logo khamenei

جب کشمیری خواتین نے اپنا پورا اثاثہ ایران کے لیے پیش کر دیا

جب کشمیری خواتین نے اپنا پورا اثاثہ ایران کے لیے پیش کر دیا

ایسے عالم میں جب کشمیر کی بہت سی خواتین کے پاس بچت کے لیے سونے کا ایک بھی زیور نہیں ہے، عورتوں، لڑکیوں یہاں تک کہ چھوٹی بچیوں کی ایسی قطاریں بن گئی ہیں جو اپنا سب سے قیمتی اثاثہ ایران اور ایرانی عوام کو ہدیہ کر رہی ہیں۔

"کشمیر میں بہت کم خواتین کے پاس سونا ہے۔" محمد شفیع کے ابتدائی الفاظ سے ہی غربت جھلکتی ہے لیکن کچھ ہی دیر بعد یہی غربت آپ کو متحیر کر دیتی ہے جب آپ دیکھتے ہیں کہ خواتین ایک لمبی قطار میں اپنے سونے کے چھوٹے چھوٹے زیور اور اپنی معمولی جمع پونجی لیے کھڑی ہیں تاکہ ایران کی مدد اور اسرائیل کے خلاف جدوجہد میں اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

محمد شفیع، جنھوں نے ان مناظر کو قریب سے دیکھا ہے، ان خواتین کا ذکر کرتے ہیں جنھوں نے برسوں کشمیر کی زندگی کی سختیوں کا سامنا کیا ہے، وہ خواتین جن کے چہرے تمازت آفتاب سے اپنا اصل رنگ کھو چکے ہیں اور ہاتھ محنت و مشقت کی داستان سناتے ہیں۔ اس کے باوجود ان میں سے بہت سی خواتین مشکل وقت کے لیے اپنی بچت کو ظلم کے خلاف جنگ اور اسرائیل کے مقابلے میں کھڑے ہونے کے لیے وقف کر رہی ہیں۔

محمد شفیع کے بقول شاید مزاحمت کا حقیقی مطلب یہی ہے، ایسے ٹھوس عقیدے جن کے سامنے جغرافیائی سرحدیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ ایک دن یمن کی خواتین اپنا سونا فلسطین بھیجتی ہیں، کسی اور دن ایرانی اپنا سونا لبنان کے عوام کو ہدیہ کرتے ہیں اور اب کشمیر کی خواتین اپنے بکسوں سے اپنا معمولی اثاثہ نکال رہی ہیں تاکہ ایران کے بمباری شدہ علاقوں کے زخموں پر مرہم رکھ سکیں۔ یہ خواتین ہی ہیں جو ہمدردی اور مزاحمت کا عَلَم اٹھانے میں پیش پیش ہیں۔

محمد شفیع کا کہنا ہے کہ مزاحمت میں عمر کی کوئي قید نہیں ہوتی۔ اس ایک سال کی بچی کی طرح جو اپنی غلک ایران کے لیے لائی ہے یا وہ چھوٹی بچی جو اپنے کانوں سے بالیاں اتار دیتی ہے اور جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم یہ بالیاں کیوں دے رہی ہو اور کسے دے رہی ہو؟ تو بچی کہتی ہے: "میں یہ ایران کے لیے اور ان شہید طالب علموں کے لیے اور میناب کے اسکول کو دوبارہ بنانے کے لیے دے رہی ہوں۔"

کشمیر میں ان دنوں کا بار بار دہرایا جانے والا منظر وہ لمحہ ہے جب چھوٹی چھوٹی بچیاں خاموشی سے اپنے کانوں کی طرف ہاتھ لے جاتی ہیں، اپنی بالیاں اتارتی ہیں اور ایک پراعتماد اور بے لوث نگاہ کے ساتھ انھیں ایران کے لیے عطیہ کر دیتی ہیں۔ محمد شفیع کے الفاظ میں: گویا ان لڑکیوں کے کانوں کی اصل زینت ان کی آزادی اور حریت پسندی ہے۔

Video file

اسی لیے اگر آپ سوشل میڈیا کے پیجز دیکھیں تو آپ کو ایسی درجنوں ویڈیوز ملیں گی جن میں کم عمر لڑکیاں یا تو اپنی بالیاں عطیہ کرنے لائی ہیں یا اپنے غلک توڑ کر اپنی چھوٹی چھوٹی مٹھیوں میں مڑے تڑے نوٹ اور سکے پیش کر رہی ہیں۔

شاید سبھی لوگ جانتے ہوں گے کہ ہر چھوٹے غلک کے پیچھے بچپن کی خواہشات کی ایک دنیا چھپی ہوتی ہے، وہ غلک جو مہینوں چھوٹے سکوں اور نوٹوں سے بھری گئی تھی اور جسے کسی دن نئی سائیکل، خوبصورت گڑیا یا پریوں جیسے کسی لباس پر خرچ ہونا تھا۔

شاید آپ خود سے پوچھیں کہ یہ اتنی سخاوت کس لیے ہے؟ خواتین، لڑکیاں اور یہاں تک کہ بچے اس سودے میں اپنے سب سے قیمتی اثاثوں کے بدلے کیا چاہتے ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جو میں نے محمد شفیع سے پوچھا تاہم انھوں نے اپنی طرف سے جواب دینے کے بجائے مجھے ایک ویڈیو بھیجی جس میں ایک بچی اپنا سونا عطیہ کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہے اور کہتی ہے: "ہماری واحد خواہش یہ ہے کہ بس ایران فتح یاب ہو۔"

Video file

آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے لیے یہ صرف ایک مالی مدد نہیں ہے، یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کا مطلب کبھی زندگی کی قیمتی ترین یادگاروں سے دل مارنا ہوتا ہے۔ اس ضعیف خاتون کی طرح جو اپنا سونا ایک رومال میں لپیٹ کر لائی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: "میرے شوہر کے انتقال کو اٹھائیس سال گزر چکے ہیں۔ یہ سونا ان کی نشانی ہے اور میں نے ان تمام برسوں میں اسے چھوا تک نہیں تھا لیکن آج میں اسے ایران کے لیے عطیہ کرنے لائی ہوں۔"

Video file

یا اس دادی کی طرح جو اپنی بچت کے پرانے اور مڑے تڑے نوٹ مٹھی میں دبائے ہوئے ہیں۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ ایسا کیوں کر رہی ہیں تو وہ پختہ یقین کے ساتھ کہتی ہیں: "اگر ایران کے لیے ضرورت پڑی تو میں اپنا گھر اور یہاں تک کہ اپنا خاندان بھی دینے کو تیار ہوں، میں یہ سب قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔"

Video file

میری داستان دوبارہ محمد شفیع کے اسی پہلے جملے کی طرف لوٹتی ہے: "کشمیر میں بہت کم خواتین کے پاس سونا ہے۔ عام طور پر کچھ لوگوں کے گھروں میں جو واحد قیمتی چیز ملتی ہے، وہ یہی تانبے کے برتن ہیں جو وہ روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ اسی لیے بچوں کی غلکوں اور خواتین کے سونے کے درمیان تانبے کے بہت سے برتن بھی نظر آتے ہیں، وہ برتن جو ایران کے لیے کشمیر کی خواتین کا تحفہ ہیں۔"

پھر وہ مجھے ایک خاتون کی تصویر بھیجتے ہیں، ایک ایسی خاتون جو اپنے دوپٹے کے گوشے سے اپنے آنسو پونچھ رہی ہیں، حسرت کے آنسو۔ وہ کہتی ہیں: "اگر میرے پاس سونا ہوتا تو میں وہ بھی عطیہ کر دیتی، لیکن میرے پاس صرف یہی تانبے کے برتن ہیں جن میں ہم چائے بناتے ہیں اور ناشتہ کرتے ہیں۔"

Video file

حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کی خواتین کے پاس جو کچھ تھا، انھوں نے بے جھجھک پیش کر دیا، اپنا پورا اثاثہ۔ شاید دنیا کی مادہ پرست نظروں میں ان کے اس کام کی کوئی واضح منطق یا جواز نہ ہو لیکن دنیا کے کونے کونے میں یہی گمنام لوگ، جنھیں بڑے سرمایہ دار شاید کمزور اور بے بس سمجھتے ہیں، ایک دن سامراج کی جڑیں کاٹ دیں گے۔

یہ سادہ اور سخی انسان ہی ہیں جو اپنے بڑے دلوں کے ساتھ دنیا کو گلستاں میں بدل دیتے ہیں اور اس کے بہترین ثبوت یہی کشمیری عوام ہیں۔

تحریر: زینب نادعلی، اخبار نویس

30 مارچ 2026