نگارش نگارش

امریکی دھمکیوں کے مقابلے میں ایک متحدہ علاقائی محاذ

حالیہ ہفتوں میں امریکا کے مختلف عہدیداروں نے مختلف طریقوں سے ایران کے خلاف طرح طرح کی دھمکیاں دینے کی کوشش کی ہے۔ ان دھمکیوں کے جواب میں، اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کے فیصلہ کن رد عمل کے علاوہ، مغربی ایشیا کے خطے میں بھی ایران کی حمایت میں ایک وسیع لہر بلند ہو گئی ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم، بحرین کے ممتاز عالم آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم، عراق کی حزب اللہ بریگیڈ وغیرہ جیسی شخصیات اور گروہوں نے ٹھوس اور فیصلہ کن انداز میں ایران اور رہبر انقلاب کے خلاف کسی بھی دھمکی کے مقابلے میں اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ حمایت کی یہ لہر ایران اور اس کے اطراف کے علاقے میں ایک گہرے اسٹریٹجیک رشتے کے استحکام کی نشاندہی کرتی ہے۔

31 جنوری 2026

امریکا کو جوابدہ ہونا چاہیے

حالیہ واقعات اور منظم دہشت گردانہ کارروائیوں نے، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مسلط کردہ 12 روزہ جنگ کے تسلسل میں سامنے آئیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے سلسلے میں امریکی حکومت کی روش کی حقیقی نوعیت کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے لیکن اس سے بڑھ کر ایک اہم بات یہ ہے کہ اس نے بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں را‏ئے عامہ کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا حکومتیں بغیر کوئی قیمت چکائے ہوئے دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت جاری رکھ سکتی ہیں؟

28 جنوری 2026

مرضیہ نبوی نیا؛ کبھی نہ فراموش ہونے والا نام

وہ نرس تھی۔ ایک تین سالہ بچی کی ماں۔ اس کے رفقائے کار اس کی لامتناہی مہربانی کی باتیں کرتے ہیں اور اس پیشہ ورانہ ذمہ داری کا ذکر کرتے ہیں جس سے اس نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک  منہ نہیں موڑا۔ اتنی گہری پیشہ ورانہ ذمہ داری کہ جب آگ کے شعلے، رشت شہر کے امام سجاد دواخانے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے، تب بھی وہ وہاں موجود مریضوں کو چھوڑ کر جانے پر تیار نہیں ہوئی۔ یہی وفاداری تھی جس نے ایک شہیدہ کے طور پر اس کا نام امر کر دیا۔ میں مرضیہ نبوی نیا کی بات کر رہی ہوں، رشت کی ایک جوان نرس جو بلوائيوں کے کینے کی آگ میں زندہ جل گئيں تاہم ان کی یاد کا چراغ بدستور روشن ہے۔

23 جنوری 2026

دنگوں کی شکل میں جنگ کا تسلسل، دشمن کے بدلتے حربے اور قومی بصیرت

"ہم کس حالت میں کھڑے ہیں؟" اگر ہم اس سوال کا صحیح جواب دینا چاہیں، تو ہمیں لازمی طور پر جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ایک وسیع تر خاکہ کھینچنا ہوگا۔ میری رائے میں بارہ روزہ جنگ اور موجودہ حالات سے اس کے تعلق کو جامع نظر سے دیکھ کر، واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ہم اب بھی جنگ کی حالت میں ہیں۔ ایسی جنگ جو نہ صلح سے ختم ہوئی ہے اور نہ ہی صحیح قانونی اور سیاسی معنی میں جنگ بندی سے رکی ہے۔ جو کچھ ہوا وہ محض ایک دو طرفہ فائر بندی تھی، بغیر تحریری معاہدے، بغیر نگرانی کے طریقۂ کار اور بغیر نافذ العمل وعدوں کے۔ لہٰذا جنگ کی حالت سے باہر نکلنے کا تصور، ایک تجزیاتی غلطی ہے۔ ہم اب بھی جنگ کی حالت میں ہیں اور یہ حقیقت خاص ضروری تدابیر کی متقاضی ہے۔

20 جنوری 2026

تقسیم کی سازش کا توڑ

ایران کے حالیہ واقعات کا صرف سماجی یا معاشی مطالبوں کے تناظر میں تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ ہر معاشرے کو داخلی مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور احتجاج، سیاسی حیات کا ایک حصہ شمار ہوتا ہے لیکن جو چیز موجودہ حالات میں نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے وہ زمینی سرگرمیوں اور بیرونی سازشوں کا ایک دوسرے سے جڑا ہونا ہے جس کا ہدف، پالیسیوں کی تبدیلی سے بالکل الگ ہے۔ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ان سرگرمیوں کے غیر ملکی منصوبہ سازوں کا اصل ہدف، قومی اتحاد کی جڑوں کو کمزور کرنا اور آخر میں ایران کے حصے بخرے کرنا ہے۔

18 جنوری 2026

اندازے کی غلطیوں کی طویل فہرست

وجہ؟! تجربہ! مشہد کے بلوؤں یا انہی کے الفاظ میں ایران کے دوسرے سب سے بڑے شہر کے مظاہرین (تخریب کار دہشت گردوں) کے ہاتھ میں ہونے کے بارے میں ٹرمپ کا یہی اظہار خیال۔ سڑک پر ہونے والے ایک بلوے کو کج فکر مشیروں نے، دہشت گردوں کے ذریعے شہر پر قبضے کا نام دے کر امریکی صدر کے سامنے پیش کر دیا۔

15 جنوری 2026

یہ ایرانی قوم کی آواز ہے

تہران کے پرشکوہ اور تاریخ ساز دن کم نہیں رہے ہیں۔ ایسے دن جب لوگوں نے محسوس کیا کہ ضروری ہے کہ وہ سڑکوں پر نکلیں، اپنی موجودگی سے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دیں اور غفلت میں مبتلا لوگوں کو بیدار کر دیں۔ تاہم 12 جنوری کی شام کو تہران میں جو کچھ ہوا وہ ماضی کے یادگار تاریخی کارناموں سے کہیں بڑھ کر اور اگر ایک لفظ میں کہا جائے ایک بے مثال "یوم اللہ" تھا۔ وہ لوگ، جن کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں اپنے ملک کا مقدس پرچم تھا، اس بڑے شہر کے ہر کوچہ و بازار سے نکلے اور شہر کے مرکز میں انسانی سیلاب میں بدل گئے، ایسا سیلاب جس نے گردوغبار کو بٹھا دیا اور دلوں کو پرسکون کر دیا۔

13 جنوری 2026

امام جمیل الامین

انا للہ و انا الیہ راجعون بے شک ہم سب خدا کی طرف سے ہیں اور اسی کی جانب لوٹنے والے ہیں۔ (سورۂ بقرہ، آيت 156) امام جمیل الامین(1) جو کبھی مرد انصاف(2) کہلاتے تھے، آخرکار ایسے شخص میں تبدیل ہو گئے جس نے انصاف کے لیے اپنی جان دے دی۔ آزادی کی راہ کا یہ مجاہد، یہ روحانی اور سامراج مخالف لیڈر، 23 سال امریکی جیلوں میں قید رہنے کے بعد خدا کی طرف لوٹ گیا۔ وہ ایک جنگی قیدی تھے، اس جنگ کے قیدی جو امریکا نے سیاہ فام امریکی برادری کے خلاف چھیڑی تھی۔

1 دسمبر 2025

بلاجواز اور غیر قانونی

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز نے جمعے کو ویانا میں منعقدہ اپنے اجلاس میں یورپی ٹروئیکا اور امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات کے بارے میں پیش کردہ قرارداد کو ووٹنگ کے لیے پیش کیا۔ یہ قرارداد تین مخالف ووٹوں کے مقابل 19 ووٹوں سے منظور کر لی گئی جبکہ 12 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ روس، چین اور نائیجر نے اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ ڈالے۔ قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ان تنصیبات تک رسائی فراہم کرے جن پر 12 روزہ جنگ میں حملہ ہوا تھا۔

22 نومبر 2025

حضرت فاطمہ زہرا کی حیات طیبہ کے کچھ پہلو

حضرت فاطمہ زہرا کی زندگي کا بغور جائزہ لینا چاہیے، نئی نگاہ کے ساتھ اس زندگی کو پہچاننا چاہیے، سمجھنا چاہیے اور حقیقی معنی میں اسے آئيڈیل بنانا چاہیے۔ (2014-04-19) ان کی شخصیت، عین جوانی کے عالم میں بھی ایک آئیڈیل ہے تمام غیور و مومن اور مسلمان مردوں اور عورتوں، یہاں تک کہ غیر مسلم لوگوں کے لیے بھی جو اس عظیم خاتون کی منزلت سے واقف ہوں اور ہمیں ان کی زندگي سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ (1989-12-13) 

19 نومبر 2025

نئے مشرق وسطیٰ سے لے کر گریٹر اسرائيل تک؛ تسلط پسندی اور مقامی مزاحمت کے ماڈلوں پر ایک نظر

تمہید: "گریٹر اسرائیل" فی الحال شدت پسند صیہونیوں کی الیکشن کیمپینز میں ایک مذہبی عقیدے یا نظریاتی ہدف سے زیادہ عملی طور پر ایک جیو پولیٹیکل پروجیکٹ بن چکا ہے۔ اس سوچ کی توسیع پسندانہ، غاصبانہ اور نسل پرستانہ ماہیت، جس نے عرب دنیا اور اسلامی معاشروں کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی ڈھانچے کو نشانہ بنا رکھا ہے، اس طرح ہے کہ اگر اس کی پرتوں کو کھولا جائے اور ان کی وضاحت کی جائے تو یہ چیز صیہونیت کی ماہیت اور خطے اور عالم اسلام کے مستقبل کے لیے مغربی تمدن کی سازش کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسی لیے صیہونی حکومت کے غاصب سرغنہ اس سوچ اور نظریے کو قانونی، سیکورٹی جیسے اور عوامی دلچسپی کے الفاظ جیسے "نیا علاقائی نظام"، "نیا مشرق وسطیٰ"، "اسرائیل سے تعلقات" اور اسی طرح کے دوسرے الفاظ سے بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

18 نومبر 2025

فلسطینی فریمز؛ خون، فلیش اور نیگیٹوز کا ورثہ

انیسویں صدی کے اوائل کے تاریک برساوں میں، جب نیپولین کے بعد دنیا ابھی اپنی تعمیر نو کے بارے میں سوچ ہی رہی تھی کہ جوزف نیپس اور لوئی ڈیگر نے اپنے ڈارک رومز میں حقیقت کو ایجاد کیا۔ فوٹوگرافی، اس وقت تک دنیا میں دیکھی گئی سب سے حقیقی چیز بن گئی۔ فوٹو، حقیقت کو ایک چھوٹے سے فریم میں قید کر کے بغیر کسی واسطے کے اپنے دیکھنے والے کے سامنے پیش کر سکتا تھا، جیسا کہ شروع میں سب سمجھ رہے تھے۔

28 اکتوبر 2025

غزہ، کھنڈروں میں زندگی کی بازگشت

الرشید کی پتلی ساحلی سڑک پر ایک بار پھر لوگوں کا ہجوم تھا جو اپنی زندگی کا بچا کچھا اثاثہ پلاسٹک کی تھیلیوں اور بوریوں میں ڈال کر وہاں سے ہجرت کر رہے تھے۔ ان تھکے ماندے لوگوں کے چہرے جنگ کے مصائب سے ضعیف سے دکھائی دینے لگے تھے تاہم دو سال کے اس عرصے میں غزہ کے لوگوں نے جو ہزاروں مصائب برداشت کیے تھے، یہ ہجرت، ان میں سے ایک تھی۔ جبالیا سے خان یونس، خان یونس سے رفح، رفح سے النصیرات وغیرہ وغیرہ۔ جبری ہجرت اور جلاوطنی کا یہ سلسلہ بار بار دوہرایا جا رہا تھا۔

27 اکتوبر 2025

"ساری یرغمال عورتیں مار دی گئیں؟!!!" پروپیگنڈا اور سچ

"حماس نے جن بیس زندہ قیدیوں کو اسرائيلی حکومت کے حوالے کیا ہے وہ سبھی مرد ہیں اور حماس نے تمام خواتین قیدیوں کو مار دیا ہے!" یہ الفاظ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر صیہونی حکومت کے حامی پیجز کی طرف سے لگاتار دوہرائے جا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کمزور یادداشت والے یا معلومات نہ رکھنے والے بعض افراد پر ان الفاظ کا کچھ اثر ہو جائے لیکن یقینی طور پر جو لوگ پچھلے دو سال سے غزہ میں جنگ اور نسل کشی کے واقعات پر نظریں رکھے ہوئے تھے، ان کے لیے یہ بات انتہائی مضحکہ خیز اور افسوسناک ہے۔

15 اکتوبر 2025

قیدیوں کا تبادلہ اور مزاحمت کی فتح کا استحکام

شرم الشیخ معاہدے کے تحت فلسطینی مزاحمت اور صیہونی حکومت کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ، حالیہ دو سالہ جنگ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف غزہ میں دو سال سے جاری تھکا دینے والی جنگ کے خاتمے کا باعث بنا ہے بلکہ اس میں خطے میں طاقت کے نئے توازن کے بارے میں اہم سیاسی اور اسٹریٹیجک پیغامات بھی ہیں۔

14 اکتوبر 2025

محمد الدرہ سے ہند رجب تک

ایران میں فلسطینی بچوں سے یکجہتی کے قومی دن کے موقع پر صیہونیوں کے ہاتھوں بچوں کے قتل پر ایک نظر  

30 ستمبر 2025

گریٹر اسرائیل؛ صیہونی حکومت کی توسیع پسندی کا ایک بڑا خواب

ایک توسیع پسندانہ منصوبے اور خطے کے امن، سلامتی اور ثبات و استحکام کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کی حیثیت سے گریٹر اسرائيل کے نظریے سے مقابلہ کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر اس نظریے کے خلاف سنجیدہ ردعمل نہیں دکھایا گیا اور متحد ہو کر مزاحمت نہیں کی گئی تو اسلامی اور عرب ملکوں کو بہت سخت چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا جو نہ صرف ان کی قومی حکمرانی کو خطرے میں ڈالیں گے بلکہ عالمی سطح پر وسیع انسانی اور سماجی بحران بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک متحدہ محاذ بنانا اور مؤثر اسٹریٹیجیز اختیار کرنا، مغربی ایشیا کے علاقے کے ملکوں اور عالم اسلام کی سلامتی اور تشخص کی حفاظت کے لیے ایک حیاتی کام ہے۔

23 ستمبر 2025

حضرت خدیجہ: قریش کی ملکہ سے ام المؤمنین تک کا سفر

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے ذکر کے بغیر اسلام کے طلوع کی داستان ادھوری ہے کیونکہ وہ اس عظیم دین کے بانیوں میں سے ہیں۔ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیوی یا پہلی مسلمان خاتون نہیں تھیں بلکہ وہ اسلام کی پہلی حامی، اس کی سب سے بڑی مالی مددگار، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جذباتی سہارا اور خدا کے رسول کی روحانی و معنوی ہمدم تھیں۔ ان سب کے باوجود جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای نے زور دے کر کہا ہے، تاریخ میں ان کی عظیم شخصیت کی طرف سے غفلت برتی گئی ہے اور اسے نظر انداز کیا گيا ہے۔(1)

3 ستمبر 2025

ایرانی قوم کے عزم کے خلاف دہشت گردی

"اسلامی جمہوریہ ایران، دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے شکاروں میں سے ایک ہے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے لے کر اب تک سترہ ہزار سے زیادہ ایرانیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے جن میں عام لوگ بھی ہیں جنھیں منافقین (ایم کے او) کے دہشت گردوں نے صرف ظاہری مذہبی شکل و صورت کی بنیاد پر سڑکوں پر گولیوں سے بھون دیا ہے اور جنرل قاسم سلیمانی جیسے کمانڈر بھی ہیں جنھیں امریکی صدر کے براہ راست حکم پر شہید کیا گیا۔ ایران کے خلاف دہشت گردی مختلف شکل و صورت میں سامنے آئی ہے: انتہا پسندانہ دہشت گردی، جو مذہبی تعالیم کی غلط سمجھ کا نتیجہ تھی اور "فرقان" جیسے گروہوں میں ظاہر ہوئی اور فیلڈ مارشل محمد ولی قرنی اور آیت اللہ مرتضیٰ مطہری جیسی عظیم شخصیات کی شہادت کا باعث بنی۔"

31 اگست 2025

اسپتال پر بمباری میں شہید ہونے والی صحافی

"غیث، تم اپنی ماں کا دل و جان ہو۔ میں تم سے چاہتی ہوں کہ تم مجھ سے وعدہ کرو کہ تم میرے لیے روؤگے نہیں تاکہ میں خوش رہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ تم مجھے سرفراز کرو اور ایک ہوشیار اور بڑے انسان بنو اور اپنی ساری صلاحیتیں  بروئے کار لاؤ اور ایک کامیاب تاجر بنو۔ میرے پیارے بیٹے! مجھے بھولنا نہیں، میرے پیارے! میں نے تمھاری خوشی اور تمھارے آرام کے لیے ہر ممکن کام کیا، میں نے تمھارے لیے تمام مشکلیں برداشت کیں۔ جب تم بڑے ہو جانا اور شادی کرنا اور تمھارے یہاں کوئی بیٹی پیدا ہو تو اس کا نام میرے نام پر 'مریم' رکھنا۔ تم میرے عزیز، میری جان، میرا سہارا، میری روح اور میرے بیٹے ہو جو میری سرفرازی کا سبب ہو اور تمھارے وجود سے میں ہمیشہ خوش ہوتی ہوں۔ میں تم سے وصیت کرتی ہوں کہ نماز کو مت بھولنا، میرے بیٹے! نماز، نماز! تمھاری ماں، مریم

27 اگست 2025

امریکا کے ہاتھ سے نکل جانے والی وراثت: اسلامی انقلاب سے پہلے اور بعد میں ایرانی قوم سے امریکا کی دشمنی کے بنیادی اسباب کا جائزہ

"آپ نے ہمیں جو اطمینان دلایا ہے اور کہا ہے کہ ایران اور عراق میں ہمارے تیل کے ذخیروں پر آپ کی لالچ کی نظر نہیں ہے، ہم بہت شکر گزار ہیں۔"(1) یہ دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل کی جانب سے امریکی صدر روزویلٹ کو لکھے گئے خط کا ایک جملہ ہے۔ یہ خط سنہ 1944 میں یورپ میں امریکا کی جنگ سے کچھ مہینے پہلے لکھا گيا تھا۔ یہ جملہ، جو برطانیہ کو امریکا کی شدید مالی اور فوجی مدد کی ضرورت کے زمانے میں لکھا گيا تھا، برطانیہ کے لیے ان ذخائر کی ناقابل بیان اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس تیل کی کہانی کیا تھی؟

23 اگست 2025

عرب اراضی کے کھنڈروں پر "گریٹر اسرائیل" کی تعمیر کا خواب؛ اسرائيل سیکورٹی دینے والا ہے یا چھیننے والا؟

"1948 کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ یہ جنگ، ان جنگی سلسلوں کا محض ایک دور ہے جن میں شامل ہونے کے لیے اسرائیل کو مکمل تیاری رکھنی چاہیے تاکہ اس کے ذریعے وہ ہر سمت میں اپنی سرحدوں کو پھیلا سکے۔" یہ جملہ، جو صیہونی فوج کے جنرل اسٹاف سے تعلق رکھنے والے دستاویزات کا ایک حصہ ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ "گریٹر اسرائیل" کے خواب کو پورا کرنے کے لیے "زمینی اور سرحدی توسیع" کوئی عارضی پالیسی نہیں بلکہ صیہونی حکومت کی ایک بنیادی اسٹریٹیجی ہے؛ یہ اسٹریٹیجی غاصب صیہونی ریاست کے قیام کے وقت سے ہی ہمیشہ اس کے ایجنڈے میں شامل رہی ہے۔(1) 

19 اگست 2025

غزہ، پوری دنیا کے حریت پسندوں کی توجہ کا مرکز

وہ تصویریں جو غزہ سے آ رہی ہیں انھوں نے اسرائيل کو واقعی پوری دنیا میں نفرت انگیز بنا دیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم سے ہر جگہ نفرت کی جاتی ہے۔ پوری دنیا ہمارے خلاف ایک ہو گئی ہے۔ ان جملوں کو بولنے والے بالترتیب ایک صیہونی رپورٹر، ایک صیہونی ٹور لیڈر اور صیہونی وزیر اعظم ہیں۔ اگرچہ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ میڈیا میں یہ جملے اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کرنے اور غیر ملکی امداد حاصل کرنے کے لیے کہے گئے ہیں لیکن یہ علامت ہے، اس میدان میں شکست کی علامت جس میں صیہونی حکومت ہمیشہ فاتح رہی ہے۔

5 جون 2025

مستقبل بیں خط کے ایک سال بعد بدستور "تاریخ کی صحیح سمت میں"

اب سے ایک سال پہلے رہبر انقلاب اسلامی نے امریکی اسٹوڈنٹس کے نام ایک خط لکھ کر ان سے کہا تھا کہ وہ غزہ میں کھلے جرائم پر خاموش نہ رہیں۔ البتہ فلسطین کی حمایت کی تعریف سے قطع نظر یہ خط، امریکی سماج کی صورتحال کے عمیق تجزیے پر مشتمل تھا جس میں کہا گيا تھا کہ آپ اسٹوڈنٹس تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑے ہیں اور تاریخ اس پر فخر کرے گی۔

29 مئی 2025