logo khamenei

غزہ سے میناب تک؛ بچوں کے قاتل ایپسٹین جزیرے والے

غزہ سے میناب تک؛ بچوں کے قاتل ایپسٹین جزیرے والے

"ویتنام کی جنگ کے بعد کا سب سے بڑا سانحہ" اور "عالمی تاریخ میں ایک اسکول کی بچیوں کا سب سے بڑا قتل عام" یہ وہ جملے ہیں جو ایک برطانوی سیاستداں نے میناب کے شجرۂ طیبہ پرائمری گرلز اسکول پر بمباری کے سلسلے میں استعمال کیے ہیں۔

قتل عام اور جرم اتنا عیاں اور واضح ہے کہ مغربی تمدن کی بہت سی زبانوں اور افکار نے بھی اس پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اگر دشمن اس مسئلے سے ظاہری اصولوں سے بھی نمٹنا چاہتا تب بھی اسے عام لوگوں کو نقصان پہنچانے کی سمت میں نہیں بڑھنا چاہیے تھا، پرائمری گرلز اسکول کو نشانہ بنانے کی تو بات ہی الگ ہے جسے کسی بھی دین و مذہب کا انسان تسلیم نہیں کر سکتا۔

اس کارروائی پر انسانی جذبات کا مجروح اور انسانی فطرت کا نفرت سے بھر جانا، واقعے کا صرف ایک پہلو ہے۔ اس واقعے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ تمدن جسے انسان کو فضائل اور مادی و معنوی وسائل کے اوج پر پہنچانا تھا، اب ایسی گندگي اور قتل عام کی منظم مشین میں تبدیل ہو چکا ہے۔

یہ سامراجی اور نئی بردہ داری کا کلچر نہ صرف، اسی روایتی سامراجی مشینری کا تسلسل ہے بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر یہ درندگي کی ایسی نئی حدوں تک بھی پہنچ چکا ہے جس کا تصور اٹھارویں اور انیسویں صدی کے روایتی سامراج کے ذہن میں بھی نہیں آ سکتا تھا۔ یہ وہ مشینری ہے جو قتل عام کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی پر فخر کرتی ہے۔ اس کا افتخار یہ ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی علاقے میں انسانوں، بچیوں، عورتوں اور بچوں کی لوکیشن کو اپنے وحشیانہ تختۂ مشق میں تبدیل کر دیتی ہے اور ان کا خون بہا دیتی ہے۔ وہ عام عورتوں اور بچوں کو جنگجو بتا کر ان کا خون بہانے کو جائز ٹھہراتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا بھر کا میڈیا بھی اپنے رویے، باتوں اور یہاں تک کہ خاموشی سے اس رویے کی تائید کر رہا ہے۔ اس تحریر کی شروعات میں جس شخصیت کے الفاظ کو نقل کیا گيا، اس نے اپنے بیان کے ایک دوسرے حصے میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ سوچیے کہ اگر یہ ماجرا اس کے برخلاف ہوتا اور ایرانیوں یا فلسطینیوں نے 150 لوگوں کا قتل عام کیا ہوتا تو اس صورت میں کس طرح کے ردعمل سامنے آتے؟ جن لوگوں نے "شجرۂ طیبہ" گرلز اسکول کے جرم کا ارتکاب کیا اور اسے انسان دوستانہ مداخلت کی آڑ میں پیش کر رہے ہیں، وہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اس سے پہلے یہی کام غزہ پٹی کے اسپتالوں اور اسکولوں میں کیا تھا۔

بچوں کا قاتل یہ وحشی تمدن پوری دنیا میں ایک طرح کا ہے۔ قتل عام کی مشین رکے گی نہیں۔ دنیا کے کسی بھی گوشے کے لوگ، جو بچوں کا جنسی استحصال کرنے والے ایپسٹین جزیرے کے آقاؤں اور ان کا قتل کرنے والے سرغناؤں کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہیں ہوں گے، وہ ان کے لیے ٹارگٹ میں بدل جائيں گے۔ واحد راستہ، طاقتور بننا ہے، زیادہ طاقتور بننا اور طاقت کی زبان میں بات کرنا ہے۔ غزہ پٹی میں قتل عام اور جنوبی ایران میں پرائمری اسکول کی طالبات کی دل چھلنی کر دینے والی تصاویر، سب کی سب، بچوں کے ان قاتلوں کی کارروائیوں کا زندہ ثبوت ہیں۔

6 مارچ 2026