امریکی-اسرائیلی محاذ سے جنگ میں مزاحمتی محاذ کا بڑھتا ہوا اتحاد
ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے پچیسویں دن دو اہم مزاحمتی محور بھی امریکی و اسرائیلی دشمن کے خلاف سرگرم ہو گئے ہیں: لبنانی محاذ اور عراقی محاذ۔ مزاحمت کا ایک اور ضلع یمن کے محاذ میں پہلے دن سے ہی ایرانیوں کی قومی مزاحمت کے ساتھ رہا ہے۔ البتہ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس یمنی محور کے حالات اور اس پر جس طرح کی ذمہ داری ہے اس کے پیش نظر جنگ میں اس کے شامل ہونے کے لیے جن حالات کی ضرورت ہے وہ ابھی میدانی طور پر سامنے نہیں آئے ہیں۔ تاہم اس بات میں کوئي شک نہیں ہے کہ یہ محاذ بھی خود کو اس جنگ کا ایک حصہ مانتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اور حالات کے حساب سے وہ جنگ میں شامل ہونے کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔
تمام میدانوں میں ہمارا اتحاد اب بیرونی، میدانی اور عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مزاحمتی محاذ اب اپنے تمام ضلعوں میں مزاحمت کے مشترکہ دشمن کے خلاف میدان میں آ چکا ہے۔ وہ تمام گروہ، جن کا سامراج کے خلاف مشترکہ ہدف اور نظریہ ہے، اس وقت اپنے میدان اور جغرافیا کی ضرورت کے مطابق میدان میں آ چکے ہیں اور دشمن کے خلاف اپنا حلقہ تنگ سے تنگ تر کرتے جا رہے ہیں۔ ایک ہی دین و مذہب کو ماننے والے گروہ اس نتیجے تک پہنچ چکے ہیں کہ خطے سے باہر کے اور انسانیت مخالف امریکی و صیہونی سامراج کے خلاف ان کی ایک ہی منزل ہے۔ یہ سامراج مخالف ایک ہی افق اور نظریہ ہے جو خطے کے آئندہ نظام کا محور بنے گا۔ مستقبل کا ایسا نظام جو ایک مقامی علاقائي بلاک سے نکلا ہے جو خود مختاری کی بنیاد پر دنیا سے تعاون کا موقف رکھتا ہے۔
اہداف کا یہی اشتراک، اس بات کا سبب بنا ہے کہ مزاحمتی گروہ اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنی شناخت اور اپنے تشخص کا ایک حصہ سمجھتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران بھی ان گروہوں کو اپنی شناخت اور اپنے تشخص کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔ تشخص اور منزل کا یہ اشتراک کسی کو ماتحت اور کسی کو ما فوق کی پوزیشن میں قرار نہیں دیتا۔ مزاحمت کے چھوٹے بڑے گروہوں کی خود مختاری کا احترام، ہمیشہ ہی تہران کی ریڈ لائن رہا ہے۔ حماس کا طوفان الاقصیٰ آپریشن یا حزب اللہ کی متعدد کارروائياں جو ان گروہوں کے تجزیے اور خود مختارانہ فیصلوں کی بنیاد پر انجام پائيں، اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران سے لے کر مختلف جگہوں پر پائے جانے والے مزاحمتی محاذ کے گروہوں کے مختلف اضلاع تک سب بالغ النظری اور فکری رشد کی علامت ہیں نہ کہ دنیا کے دیگر مقامات میں پائے جانے والے دوسروں کے پٹھو گروہوں کی نظیر۔
یہی وجہ ہے کہ یہ گروہ ایک دوسرے سے کوئی بھی توقع رکھے بغیر ایک دوسرے کے لیے قربانی دیتے ہیں۔ اس وقت بھی امریکی و اسرائیلی جنگ میں عراقی مزاحمت اور لبنانی مزاحمت کی شمولیت کے سبب ان عزیزوں کو قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ امریکی و صیہونی دشمن جس طرح ایرانی قوم سے دشمنی میں اسے زخم اور چوٹ پہنچا رہا ہے، اسی طرح لبنان اور عراق کی مزاحمت کو بھی زخم اور چوٹ پہنچا رہا ہے۔ جب بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے تو صرف وہ لوگ ایک دوسرے کی ہمراہی کرتے ہیں اور ایک دوسرے لیے قربانی دیتے ہیں جن کی سوچ، جن کا نظریہ اور جن کی فکر ایک جیسی ہوتی ہے تاہم یہ ساری قیمت چکانے کے باوجود ان کا انسانی اور برادرانہ رابطہ نہ صرف یہ کہ کمزور نہیں ہوتا بلکہ مزید مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
بالکل اسی تناظر میں ایران نے جنگ سے باہر نکلنے کے لیے، جنگ بندی کے لیے نہیں بلکہ جنگ سے باہر نکلنے کی کھڑکی کھولنے کے لیے جنگ کے مکمل خاتمے، مستقبل کی ممکنہ جارحیتوں کے مقابلے میں تحفظ اور جنگ اور پھر جنگ بندی جیسے حربے کے دائرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی ضروری گارنٹیوں کے لیے جو چھے شرطیں رکھی ہیں، وہ صرف ایران کے لیے نہیں بلکہ مزاحمت کے پورے محاذ کے لیے ہیں۔ ایران مزاحمتی محاذ کو خود سے الگ نہیں سمجھتا، نہ تو ایسا ماضی میں تھا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ہوگا۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کی سامراج اور تسلط مخالف شناخت اور تشخص، صرف ایران کی ارضی سالمیت تک محدود نہیں ہے اور اس کا مطلب مزاحمتی محاذ کے گروہوں کے امور میں مداخلت اور ان کی خود مختاری کو ٹھیس پہنچانا بھی نہیں ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران اور مزاحمتی محاذ کے اراکین، ایک ہی منزل، ایک ہی جغرافیا اور ایک ہی تاریخ والے ایسے معاشرے ہیں جو خطے کے آئندہ نظام کو اپنے مقامی معاشروں کی خواہش اور ضروریات کی بنیاد پر قائم کریں گے، اس چیز کے بالکل برخلاف جو پچھلے سو برس میں برطانیہ، فرانس اور امریکا کے خطے سے باہر کے اور سامراجی محاذ نے پہلی جنگ عظیم کے بعد قائم کی تھی۔ خطے کا اگلا نظام اس خطے کی مقامی سوچ اور جغرافیا کی بنیاد پر تشکیل پائے گا۔ اس بات کا اعلان اس وقت جنگ کے میدانوں میں پایا جانے والا اتحاد ببانگ دہل کر رہا ہے۔
25 مارچ 2026

