رہبر شہید کے بارے میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی یادیں
وہ شخص جس نے ہمیشہ سادگی بھری زندگي گزاری اور سامراج کی بنیادوں کو ہلا دیا
جو چیز آپ کی نظروں کے سامنے ہے وہ رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای دام ظلہ کا اب تک کا واحد انٹرویو ہے۔ وہ ہمیشہ میڈیا میں آنے اور کسی بھی طرح کے انٹرویو سے پرہیز کرتے رہے ہیں۔ اس غیر معمولی انٹرویو میں، جو آيت للہ سید جواد خامنہ ای رحمت اللہ علیہ کے علمی اور معنوی مقام کو خراج عقیدت پیش کرنے کے موقع پر انجام پایا، وہ صرف اپنے مرحوم دادا کے حق کی ادائیگی کے لیے یہ انٹرویو دینے کو تیار ہوئے۔ سنہ 2021 کے اوائل میں انجام پانے والے اس انٹرویو میں انھوں نے مرحوم آيت اللہ سید جواد خامنہ ای کے بارے میں گفتگو کرنے کے دوران رہبر شہید انقلاب کے بارے میں بھی بہت سی دلچسپ باتیں بیان کیں۔ کئی گھنٹوں کے اس انٹرویو کے بعض حصے KHAMENEI.IR کے قارئین کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔
سوال: آپ کے چچاؤں اور بھائيوں نے اپنی باتوں میں جس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ آیت اللہ خامنہ ای سے مرحوم آيت اللہ سید جواد کی خاص محبت ہے، کیا آپ کے ذہن میں بھی اس سلسلے میں کوئی بات ہے؟
جواب: آقا کا اپنے والد سے بہت قریبی اور جذباتی رشتہ تھا۔ البتہ عام طور پر باپ بیٹے کا رشتہ قریبی اور جذباتی ہوتا ہے تاہم جیسا کہ آپ نے کہا، ایسا لگتا ہے کہ دادا مرحوم کا میرے والد سے جو رشتہ تھا وہ صرف ایک جذباتی رشتہ نہیں تھا بلکہ اس سے بڑھ کر تھا۔ شاید اس کی اہم وجہ وہ کام تھے جو والد نے انجام دیے تھے اور مروجہ اصطلاح میں دادا کی نظروں میں شاندار کارنامہ کیا تھا۔ فرض کیجیے کہ بہت کمسنی میں ہی ان کے دو شاگرد تھے جو عمر میں کافی بڑے تھے اور آ کر ان سے درس پڑھا کرتے تھے اور غالبا انھی میں سے ایک نے انھیں دعوت دی تھی کہ وہ ایک زنانہ مجلس میں مسائل بیان کریں۔ اس زمانے میں مجالس میں، مسائل بیان کرنے والا کوئی شخص بھی آتا تھا اور ان کتابوں سے، جو سوال اور جواب کی صورت میں ہوتی تھیں، مسائل بیان کیا کرتا تھا۔ اس وقت تک توضیح المسائل موجود شکل میں شائع نہیں ہوئی تھی۔ اس طرح کی توضیح المسائل غالبا آقا بروجردی کے زمانے سے شائع ہونا شروع ہوئی ہیں۔ خود میرے پاس بھی میرے نانا کی کتابوں میں سے، سوال اور جواب کی دو کتابیں تھیں۔ وہ تاجر تھے اور ان کے پاس اس طرح کی کتابیں تھیں۔ ایک مرحوم آقا سید ابو الحسن کی اور دوسری آقا شیخ عبدالکریم حائری کی۔ والد نے دادا سے سوال اور جواب کی ان ہی کتابوں میں سے ایک لی اور دادا نے انھیں اچھی طرح سمجھایا اور پھر والد نے وہ کام بخوبی انجام دیا۔ اس وقت میرے والد کی عمر قریب بارہ تیرہ سال تھی۔ تو اس طرح کی چیزوں نے فطری طور پر دادا مرحوم کے ذہن پر اثر ڈالا تھا۔
دوسری بات، اسی کمسنی میں والد کے نمایاں علمی پہلو سے متعلق ہے۔ فطری طور پر والد کی علمی صلاحیت نے دادا مرحوم کے دل پر اثر ڈالا تھا۔ بظاہر جب دادا مرحوم شرح لمعہ کا درس دیا کرتے تھے اور انھوں نے والد کی درسی حاضر جواب کو دیکھا تھا تو کہا تھا کہ علی آقا مجتہد ہیں۔ البتہ اس عمر میں اس طرح کا جملہ اجتہاد کے رائج مطلب کی تصدیق کے معنی میں نہیں تھا کیونکہ والد نے بہرحال برسوں تک زحمتیں اٹھائيں اور بہت سے بزرگوں کے دروس میں شرکت کی۔ یہ جملہ در حقیقت تعریف و تمجید کے معنی میں تھا جو دادا مرحوم نے والد کی علمی صلاحیت کے بارے میں کہا تھا اور ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر والد اسی طرح آگے بڑھتے رہے تو بہت کم وقت میں اجتہاد کی منزل پر پہنچ جائيں گے۔
اس کے علاوہ وہ اپنے والد کی پوری طرح سے اطاعت کرتے تھے اور دادا کے امام رضا علیہ السلام کے روضے میں جانے جیسے امور میں ان کی ہمراہی کرتے تھے۔ جب دادا مرحوم حرم کی زیارت کے لیے جاتے تھے تو والد بھی کمسنی میں ہی ان کے ساتھ جایا کرتے تھے۔ راستے میں بعض لوگ دادا مرحوم کو سلام کرتے اور حال چال پوچھا کرتے تھے اور وہ نافلہ یا کسی ذکر میں مصروف ہوتے تو میرے والد لوگوں کے سلام کا جواب دیا کرتے تھے۔ دادا مرحوم نوافل اور مستحبات کی بڑی سختی سے پابندی کیا کرتے تھے۔ والد بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے والد کے ساتھ زیارتوں کے دوران جامعہ کبیرہ اتنی پڑھی تھی کہ انھیں خود بھی ازبر ہو گئی تھی۔
بہرحال میرے والد کو اپنے بھائی بہنوں کی نسبت والد کی خدمت کا زیادہ موقع حاصل ہوا۔ مثال کے طور پر وہ (شادی کے بعد) ہر دن اپنے والد کے گھر جانے کے پابند تھے۔ وہ ان کے ساتھ باتیں کیا کرتے تھے، ان کے لیے کتابیں پڑھا کرتے تھے اور آپس میں بحث و گفتگو کرتے تھے۔ چونکہ دونوں ہی عالم دین تھے اس لیے ان کے درمیان ہم زبانی زیادہ تھی اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جذباتی رشتے کے علاوہ ان کے درمیان اس طرح کا ایک ماحول بھی موجود تھا۔
اپنے صدارتی دور کا ایک واقعہ خود والد ہمیں سناتے تھے۔ ان کی عادت تھی کہ وہ ہر کچھ دن بعد اپنے والدین سے ٹیلی فون پر بات کیا کرتے تھے اور ان کی خیریت دریافت کرتے تھے۔ ایک دن انھوں نے کچھ منٹ ان لوگوں سے بات کی اور پھر خدا حافظ کہا۔ دادا مرحوم نے بھی خدا حافظ کہا۔ اس کے بعد یہ سوچ کر کہ والد نے فون رکھ دیا ہے، بہت دھیمی آواز میں، جیسے خود سے بات کر رہے ہوں، اسی میٹھے ترکی لہجے میں کہا: "علی میں تم پر قربان۔" دادا نے یہ سوچ کر کہ والد نے فون رکھ دیا ہے، یہ جملہ کہا تھا لیکن والد نے ابھی فون نہیں رکھا تھا اور انھوں نے یہ جملہ سن لیا تھا۔
کل ملا کر اس طرح کی حالت، باپ بیٹے کے رشتے سے ہٹ کر متعدد اثرات کا سبب بنتی ہے۔ یہ ساری چیزیں ان کے جذباتی رشتے پر بھی اثر انداز ہوئی ہیں۔ البتہ سب سے اہم چیز، دادا مرحوم کی نابینائی کا مشہور واقعہ ہے جب والد نے اپنے والد کی وجہ سے قم میں اپنی تعلیم کو چھوڑ دیا اور مشہد آ گئے۔ یقینی طور پر اس کا بھی والد اور دادا کے جذباتی رشتے پر کافی اثر پڑا۔ سنہ 1960 کے عشرے کے اوائل میں ہمارے دادا کو سفید اور کالے موتیے کا عارضہ لاحق ہو گیا تھا جو خطرناک تھا اور کسی ایک شخص کا ان کے ساتھ رہنا ضروری تھا جو ان کی مدد کرے اور ان کے امور کی دیکھ بھال کرے۔ ہمارے محمد چچا کی اسی وقت شادی ہوئی تھی اور وہ چچی کے ساتھ اپنے گھر میں رہنے لگے تھے۔ ہماری پھوپھی بھی جو چچا ہادی سے بڑی تھیں، اس وقت کم سن تھیں۔ چھوٹے بیٹے جیسے چچا ہادی کی عمر بھی کم تھی۔ بنابریں فطری طور پر جو شخص سب سے پہلے یہ کام کر سکتا تھا، وہ میرے والد تھے۔ تاہم اس زمانے میں وہ قم میں تھے اور علمی اور مذہبی تعلیم کے لحاظ سے ان کی پوزیشن بہت اچھی تھی اور وہ اپنے درس بہت سنجیدگي سے پڑھ رہے تھے۔ وہ اس سے پہلے قم میں آقائے بروجردی کے دروس سمیت مختلف دروس میں شرکت کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ آقائے بروجردی کے درس میں انھوں نے جو نوٹس لکھے تھے انھیں سب سے بہتر نوٹس کے طور پر منتخب کیا گيا تھا اور ان کی بڑی تعریف و تمجید بھی ہوئی تھی۔ والد، مرحوم امام خمینی اور مرحوم آقائے داماد کے درس میں بھی شرکت کرتے تھے اور انھیں بہت پسند بھی کرتے تھے۔ امام خمینی کے درس میں بہت بھیڑ ہوا کرتی تھی اور والد اس درس کو بہت پسند کرتے تھے۔ آقائے داماد کے درس میں بہت بھیڑ نہیں ہوتی تھی لیکن وہ بہت عمیق درس ہوتا تھا۔ مرحوم آقا مرتضی حائری کے درس میں بھی بہت کم لوگ آتے تھے اور ایک وقت تو ایسا بھی تھا کہ اس میں صرف والد محترم شریک ہوتے تھے یعنی وہ صرف ایک آدمی کا درس ہوتا تھا۔ مرحوم آقائے حائری بھی والد کو چاہتے تھے۔ وہ والد سے اپنے علاقے کے سبب اپنی تحریریں انھیں دیتے تھے اور وہ ان سے استفادہ کرتے تھے۔ جب والد نے مشہد واپس لوٹنے کا ارادہ کیا تو مرحوم آقائے مرتضی حائری سمیت ان کے بعض اساتذہ، اس بات سے راضی نہیں تھے البتہ وہ قم کے بعض فضلاء سے ان کی تعریف میں کہتے تھے کہ فلاں (والد محترم) یا تو پورے ایران کا سربراہ بنے گا یا خراسان کا سربراہ بنے گا اور سربراہ سے ان کی مراد، مرجعیت تھی۔ یہ باتیں، قم میں والد کی علمی پیشرفت کی نشاندہی کرتی تھیں اور اسی لیے تذبذب کا شکار تھے کہ کیا کریں۔ دوسری طرف ان کے والد کی صورتحال تھی اور وہ اس سلسلے میں ذمہ داری محسوس کر رہے تھے۔ انہی ایام میں والد ایک دن تہران آئے اور شیخ محمد تقی آملی کے فرزند مرحوم آقا ضیاء آملی کے گھر گئے جن سے ان کا رابطہ اور دوستی تھی۔ والد نے ان سے کہا کہ میں جتنا بھی سوچتا ہوں، مجھے یہی لگتا ہے کہ میری دنیا و آخرت قم میں ہے لیکن دوسری طرف میرے والد کی حالت ایسی ہے۔ مرحوم آقا ضیاء نے کہا کہ اگر خدا چاہے تو آپ کی دنیا و آخرت، مشہد میں ہی سنوار دے گا۔ والد کہتے تھے کہ جیسے ہی انھوں نے یہ جملہ کہا میں نے سوچا کہ ارے! میں تو خود ہی یہ بات جانتا تھا لیکن میری توجہ اس طرف کیوں نہیں گئی! لہذا انھوں نے بڑی آسانی سے وہیں سے مشہد لوٹنے کا فیصلہ کر لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد والد پر ایک ایک کر کے سارے دروازے کھلنے لگے، درس دینے کے لحاظ سے، مسجد اور منبر کے لحاظ سے وغیرہ وغیرہ۔
سوال: تو کیا یہ واقعہ تھا جس کے بعد آقا کی تبلیغی سرگرمیاں مشہد کے مساجد میں عروج کو پہنچیں؟
جواب: جی ہاں، جہاں تک مجھے یاد ہے، آقا دو مساجد میں سرگرم تھے؛ ایک مسجد کرامت تھی جو مرکزی حیثیت رکھتی تھی، اور دوسری مسجد امام حسن (علیہ السلام) تھی جس کی بعد میں مزید توسیع کی گئی۔ مسجد امام حسن (علیہ السلام) ان ابتدائی تحریکوں کا مرکز تھی، جہاں طلبہ اور علماء کی مخالفت کے اجتماعات ہوتے تھے۔ ایک منظر جو مجھے اکثر یاد آتا ہے، وہ یہ تھا کہ آقا خطبہ دے رہے تھے اور بہت سے لوگ ریکارڈرز لے کر کھڑے تھے تاکہ آقا کی آواز ریکارڈ کر سکیں۔ تقریر کے بعد لوگ ان کے گرد جمع ہو جاتے تھے اور ماحول کافی ہنگامہ خیز ہو جاتا تھا۔
سوال: یعنی آقا کا مشہد واپس آنا اور اپنے والد کے ساتھ جڑنا ہی ان کی کامیابیوں کا سبب بنا؟
جواب: یقیناً، یہ خدمات رایگاں نہیں رہتیں، اور جیسے آقا نے اپنے والد کے ساتھ کیا، وہ فطری طور پر ان کی زندگی میں اثر ڈالتا ہے۔ اگر آقا کی اس طرف توجہ نہ ہوتی تب بھی یہ عمل ہمیشہ کے لیے حضرت کی زندگی میں نمایاں رہتا، ویسے ان کی توجہ تھی۔ ایسے اثرات کا ہر فرد پر مختلف اثر پڑ سکتا ہے، مثلاً ہمارے چچا حسن جب باقی سب لوگ تہران آ رہے تھے، تو وہ اپنے والدین کے ساتھ مشہد میں ہی رہ گئے تھے۔ خود ان کا کہنا تھا کہ والدین کی خدمت خدمت کا اثر یہ ہوا کہ میری زندگی بہت پرسکون اور آرام دہ ہو گئی۔
سوال: مرحوم آیت اللہ سید جواد خامنہ ای سے رہبر معظم انقلاب کے علمی تعلقات کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ والد کے ساتھ ان کے علمی روابط کے بارے میں کچھ بتائیں؟
جواب: ظاہر ہے، ابتدا میں مرحوم، ہمارے چچا آقا سید محمد آقا کو پڑھاتے تھے اور میرے والد کو کم سطح کا درس دیتے تھے، جو کچھ عرصے بعد ایک جیسے ہو گئے اور دونوں نے ایک ساتھ شرح لمعہ کا مطالعہ شروع کیا۔
میرے والد بتاتے تھے کہ ایک وقت ایسا آیا جب وہ آیت اللہ میلانی کے درس سے واپس آتے تھے اور مرحوم آقا بھی نماز کے بعد واپس آ رہے ہوتے تھے، تو ہم راستے میں مل جاتے تھے۔ مرحوم آقا مجھ سے پوچھتے کہ آیت اللہ میلانی نے آج درس میں کیا کہا؟ میں ان کو آیت اللہ میلانی کا درس سنا دیتا اور وہ اس میں کچھ مزید نکات بتاتے۔ یہ عمل اس لیے مفید ہوتا تھا کہ اس سے میرے والد کو ایک سنجیدہ علمی مکالمہ ملتا اور وہ نئے نکات سیکھتے، جس سے ان کی علمی صلاحیت میں اضافہ ہوتا۔
کبھی کبھی آقا بھی اپنے والد کے ساتھ علمی بحثوں میں شریک ہوتے تھے، جیسے ایک مرتبہ وہ اپنے والد کے ساتھ آقاسید ہاشم کے گھر گئے، جہاں ایک علمی بحث شروع ہوئی اور میرے والد نے اس پر تبادلہ خیال کیا۔ جب وہ واپس نکلے، تو مرحوم آقا نے میرے والد سے کہا کہ آپ نے کیوں اس طرح بحث کی؟ وہ اس بات کا ذکر نہیں کر رہے تھے کہ میرے والد کی رائے غلط تھی، بلکہ وہ اس بات پر توجہ دلا رہے تھے کہ میرے والد نے کس انداز میں آقاسید ہاشم کے ساتھ بات کی۔ ایک بار میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ چونکہ آقاسید ہاشم آیت اللہ نائینی کے شاگرد تھے اور مرحوم آقا بھی ان کے شاگرد تھے، کیا آپ نے کبھی ان دونوں کی علمی سطح کا موازنہ کیا؟ میرے والد نے بتایا کہ کچھ لوگ کہتے تھے کہ مرحوم آقا، آقاسید ہاشم سے علمی طور پر بہتر ہیں۔ اگرچہ آقاسید ہاشم مرحوم آیت اللہ حکیم کے ہم عمر تھے اور انہیں بھی نجم سے درس حاصل تھا۔
ایک مرتبہ آقا نے اپنے والد کے بارے میں کہا کہ مرحوم آقا آخر تک فقہ کی تعلیم پر بہت توجہ دیتے تھے اور ان کی ایک خاص خوبی یہ تھی کہ وہ اپنی غلطی کو تسلیم کر لیتے تھے، جیسے جب وہ کفایہ پڑھاتے تھے تو کبھی کبھار کہہ دیتے کہ میں نے یہاں غلط کہا۔ اس طرح کا عمل بہت کم لوگ کرتے ہیں، کیونکہ اس سے ان کی عزت میں کمی آتی ہے اور عموماً لوگ اپنی غلطیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سوال: میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جو زیادہ تجزیاتی ہے۔ آپ کے بیان کردہ موضوعات کے مطابق، آپ کے خیال میں آقا اپنے والد سے کس خصوصیت میں متاثر ہیں؟
جواب: اس سوال کا جواب دینا کچھ مشکل ہے، لیکن غالباً آقا کی نفل کی عبادات اور ان جیسی دیگر چیزیں ان کے والد کی دین ہیں۔
سوال: اگر میں سوال کو مزید وضاحت سے پوچھوں، تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان دونوں میں کون سی مشابہتیں ہیں؟
جواب: ایک اہم مشابہت شاید آقا کا زہد ہو۔ اس کی وضاحت ضروری ہے کہ دادا زاہد بھی تھے اور فقیر بھی، لیکن یہ فقیر ہونا مرحوم دادا کی محتاجی کا نتیجہ نہیں تھا۔ آقا کا زہد بھی بہت پختہ ہے، اور وہ اس دنیا سے بے تعلق ہو چکے ہیں۔
زہد ایک انتخاب ہے۔ وہ معمول کے مطابق مالی طور پر کوئی تنخواہ نہیں لیتے، یعنی بالکل بھی تنخواہ نہیں لیتے۔ ایک بار مجھے یاد ہے کہ میں نے کسی کام کے لئے دفتر کو اپنی طرف سے کچھ رقم دینے کا سوچا تھا، تو دفتر کے ایک بھائی نے کہا کہ آقا نے حال ہی میں اپنے ذاتی امور کے لیے یہ رقم دی تھی؛ لیکن وہ بیت المال سے کچھ نہیں لیتے، بلکہ یہ رقم وہی ہے جو لوگ نذر کی صورت میں آقا کے لیے دیتے ہیں۔
نذر کے علاوہ، وہ ہدایا بھی جو لوگ محبت اور عقیدت سے حضرت کو دیتے ہیں، اسی طرح سے ہیں۔ مثلاً تقریباً تیس سال پہلے یمن کے بھائیوں نے آقا کے لیے ایک بڑا ہلکا سا برتن، جس میں یمنی عقیق کے نگینے تھے، تحفے میں دیا تھا۔ ساتھ ہی کچھ خاص نگینوں والے چند ڈبے بھی لائے تھے، اور جو لوگ عقیق کی قیمت جانتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ان کی قیمت بہت زیادہ تھی۔ آقا نے وہ سب دوسروں کو دے دیے۔ یا ایک مرتبہ کسی نے آقا کے لیے ایک بہت نرم اور قیمتی عبا بھیجی تھی، آقا نے وہ عبا بیچنے کے لیے دی، اور اس کے پیسوں سے مزید عبائیں خرید کر مختلف لوگوں کو تحفے میں دے دیں۔ مادی چیزوں کی آقا کے لیے کوئی اہمیت نہیں رہی۔ حالانکہ ان کے پاس مالی راستے بہت زیادہ ہیں اور وہ مختلف شرعی طریقوں سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں، مگر وہ کبھی بھی ان کا استعمال نہیں کرتے۔
میرے والد اکثر وہ قیمتی تحائف جو لوگ انہیں دیتے ہیں، آستانہ قدس رضوی کو دے دیتے ہیں۔ آقا کو بہت ساری خطی کتابیں تحفے میں دی جاتی ہیں، اور وہ اکثر انہیں آستانہ قدس کو سونپ دیتے ہیں۔ ایک بار ایک بزرگ اور معاصر خطاط نے آقا کے لیے حافظ کا دیوان شکستہ نستعلیق میں لکھ کر بھیجا تھا، جو بہت خوبصورت تھا۔ میں نے ارادہ کیا تھا کہ اسے کسی کو دکھاؤں، لیکن پھر وہ غائب ہو گیا۔ آخر میں یہ معلوم ہوا کہ آقا نے اسے بھی آستانہ قدس کے حوالے کر دیا تھا، جیسا کہ وہ ہمیشہ اچھے اور خوبصورت تحائف وہاں دیتے ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ بات بتاتا ہوں۔ بچپن میں مجھے "فقیر" لفظ سے نفرت تھی۔ میں بچہ تھا اور میرے ذہن میں فقیر وہ شخص تھا جو سڑک کنارے بیٹھا گداگری کرتا ہے۔ اُس وقت انقلاب ابھی نہیں آیا تھا اور میں دوسری جماعت میں پڑھتا تھا، اور ہم مشہد میں رہتے تھے، اسی گھر میں جو ابھی تک موجود ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اسی گھر کے ایک کونے میں کچھ اناج اور تیل کے پیکٹ پڑے ہوئے تھے۔ ہم، یعنی ہم تین بہن بھائی اور والدین، بیٹھے تھے اور بات کر رہے تھے کہ آقا نے درمیان میں کہا، "میں اس بات پر فخر کرتا ہوں کہ میں فقیر ہوں!" جب آقا نے یہ کہا تو اس کا اتنا اثر ہوا کہ میرے ذہن میں فقیر کی تصویر ہی بدل گئی، اور آج تک یہی خیال برقرار ہے۔ یہ کسی حد تک ان کی دنیا سے بے تعلقی اور ترک دنیا کی علامت تھی۔
سوال: رہبر معظم نے انقلاب کی کامیابی کے اوائل میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ چونکہ میں نہیں چاہتا کہ "غربت کی نمائش" ہو، اس لیے میں اپنی زندگی کے واقعات نہیں سناؤں گا اور وہ یہ کہہ کر گزر جاتے ہیں۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس بارے میں کچھ وضاحت فرمائیں؟
جواب: وہ بالکل اجازت نہیں دیتے کہ ان کی زندگی زرق برق کا شکار ہو جائے۔ جیسے ان کے گھر کا سامان بہت سادہ ہے۔ فرض کریں ان کے گھر کا گیس کا چولہا وہی پرانا تین برنر والا میز پر رکھنے والا چولہا ہے، جس کے لیے میں نے کئی بار والدہ سے درخواست کی کہ اسے بدل دیں۔ والدہ بھی اس معاملے میں واقعی والد سے کم نہیں ہیں۔ ان کا چولہا اب بھی وہی پرانا تین برنر والا ہے جسے وہ میز پر رکھتے ہیں! والدہ نے ہمارے بہت اصرار کے باوجود آخر کار قبول نہیں کیا اور کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔
کچھ سال پہلے تک والد کے گھر کا ٹیلی ویژن وہی پرانے ماڈل کا تھا۔ ایک ریسیور ڈیوائس اس وقت کی قیمت کے مطابق قریب پچاس ہزار تومان میں خریدی گئی اور میں اسے ٹیلی ویژن سے جوڑنے کے لیے آیا۔ آقا نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ یہ ٹیلی ویژن اتنا پرانا ہے کہ اس میں اس ڈیوائس کا پلگ لگانے کی جگہ ہی نہیں ہے۔ ہمارا اپنا ٹیلی ویژن بھی پرانا ہے لیکن اس میں پلگ لگانے کی جگہ ہے۔ ہم نے یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ یہ ٹی وی اتنا پرانا ہوگا کہ اس میں ریسیور کے ان پٹ پلگ کی جگہ ہی نہیں ہوگی۔ اس کے بعد وہ ٹیلی ویژن واقعی استعمال کے قابل نہ رہا اور چند برس بعد وہی عام ٹیلی ویژن، جو آج کل عام ہیں اور کئی چینل دکھاتا ہے، آقا کے گھر آیا۔
ایک اور مثال یہ ہے کہ آقا 2001 سے کمر درد کی وجہ سے ڈاکٹر کے مشورے پر کرسی پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ انھیں دو نمازوں کے درمیان بھی کرسی پر بیٹھنا پڑتا ہے اور زمین پر قریب قریب نہیں بیٹھتے اور والدہ کو بھی کمر درد کا مسئلہ ہے تاہم آقا کے گھر میں جو کرسی اور میز ہے، وہ پلاسٹک کی ہے، بالکل ان دکانوں کی طرح جو بغیر کسی اضافی خرچ کے، لکڑی یا لوہے کی کرسی نہیں خریدنا چاہتیں لیکن کرسی رکھنا بھی چاہتی ہیں۔ انھوں نے اسی طرح کی کچھ پلاسٹک کی کرسیاں خریدی ہیں اور گھر کے پچھلے کمرے کے ایک کونے میں ایک دوسرے کے اوپر رکھی ہوئی ہیں، جو مہمانوں کے لیے ضرورت کے وقت کمرے میں لگا دی جاتی ہیں۔
ایسے ہی پرانے سامانوں میں آقا کے پلنگ کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ جس پلنگ پر اس وقت وہ سوتے ہیں، وہ وہی پلنگ ہے جس پر وہ 1981 سے، یعنی قاتلانہ حملے، زخم اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تکلیف کے وقت سے سوتے رہے ہیں اور اب اسے استعمال کرتے ہوئے چالیس سال ہو چکے ہیں۔ اگر کوئی شخص قلم اور کاغذ اٹھائے تو شاید وہ ایسی پندرہ سے زیادہ پرانی چیزوں کی فہرست بنا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں والدہ کا بھی بہت مؤثر کردار رہا ہے۔ وہ بھی ان تمام برسوں میں آقا کے ساتھ ساتھ رہی ہیں۔
سوال: زہد کی اس خصوصیت کے علاوہ حضرت آقا اور ان کے والدین کے درمیان اور کیا مماثلتیں پائی جاتی ہیں؟
جواب: میرے والد، سیاسی فہم، وسیع تجربات اور تفصیلات پر گہری نظر کے ساتھ ہی ایک خاص صدق و صفا اور اپنائیت بھی رکھتے ہیں۔ آج انقلاب کو 42 سال گزر چکے ہیں اور شاید انقلاب سے 15 سال پہلے یا اسسے بھی زیادہ عرصے سے یہ جدوجہد جاری تھی، جس کے نتیجے میں ان کے پاس مختلف تجربات اور بصیرتیں ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں ایک خاص صدق و صفا ہے۔ صفا کا مطلب ہے سچائی۔ یہ شاید ان دو بزرگ ہستیوں یعنی دادا دادای کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ بھی اسی صدق و صفا کے حامل تھے۔ اس صدق و صفا کی ایک جھلک، صاف گوئی ہے۔
میں نے صاف گوئی کی یہ کیفیت دادی میں دیکھی ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی غیبت کرتا، تو وہ صاف طور پر اس سے کہتیں کہ غیبت نہ کریں یا اس کی بات کاٹ دیتیں۔ مجھے یاد ہے جب میں بچہ تھا تو ان کے، والدہ اور کچھ دوسروں کے ساتھ احمد آباد اسٹریٹ کی ابتدا میں ایک مجلس میں جاتا تھا۔ وہاں گھر والوں یا مہمانوں کی کچھ بچیاں بے پردہ تھیں۔ دادی نے وہیں ان بچیوں میں سے ایک ایک سے نرم لہجے میں "بیٹی" وغیرہ کہہ کر بات شروع کی اور انھوں نے وہیں چادر اوڑھ لی۔ جبکہ نہ تو دادی مرحومہ کسی صاحبِ اقتدار شخصیت سے وابستہ تھیں اور نہ ہی ان کے پاس اس طرح کی کوئی اور پشت پناہی تھی۔
ایک اور مثال یہ ہے کہ جب دادی تہران آتی تھیں اور کچھ اہم شخصیات کی خواتین کو پتہ چلتا تھا تو وہ ہماری والدہ کے ذریعے انھیں خواتین کی مہمانی میں دعوت دیتی تھیں۔ ان محفلوں میں سے ایک میں، جو ایک اہم شخصیت کے گھر پر تھی، عصرانے کے لیے کئی طرح کے کھانے تیار کیے گئے تھے۔ لیکن یہ چیزیں ہماری تہذیب اور خاص طور پر دادی مرحومہ کی نظر میں بہت زیادہ تھیں، چنانچہ انھوں نے محفل کے بعد گھر کی خاتون کو الگ بلا کر ٹوکا کہ آپ نے بہت اسراف کیا ہے اور آپ کیوں اسراف کرتی ہیں؟ دادی 'امر بالمعروف اور نہی عن المنکر' کے معاملے میں بہت دو ٹوک بات کرتی تھیں اور یہی صاف گوئی میرے والد میں بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر جب والد ایران شہر میں جلاوطن تھے تو ایک بار ہم ان سے ملنے گئے تھے۔ میں پرائمری اسکول کی تیسری جماعت میں تھا۔ رمضان کا مہینہ تھا اور موسم بھی کافی گرم تھا۔ میں کتاب پڑھنا چاہتا تھا لیکن میرے پاس کوئی کتاب نہیں تھی۔ ان کے پاس اس وقت شہر کی تین لائبریریوں کی چابیاں تھیں۔ ہم ساتھ گئے تاکہ کتاب کا انتخاب کریں۔ راستے میں ہم نے ایک نوجوان کو دیکھا جو سر عام سینڈوچ کھا رہا تھا۔ والد نے وہیں اسے ٹوکا۔ اب آپ تصور کیجیے کہ وہ اس شہر میں جلاوطن تھے لیکن پھر بھی برائی سے روکنے سے باز نہیں آئے تھے۔
سوال: رہبر انقلاب کی کتابوں اور کتاب خوانی سے شدید محبت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا یہ بھی ایک موروثی خصوصیت ہے؟
جواب: جی ہاں، آقا کے والد اور والدہ دونوں ہی مطالعے کے شوقین تھے۔ ان کے والد کا تو خیر ظاہر ہے (کہ وہ عالم دین تھے)، ان کی والدہ بھی مطالعے کی شوقین تھیں اور یہاں تک کہ میرا خیال ہے میں نے خود دادی سے سنا تھا کہ "مجھے آقا (یعنی ہمارے دادا) سے زیادہ حدیثیں آتی ہیں"۔ شاید ان کا مطلب مختلف مسائل پر عبور تھا اور یہ کہ مثال کے طور مرحوم دادا فقہ جانتے ہیں اور وہ حدیث جانتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود، میرے خیال میں کتاب اور مطالعے سے یہ لگاؤ جس حد تک والد میں ہے، اسے ان کی اپنی ذاتی صفت کہا جا سکتا ہے۔
آپ کے لیے یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ والد جب 12-13 سال کے تھے، تو کبھی کبھی ان دکانوں پر جاتے تھے جہاں پرانی اور بوسیدہ کتابیں ہوتی تھیں، وہاں ڈھونڈتے تھے اور ان میں سے وہ کتابیں منتخب کرتے تھے جو کام کی ہوتی تھیں۔ پھر وہ خود ان کی جلد بندی کرتے تھے اور مطالعے کے لیے رکھ لیتے تھے۔ میرے پاس اس وقت کی ایک کتاب "نصاب الصبیان" ہے جو اسی زمانے کی ہے اور والد نے خود اس کی جلد بندی کی ہے۔ کتاب نصاب الصبیان شاید پہلی درسی کتاب سمجھی جاتی ہے اور وہ میرے پاس والد کی خود جلد سازی کی ہوئی کتابوں میں موجود ہے۔ ایک بار میں نے دفتر کے ایک ملازم کو، جو کمرہ مرتب کرنے میں میری مدد کر رہا تھا، یہ بات بتائی کہ والد کے پاس کتابیں خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تھے اور وہ ان کتابوں میں سے جو سستی ہوتی تھیں، ان کتابوں کو اکٹھا کرتے تھے اور جلد سازی کرتے تھے۔ جب میں یہ سب بتا رہا تھا، تو وہ بہت متحیر ہو گیا تھا۔
اس لیے میرا خیال ہے کہ ان کے مطالعے کی عادت ان ساری باتوں سے بڑھ کر ہے۔ مثال کے طور پر سونے سے پہلے مطالعہ کرنا والد کے لیے ایک بالکل معمول کی بات ہے، سوائے اس کے کہ کوئی غیر معمولی صورتحال پیش آ جائے، ورنہ ان کا قاعدہ یہی ہے کہ وہ ہمیشہ کتاب اور مطالعے کے ساتھ ہی سوتے ہیں۔ ان کا مطالعہ کتابوں کے تنوع اور موضوعات کے لحاظ سے بھی بہت وسیع اور حیرت انگیز ہے۔ اگر کوئی انھیں ان کی جوانی کے زمانے میں بھی دیکھتا تو اس کے لیے یہ دلچسپ ہوتا اور ان کے بارے میں یہ رائے ان لوگوں کی طرف سے بھی دی گئی ہے جو اعلیٰ دینی تعلیمی مراکز سے وابستہ بھی نہیں تھے اور مثال کے طور پر ادب، شاعری یہاں تک کہ روشن خیالی کے موضوعات میں مہارت رکھتے تھے۔
سوال: آخری بار آپ نے اپنے دادا مرحوم کو کب دیکھا تھا اور آپ کو ان کی وفات کی خبر کیسے ملی؟
جواب: میں اپنے گھر والوں میں آخری شخص ہوں جس نے وفات سے پہلے دادا مرحوم کو دیکھا تھا۔ مرحومہ دادی کو بھی آخری بار میں نے ہی دیکھا تھا۔ یعنی اتفاق سے ایسا ہوا۔ میں دادا مرحوم کی وفات سے دو ہفتے پہلے، جولائی 1986 کے آغاز میں، محاذ جنگ پر ایک عجیب بیماری میں مبتلا ہو گیا کہ جو بھی مجھے دیکھتا، میرے انتہائی زرد اور نڈھال چہرے سے سمجھ جاتا کہ میں بہت بیمار ہوں اور میں خود بھی ان کے ردعمل سے سمجھ جاتا تھا کہ میری حالت بہت خراب ہے۔ میں کم ہی چھٹی لیا کرتا تھا، اس لیے خود کمانڈر نے کہا کہ تمھیں تہران واپس جانا چاہیے۔ رمضان کا مہینہ تھا اور میں کمانڈر کے مشورے سے چھٹی پر آ گیا۔ پہلے میں تہران آیا اور کچھ دن بعد دوستوں کے ساتھ مشہد چلا گیا۔ پہلے میں اپنی نانی کے گھر گیا اور اس کے بعد، دادا دادی کے گھر گیا۔ دادا مرحوم اور دادی مرحومہ بیماری اور بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے تھے، اس لیے انھوں نے دوپہر کا کھانا تیار کیا تھا۔ میں بھی مشہد میں مسافر تھا اور روزہ نہیں رکھ رہا تھا۔ دادی نے مجھ سے کہا کہ دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ ہی کھاؤ، آج دوپہر میں نے آقا کے لیے چاول اور گوشت بنایا ہے، تم بھی رک جاؤ۔ میں رک گیا اور تین لوگوں کا دسترخوان بچھایا گیا۔ مجھے اس دن کی جو چیزیں یاد ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ دادا مرحوم بار بار میری پلیٹ میں گوشت ڈالتے تھے اور کہتے تھے کہ کھاؤ۔ کھانے کے بعد دادی نے دادا سے کہا کہ مجتبیٰ محاذ پر جانا چاہتا ہے۔ ہم نے مرحوم آقا کو خداحافظ کہا اور وہ آرام کرنے کے لیے چلے گئے۔ دادی بھی عام طور پر دوپہر کو سوتی تھیں، میں نے بھی مطالعے کے لیے ایک کتاب اٹھا لی اور آرام کرنے کے بعد خداحافظی کی اور دوستوں کے ساتھ طے شدہ ملاقات کے لیے چلا گیا۔
تہران واپسی کے بعد میں کچھ دن تہران میں رہا اور چھٹی ختم ہونے پر دوبارہ علاقے (محاذ) کی طرف چلا گیا۔ جلد ہی آپریشن 'کربلا-1' شروع ہو گیا۔ آپریشن کے دوسرے مرحلے کے بعد، ایک رات جب ہم علاقے سے واپس محاذ کے پچھلے حصے کی طرف جا رہے تھے، مجھے دادا دادی کی یاد آئی۔ دنیا کی تمام باتوں کے درمیان، اچانک میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر منافقین دادا دادی کے گھر پہنچ گئے، جن کا کوئی محافظ نہیں ہے، اور انھیں کوئی نقصان پہنچائیں یا مثال کے طور پر انھیں اغوا کر لیں، تو پھر ہم کیا کریں گے؟! درحقیقت یہ خیالات غالباً اسی وقت میرے ذہن میں آ رہے تھے جب دادا مرحوم کا انتقال ہوا تھا۔ میں انہی خیالات میں غرق تھا کہ ہم اپنے خیموں تک پہنچ گئے۔ تھکن کی شدت سے میں کچھ نہ کر سکا اور سو گیا۔ اس علاقے میں ایک ندی تھی، جس کا نام غالباً 'گاوی' تھا اور وہ ایک چوڑی ندی تھی اور اس میں کم گہرا پانی بہتا تھا۔ صبح میں گیا اور ندی کے پانی میں بیٹھ گیا تاکہ سر اور جسم پر لگی مٹی صاف ہو جائے۔ باقی دستے بھی آہستہ آہستہ بیدار ہو رہے تھے اور کچھ لوگ میری طرح پانی میں آ کر بیٹھ رہے تھے تاکہ ان کے کپڑے صاف ہو جائیں اور کچھ لوگ دوسرے کاموں مثلاً ناشتے کی تیاری میں لگے ہوئے تھے۔ اسی اثنا میں خیموں کی طرف سے ایک شخص میری طرف آیا اور بغیر کسی تمہید کے کہا: "محمد جواد حسینی خامنہ ای تمھارے کیا لگتے ہیں؟" ہم، دادا کو محمد جواد کے نام سے بالکل نہیں جانتے تھے لیکن اس نے کہا محمد جواد! میں محمد جواد کے نام میں الجھا ہوا تھا اور میرا ذہن بالکل بھی دادا مرحوم کی طرف نہیں جا رہا تھا۔ اس نے دوبارہ کہا: "آیت اللہ سید محمد جواد حسینی خامنہ ای کون ہیں؟" میں نے کہا وہ میرے دادا ہیں، تو اس نے اچانک اور ایک دم کہا: "وہ فوت ہو گئے!" میں ابھی پانی میں ہی بیٹھا ہوا تھا اور جیسے ہی اس نے یہ کہا، میں اپنی زبان میں کہوں تو بالکل ہکّا بکّا رہ گیا۔ اس بندۂ خدا کی عمر سترہ سال سے زیادہ نہ تھی، میں نہیں جانتا کہ وہ شاید کوئی مذاق کرنا چاہ رہا تھا یا اس نے سوچا تھا کہ اگر اس طرح خبر دے تو بہتر ہوگا۔ اس کے بعد اس نے بہت احترام سے تعزیت پیش کی اور بقیہ دوست بھی رفتہ رفتہ ایک ایک کر کے آئے اور انھوں نے تعزیت دی۔ شاید دوستوں نے صبح کی خبریں سننے کے لیے ریڈیو آن کیا تھا اور وہاں ابتدائی خبروں میں صدر مملکت کے والد کے انتقال کی خبر دی گئی۔ غالباً وہیں امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) کا تعزیتی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔
چونکہ آپریشن ختم ہو چکا تھا اور مزید کوئی خاص کام نہیں تھا، اس لیے بٹالین کے ڈپٹی کمانڈر کی اجازت سے، سہ پہر کو میں دستوں سے الگ ہوا اور اندیمشک پہنچ گیا اور اندیمشک کی ٹرین سے تہران آ گیا۔ جب میں تہران پہنچا تو دادا مرحوم کی تدفین کا اگلا دن تھا اور میرے والد مشہد سے واپس آ چکے تھے۔ مرحوم الحاج شمقدری، کچھ پاسدار اور ہمارے ماموں آقا مہدی خجستہ وہاں موجود تھے۔ لگتا ہے شاید میرے بڑے بھائي الحاج آقا مصطفیٰ بھی والد کے ساتھ تہران میں تھے۔ میں ایوانِ صدر میں داخل ہوا اور والد نے مجھے برآمدے میں دیکھا اور ہم ایک دوسرے سے گلے ملے۔ والد غمگین اور اداس تھے اور یہ بات پوری طرح عیاں تھی۔
ایک واقعہ، جو اس موقع پر میں بیان کرنا چاہتا ہوں، یہ ہے کہ میرے والد نے انہی دنوں میں دادا مرحوم کو خواب میں دیکھا تھا کہ وہ فوجی بیگ لٹکائے ہوئے کہیں جا رہے ہیں۔ چونکہ اس وقت میں محاذ پر تھا، انھوں نے یہ سوچا کہ شاید اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ میں شہید ہو گیا ہوں۔ اتفاق سے اسی آپریشن میں اور اس کے پہلے مرحلے میں، ان ہنگاموں کے درمیان جو اس وقت آپریشن کی پہلی رات میں تھے، بٹالین کے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ نے میرا اور کچھ دوستوں کا نام 'لاپتہ' افراد کے طور پر درج کر لیا تھا۔ مرحوم آقائے ہاشمی (رفسنجانی) نے والد محترم سے پوچھا کہ "کیا آپ نے مجتبیٰ کو محاذ پر بھیجا ہے؟" انھوں نے کہا کہ "جی ہاں۔" انھوں نے کہا کہ "آپ نے بچے کو محاذ پر کیوں بھیجا؟" اور والد نے جواب میں کہا کہ "کیا کچھ ہوا ہے؟!" اور انھوں نے بھی، غالباً والد کو ذہنی طور پر تیار کرنے کے لیے کہا تھا: "نہیں، لیکن اب کچھ باتیں ہو رہی ہیں۔" کابینہ میں بھی کہا گیا تھا کہ شاید آقای خامنہ ای کا بیٹا شہید ہو گیا ہے اور اسی وجہ سے میرے بارے میں ایسا تصور پایا جاتا تھا۔ اس لیے جب میں تہران آیا تو سب شروع میں مجھے خاص نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ والد نے اپنا یہ خواب انہی دنوں مجھے سنایا اور میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ وہ خواب خود دادا مرحوم کے بارے میں تھا اور درحقیقت وہ (دنیا سے) جا رہے تھے۔
المختصر یہ کہ اسی دن شام کو میں مشہد کی طرف روانہ ہوا۔ ہماری نانی ایئرپورٹ پر آئی ہوئی تھیں اور مجھے وہیں سے براہ راست مجلس ترحیم میں لے گئے۔ مجلس ترحیم کے بعد ہم دادا مرحوم کے گھر آئے جہاں آقائے دانشمند، آقائے لوائی اور دوسرے حضرات موجود تھے۔ اس کے بعد ہم ترحیم کی متعدد مجلسوں میں شریک ہوئے، جن میں 'مسجد ترک' اور 'مسجد امام حسن' کی مجالس شامل تھیں، جو کہ خود دادا مرحوم کی مساجد تھیں۔
دادا مرحوم کی تدفین کی جگہ، حضرت امام رضا علیہ السلام کے سرہانے کی سمت ہے۔ اُس وقت وہاں دفن کے لیے چند ہی خالی جگہیں تھیں جو کچھ علماء کے لیے تھیں۔ اس بات کے پیش نظر کہ انھوں نے کبھی بھی اپنے دفن کی جگہ کے بارے میں کوئی وصیت یا تجویز نہیں دی تھی، ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک خاص عنایت تھی کہ بہرحال وہ جگہ ان کی تدفین کے لیے میسر آگئی۔ چونکہ یہ جگہ خواتین کے حصے میں ہے، اس لیے میرے والد صرف حرم اطہر کی غبار روبی (ضریح کی صفائی ستھرائی) کے پروگراموں کے دوران ہی فاتحہ خوانی کے لیے وہاں حاضر ہو سکتے ہیں۔ جب دادی کا انتقال ہوا تو وہ بھی اسی خواتین کے حصے میں، ذرا فاصلے پر، 'دار الضیافہ' میں دفن ہوئیں۔
میں دادا مرحوم کے بارے میں اچھے خواب دیکھا کرتا۔ ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ وہ نماز جماعت کے لیے آئے ہیں اور شاید وہ جماعت پڑھانے والے ہیں۔ اذان دی گئی لیکن اس سے پہلے کہ وہ اقامت کہیں، وہاں کھجوروں کا ایک برتن تھا جس میں سے انھوں نے ایک یا دو کھجوریں اٹھائیں اور کھا لیں۔ جب میں نے یہ خواب اپنے والد کو سنایا، تو انھوں نے فرمایا: "الحمدللہ، لگتا ہے کہ والد کی نمازیں قبول ہو گئی ہیں۔"
20 مارچ 2026

