logo khamenei

امریكا کی شناخت اور اس سے مقابلہ

امریكا کی شناخت اور اس سے مقابلہ

رہبر شہید کے چہلم کی مناسبت سے تہران یونیورسٹی میں انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فواد ایزدی کے انٹرویو کا ایک اقتباس۔

سوال: اسلامی انقلاب نے شروع سے ہی اپنی تحریک کا آغاز امریکا نامی ایک طاقتور دشمن فورس کے خلاف کیا۔ اپنی قریب 50 سالہ زندگی کے دوران وہ مسلسل امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ برسر پیکار رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں اس دشمن کے بارے میں اسلامی جمہوریہ کے قائدین، خاص طور پر شہید خامنہ ای کی سوچ بہت اہم ہے۔ آپ کی نظر میں، شہید آیت اللہ خامنہ ای ریاستہائے متحدہ امریکا کو کیسے دیکھتے تھے؟ ان کی نظر میں امریکا کی تعریف اور اس کے پہلو کیا تھے؟

فواد ایزدی: اسلامی جمہوریہ میں قیادت اور رہبری کے معیاروں میں سے ایک، اسلامی علوم پر بھرپور دسترسی ہے۔ آپ صرف ایک عام سیاستداں نہیں ہو سکتے۔ بہت سے ممالک میں، ایک شخص سیاستداں ہوتا ہے، شاید وہ ایک اچھا سیاستداں بھی ہو لیکن بہرحال وہ ایک سیاستداں کے طور پر قیادت سنبھالتا ہے۔ مگر ایران میں، آپ کو ایک اعلیٰ درجے کا اسلامی عالم ہونا چاہیے ورنہ آپ اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ امریکا سے آیت اللہ خامنہ ای کی شناسانئی اس وقت شروع ہوئی جب وہ کم عمر کے یعنی چودہ سال کے تھے، یہ وہی وقت تھا جب 1953 میں ایران میں بغاوت ہوئی تھی۔ اس عمر میں سنجیدہ مطالعہ کرنے والے شخص کے لیے یہ مسائل قابل فہم ہو جاتے ہیں۔

اگرچہ آیت اللہ خامنہ ای ایک مذہبی خاندان سے تھے لیکن وہ ناول بھی پڑھتے تھے۔ اس لیے وہ امریکی ثقافت کے بارے میں ایسی چیزیں جانتے تھے جو عام طور پر دوسرے نہیں جانتے کیونکہ جب آپ امریکی ناول پڑھتے ہیں، تو آپ کو معاشرے کی ایک گہری پہچان حاصل ہوتی ہے، جو بسا اوقات تاریخ کی کتابوں سے ملنے والی معلومات سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ وہ اس دور میں جوان ہوئے جب 1940، 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں بین الاقوامی سطح پر سامراج مخالف مزاحمتیں جاری تھیں۔ نہ صرف ایران میں بلکہ پوری دنیا میں سامراج مخالف قوتیں سرگرم تھیں اور بہت سے ممالک آزادی حاصل کر رہے تھے۔ چنانچہ ان کی نسل کے نوجوانوں نے عموماً بہت کچھ سیکھا اور مطالعے سے لگاؤ کی وجہ سے وہ اپنی عمر کے بہت سے لوگوں سے کہیں زیادہ باصلاحیت تھے۔

مجھے نہیں پتہ کہ آپ نے ان کا آبائی گھر دیکھا ہے یا نہیں۔ وہ ایک چھوٹا سا گھر ہے لیکن اس میں ایک کمرہ ہے جو لائبریری کی طرح ہے اور دیوار کے اندر بنایا گیا ہے۔ یعنی اس میں عام الماریاں نہیں ہیں بلکہ دیوار کا ایک حصہ خالی کر کے ایسی جگہ بنائی گئی تھی جہاں کتابیں رکھی جاتی تھیں۔ یہ جگہ کافی بڑی تھی اور اس میں بہت سی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ ان کے والد کا گھر امام رضا علیہ السلام کے روضۂ اطہر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ جو زیارت کے لیے آتے تھے، ان کے گھر کے قریبی علاقوں میں قیام کرتے تھے۔ بنابریں وہ بچپن ہی سے مختلف ممالک کے لوگوں سے ملتے جلتے تھے اور اس چیز نے انھیں ایک ایسی بین الاقوامی آگہی دی جو عام طور پر تہران جیسے شہر کے مخصوص محلوں میں بھی حاصل نہیں ہوتی۔ اس طرح کی آگہی مشہد میں، خاص طور پر روضۂ اطہر کے قریب حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ کم عمری سے ہی بین الاقوامی شعور تک پہنچ گئے تھے اور وسیع مطالعے نے بھی اس علمی بنیاد کو مضبوط بنانے میں مدد دی۔

دوسری طرف جب وہ چودہ سال کے تھے تو ایران میں امریکی بغاوت ہوئی۔ جب وہ لگ بھگ بارہ سال کے تھے، تو محمد مصدق کی حکومت تھی۔ ان کے بچپن میں ایران نے سنجیدہ سیاسی تبدیلیاں دیکھیں اور انھوں نے سمجھ لیا کہ امریکا نے اس بغاوت کے ذریعے ایران کے ساتھ کیا کیا۔

پھر جب وہ قم گئے تو امام خمینی کے شاگرد بن گئے۔ ان کے درمیان عمر کا فرق کم نہیں تھا۔ امام خمینی اس وقت قم میں ایک جانی پہچانی شخصیت تھے اور آیت اللہ خامنہ ای ایک نوجوان طالب علم۔ اس رشتے نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ 1953 کی بغاوت سے لے کر 1979 کے انقلاب تک، انھوں نے کئی سال جیل میں اور تشدد سہتے ہوئے گزارے۔ ساواک (شاہ کی خفیہ ایجنسی) کو تشدد کی ٹریننگ کون دیتا تھا؟ سی آئی اے۔ شاہ ایران کو اقتدار میں کون لایا؟ امریکا۔ یہ عملی تجربہ اس بات کا سبب بنا کہ آیت اللہ خامنہ ای امریکا کو ویسا ہی پہچانیں جیسا وہ ہے۔ ایران ان ممالک میں سے ایک تھا جنھیں امریکی پالیسیوں سے شدید نقصان پہنچا۔ زندگی کے اس تجربے نے، تاریخی آگہی اور دنیا کی سامراج مخالف تحریکوں کی شناخت کے ساتھ مل کر، امریکا کے سلسلے میں ان کا نظریہ تشکیل دیا اور ساتھ ہی اسلامی تعلیمات سے بھی انھوں نے سیکھا تھا کہ وقت کے سامراج کے سامنے ڈٹ جانا چاہیے۔

ان کی بابرکت زندگی کے آخری جملوں میں سے ایک یہ تھا کہ: ہم جیسا، ٹرمپ جیسے انسان کے تسلط کو قبول نہیں کر سکتا، جس طرح امام حسین علیہ السلام نے یزید کے تسلط کو قبول نہیں کیا تھا۔ بنابریں اسلامی علوم، عالمی تاریخ کی شناخت، عملی تجربہ اور ایران کے لیے رونما ہونے والے ان واقعات کے دور میں زندگی، ان سب نے انھیں امریکا کے بارے میں ایک گہرا ادراک عطا کیا تھا اور وہ امریکا کے برسوں کے دباؤ میں بھی ایران کو اس کے راستے پر باقی رکھ سکے۔

میرا پہلا نکتہ یہ تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کا اپنی زندگی کے تجربات اور ایران میں جو کچھ انھوں نے دیکھا تھا اس کے مدنظر ان کا ردعمل، اوسط ذہانت بھی رکھنے والے ہر انسان کا ایک فطری ردعمل تھا۔ ملک اور عالم اسلام پر جو گزر رہا ہے اسے سمجھنے کے لیے کسی غیر معمولی ذہانت کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ شہید خامنہ ای اس مزاحمتی سمت کو کیسے برقرار رکھ سکے؟ جب ایران نے بہت زیادہ دباؤ کا سامنا کیا اور وہ خود بھی شدید دباؤ میں رہے، تو اس استقامت کو سمجھنے کے لیے ان کے نظریے اور ان کے نظریۂ کائنات پر توجہ دینی چاہیے جو اسلامی تعلیمات سے ماخوذ تھا۔

بہرحال وہ ایک ممتاز عالم دین تھے۔ شہید خامنہ ای جانتے تھے کہ اسلام نے ظالموں کے مقابلے میں کیا ذمہ داری عائد کی ہے۔ سامراج یا "استکبار" وہ قرآنی تصور ہے جس نے انھیں اسلامی انقلاب کی حفاظت، ملک کے تحفظ اور امت مسلمہ کی مدد کے لیے، نہ صرف انفرادی طور پر بلکہ قوم کی مدد سے اس ادراک تک پہنچایا تھا۔ انھیں اس اسلامی پس منظر کی ضرورت تھی تاکہ وہ اس مزاحمت کو برقرار رکھ سکیں جو ضروری تھی۔

جب آپ اسلامی تعلیمات سے واقف ہوتے ہیں تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ قرآن کا ایک بڑا حصہ ان انبیاء کی داستانوں پر مشتمل ہے جنھوں نے اپنے وقت کے استکبار سے مقابلہ کیا۔ یہ چیز بھی اسلام کی تعلیمات کا حصہ ہے کہ استکبار دنیا کے خاتمے تک موجود رہے گا، اگرچہ نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی تھے لیکن استکبار مختلف ادوار میں مختلف شکلوں میں جاری رہتا ہے اور پیغمبر کے پیروکاروں کو استکبار کے مقابلے کا یہ راستہ جاری رکھنا چاہیے۔ چنانچہ یہ اسلامی تعلیمات کا حصہ بن جاتا ہے۔

یہ چیز قوم پرست تحریکوں کے برخلاف ہے جو اپنے ملک کی آزادی کے بعد، جیسے ویتنام یا جنوبی افریقا جیسے کچھ افریقی ممالک، ایک طرح کے اطمینان تک پہنچ جاتی ہیں۔ ویتنام جیسی بعض صورتوں میں، وہ امریکا کے ساتھ تعاون بھی شروع کر دیتی ہیں۔ ویتنام اپنے جیو پولیٹکل تحفظات، چین کے ساتھ امریکا کی دشمنی اور چین سے ملحق اپنی سرحد کی وجہ سے، جنگ کے 60 سال بعد امریکا کا ایک طرح کا اتحادی بن جاتا ہے۔ تاہم اسلامی تعلیمات کے تناظر میں ایسا ممکن نہیں ہے، کیونکہ آپ کی ذمہ داری صرف ایک ملک تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں امت مسلمہ اور یہاں تک کہ پوری دنیا شامل ہے۔ ایسی صورت میں، ظلم اور سامراج کے سامنے خاموش نہیں رہا جا سکتا اور نہ ہی سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے، چاہے ذاتی حالات بدل ہی کیوں نہ گئے ہوں۔

اور یہ وہ چیز ہے جسے امریکا بھی مانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف اس کی سخت گیر پالیسیاں، ان سیاسی جماعتوں کے دور حکومت میں بھی جاری رہتی ہیں جنھیں اصلاح پسند کہا جاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ ایسی حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتے جو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ کیوں؟ کیونکہ اگر کوئی حکومت اسلامی اصولوں کی بنیاد پر حکمرانی کرے گی تو وہ ان کے ظلم اور سامراج کے سامنے کھڑی ہو جائے گی۔ بالکل ویسا ہی جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دور میں اور گزشتہ انبیاء نے اپنے دور میں کیا تھا۔

نتیجتاً حق اور باطل کا یہ ٹکراؤ جاری ہے۔ امریکا اور اسرائیل شر کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں اور ایران، اسلامی حاکمیت کے تحت، خیر  کا نمائندہ ہے، اور یہ ٹکراؤ جاری رہے گا۔ یہ موضوع امریکی پالیسیوں میں سطحی تبدیلیوں سے ختم نہیں ہوگا۔

کل ملا کر جو بات میں کہنا چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ امریکا کے بارے میں آیت اللہ خامنہ ای کا ابتدائی ردعمل ان کے ذاتی تجربے سے جڑا ہوا تھا۔ اس حقیقت نے کہ وہ ایران میں رہ رہے تھے، ایک ایسے ملک میں جو تیل اور گیس کے ذخائر کے لحاظ سے نمایاں مقام رکھتا ہے اور ہمیشہ امریکا کی توجہ کا مرکز رہا ہے، ایک فطری انسانی ردعمل کو جنم دیا۔ لیکن آج تک اس سطح کی مزاحمت کا تسلسل اسلامی تعلیمات کی بدولت ہی ممکن ہوا کیونکہ آیت اللہ خامنہ ای ایک اسلامی عالم دین تھے اور یہ تعلیمات مسلمان رہنماؤں کے لیے مزاحمت کا ایک ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں۔

سوال: شہید خامنہ ای کی شخصیت اور ان کی پوزیشن کے بارے میں کچھ بتائیے۔

فواد ایزدی: اسلام کی پیروی کے سبب وہ جس طریقے سے کام کرتے تھے، اس کی وجہ سے انھوں نے انسانیت کو شجاعت و حوصلہ عطا کیا، پہلے مرحلے میں ایران کے عوام کو اور اگلے مرحلے میں عالمی سطح پر مسلم معاشرے کو اور تیسرے مرحلے میں تمام حریت پسندوں کو۔ انھوں نے ہی یہ موقع اور یہ حوصلہ پیدا کیا۔ اگر آپ اسلامی جمہوریہ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایسے ادوار بھی رہے ہیں جب لوگ تھک جاتے تھے اور شاید دوسرے آپشنز کے بارے میں سوچنے لگتے تھے لیکن اسلامی جمہوریہ کے اسلامی تشخص کو باقی رکھنے میں ان کا کردار لاثانی تھا، ایسا تشخص جس کا تقاضا تھا کہ سامراج اور امریکا کی پالیسیوں کے سامنے ڈٹ جایا جائے۔ اور یہی وجہ ہے کہ 47 سال بعد بھی اسلامی جمہوریہ بدستور مضبوطی سے اپنی جگہ قائم ہے۔

یہ کہ ایک نظام 47 سال تک مزاحمت کر سکے، کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں کیونکہ یہ عشروں سے موجود ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک غیر معمولی بات ہے۔ اس کے باوجود آج تک ہم باقی ہیں اور اس کے بعد یہ راستہ آسان ہوگا کیونکہ امریکا ایک ایسا ملک ہے جو زوال کی طرف گامزن ہے۔ لہذا ہم اس مزاحمت کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایران فوجی لحاظ سے اس مقام تک پہنچ جائے گا جہاں وہ آج ہے۔ امریکا نے اپنی تمام فوجی طاقت میدان میں جھونک دی اور اسرائیل نے بھی ایسا ہی کیا لیکن وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے۔

مجھے امید ہے کہ جو لوگ یہ انٹرویو دیکھ رہے ہیں، وہ ضرور غور کریں گے کہ یہ سب کیسے ممکن ہوا۔ اگر وہ صحیح طرح سے غور کریں تو جان لیں گے کہ یہ سب آیت اللہ خامنہ ای کی وجہ سے ہے اور ایران اور بین الاقوامی سطح پر ان لوگوں کی وجہ سے ہے جو ان کی رہنمائی اور قیادت کی پیروی کرتے ہیں۔ ان دو عناصر کے ساتھ ہی ہمیں الہی مدد کو نہیں بھولنا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر اس کا حصول ممکن نہ تھا۔

3 مئی 2026