logo khamenei

شہید خامنہ ای اور قرآن مجید

شہید خامنہ ای اور قرآن مجید

تمہید طاقتور مظلوم یعنی امام شہید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی شہادت کے جانکاہ غم کے ان ایام میں، یہ مقالہ ان کی شخصیت کی تعمیر اور اس عظیم المرتبت شہید کی سیاسی و سماجی زندگی اور قیادت میں قرآن کے کردار کے ایک گوشے کو بیان کرنے کے مقصد سے لکھا جا رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ جو اپنی ظاہری زندگی کے آخری لمحے تک قرآن کے ساتھ جیے، قرآن سے ثابت قدمی لی، اپنے عوام کو قرآنی استقامت کی دعوت دی اور اس مزاحمت کو شہادت کے وقت اپنی بند مٹھی سے ظاہر کیا، قرآن کے ساتھ محشور ہوں اور بہشت الہی میں حاملان قرآن کے اعلیٰ مقام پر سکونت اختیار کریں۔

تفسیر قرآن میں رہبر شہید کا مقام

بیرونی مطالبات، سوالات یا شبہات جو کبھی اسلام اور قرآن کی عظمت پر اٹھائے جاتے ہیں، اس بات کا سبب بنتے ہیں کہ مفسر، قرآن مجید میں جگہ جگہ ان سوالات کے جواب دینے یا شبہات کو دور کرنے کی طرف متوجہ ہو لیکن قرآن کے دقیق معارف کی تفسیر اور سمجھ صرف مفسر کے خارجی امور کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ اسی کے ساتھ مفسر کا ادراک، اس کا مزاج اور ثقافتی زندگی اور علمی، سماجی اور سیاسی واقعات میں بابصیرت موجودگی، قرآن سے مفاہیم اخذ کرنے اور اس کے قلم، زبان اور عمل میں آیات کے صحیح اور دقیق فہم کے سامنے آنے میں بہت مؤثر ہوتی ہے۔ جیسا کہ امام شہید کے انقلابی جذبے، ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے حاصل ہونے والے تجربات اور اس سے پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلیوں نے رہبر معظم کے قرآنی بیانات اور آثار پر گہرا اثر ڈالا۔ یہ اثر سورۂ توبہ کی آیات کی تفاسیر میں، مشہد میں انقلابی تحریک کی جدوجہد کے دور سے لے کر  ان کی صدارت کے دوران قرآن مجید کے اٹھائیسویں پارے کے بعض سوروں کی تدریس تک، اور پھر سنہ 1989 سے اسلامی نظام کی قیادت کے آغاز میں سورۂ حمد اور سورۂ بقرہ کے کچھ حصوں کی تدریس اور نظام کی رہبری اور امت مسلمہ کے امور کی تدبیر کے مقام پر ان کے موقف کے قرآنی استناد میں پوری طرح واضح ہے۔

اسلامی علوم کا گہرا علم اور اسلامی جمہوریۂ ایران کی بنیاد رکھنے، اس کی تشکیل اور استحکام کے مختلف مراحل میں عمل کے میدان اور قرآن کے درمیان ان کی بابصیرت موجودگی اور ذہنی حرکت، اور قانون سازی، انتظامی امور اور انتظامیہ کے اعلیٰ درجوں پر ان کی ذمہ داریوں نے قرآن کے سلسلے میں ان میں بہت قیمتی ادراک پیدا کیا جس نے مفسرین اور محققین کو ان کے تفسیری علم کے دسترخوان پر مدعو کیا ہے اور ملک کے منتظمین کو ان نتائج سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت کی ترغیب دلائی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ کے بانی امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے موقف کا بھی اسی نقطۂ نظر سے جائزہ لیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ امام خمینی کے نظریے میں جمہوریت، مغربی ڈیموکریسی سے متاثر نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں دین کے متن اور آیات جیسے وَ اَمْرُھُمْ شُورَىٰ بَيْنَھُمْ»(1) اور ھُوَ الَّذِي اَيَّدَكَ بِنَصْرِہِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ»(2) میں پیوست ہیں۔(3) انھوں نے میدان اور قرآن کے آپسی رابطے، مفسر کی معلومات، تجربات، اسلامی جمہوری نظام میں موجودگی اور اس کے خلاف دشمنوں کی محاذ آرائی کے کردار کی طرف اشارہ کیا ہے۔(4)

سماجی تفسیر کا نظریہ

شہید رہبر انقلاب اسلامی کے تفسیری کتابوں کے جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے لیے قرآن کے سماجی پہلو اور سماجی میدانوں میں توحید کی موجودگی بہت اہمیت رکھتی تھی۔ دوسرے الفاظ میں ان کا تفسیری نظریہ، سماجی نقطۂ نظر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کے سوروں کی تفسیر میں انھوں نے پہلے سماجی امور سے مملو سوروں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ وہ اپنی صدارت کے دور (اسّی کی دہائی) میں قرآن کے اٹھائیسویں پارے کے سوروں کی تفسیر کی وجہ اپنے یہی سماجی پہلو اور ملک کے عمومی حالات سے ان کے جڑاؤ کو قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے سورۂ منافقون کی تفسیر کے آغاز میں، جو اٹھائیسویں پارے کے شروع میں ہے، اس سورے اور اس پارے کے دیگر سوروں کے انتخاب کی وجہ، ان میں سے اکثر کا مدنی ہونا قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں چونکہ یہ سورے اسلامی حکومت کی تشکیل کے بعد نازل ہوئے ہیں، یعنی ہماری موجودہ صورتحال کے مطابق ہیں، اس لیے یہ اہمیت کے حامل ہیں۔(5) ان کے نزدیک منافقین اور نفاق، سماجی انصاف، حکومت، جنگ کے محاذوں پر جہاد اور اس طرح کے درجنوں مسائل، حکومت کی تشکیل کے بعد کے بڑے مسائل ہیں اور یہ وہی مسائل ہیں جن پر مدنی سوروں میں زیادہ توجہ دی گئی ہے۔(6)

تفسیر کی روش (تفسیر، تدبر اور تطبیق کی آمیزش)

اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ آیات کی تفسیر میں صرف آیات کے ابہامات سے پردہ اٹھانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ کلام اللہ سے ابہام دور کرنے کے عمل کو دو کاموں یعنی تدبر اور تطبیق کے ذریعے کمال تک پہنچاتے ہیں۔ تفسیر، قرآن کے الفاظ اور جملوں سے ابہام کو دور کرنا ہے۔ اکثر مفسرین کی کوشش ہوتی ہے کہ پہلے قرآن کے الفاظ پر طاری ہونے والے ابہامات کو دور کریں۔ اس کے بعد اگر ابہام دور کرنے کے لیے الفاظ اور جملوں سے شبہات کے دفاع کی ضرورت ہو، مثلاً آیت کا ظاہر، اللہ تعالیٰ کے جسم ہونے کا شبہہ پیدا کرے تو وہ شبہے کو دور کرتے ہیں اور آخر میں کوشش کرتے ہیں کہ آیت سے خداوند متعال  کے حکیمانہ مقصد اور ہدف کی تشریح کریں۔ مفسرین ان تین مراحل سے گزر کر خود کو آیت سے اللہ تعالیٰ کی حقیقی مراد دریافت کرنے میں کامیاب پا کر ان تین مراحل سے اخذ کردہ ترجمے کا اقدام کرتے ہیں۔

مفسرین کی ایک قلیل تعداد تفسیر کے فائدے کو مکمل کرنے کے لیے آیات میں تدبر کا اقدام کرتی ہے۔ تدبر، فہم کا تعاقب، اور آیات قرآن سے حاصل ہونے والی معرفت کو گہرائی دینا ہے۔ جب آیات سے کوئی حقیقت واضح ہو جاتی ہے تو مفسر اس فہم کا تعاقب کرتا ہے اور اس فہم کا جائزہ لے کر اس سے وابستہ علمی و عملی لوازمات اور ان الزامات کو جو اس کے درپے ہوتے ہیں، حاصل کرتا ہے۔ شاید قدیم تفاسیر جیسے جامع البیان اور مجمع البیان کا بعض عصری تفاسیر جیسے تفسیر "من ھدی القرآن" کے ساتھ فرق، اس دعوے کو واضح کر دے۔ شہید رہبر معظم کی تفسیر میں تدبر کی کثرت واضح طور پر نمایاں ہے۔

تیسرا قدم جو قرآن سے مفسر کے فہم اور استفادے کے دائرے کو وسیع بناتا ہے، آیات کو، ان ابتدائی اشخاص اور معاشروں سے، جن کے بارے میں آیات نے فیصلہ دیا ہے، ان کے بعد آنے والے ان اشخاص اور گروہوں کی طرف بڑھانا ہے جو ان کے جیسا ہی کردار اپناتے ہیں۔ اس وسعت کو اصطلاح میں "جری و تطبیق" کہتے ہیں۔ بعض روائی تفاسیر اور سماجی تفاسیر کے انگشت شمار معاملات میں ہمیں قرآنی آیات کی جری و تطبیق دیکھنے کو ملتی ہے۔ شہید خامنہ ای کی تفسیر، پوری طرح موجودہ حالات پر آیات کی تطبیق، مخاطب کے فہم کو قرآن کی تاریخی روایت سے گزار کر آج کی صورتحال اور حالات، اور ان کے تفسیری دور و مقام میں موجود عوامی اشخاص اور گروہوں تک پہنچانے کی طرف توجہ پر مبنی ہے۔

شہید خامنہ ای آیات کو ان سماجی اور سیاسی حالات کی طرف جاری کر کے جن میں ہم رہ رہے ہیں، قرآن کو معاشرے کی آج کی زندگی کے متن میں داخل کرتے ہیں۔ وہ آیات کو نزول قرآن کے دور سے گزار کر ایران کے دور، عالم اسلام، عالمی سامراج، مارکسسٹ مکاتب فکر اور ایران کے اسلامی انقلاب کی طرف جاری کر کے دیگر عام قوانین حاصل کرتے ہیں جو سننے اور پڑھنے والے پر قرآنی معارف کا ایک وسیع باب کھول دیتے ہیں۔

نمونے:

آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) نے آیات کی تفسیر کے بعد، تدبر اور تطبیق کے دو ڈھانچوں میں آیات کے مجمل پہلوؤں کی تشریح کرتے ہوئے تدبر اور آیات کی تطبیق میں بعض اہم نکات بیان کیے ہیں جن کے طریقۂ کار سے آشنائی کے لیے کچھ نمونوں پر اکتفا کیا جاتا ہے:

پہلا نمونہ (سورہ حمد، آیت 5)

"اِيَّاكَ نَعْبُدُ..." (7)

الف: آیت میں تدبر

وہ پہلے ترتیب وار کچھ تدبری نکات اس طرح بیان کرتے ہیں: انسان کی اچھی بندگی اور بری بندگی کا فرق، اچھی خصلتوں کی بندگی جیسے علم، پاکیزگی، طہارت، نور اور ان جیسی چیزوں کی پابندی، اللہ کی بندگی ہے، غیر اللہ کی بندگی جیسے ظالم طاقتوں اور خواہشات نفسانی کی بندگی انسان کے لیے ذلت آمیز ہے، اللہ کے ساتھ انسان کے رابطے کو بندے اور آقا کے رابطے کے بجائے باپ اور بیٹے کے رابطے جیسا بتانے کی غلطی، اللہ کی بندگی اور دوسروں کی بندگی کا اکٹھا نہ ہو پانا، اللہ کی بندگی یعنی فضیلت کی بندگی، غیر اللہ کی عبادت نہ کرنا قرآن کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔

ب: تطبیق

اس کے بعد وہ نئے زمانے میں اس آیت کی تطبیق کا رخ کرتے ہیں اور مندرجہ ذیل باتیں بیان کرتے ہیں:

  • وہ عراقی قوم کے مصائب کی وجہ، جن پر امریکی بم گر رہے ہیں، صدام کی نفسانی خواہشات، اس کی اقتدار کی ہوس اور کویت کے تیل سے حاصل ہونے والی مفت کی دولت کو سمجھتے ہیں۔(8)

  • وہ امریکا اور نیٹو کے ساتھ بعض ممالک کی ساز باز کو بھی نفسانی خواہشات کی تکمیل کی کوشش اور آمرانہ حکومت کی بقا کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔(9)

  • امریکا کی ظالمانہ طاقت کے خلاف صحیح سیاسی موقف کو اختیار کرنے میں آزاد منشی کا فقدان، دنیا کے بعض سیاسی رہنماؤں کے اقتدار کی ہوس کی وجہ سے ہے(10) اور اس کا تجزیہ یہ ہے کہ یہ تمام معاملات اپنی نفسانی خواہشات کی قید میں ہونے کی وجہ سے ہیں۔

  • وہ جنوبی اور لاطینی امریکا کے لوگوں کی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے، انقلابی ادراک کے باوجود طاغوت کی قید سے خود کو رہا نہ کرانے اور ان کے ساتھ نہ ٹکرانے کی وجہ، ان علاقوں کے اکثر لوگوں کے اپنی ذات کی قید میں ہونے اور تفریح، کھانے پینے اور شراب نوشی وغیرہ میں مبتلا ہونے کو بتاتے ہیں اور ان حقیر باتوں کے پیش نظر، "اِيَّاكَ نَعْبُدُ" کو نفس، ہوائے نفس اور نفسانی خواہشات کی پرستش کی حقارت سے نجات کا راستہ قرار دیتے ہیں۔(11)

دوسرا نمونہ (سورہ حشر، آیات 2 - 4)

ھُوَ الَّذِي اَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ اھْلِ الْكِتَابِ مِنْ دِيَارِھِمْ... فَاِنَّ اللَّہَ شَدِيدُ الْعِقَابِ "(12)

الف: آیت میں تدبر

  1. ذَٰلِكَ بِاَنَّھُمْ شَآقُّوا اللَّہَ وَرَسُولَہُ"، آیت کے اس حصے کی بنیاد پر، وہ کہتے ہیں کہ جب تک یہودی، اسلام سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تھے اور ایک کونے میں غیر جانبدار بیٹھے تھے، تب تک اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ نے ان کے خلاف کچھ نہیں کیا لیکن جب یہودیوں نے مشرکین کا ساتھ دیا اور خباثتیں شروع کر دیں تو ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔(13)

  2. رہبر معظم اسی طرح ان آیات پر تدبر کی نظر ڈالتے ہوئے یہودیوں کی موذیانہ کارروائیوں کی وجہ اس طرح تجزیہ کرتے ہیں کہ یہودیوں کو توقع تھی کہ پیغمبر اسلام جب کام کو نتیجے تک پہنچا لیں تو اسے ان کے سپرد کر دیں کیونکہ پیغمبر کے پاس شروع میں افرادی قوت اور ساز و سامان نہیں تھا لیکن اسلامی دعوت کے منظر عام پر آنے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ پیغمبر نے انہی گنوار اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو ساتھ ملا کر اپنا لشکر، اصحاب، مومن افراد اور فورس تیار کر لی اور یہودیوں کے لیے موقع ہاتھ سے نکل گیا اس لیے وہ ٹکراؤ اور خباثت کے مرحلے میں داخل ہو گئے۔(14)

ب: آیت کی تطبیق

اگر ابتدائے اسلام کے زمانے کے یہودی اس انتظار میں تھے کہ اسلام کو کامیابی کے بعد اپنی مٹھی میں لے لیں تو ہمارے زمانے کے نام نہاد روشن خیال افراد بھی یہ سوچتے تھے کہ جب انقلاب کامیاب ہو جائے گا تو ان کی ہی مٹھی میں آ جائے گا اور یہ عوام الناس، عام لوگ اور ان کے ساتھی اور ہم فکر افراد خود بخود ایک طرف ہو جائیں گے اور انقلاب چلانے کا کام ان کے سپرد کر دیں گے، انقلاب ان کا ہے اور ملک کے لوگ تو انسان ہی نہیں ہیں۔ اسی لیے وہ لوگ کونے میں بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہے اور کسی طرح کی کوئی جدوجہد نہیں کی اور خود کو خطرے میں نہیں ڈالا تاکہ عام لوگ بلڈوزر کی طرح کام کرتے رہیں، زمین ہموار کریں اور پھر وہ لوگ آ کر اپنی مرضی کے مطابق وہ عمارت بنائیں جو وہ چاہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ یہودی انتظار میں تھے کہ پیغمبر آئیں، انقلاب آ جائے اور پھر یثرب کے یہ ان پڑھ اور گنوار کفار و مشرکین ایک طرف ہو جائیں اور انقلاب، دین اور رسالت ان کے ہاتھ میں آ جائے۔ وہ اس حسین خواب اور خام خیالی کے ساتھ وقت گزار رہے تھے۔(15)

شہید رہبر معظم، انقلاب کے بعد بعض روشن فکروں کے ساتھ انقلاب کے ٹکراؤ کے بارے میں بھی یہ مانتے ہیں کہ یہ لوگ انقلاب کو ہائی جیک کرنے کے لیے موقع کی تک میں تھے لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ انقلاب نے اپنی فورس بنا لی اور اپنی چھاؤنی تلاش کر لیا تو وہ انقلاب کے خلاف ٹکراؤ اور خباثت میں شامل ہو گئے، منافقین کے ساتھ، غیر ملکی دشمنوں کے ساتھ متحد ہو گئے، انقلاب اپنی آستین میں سانپ نہیں پال سکتا تھا اس لیے اسے مجبوراً ان کے ساتھ نمٹنا پڑا۔(16)

تیسرا نمونہ (سورہ ممتحنہ، آیت 1)

"يَآ اَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ... فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيلِ" (17)

الف: آیت میں تدبر:

  1. رہبر شہید یہاں کفار مکہ کی مومنوں کے ساتھ عداوت اور دشمنی کے معنی میں تدبر کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر کوئی ہمارے عقائد کو نہیں مانتا لیکن مومنوں کے عقائد کی وجہ سے ان سے نہیں الجھتا تھا اور دشمنی نہیں کرتا تو اس کے ساتھ تعلق اور دوستی رکھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن چونکہ وہ مسلمانوں سے ان کے عقائد کی وجہ سے دشمنی کرتے تھے، اللہ نے مسلمانوں کو اس طرح کے دشمنوں سے دوستی کرنے سے منع کیا ہے۔(18)

  2. آیت میں تدبر یہ سمجھاتا ہے کہ بعض مومن، مومنوں کے ساتھ خیانت کے باوجود ایمان رکھتے ہیں۔ جیسے حاطب بن ابی البلتعہ جنھوں نے مکے میں اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے کفار کو خط لکھا اور انھیں ان پر اسلامی لشکر کے حملے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا لیکن پیغمبر نے ان کا خط فاش ہو جانے اور ان کی خیانت کے باوجود، انھیں غیر مسلم یا منافق نہیں کہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ جہالت یا سادہ لوحی یا ایسی ہی دوسری وجوہات کی بنا پر خیانت کرتے ہیں اور دشمن کو معلومات دیتے ہیں، بغیر اس کے کہ ان کے اصل ایمان میں کوئی خلل پیدا ہوا ہو۔(19)

ب: آیات کی تطبیق:

  1. اس آیت کی ایک تطبیق، اسلامی جمہوریہ کی صورتحال ہے جس کے ایسے دشمن ہیں جو لوگوں کے انقلابی اور ایمانی عقائد کی وجہ سے ان سے دشمنی کرتے ہیں لیکن بہت سے ممالک ایران کے لوگوں کے انقلابی اور ایمانی عقائد پر یقین نہ رکھنے کے باوجود انقلاب سے دشمنی نہیں کرتے، انھیں دشمنوں کے زمرے میں نہیں رکھنا چاہیے اور ان سے تعلقات منقطع نہیں کرنے چاہیے۔(20)

  2.  دوسری تطبیق، بعض انقلابی قوتیں ہیں جو جگہ جگہ بعض ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں جو نہیں کہنی چاہیے۔ انقلابیوں کا یہ گروہ، انقلاب کے ساتھ خیانت کرتا ہے اور انقلابی اور مومن ہونے کے دائرے سے باہر بھی نہیں نکلتا۔ مثال کے طور پر آپریشن کے دن کی خبریں دوسروں کو بتاتا ہے جو نہیں بتانی چاہیے اور اس طرح انقلاب سے خیانت کرتا ہے اور یہ سورۂ ممتحنہ کی پہلی آیت کی ایک اہم تطبیق ہے۔(21)

نتیجہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تربیتی خصوصیات اور پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کی آیات کی، ان مختلف واقعات کی مناسبت سے، جو نزول کے زمانے کے معاشرے میں پیش آتے تھے، لوگوں کے سامنے تلاوت کرتے تھے۔ یہ تربیتی عمل، قرآن مجید کے زندہ ہونے اور اس کی افادیت و جامعیت کی تصویر کشی کرنے کے ساتھ ہی اس بات کا بھی سبب بنتا تھا کہ لوگوں کا ذہن اور روح قرآن کی گہری اور اثر انگیز تربیت کے زیر اثر آ جائے، خاص طور پر اس لیے بھی کہ لوگ انھیں پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں قرآن کی آیات سنتے تھے اور یہی چیز لوگوں میں آیات قرآن کے فہم میں اضافے کا باعث بنتی تھی۔ آیت اللہ شہید خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ ان انگشت شمار مفسرین میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنی سیاسی پوزیشن اور امت مسلمہ کی قیادت کے پیش نظر، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اسی سیرت پر عمل کرنے میں کامیابی حاصل کی اور قرآن کریم کی، صرف ایک ذہنی اور تجریدی فضا میں نہیں، بلکہ اپنے معاصر تاریخی اور سماجی واقعات کی کشمکش میں اپنے عوام کے سامنے تلاوت کی۔ یہ روش، جو اسلامی و قرآنی مبانی اور علوم سے شہید رہبر انقلاب کے گہرے فہم، ان کی قرآنی سیرت و زندگی اور اسلامی تحریک کے دوران ان کے نایاب تاریخی و مجاہدتی تجربات کے سہ گانہ امتزاج کا نتیجہ ہے، قرآن کی افادیت اور زندہ موجودگی اور قرآن کریم کی بنیاد پر انقلابِ اسلامی کے واقعات کے اعادے کے امکان کا ایک ایسا عمدہ نمونہ پیش کرتی ہے جو بہت کم تفاسیر میں پایا جاتا ہے۔

تحریر: عبدالکریم بہجت پور، مفسر قرآن اور اسلامی ثقافتی و فکری تحقیقی سینٹر کے رکن

  1. سورۂ شوریٰ، آیت 38، "اور ان کے (تمام) کام باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔"

  2. سورہ انفال، آیت 62، "وہ وہی ہے جس نے اپنی نصرت اور مؤمنین کی جماعت سے آپ کی تائید کی۔"

  3. ملاحظہ کریں: امام خمینی (رہ) کی پندرہویں برسی کے پروگرام سے خطاب، (3 جون 2004)

  4. ملک کے نو عمر اور نوجوان حفاظ و قراءِ قرآن کے ایک گروہ سے ملاقات میں، (19 ستمبر 2001)

  5. تفسیر سورۂ مجادلہ، صفحہ 14 اور 15

  6. تفسیر سورۂ مجادلہ، صفحہ 14 اور 15

  7. سورۂ حمد، آیت 5، "اے اللہ! ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔"

  8. ملاحظہ کریں: تفسیر سورۂ حمد، صفحہ 60

  9. ملاحظہ کریں: تفسیر سورۂ حمد، صفحہ 61

  10. ملاحظہ کریں: تفسیر سورۂ حمد، صفحہ 62

  11. ملاحظہ کریں: تفسیر سورۂ حمد، صفحہ 63 اور 64

  12. سورہ حشر، آیات 2 تا 4، "وہ وہی ہے جس نے اہلِ کتاب کے کافروں (بنی نضیر) کو پہلی بار اکٹھا کر کے ان کے گھروں سے نکال دیا۔ تمہیں گمان بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ بھی خیال کرتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ (کی گر فت) سے بچا لیں گے تو اللہ (کا قہر) ایسی جگہ سےایا جہاں سے ان کو خیال بھی نہیں تھا اور اس نے ان کے دلوں میں (رسول کا) رعب ڈال دیا تو وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے گھروں کو خراب و برباد کر رہے تھے اور اہلِ ایمان کے ہاتھوں سے بھی عبرت حاصل کرو اے دیدۂ بینا رکھنے والو۔ (2) اور اگر اللہ نے ان کے حق میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تووہ دنیا ہی میں ان کو عذاب دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔ یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو یقیناً اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔"

  13. ملاحظہ کریں: تفسیر سورۂ حشر، صفحہ 54

  14. ملاحظہ کریں: تفسیر سورۂ حشر، صفحہ 52 اور 53

  15. ملاحظہ کریں: تفسیر سورۂ حشر، صفحہ 52

  16. ملاحظہ کریں: تفسیر سورۂ حشر، صفحہ 53 اور 54

  17. سورہ ممتحنہ، آیت 1، اے ایمان والو! تم میرے اور اپنے دشمن کو اپنا ایسا (جگری) دوست نہ بناؤ کہ ان سے محبت کا اظہار کرنے لگو حالانکہ وہ اس (دینِ) حق کے منکر ہیں جو تمھارے پاس آیا ہے اور وہ رسولِ خدا کو اور خود تم کو محض اس بنا پر جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان لائے ہو (یہ سب کچھ کرو) اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری خوشنودی حاصل کرنے کے لیے (اپنے گھروں سے) نکلے ہو؟ تم چھپ کر ان کو دوستی کا پیغام بھیجتے ہو حالانکہ میں خوب جانتا ہوں جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہواور جو تم میں سے ایسا کرے وہ راہِ راست سے بھٹک گیا۔"

  18. ملاحظہ کریں: تفسیر سورۂ ممتحنہ، صفحہ 17

  19. ملاحظہ کریں: : تفسیر سورۂ ممتحنہ، صفحہ 27 اور 28

  20. ملاحظہ کریں: : تفسیر سورۂ ممتحنہ، صفحہ ص 19

  21. ملاحظہ کریں: : تفسیر سورۂ ممتحنہ، صفحہ 27

13 اپریل 2026