمان ہولیکن مغربی ثقافت اور تفکر کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو۔
اہم ترین بحث جس پر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ہمیشہ اپنی فکر میں توجہ دی ہے، یہ تھی کہ آپ نے قرآن سے لگاؤ کی تاکید اور قرآنی تعلیمات کے بیان کے ساتھ ہمیشہ ہمیں خبردارکیا ہے کہ آزادی، خودمختارری اور اسلامی جمہوریت کے سلوگن کی حفاظت کریں۔ توحیدی آزادی کا مطلب، آج کی دنیا کے نظام تسلط سے آزادی ہے اور آپ کو اس کا بخوبی ادراک تھا۔ نظام طاغوت سے آزادی کا مفہوم بھی آپ کے لئے واضح تھا اور آپ نے ہمیشہ اس کی تاکید کی ہے۔ راہ زندگی میں آپ نے یہ مفہوم ہم تک اور معاشرے تک پہنچانے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ تسلط پسند اور استعماری طاقتوں سے ہرقسم کی وابستگی سے نجات حاصل کرسکے اور آزاد رہے۔ مقصد یہ تھا کہ ہم زندگی کی راہ میں آزاد رہیں؛ ہماری یونیورسٹیاں اور سبھی تعلیمی اور سیاسی ادارے آزاد رہیں۔ آپ چاہتے تھے کہ آج کی مسلمان خاتون اپنی تعمیر اور اپنی شناخت اور مسلمان ہونے کے معیار کا خود تعین کرے۔ آپ نے ہمیشہ اس بات کی تاکید فرمائی ہے کہ ہمیں اپنا مختلف اور منفرد تمدن تیار کرنا چاہئے۔ شاید ابھی ہم اس توحیدی تمدن سے دور ہوں لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ ہم بہت سے میدانوں منجملہ، علمی، فوجی، سیاسی، ثقافتی اور عوامی میدانوں میں قابل توجہ راستہ طے کرچکے ہیں۔ ان شعبوں حتی جمہوریت میں ہماری پیشرفت نظرآرہی ہے۔ شاید آپ کی شہادت سے پہلے ہم نے جمہوریت کے اس پہلو پر توجہ نہ کی ہو، لیکن آج سڑکوں پر عوام کی حماسی موجودگی بالخصوص یوم قدس اور عید کے موقع پر عوام نے اپنی بے نظیر شرکت اور موجودگی سے جمہوریت اور عوامی حکمرانی کے نئے پہلو آشکار کردیئے۔ان نئے پہلوؤں کا دوسرے سیاسی نظاموں میں جن میں عوامی حکمرانی صرف سلوگن کی حد تک باقی ہے، مشاہدہ نہیں کیا جاسکتا۔ بنابریں ایسا لگتا ہے کہ ہمیں جو خود کو معاشرے کا دانشور طبقہ سمجھتے ہیں اور لکھنے، تحقیق کرنے اور پالیسی سازی میں سرگرم ہیں، تمدن کی ان پہلوؤں کو پہچاننا چاہئے جن کی بنیاد شہید رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے رکھی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو، جمہوریت اور عوامی حکمرانی ہے۔ اسی طرح ثقافتی اور دینی پہلو پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جیسا کہ آج مذہبی انجمنیں، دانشمندی، آگاہی اور رزمیہ افکار کی آمیزش کے ساتھ بہت اچـھے انداز میں سامنے آئی ہیں۔ ان باتوں کو از سر نو سمجھنے اور ان کی کارکردگی کو امت اسلامیہ کی سطح پر پہچاننے اور ان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
سوال: شہید رہبر انقلاب کے افکار میں، نئے اسلامی تمدن کی نطریاتی بنیادیں کیا ہیں؟ ان کے اہداف کیا ہیں اور دیگر تمدنوں سے اس کا فرق کیا ہے؟
جواب: میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی تمدن کا نیا ہونا، بہت وسیع موضوع ہے جس کے مختلف پہلو ہوسکتے ہیں۔ ایک پہلو یہ ہے کہ بنیادی طور یہ تمدن نئے استعمارحتی استعمار جدید کے بعد وجود میں آنے والے سامراج ( پوسٹ ماڈرن امپیریلزم) کو چیلنج کرتا ہے اور اس سے متصادم ہوسکتا ہے۔ استعمار جدید کی نئی خصوصیات اور تقاضے ہیں اور پوسٹ ماڈرن امپیریلزم کے بھی اپنے مخصوص تقاضے ہیں۔ استعمار کی ان اقسام کا مقابلہ قدیمی روش، افکار اور وسائل سے ممکن نہیں ہے۔ امریکا کے نظام تسلط میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں اور اس نے سائنس و ٹیکنالوجی اور ایٹمی میدان میں کافی ترقی اور پیشرفت کرلی ہے، اس سے موثر انداز میں ٹکرانے کے لئے جدید انسانی اورایمانی تفکر کی ضرورت ہے۔ اس نئےتفکر کے ساتھ ہم مغرب کی بڑی طاقتوں سے ٹکراسکتے ہیں اور استعماری علامتوں کو زمیں بوس کرسکتے ہیں۔ اس کا ایک واضح نمونہ امریکی اواکس طیارے کو مارگرانے کے واقعے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ صرف ایک جدید ترین طیارے کی نابودی نہیں تھی بلکہ ایک بڑے بت اور مغربی طاقت کی علامت کا ٹوٹنا ہے۔ یہ کام کمترین وسائل اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انجام پایا۔ اس نے یاد دہانی کرادی کہ کمترین خرچ اور معمولی ترین اقدامات سے لشکر ابرہہ کے تاروپود کس طرح بکھیرے جاسکتے ہیں۔ درحقیقت یہ اقدامات وہی سنت الہی کا تسلسل ہیں جو تاریخ میں نئی نئی شکلوں دوہرائے جاتے ہیں ۔
اسلامی تمدن کے نئے ہونے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم نے اسلامی انقلاب اوراسلامی جمہوریہ کے تجربے میں نئی علامات اور معیارات خلق کئے۔ ان علامات اور معیارات نے مختلف علمی ثقافتی اور سیاسی پہلوؤں میں خود کو ظاہر کیا ہے۔ مثال کے طور پر نئے اسلامی تمدن میں ہم نے ایسے نئے انسان خلق کئے جنہوں نے مختلف پوزیشنوں میں خود کو ظاہر کیا۔ ان نئے انسانوں کا ایک نمونہ شہید جنرل قاسم سلیمانی تھے۔ ہمارے نوجوان شہدا، ان کے لواحقین، ان کی مائيں، حتی سڑکوں پر موجود لوگ ان نئے انسانوں کے نمونے ہیں۔ یہ وہ انسان ہیں جو میزائلوں سے نہیں ڈرتے اور دشمنوں کے مقابلے میں اللّہ اکبر کے نعرے لگاکر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کا ایک نمونہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک کے سرحدی علاقے، ایرانی پناہ گزینوں سے خالی ہیں۔ ایرانی دوسرے ملکوں میں نہیں جارہے ہیں بلکہ اس کے برعکس اپنے ملک میں رہ کر اس کا دفاع کررہے ہیں۔ یہ نئے انسان حقیقی معنی میں موت سے نہیں ڈرتے اور اس کے مقابلے پر ڈٹ جاتے ہیں۔ جو بات ان نئے انسانوں کو مختلف بناتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ انسان موت کا استقبال کرتے ہیں اور اپنے اس عمل سے معاشرے میں ایک نئی توانائی اور نیا رزمیہ جذبہ خلق کرتے ہیں۔ اس کی مثال خود شہید رہبر انقلاب ہیں جو پناہ گاہ میں جانے پر تیار نہیں ہوئے۔ یہ ہستیاں، اقدار اور خصوصیات کسی بھی تمدن میں اتنی نہیں مل سکتیں جتنا انہیں اسلامی جمہوریہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بعض لوگ ٹیکنالوجی، عمارتوں اورسڑکوں میں نیا تمدن دیکھتے ہیں۔ البتہ اس بارے میں بھی میرا اپنا نظریہ ہے۔ اگر آج آپ یہاں سے چلیں اور خسروی سرحد ( عراق کے قریب ایران کا ایک سرحدی علاقہ) کی طرف جائيں یا ایران کے اندر ہزاروں کلومیٹر کا سفر کریں تو محسوس کریں گے کہ یورپی کی سڑکوں پر چل رہے ہیں؛ کیونکہ سڑکیں بہت اچھی بنی ہیں ۔ بنیادی ڈھانچوں کی بہت اچھی ڈیزائننگ کی گئی ہے اور معاشرے میں صحت عامہ کی صورتحال قابل توجہ حد تک اچھی ہے۔ سہولتوں تک آپ کی دسترسی بہت آسان ہے۔ پبلک کی رفاہ وآسائش کے انتظامات بہت اچھے ہیں۔ البتہ اقتصادی مشکلات ہیں ، لیکن جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایرانی معاشرے میں یہ نعمتیں فراوان ہیں۔ آپ آج شہر میں جائيں تو جنگ کے آثار نہیں دیکھیں گے ۔ کیونکہ ہم قحط اور اختلاف کا شکار نہیں ہیں۔ ہرچند کہ جنگیں اور ان سے مربوط مسائل ہیں لیکن چیزوں کی قلت نہیں ہے۔ تمدن کا بنیادی جوہر ان انسانوں میں ہوتا ہے جن کی آپ تربیت کرتے ہیں۔ ان گزشتہ چالیس، پچاس اور ساٹھ برسوں میں، اسلامی جمہوریہ ایسے انسان تیار کرنے میں کامیاب رہی جو عالمی سطح پر عزت و عظمت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ یہ عالمی اقدامات اور ان کے عالمی اثرات ہمارے لئے تہذیبی امتیازات ہیں۔ اس سلسلے میں ایسا لگتا ہے کہ آپ نے مختلف طرح کے انسان خلق کئے ہیں۔ ایسی نئی نسل تیار کی ہے جو نئے اسلامی تمدن میں معیار کا درجہ رکھتی ہیں۔
سوال: گر آپ جنگی اصول و ضوابط اور اخلاقیات میں نئے اسلامی تمدن کے نظریات بیان کریں تو کن نکات کا ذکر کریں گے؟
جواب: تہذیبوں کے ویژن میں آپ صرف زندگی کو نمونہ بناکر نہیں پیش کرسکتے بلکہ آپ کو موت اور موت کو گلے لگانے کا ویژن بھی پیش کرنا ہوگا۔ بنیادی طور پر جب آپ زندگی کی سطح کا تجزیہ کرنا چاہیں گے تو سبک زندگی کے بارے میں سوچنے کے ساتھ ہی، اس بات کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا کہ مرنے کا طریقہ کیا ہے۔ تب جاکر آپ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ یہاں لوگ کس طرح زندہ ہیں اور وہ کس طرح متمدن یا غیر متمدن ہیں۔ بعض مغربی دانشوروں جیسے ، نروتھ، ایلیس اور بعض دیگر دانشوروں نے، تمدن ساز موت کے بارے میں نظریات پیش کئے ہیں۔ اس گفتگو میں ان نظریات پر بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن مجموعی طور پر انھوں نے اس سلسلے میں شہادت اور تمدن سے اس کے رابطے کی بحث کی ہے۔ مثال کے طور پر بعض دانشوروں نے کہا ہے کہ بادشاہ مرجاتے ہیں تو ان کا کام ختم ہوجاتا ہے لیکن شہدا جب موت کو گلے لگاتے ہیں تو ان کا کام شروع ہوتا ہے۔ میرے خیال میں آپ کے معاشرے کے تہذیبی پہلووں کا ایک رخ یہ ہے کہ آپ جتنا مارے جاتے ہیں اتنا ہی زندہ ہوتے ہیں۔ آپ کے تمدن اور جنگی وصیت کے بیان کی ایک علامت یہ ہے۔ یعنی آپ کا خون پامال نہیں ہوتا بلکہ خون آگے بڑھتا ہے اور رزم کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ خون معنی میں بدل جاتا ہے۔ خون معرفت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ خون اجتماعی یک جہتی اور اتحاد میں بدل جاتا ہے۔ یہ خون تبدیل ہوکر، ایک "ہم" کی شکل میں ظاہر ہوجاتے ہیں اور یہ ہم ہوجانا بہت اہم ہے۔ میرے خیال میں ہر معاشرے میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی۔ البتہ دوسرے معاشرے بھی خون دیتے ہیں خاص طور پر جنگ کے حالات میں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ دیگر اقوام کے لئے مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات کے لوگوں اور دیگر معاشرے والوں کے لئے کیا ہوتا ہے؟ اس وقت وہ اقوام کہاں ہیں؟ میرے خیال میں عملی طور پر جو چیز ہم آج کی جنگی صورتحال میں، تمدن کی علامت اور معیار کے عنوان سے بیان کرسکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ہم موت سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی اس سے گھبراتے ہیں۔ ہمارے لئے اس کی تاریخی بنیاد ہے۔ ایمانی بنیاد ہے اور ہمارے عوام میں ایک بنیادی امید پائی جاتی ہے کہ انہیں یقین ہے کہ موت خاتمہ نہیں بلکہ آغاز زندگی ہے۔ یہ یقین، مسائل، جنگوں اور لڑائیوں کا مقابلہ کرنے کے ہمارے طریقے کو مختلف بنادیتے ہیں۔
سوال: شہید رہبر انقلاب سے پہلی اور آخری ملاقات کے بارے میں آپ کے تاثرات کیا ہیں؟
جواب: ہمیں آپ کی خدمت میں پہنچنے کا بہت کم موقع ملا ہے۔ لیکن پہلے آپ سے چند عمومی ملاقاتوں میں شرکت کرچکا تھا اور ایک دو بار آپ سے ملاقات ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک ملاقات وہ تھی جس میں ہمارے ادارے کے اعلی عہدیداروں نے آپ کی خدمت میں حاضری دی تھی۔ اس ملاقات میں ہم نے ایک ذہین، فکر مند، با ایمان اور توانائی سے بھرپور نیز احساس ذمہ داری اور نورانیت و معنویت کے مالک رہبر کا مشاہدہ کیا۔ ایک اور ملاقات میں جس میں تہذیب و تمدن کے محققین موجود تھے، اگر مجھ سے غلطی نہیں ہورہی ہے تو 28 دسمبر2018 کو ایک محدود گروہ کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ اس ملاقات میں میں نے ایک صاحب حکمت رہبر کا مشاہدہ کیا۔ میرے لئے قابل توجہ نکتہ یہ تھا کہ وہ رہبر جو دانشمندی، دانشوری اور حکمت کے اعلی ترین درجے پر تھا، اور ہم اس جلسے میں دائرے کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے اور میں آپ کے شاگردوں کے شاگردوں کے شاگردوں میں شمار ہوتا تھا، لیکن تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کی اس ملاقات میں آپ نے اساتید اور احباب کی گفتگو سماعت فرمائي۔ اس کے بعد تقریبا بیس منٹ وہ نکات اور باتیں بیان کیں جو آپ کے مد نظر تھیں۔ آپ کی گفتگو کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ اسی رات ہم نے تہذیب و تمدن کے مطالعے کے لئے ایک شفٹ کا اضافہ کیا اور اس سلسلے میں ہم نے کتابیں شائع کیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان بے بنیاد پروپیگنڈوں اور ان تہمتوں کے برخلاف جو آپ کی زندگی میں، میڈیا کے بے بنیاد پروپیگنڈوں میں آپ پر لگائی جاتی تھیں،آپ دوسروں کو بہت توجہ سے سنتے تھے۔ آپ اجتماعی گفتگو اور مکالمے میں معقول مشارکت کے حالات فراہم کرتے تھے۔ بعض روشنفکر حضرات اور جو لوگ بولنے کے دعویدار ہیں، ان کے اندر دوسروں کو اس طرح سننے کی خصوصیت بہت کم نظرآتی ہے۔ جو خطیب اور بولنے والا ہونے کے دعویدار ہیں،ان کے ساتھ ملاقات میں اتنا کافی ہے کہ آپ ان کی کسی بات سے اختلاف کردیں۔ ممکن ہے کہ فورا ہی آپ کو ٹوک دیں اور یہ پوچھ لیں کہ یہ بات کیوں کررہے ہو؟ لیکن شہید رہبر انقلاب کے ساتھ اس میٹنگ میں، میں نے دانشمندی اور عاقلانہ سطح پر آپ کے حسن سماعت اور فراخ دلی کو عملی طور پر دیکھا جو میرے لئے بہت قابل توجہ تھی۔ واقعی آپ کی یہ صفت رہبر کی سطح کی تھی۔
میں اس معاشرے کا حصہ ہونے پر فخر کرتا ہوں جس کا رہبر ایسا ہے۔
1 مئی 2026
