شہید سید حسن نصراللہ کے بیٹے۔ سید جواد نصراللہ کے ساتھ گفتگو
امام خامنہ ای کی شہادت سے عالمی سطح پر بیداری کی لہر پیدا ہوئی
شہید سید حسن نصراللہ کے بیٹے سید جواد نصراللہ نے Khamenei.ir کے ساتھ گفتگو میں رہبر انقلاب شہید امام خامنہ ای کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ امام خامنہ ای کی شہادت سے عالمی سطح پر بیداری کی لہر پیدا ہوئی۔ مفصل گفتگو پیش ہے۔
جناب نصراللہ! بہت شکریہ کہ آپ نے ہمیں اپنا وقت دیا۔ آپ اپنے بھائی بہنوں میں کس نمبر کی اولاد ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ میں فیملی میں دوسرا بیٹا ہوں، شہید سید ہادی کے بعد؛ میرے بعد میری بہن زینب ہیں، پھر محمد علی اور پھر سید محمد مہدی۔
آپ کی پیدائش کس سال ہوئی؟
۲۴ مئی ۱۹۸۱؛ یعنی تقریباً ۴۵ سال پہلے۔
آپ کے ذہن میں اپنے والد کی پہلی تصویر کیا ہے؟
مجھے یاد ہے کہ اسکول جانے سے پہلے، میں ان کے کمرے میں جھانکتا تھا اور دیکھتا تھا کہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنا ہاتھ اپنے چہرے کے نیچے رکھا ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ سال پہلے، یعنی سید کی شہادت سے پہلے، میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ کیا میری یاداشت کمزور ہے یا واقعی بچپن اور نوجوانی میں، میں نے اپنے والد کے ساتھ بہت دن نہیں گزارے؛ میری والدہ نے کہا کہ واقعی زیادہ تر وقت وہ گھر پر نہیں ہوتے تھے۔ اسی لیے، میں صبح اسکول جانے سے پہلے ان کے کمرے میں جھانکتا تھا۔ وہ ہمیشہ دیہاتوں، کیمپوں اور کام اور تبلیغی مراکز میں ہوتے تھے؛ اگر گھر بھی آتے، تو دیر سے آتے۔ ہم صبح اسکول جاتے تھے اور وہ ابھی سوئے ہوتے تھے، پھر جلدی اٹھتے اور اپنے روزانہ کے پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے باہر نکل جاتے۔
بے شک، بچپن میں کبھی کبھی وہ اس غیرموجودگی کی تلافی کرتے تھے؛ مثال کے طور پر، جب انہیں دفتر سے باہر کوئی کام ہوتا، تو ہمیں بھی اپنے ساتھ لے جاتے۔ میں بھی ان سے کہتا کہ اگر آپ کا کام اس قسم کا ہے، تو ایسے کام مزید رکھیئے! کبھی کبھی ہم بعلبک کی پہاڑیوں پر بھی جاتے تھے؛ وہ جگہ جہاں وہ اور ان کے ساتھی کھلی فضا میں بیٹھ کر اجلاس منعقد کرتے تھے، یہ مشہور تھا۔
آپ کے والدین کا گھر میں آپس میں کیسا تعلق تھا؟ گھریلو زندگی میں آپ کی والدہ کا کیا کردار تھا؟
میں کہہ سکتا ہوں کہ میرے والد، سید، اور میری والدہ، ام ہادی، کے درمیان تعلق احترام، محبت اور ادب کا ایک نمونہ تھا۔ اگر مجھے ایک جملے میں خلاصہ کرنا ہو، تو ان کی ازدواجی زندگی ایک اسلامی، علوی اور فاطمی نمونہ تھی۔ ہم نے کبھی ان کی اونچی آواز نہیں سنی اور کبھی نہیں دیکھا کہ ان کے درمیان کوئی اختلاف، جھگڑا یا حتیٰ کہ نعوذباللہ کوئی ایسی بات یا اشارہ ہو جس سے ناراضگی کی بو آتی ہو؛ بالکل اس کے برعکس تھا۔ اپنی پوری زندگی میں ہم نے نہیں سنا کہ میرے والد نے میری والدہ کو 'حاجیہ' یا 'حاجیہ ام ہادی' کے علاوہ کسی اور لفظ سے پکارا ہو؛ ایک بار بھی انہوں نے انہیں چھوٹے نام سے نہیں پکارا اور ہمیشہ کنیت سے مخاطب کیا۔
آپ کو کب اور کس عمر میں احساس ہوا کہ آپ کے والد کی زندگی عام لوگوں کی طرح نہیں ہے اور وہ ایک جہادی شخصیت ہیں؟ فطری بات ہے کہ اس طرح کے منصب کا آپ کی ذاتی اور خاندانی زندگی پر اثر پڑتا تھا اور آپ بھی ایک بیٹے کے طور پر اپنے والد کی حیثیت سے متاثر ہوتے تھے۔ دوسرے لوگ اپنے والدین کے ساتھ ایک عام زندگی گزار سکتے ہیں، لیکن آپ شروع سے ہی ایک جہادی زندگی کے ماحول میں بڑے ہوئے۔ آپ کو یہ کب سمجھ آیا اور اس کا آپ پر کیا اثر ہوا؟
یہ بات بچپن سے ہی آہستہ آہستہ ہم پر واضح ہوتی گئی؛ مجھے لگتا ہے کہ تقریباً سات سال کی عمر سے، حتیٰ کہ اس عرصے سے پہلے بھی جب ہم بعلبک میں تھے۔ ہم سنہ ۱۹۸۶ میں رہنے کے لیے بیروت آئے، پہلے اوزاعی علاقے میں اور پھر بیرالعبد میں؛ اس سے پہلے، ہم ابھی بہت چھوٹے تھے اور نوجوانی کی عمر تک بھی نہیں پہنچے تھے۔ اس کے باوجود، ہم حفاظتی انتباہات اور احتیاطوں سے سمجھ جاتے تھے کہ کوئی خطرہ ہے۔ ہمیں کہا جاتا تھا کہ کسی کے لیے دروازہ نہ کھولیں اور اگر کوئی دروازہ کھٹکھٹائے، تو دروازے کے پیچھے سے پوچھیں کہ کون ہے۔ کبھی کبھی وہ لوگ جنہیں دشمن سمجھا جاتا تھا، آتے تھے اور سید کے بارے میں پوچھتے تھے کہ کیا وہ گھر پر ہیں یا نہیں۔ ہم محافظوں کے ساتھ اسکول جاتے تھے اور محافظوں کے ساتھ واپس آتے تھے۔ ہمیں سمجھایا جاتا تھا اور ہم پوچھتے تھے کہ دوسرے بچوں کی طرح اسکول بس سے کیوں نہیں جاتے؛ تو کہا جاتا تھا کہ تمہیں ہماری آنکھوں کے سامنے رہنا چاہیے، کیونکہ شدید خطرہ ہے۔
۸۰ اور ۹۰ کی دہائیوں میں، لبنان نے بہت سارے واقعات دیکھے اور خطرہ صرف اسرائیل کی طرف سے نہیں تھا، بلکہ مختلف گروہ اسلامی قوتوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ اس وقت، جیسا کہ میں نے کچھ بھائیوں سے سنا ہے — جن میں سے کچھ بعد میں شہید ہو گئے — اس تحریک کو 'خمینی والے' کہا جاتا تھا؛ یعنی وہی مذہبی تحریک جس کی قیادت شہید سید عباس موسوی (قدس سرہ) لبنان میں کر رہے تھے۔
اس لیے، بچپن سے ہی ہم جانتے تھے کہ ہماری زندگی عام نہیں ہے۔ سید زیادہ تر گھر پر نہیں ہوتے تھے اور میری والدہ ہمیں سمجھاتی تھیں کہ وہ تبلیغ کے لیے گئے ہیں، کام پر ہیں، ہیڈکوارٹرز میں ہیں اور اس قسم کی باتیں۔ جب وہ گھر آتے تھے، تو ان لوگوں سے جو ان سے ملنے آتے تھے، ہم سمجھ جاتے تھے کہ ان کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے؛ ان میں سے کچھ آج کونسل کے رکن ہیں، کچھ شہید ہو گئے، کچھ اب بھی سیاسی اور جہادی میدان میں سرگرم ہیں، اور کچھ کا انتقال ہو چکا ہے۔
خدا کی قسم، مجھے یاد نہیں کہ ہم نے کبھی شکایت کی ہو اور کہا ہو کہ ہم باہر کیوں نہیں جا سکتے یا فیملی ہمیشہ ایک ساتھ اکٹھا کیوں نہیں ہوتی۔ بے شک، جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی گئی، سید کی گھر پر موجودگی بھی ذمہ داریوں کے بڑھنے اور بھاری ہونے کی وجہ سے کم ہوتی گئی، لیکن ساتھ ہی ہماری سمجھ اور آگاہی بھی بڑھتی گئی اور ہم حالات کو بہتر طور پر سمجھنے لگے۔ ہمارا زاویہ نظر یہ نہیں تھا کہ ہم ان کے ساتھ باہر کیوں نہیں جا سکتے؛ ہم صرف اللہ سے ان کی صحت، سلامتی اور کامیابی کی دعا کرتے تھے اور ان کی لمبی عمر مانگتے تھے؛ یہی ہمارے لیے جنت تھی۔ سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ خود انسان کو بدل دیتا ہے اور اس کے ذہن کو دوسری چیزوں میں لگا دیتا ہے۔ یہی چیز ایک مدد تھی تاکہ سید پوری توجہ کے ساتھ اپنا راستہ جاری رکھیں اور خاندان کی طرف سے کسی بھی چیز نے ان کے کام میں رکاوٹ نہ ڈالی یا ان کے ذہن اور خیال کو مشغول نہ کیا۔
اپنے والد کے کام کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے، یہ بات فطری تھی کہ وہ گھر پر کم وقت گزارتے تھے۔ جب وہ آپ کے ساتھ ہوتے تھے، تو وہ جذباتی اور تعلیمی لطحاظ سے اس کمی کی تلافی کیسے کرتے تھے؟
پہلی بات تو یہ کہ ہم باقی بچوں کی طرح اپنی زندگی گزارتے تھے؛ اسکول جاتے تھے، رشتہ داروں سے ملتے جلتے تھے اور اپنے مشاغل اور کاموں میں مصروف رہتے تھے۔ فطری طور پر، کچھ وقت ایسا بھی ہوتا تھا جب سید گھر پر موجود ہوتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ سنہ ۲۰۰۰ کی آزادی کے بعد سے لے کر سنہ ۲۰۰۶ کی جنگ سے پہلے تک کا عرصہ ہماری گھریلو زندگی کا سنہری دور تھا؛ ہم جانتے تھے کہ وہ گھر پر ہیں، ہم اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے اور کچھ وقت ساتھ گزارتے تھے۔ یہاں تک کہ جب ملاقاتوں کے درمیان فاصلہ ہو جاتا تھا — خاص طور پر ۲۰۰۶ کے بعد، جب سید سے دوری اور ان کی یاد کا دور شروع ہوا — تو ان کے ساتھ گزارا گیا وہ مختصر وقت بھی آپ کی یاد کو اور بڑھا دیتا تھا؛ کیونکہ آپ جانتے تھے کہ اب جانا ہے اور پتہ نہیں اگلی ملاقات کب ہوگی۔ ہم پہلے سے ہی ان سوالات اور موضوعات کو تیار کر لیتے تھے جن پر ہم ان کی رائے جاننا چاہتے تھے۔ بے شک، جہاں تک ممکن ہوتا، ہم سیاسی بحثوں میں نہیں پڑتے تھے، کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ گھر کا وقت بھی انہی سیاسی اور کام کے مسائل میں لگے جن میں ان کا تقریباً سارا وقت گزرتا تھا۔ میرے خیال سے ۲۰۰۶ کے بعد بھی وہ مختصر ملاقاتیں کافی تھیں؛ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس محدود وقت میں بھی کسی کے دل، روح اور دماغ کو کیسے سیراب کیا جائے۔
ایک والد کے طور پر ان کی سب سے اہم خصوصیت کیا تھی، نہ کہ ایک رہنما کے طور پر؟
سید بہت مہربان تھے اور واقعی ہر چیز میں ان کی ایک خاص شخصیت تھی۔ وہ جانتے تھے کہ بڑے، چھوٹے اور ہر عمر کے شخص کے ساتھ کیسے برتاؤ کرنا ہے، بغیر کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے۔ وہ کہتے تھے کہ میں آپ سب سے محبت کرتا ہوں، لیکن آپ میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کی عمر اور خصوصیات کے مطابق برتاؤ کرتا ہوں۔ وہ ہم میں سے ہر ایک کے مزاج، طرز فکر اور خصلت کو جانتے تھے۔ مکروہ یا حرام معاملات میں وہ کوئی تعارف (سمجھوتہ) نہیں کرتے تھے، لیکن مذاق بھی کرتے تھے اور اس کی حد کا خیال رکھتے تھے۔ وہ پیارے، استاد اور سراپا محبت تھے۔ ہم بچے آپس میں مقابلہ کرتے تھے کہ انہیں ہر وہ چیز پہنچائیں جس کی انہیں شاید ضرورت ہو؛ پھر بھی، وہ ہمیں سکھاتے تھے کہ اپنے ذاتی کام خود کریں۔ اس لیے، واقعی میں ان کی کسی ایک خصوصیت کو الگ کرکے باقی کو نظر انداز نہیں کر سکتا؛ ان کی پوری ذات خوبصورت تھی۔
آپ کی تربیت میں وہ کن باتوں پر زیادہ زور دیتے تھے؟
میرے والد ہماری عمر کے مطابق قدم بہ قدم آگے بڑھتے تھے۔ بے شک، گھر میں تربیت کی اصل بنیاد ہماری اپنی والدہ کے ساتھ روزمرہ کی زندگی تھی اور خود سید بھی ہمیشہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جب شہید سید ہادی — جنہیں بدقسمتی سے کم یاد کیا جاتا ہے — کے بارے میں میرے والد سے پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ ہادی کی اصل تربیت اور پرورش کا سہرہ اس کی والدہ کے سر جاتا ہے۔ "روح الامین" نامی کتاب میں بھی انہوں نے اشارہ کیا تھا کہ ان کی (ہادی) بہت سی خصوصیات فطری طور پر والدہ کی تربیت کا نتیجہ تھیں۔
لیکن سید بھی ہماری عمر کے مطابق، انہی واقعات سے جو کسی نشست یا روزمرہ کی زندگی میں پیش آتے تھے، ہمیں سبق سکھاتے تھے۔ ابھی جب آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں، تو سب سے پہلے باتیں جو میرے ذہن میں آتی ہیں، وہ یہ ہیں: لوگوں کو اذیت دینا ممنوع؛ برائی کرنا اور لوگوں پر زیادتی کرنا ممنوع؛ غیبت ممنوع؛ لوگوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنا ممنوع؛ اور لوگوں کے ساتھ نرمی برتنا واجب۔ بعد میں، جب ہم سمجھدار ہو گئے، تو انہوں نے یہ سب ایک اصول میں سمیٹ دیا: اس طرح جیو کہ تمہیں پتہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ، ہر حرکت اور سکون میں، ہر حالت میں، ہر جگہ، جس کے ساتھ بھی ہو، تمہیں دیکھ رہا ہے؛ ایک لمحہ بھی یہ مت سمجھو کہ اللہ تم سے غافل ہے؛ اس لیے اپنی بات، نظر اور عمل کا خیال رکھو۔
ساتھ ہی، وہ دین کو مشکل اور پیچیدہ نہیں بناتے تھے؛ وہ کہتے تھے کہ اللہ کی رضا حاصل کرنا مشکل نہیں ہے۔ ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ بغیر کتاب اور تختی کے تعلیم دیتے تھے اور اپنے برتاؤ سے سکھاتے تھے۔ ان کا تحمل، صبر، کسی عمل پر اعتراض یا رد میں ان کا ادب، اور جس طرح سے وہ حرام اور حلال، مکروہ، صحیح اور غلط کو دکھاتے تھے، یہ سب ہمارے لیے سبق تھے۔ بے شک، جب ضرورت ہوتی تھی تو وہ غصہ بھی ہو جاتے تھے۔ ایک مومن اگر غلطی، حرام اور گناہ کے سامنے غصہ نہ دکھائے، تو کچھ تو کمی ہے۔ وہ خود بھی یہی کہتے تھے اور کبھی کبھی ہم سادات کے ساتھ مذاق کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر کوئی سید تھوڑا گرم مزاج نہ ہو، تو اس کی تحقیق کرنی چاہیے!
سید جب چلتے تھے تو گویا اسکول تھے اور جب بیٹھتے تھے تب بھی گویا اسکول تھے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ان کی بات کے براہ راست مخاطب نہ بھی ہوں، بلکہ آپ بس ان کے پاس بیٹھے ہوں اور سن رہے ہوں کہ وہ فون پر کسی مسئلے کو حل کر رہے ہیں؛ وہیں آپ دیکھ سکتے تھے کہ وہ کسی مسئلے سے کیسے نمٹتے ہیں۔ کچھ لوگ جب سنتے ہیں کہ کسی نے غلطی کی ہے، تو ان کا پہلا خیال یہ ہوتا ہے کہ اسے کیسے سزا دی جائے؛ لیکن وہ، اس کے برعکس، کہتے تھے کہ میرا فرض یہ دیکھنا ہے کہ میں لوگوں کو اس راستے سے کیسے دور رکھوں جو جہنم کی طرف لے جاتا ہے؛ ورنہ سب سے آسان کام یہ ہے کہ جب کوئی، نعوذباللہ، جہنم کے کنارے پر پہنچ جائے اور غلطی کرے، تو اسے ایک دھکا دے دو اور اپنا کام ختم کرو۔ سید کہتے تھے کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے؛ ہمارا کام وہی ہے جو پیغمبروں، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور اہل بیت (علیہم السلام) کا کام تھا: اللہ کے بندوں کے ساتھ حلم، رحمت، لطف اور مہربانی۔ یہ خصوصیت ان کی زندگی کے آخری سالوں میں حیرت انگیز طور پر ان کے اندر زیادہ نمایاں اور بلند ہو گئی تھی۔
آپ کی دی گئی وضاحتوں سے، ایسا لگتا ہے کہ یہی خصوصیات ان کی بے پناہ مقبولیت کی وجوہات میں سے ایک تھیں۔
یہ مقبولیت اور وہ عجیب و غریب جنازہ (تشییع) — ان تمام دباؤ کے باوجود — اللہ تعالیٰ کا کام تھا۔ جب انسان اپنی روح اور دل کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، تو خود اللہ اس کی محبت اور قبولیت کو لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے؛ جیسا کہ ہم نے امام خمینی اور امام خامنہ ای (قدس سرّھما) کے بارے میں دیکھا۔ انہوں نے اللہ کے لیے اخلاص کیا اور حتیٰ کہ اللہ کی راہ میں اپنے آپ کو فنا کر دیا؛ انہوں نے نہ صرف (اپنے آپ کو) مٹا دیا، بلکہ اپنی پوری ذات اللہ کے حوالے کر دی، اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی محبت کو اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دیا۔ ایک حدیث قدسی اس مضمون کے ساتھ آئی ہے کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے، تو وہ اس کی محبت کو لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ اللہ نیک بندوں کو پسند کرتا ہے اور یہ بزرگ اس کے نیک بندوں میں سے تھے اور اس کے دین کے ستون تھے۔
جب آپ کے بھائی شہید ہوئے، تو لبنان کے اندر اور باہر ایک بڑا واقعہ پیش آیا۔ بہت سے لوگوں کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کا بیٹا فرنٹ لائن پر لڑ کر شہید ہوا ہے۔ ماں باپ کی اپنے بچے سے محبت بھی ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ براہ کرم اپنے والد کے شہید سید ہادی کے ساتھ تعلق اور شہادت کے وقت ان کے رویے کے بارے میں ایک یادگار واقعہ بتائیں؛ خاص طور پر اگر کوئی ایسی بات ہے جو پہلے کبھی بیان نہیں کی گئی۔
ہو سکتا ہے کہ انہوں نے کچھ خاص کہا ہو، لیکن ابھی مجھے یاد نہیں آ رہا ہے۔ سچ میں، انہوں نے کبھی بھی اس بات پر نہ تو اللہ پر احسان جتلایا کہ انہوں نے اپنا بیٹا پیش کیا، اور نہ لوگوں پر۔ اس کے باوجود، کچھ بظاہر چھوٹی باتوں کا بڑا مطلب تھا۔ تبادلے کے معاملے میں، انہوں نے صرف ہادی کے بارے میں اور دوسرے شہیدوں اور قیدیوں سے الگ مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا؛ میرا مطلب ان شہیدوں سے ہے جن کے جسم قید (دشمن کے پاس) تھے۔ بعد میں، جب جسم واپس آئے اور شہید ہادی کو دفن کیا گیا، اور برسوں بعد جب حاج عماد (مغنیہ) کو دفن کیا گیا اور شہیدوں کا قبرستان منظم کیا گیا، تب بھی انہوں نے اجازت نہیں دی کہ سید ہادی کی قبر پر کوئی ایسی چیز ہو جو اسے دوسرے شہیدوں سے ممتاز کرے۔ انہوں نے پوری سختی کے ساتھ کہا کہ میرا بیٹا بھی باقی شہیدوں کی طرح شہید ہوا ہے؛ خبردار کوئی اس کی قبر پر کوئی ایسی چیز نہ رکھے جو اسے دوسرے شہیدوں سے الگ کرے۔ اس معاملے میں بھی، انہیں ان ماؤں اور خاندانوں کا خیال تھا جو وہاں آتی تھیں۔ اس لیے، سید کی شدید انکساری کی وجہ سے، ہادی سنہ ۱۹۹۷ سے لے کر میرے والد کی شہادت سے پہلے اور آج تک، بہت سے شہیدوں کی طرح مظلوم اور کم جانا پہچانا رہا ہے۔
آپ کو اپنے بھائی کی شہادت کی خبر کیسے ملی؟
یہ واقعہ، ہنسنے والا بھی ہے اور رلانے والا بھی! ہادی اس گھر کو تیار کر رہا تھا جس میں اسے شادی کے بعد رہنا تھا اور اپنی ازدواجی زندگی شروع کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے، پورا خاندان سید کے ساتھ ایران گیا تھا؛ یہ سنہ ۱۹۹۰ میں جانے کے بعد، ایران کا ہمارا تقریباً آخری اور واحد خاندانی سفر تھا جو ہم نے ان کے ساتھ کیا۔
اس دن، سب سے پہلی چیز جس نے مجھے سمجھایا کہ کچھ ہوا ہے، وہ اس وقت تھی جب میں اپنے محلے کے گیٹ کے گارڈ روم کے پاس پہنچا۔ ہماری ایک اچھی پڑوسن میرے پاس آئی اور انہوں نے پوچھا، تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا، جواد۔ انہوں نے کہا، یعنی تم ہادی نہیں ہو؟ میں نے کہا، نہیں، میں ہادی نہیں ہوں۔ میں نے اپنے پیچھے آنے والے اپنے دوست سے کہا، خدا خیر کرے، شاید میرے بھائی ہادی نے اس کے بھتیجے کو مارا ہو یا کسی کو تکلیف دی ہو! اللہ جانے۔ پھر، میں گھر کی طرف بڑھا۔ گارڈوں کی خاموشی اور اس عورت کا سوال آہستہ آہستہ مجھے احساس دلانے لگے کہ کچھ ہوا ہے۔ جب میں پہنچا، تو میری بہن زینب نے دروازہ کھولا اور میں نے اس کے آنسو دیکھے؛ وہیں میں سمجھ گیا کہ خبر آ گئی ہے۔
جب میں اندر گیا، تو حاج عماد (رحمۃ اللہ علیہ) آگے آئے اور بولے، اندر آؤ (ہال میں آؤ)۔ ہمارے گھر میں والد صاحب کے لیے ایک خاص حصہ ہوتا تھا؛ میں وہاں گیا۔ پہلے مجھے لگا کہ والد صاحب ٹی وی دیکھ رہے ہیں؛ پھر دیکھا کہ نہیں، حاج عماد اور کچھ دوسرے لوگ کمرے میں تھے اور والد صاحب اکیلے لائبریری میں بیٹھے تھے۔ میں اندر گیا، انہیں چوما اور تعزیت پیش کی۔ پھر، حاج عماد نے ہمیں آواز دی اور کہا، آؤ۔ ہم گئے اور دیکھا کہ انہوں نے ٹی وی پر ویڈیو پلیئر کے ذریعے ایک فلم چلائی ہے تاکہ ہم زمین پر پڑے شہیدوں کے جسم دیکھ سکیں اور پہچان سکیں کہ کون ہادی ہے اور کون علی کوثرانی (دوسرا شہید) تاکہ وہ خبر کا اعلان کر سکیں۔
آپ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو یقین نہیں آ رہا تھا، جبکہ شہید سید ہادی کا جسم بھی دشمن کی قید میں چلا گیا تھا؛ یعنی اسرائیلیوں نے اس کا جسم میدان جنگ سے لے لیا تھا اور اس کی تصویر شائع کر دی تھی۔ اس کے باوجود، کچھ چھوٹی طبیعت کے لوگ اسی بات کو سید پر نکتہ چینی کرنے کا ہتھیار بنانا چاہتے تھے؛ حالانکہ یہ کوئی معمولی فخر نہیں تھا، بلکہ ایک شرف اور پاکیزہ نشانی تھی۔ اس کے باوجود، سید نے صرف ایک بار ہادی کے خلاف ان تہمتوں کے جواب میں دفاع کیا جو اس کی شہادت کی جگہ (محاذ) کے بارے میں لگائی جا رہی تھیں۔
بہرحال، ہم نے جسم کی پہچان کی اور ہادی کو اس کی ملی ہوئی بھوؤں سے پہچانا۔ اسرائیلیوں نے اس کا جسم تبادلے تک سرد خانے میں رکھا اور اسے اجتماعی قبروں میں دفن نہیں کیا۔
سید، مصیبت کے وقت بہت صبر کرنے والے اور اللہ سے ثواب کی امید رکھنے والے انسان تھے۔ ہم نے انہیں کبھی انتہائی یا بکھری ہوئی حالت میں نہیں دیکھا، سوائے اس وقت جب انہوں نے امام خمینی کے انتقال کی خبر سنی — جس لمحے کو میں یاد کرتا ہوں — یا، مثال کے طور پر، جب وہ اپنی پھوپھی کو تعزیت دے رہے تھے۔ ان کا دل بہت نرم تھا۔ مجھے یاد ہے، جب انہوں نے اپنی پھوپھی کو فون پر تعزیت دی اور فون رکھا، تو تنہائی میں روئے۔ لیکن ہادی اور دوسرے شہیدوں کے بارے میں وہ بہت مضبوط تھے اور خود کو لوگوں کے سامنے بہت سنبھال کر رکھتے تھے، البتہ عزائے اباعبداللہ (امام حسین) میں وہ روتے تھے۔
جب والد صاحب فیملی کے ساتھ ہوتے تھے، کیا وہ شہادت کے بارے میں بات کرتے تھے اور کیا آپ کے درمیان یہ موضوع آتا تھا؟
ہم سید کی شہادت کے بارے میں بات کرنا اپنے خیال میں بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے، اپنے درمیان تو بالکل بھی نہیں۔ بے شک، یہ جذباتی پہلو تھا؛ ورنہ ہم شہیدوں اور مزاحمت کے راستے پر جیتے تھے اور سید پر ہمیشہ قتل ہونے کا خطرہ رہتا تھا، یہاں تک کہ کئی بار وہ ہمیں جلدی سے گھر سے نکال کر چند دنوں یا تھوڑے عرصے کے لیے نامعلوم گھروں میں رکھتے تھے۔ بے شک، یہ آزادی (سنہ ۲۰۰۰) سے پہلے کے دور کی بات ہے؛ ۸۰ کی دہائی کے بعد بھی کئی بار سید کو قتل کرنے کی کوشش یا تو ناکام ہوئیں یا ان کا پردہ فاش ہوا اور خبر باہر آگئی۔ جیسا کہ میں نے کہا، بعلبک میں بھی لوگ ہمارے دروازے پر دستک دیتے تھے اور مشکوک گاڑیاں گھر کے قریب رکتی تھیں اور سید کی آمد و رفت پر نظر رکھتی تھیں۔ ۹۰ کی دہائی میں بھی اسرائیلیوں نے کئی بار انہیں قتل کرنے کی کوشش کی۔ اس لیے، شہادت ایک ایسا خطرہ تھا جو انہیں ہر روز دھمکاتا تھا۔
مثال کے طور پر، بیروت بندرگاہ کے دھماکے کے دن، میں گھر پر تھا کہ اچانک میں نے دیکھا کہ ضاحیہ میں زمین ہل گئی، ہر جگہ لرزش تھی، دھویں نے آسمان کو ڈھانپ لیا اور یہاں تک کہ جنوب (لبنان) کے لوگوں نے بھی جھٹکے محسوس کیے۔ میں گھر سے نیچے آیا اور دھواں دیکھ رہا تھا، لیکن صدمے کی شدت کی وجہ سے میں فاصلے کا صحیح اندازہ نہیں لگا پا رہا تھا؛ دھواں اتنا وسیع تھا کہ مجھے لگا جیسے تین عمارتوں کے پیچھے سے اٹھ رہا ہے۔ میں سڑک پر چل رہا تھا اور میرا دل تیز دھڑک رہا تھا؛ مجھے لگا کہ سید کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد کہا گیا کہ دھماکہ بندرگاہ میں ہوا ہے۔ وہیں میرا دل تھوڑا سکون ہوا اور میں واپس مڑا تاکہ جا کر دیکھوں کہ کیا ہوا ہے۔ مختصر یہ کہ مجھے سکون ہوا کہ حملہ سید پر نہیں تھا۔
قدرتی طور پر، سید کی جان اور صحت کے بارے میں ہمیشہ تشویش اور فکر رہتی تھی، لیکن آخر کار ہم مومن تھے اور کام کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیتے تھے۔ انسان چاہے کتنا بھی کر لے، اس کا اصل محافظ اللہ ہی ہے۔ یہاں تک کہ حاج نبیل (سید کے سیکورٹی انچارج) مجھ سے کہتے تھے کہ یہ مت سمجھو کہ میں کچھ کر رہا ہوں؛ میں اپنا فرض ادا کر رہا ہوں، لیکن جو انہیں بچاتا ہے وہ اللہ ہے۔ اس لیے، یہ تشویش ایک روزمرہ کی فکر نہیں بن جاتی تھی جو ہماری زندگی اور کام کو روک دے۔
ان کی شہادت سے پہلے، آخری بار آپ نے اپنے والد کو کب دیکھا تھا؟
ان کی شہادت سے تقریباً تین ماہ پہلے اور میری دادی کے انتقال کے تقریباً ایک ماہ بعد؛ میری دادی کا ۲۵ مئی ۲۰۲۴ کو انتقال ہوا تھا۔
کیا یہ ایک مختصر ملاقات تھی؟
جب وہ میری دادی (اپنی ماں) کو دیکھنے آئے، تو یہ ایک مختصر ملاقات تھی؛ انہوں نے (دادی کے لیے) سورہ یٰسین پڑھی اور دعا کی۔ تقریباً ایک ماہ بعد، ہم تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے لیے اپنی پھوپھیوں اور چچاؤں کے ساتھ بیٹھے؛ بے شک، ہر ایک کے ساتھ الگ الگ، کیونکہ حفاظتی حالات نے سب کو ایک ساتھ جمع ہونے کی اجازت نہیں دی۔ یہ آخری بار تھا جب میں نے انہیں قریب سے دیکھا۔ بے شک، میں فون پر ان کے رابطے میں تھا اور کہتا تھا کہ میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں اور آپ کو یاد کر رہا ہوں؛ لیکن تقدیر کچھ اور ہی تھی۔
اس آمنے سامنے کی ملاقات کے بعد، کوئی اور بات ہوئی؟ کیا آپ کو شہادت سے پہلے کی آخری فون کال یاد ہے؟
شہادت سے آٹھ دن پہلے میں نے ان سے بات کی تھی۔ ہفتہ کو فون کیا، لیکن وہ مصروف تھے۔ عام طور پر ہماری بات کا وقت صبح کی نماز (فجر) کے بعد ہوتا تھا اور اس دن صبح کی نماز کے بعد بھی وہ مصروف تھے۔ میں نے حاج نبیل، شہید ابراہیم جزینی سے بات کی۔ مجھے یاد نہیں کہ اتوار کو ان سے بات ہوئی ہو؛ مجھے نہیں لگتا۔ پیر سے، واقعات ایک کے بعد ایک شروع ہوئے اور وہ جمعہ کو شہید ہو گئے۔
آپ کو کب یقینی طور پر پتہ چلا کہ آپ کے والد شہید ہو گئے ہیں؟
حملے کے لمحے، ضاحیہ بری طرح ہل گیا۔ میرے کچھ دوستوں نے بعد میں مجھے اپنے دفاتر (جو ضاحیہ کے آس پاس تھے) کے اندر کی ویڈیوز دکھائیں کہ کیسے سب کچھ ہل رہا تھا۔ ہم جہاں تھے، وہاں بھی لرزش محسوس ہوئی؛ جیسے ۲۰۰۶ میں امام حسن کمپلیکس پر بمباری کی گئی تھی۔ اسی لمحے میں نیند سے چونک گیا، جبکہ میں ایک بے چین اور خوابِ بد جیسا خواب دیکھ رہا تھا۔ کچھ گھنٹوں بعد، اسرائیلیوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے 'فلاں' کو نشانہ بنایا ہے۔ ہم یقین اور عدم یقین کے درمیان تھے۔ بچے (بھائی/ساتھی) آئے اور کہا کہ ابھی کوئی خبر نہیں ہے اور انشاء اللہ بھلائی ہے۔ کچھ بھی واضح نہیں تھا اور ہم واقعی کچھ نہیں جانتے تھے۔
سچ کہوں تو شاید میں ان لوگوں کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتا؛ کسی میں بھی ایسی خبر کسی دوسرے کو دینے کی طاقت نہیں ہے، خاص طور پر سید کے خاندان کو۔ ہفتہ کو، جب حزب اللہ نے ایک بیان جاری کیا، تو ہمیں یقین ہو گیا۔ کچھ لوگ مجھے موبائل کے ذریعے ڈھونڈ رہے تھے تاکہ ٹی وی پر اعلان سے پہلے مجھے خبر دے سکیں اور جان سکیں کہ میں کہاں ہوں۔ یہ ایسے لمحات ہیں جنہیں میں نہ تو یاد کرنا پسند کرتا ہوں اور نہ ہی ان کے بارے میں بات کرنا۔
کیا کبھی آپ کی رہبر انقلاب (ایران کے سپریم لیڈر) سے فیملی ملاقات ہوئی؟
نہیں، کبھی بھی پوری فیملی ایک ساتھ آقا (رہبر) کی خدمت میں نہیں پہنچا تھا؛ نہ سید کی شہادت سے پہلے اور نہ ہی اس کے بعد۔ میرے والد کو بہت شرم (حیا) تھی اور وہ کسی کے لیے پریشانی یا بوجھ بننا پسند نہیں کرتے تھے۔ انہیں ہمیشہ کہا جاتا تھا کہ آپ خود آئیں، خاندان اور بچوں کو بھی لے آئیں، لیکن وہ مانتے نہیں تھے۔ شہادت کے بعد بھی ایسا نہیں ہوا کہ پوری فیملی ایک ساتھ آقا کی خدمت میں پہنچی ہو؛ ایسے حالات تھے جن کی تفصیلات کی ہمیں خبر نہیں تھی۔
پہلی بار آپ کی رہبر انقلاب سے کب ملاقات ہوئی؟
پہلی بار وہ تھا جب ہم امام خمینی (رح) کی تشییع جنازہ کے لیے ایران آئے تھے۔ میری عمر آٹھ سال تھی اور ہم تہران کے پرانے مصلیٰ (نماز کی جگہ) گئے تھے۔ اس دن جو خطبہ دے رہے تھے، وہ امام خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) تھے۔ میں ایسی جگہ بیٹھا تھا جہاں سے منبر صاف نظر نہیں آ رہا تھا؛ اس لیے میں خود کو اس طرف لے گیا جہاں سے میں انہیں دیکھ سکوں اور ہر چند لمحے چوری چھپے ان کی طرف دیکھتا رہتا تھا۔
کبھی کبھی ان برسوں میں — مثلاً، آقا کے جنازے کے بعد — میں سوچتا تھا کہ رہبر کی محبت ہمارے دلوں میں کیسے ڈالی گئی۔ والد صاحب کا اس میں بڑا کردار تھا، لیکن اصل بات تو اللہ کا کام تھا۔ ان ملاقاتوں سے پہلے، انسان کسی کو اس طرح کیسے پیار کر سکتا ہے؟ یا امام خمینی کو، جنہیں اس نے کبھی دیکھا ہی نہیں، کیسے پیار کر سکتا ہے؟ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ محبت اللہ کا کام ہے۔
جہاں تک مجھے یاد ہے، آقا سے میری پہلی براہ راست ملاقات سنہ ۱۹۹۹ میں ہوئی تھی۔ والد صاحب عام طور پر ہمیں اپنے ساتھ آقا کی ملاقات پر نہیں لے جاتے تھے۔ وہ ذاتی اور کام کے معاملات کو بہت سنجیدگی سے الگ رکھتے تھے اور بالکل پسند نہیں کرتے تھے کہ یہ دونوں آپس میں ملیں یا کسی کو ان کی وجہ سے شرمندگی اٹھانی پڑے۔ اس وقت میں ایران میں تھا اور جب والد صاحب آئے، تو انہوں نے مجھے بلوایا اور کہا کہ میں تمہیں ایک بہت خوبصورت جگہ لے جانا چاہتا ہوں؛ ہماری ایک اہم ملاقات ہے۔ ان کی بات سے میں سمجھ گیا کہ ان کا مطلب آقا سے ملاقات ہے۔ انہوں نے کہا کل اس وقت اپنے لیے کوئی کام مت رکھنا، میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ ہو۔ جب ہم بیت رہبری (رہبر کا گھر) کے احاطے میں پہنچے، تو مجھے یقین ہو گیا کہ ہمیں آقا سے ملنا ہے۔ والد صاحب اور ان کے ساتھی اجلاس میں گئے۔ ہال کے سامنے ایک چھوٹا سا باغیچہ تھا جہاں نماز کے لیے قالین بچھایا گیا تھا۔ سید، آقا سے پہلے باہر آئے اور اپنے ساتھ کے تمام محافظوں — جن میں سے کچھ ۲۰۲۴ کی جنگ میں شہید ہو گئے — کو بہت احتیاط سے ہدایات دے رہے تھے کہ آقا پر زور نہ ڈالیں، سخت برتاؤ نہ کریں، (ہاتھ ملانے کے وقت) بائیں ہاتھ سے ہاتھ مِلائیں اور ان کے دائیں ہاتھ کو نہ چھوئیں؛ یہاں تک کہ وہ کہتے تھے کہ کچھ مانگنا مت اور کوئی غیر ضروری بات مت کرو۔ لیکن میں نے 'کچھ مانگنا مت' والے حصے کی پیروی نہیں کی! اس لیے میں نے آقا اختری (سید محمد اختری) سے کہا کہ مجھے آقا سے ایک انگوٹھی چاہیے۔ میں بچپن سے آقا اختری کو جانتا تھا؛ میں انہیں سفارت خانے میں دیکھتا تھا، وہ ہمارے گھر آتے جاتے تھے اور والد صاحب کے ساتھ ان کے بہت اچھے تعلقات تھے اور وہ والد صاحب کو بہت پیار کرتے تھے۔ اسی وقت، آقا نے مجھے ایک انگوٹھی بھیج دی۔
کیا والد صاحب گھر پر امام خامنہ ای کے بارے میں بات کرتے تھے یا ان سے جڑی کوئی خاص یاد یا بات بتاتے تھے؟
ہمیں نہیں پتہ تھا کہ آقا کے ساتھ ان کی ملاقاتوں میں کیا ہوتا ہے؛ ملاقاتیں کام کی ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ کئی بار ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ والد صاحب کی آقا سے ملاقات ہوئی ہے، جب تک کہ وہ لبنان واپس نہ آ جائیں یا تھوڑی دیر بعد ہمیں پتہ چلے کہ وہ ایران گئے تھے اور ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے آنے جانے اور یہاں تک کہ بیروت اور کام کی جگہ پر ان کے عام مہمان بھی پوری طرح خفیہ رہتے تھے؛ یہاں تک کہ ان کے بہت سے ساتھیوں کو بھی اس کی خبر نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے، یہ معاملات گھر پر بحث و بات کا موضوع نہیں تھے۔
بے شک، کبھی کبھی وہ کہتے تھے، مثلاً، جب میں آقا کی خدمت میں تھا، تو ایسا واقعہ پیش آیا؛ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی ہمارے لیے دلچسپ ہوتی تھیں۔ وہ کہتے تھے کہ نجی ملاقاتوں میں، عام ہال میں نہیں، بلکہ آقا کی لائبریری میں بیٹھتے ہیں۔ ایک بار جب انہوں نے لائبریری میں ایک ساتھ تصویر کھنچوائی، تو آقا نے ان سے کہا تھا کہ کچھ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور تمہارے ساتھ تصویر لینا چاہتے ہیں؛ یعنی آقا کی بیٹیاں اور ان کی بہوئیں۔ سید کہتے تھے کہ چونکہ یہ درخواست خود آقا نے کی تھی، اس لیے میں نے قبول کر لیا۔ وہ آقا کے بچوں اور خاندان کی محبت سے آگاہ تھے۔ آقا کا خاندان سید کے لیے اپنی بے پناہ محبت کے لیے جانا جاتا تھا۔ ہم بھی جانتے تھے کہ ہمارے والد میں کتنی شرم اور حیا تھی۔
کیا وہ اپنی گفتگو یا، مثال کے طور پر، یادگار تصاویر کے بارے میں کچھ بتاتے تھے؟
نہیں، وہ کچھ نہیں بتاتے تھے۔ ان کی باتیں یا تو کام کی ہوتی تھیں، یا اگر ان کا عرفانی پہلو ہوتا تھا، تو اہل عرفان رازوں کو فاش نہیں کرتے۔ کبھی کبھی آخری سالوں میں، وہ نماز کے بعد کی دعاؤں (تعقیبات) یا کسی خاص استخارے کے بارے میں مجھے لکھ کر دیتے تھے اور میں قرائن سے سمجھ جاتا تھا کہ یہ بات انہوں نے آقا سے لی ہے اور کچھ دن پہلے ہی ان کی خدمت میں رہے ہیں۔ وہ نہ صرف قیادت اور معاملات میں آقا کی گہری نگاہ پر، بلکہ ان کے عرفان اور بصیرت پر بھی پورا یقین رکھتے تھے۔
کیا ان کے درمیان عرفانی معاملات میں بھی تعلق تھا؟
جی ہاں، ضرور۔ خود ہم بھی آقا کے عرفان پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ بات سنہ ۲۰۰۶ میں عام لوگوں کے لیے واضح ہو گئی؛ جب آقا نے فتح کی خبر دی اور کہا کہ حزب اللہ ایک علاقائی طاقت بن جائے گی، اور ایسا ہی ہوا۔ میرے والد نے ایک بار کسی سے کہا تھا کہ جب ہمارے پاس آقا موجود ہیں، تو ہم اہل سلوک (عارف) کو دیکھنے کے لیے دور کیوں جائیں۔ بے شک، وہ ان کا احترام کرتے تھے اور خود بھی کبھی کبھی ان سے ملنے جاتے تھے اور بات کرتے تھے؛ لیکن ان کا مطلب یہ تھا کہ جب تم ایک روشن، قریب اور شیریں چشمے کے پاس ہو، تو دور کیوں جاؤ۔ انسان کبھی کبھی کچھ لوگوں سے سوال پوچھنے یا وضاحت مانگنے میں شرماتا ہے، لیکن میرے والد آقا کے ساتھ زیادہ آسان تھے؛ چاہے عرفانی، سائنسی، سیاسی یا اس قسم کے معاملات ہوں، کیونکہ ۸۰ کی دہائی کے اوائل سے ہی ان کے ساتھ ان کا گہرا اور پرانا تعلق تھا۔ ایک بار میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آقا کے ساتھ اس گہرے تعلق کی کیا وجہ ہے، تو انہوں نے کہا کہ میرا امام خامنہ ای سے تعلق ۸۰ کی دہائی کے اوائل سے ہے؛ یعنی یا تو جب وہ صدر بنے، یا اس سے کچھ پہلے۔
کیا آپ نے اپنے والد کی شہادت کے بعد آقا (رہبر انقلاب آيت اللہ سید علی خامنہ ای) سے ملاقات کی؟
تشییع جنازے سے پہلے میں ایران آیا اور آقا کے پیچھے نماز پڑھی۔
آپ کے ساتھ کون تھا؟
میں اکیلا تھا اور خاندان میں سے کوئی میرے ساتھ نہیں تھا۔ اس وقت بھی ہم جنگ کے حالات میں تھے۔
جنازے سے کتنے دن پہلے تھا؟
جنازے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے میں یہاں (ایران) تھا؛ نماز کے لیے مجھے بلایا گیا اور میں آیا۔ میں آخری شخص تھا جو آقا کا ہاتھ چومنے کا انتظار کر رہا تھا۔ ان کا چہرہ ایسا تھا کہ کوئی بھی انہیں اس حالت میں نہیں دیکھنا چاہتا؛ تھکاوٹ اور غم پوری طرح ان کے چہرے پر نمایاں تھا۔ مجھے اپنی پچھلی ملاقاتیں یاد تھیں؛ ہر بار جب میں ان کی خدمت میں پہنچتا تھا، ان کا چہرہ کھلا اور مسکراہٹ والا ہوتا تھا اور ان کی ملاقات دل کو خوش کر دیتی تھی، لیکن اس بار یہ بالکل مختلف تھا۔ جب میں ہال اور احاطے سے باہر نکلا، تو میں نے دل ہی دل میں کہا کہ کاش میں نہ آتا اور آقا کو اس حالت میں نہ دیکھتا۔ ان کی عمر بڑھ چکی تھی اور ان کی داڑھی پوری طرح سفید ہو چکی تھی، لیکن اس دن جب میں نے آقا کو دیکھا تو مجھے لگا جیسے میرا اپنا دل بوڑھا ہو گیا ہو۔ میں ان کے چہرے پر تھکاوٹ اور غم دیکھ رہا تھا۔ ہم نے دو لفظوں سے زیادہ بات نہیں کی؛ وہ بہت تھکے ہوئے تھے۔ میں نے ان کا ہاتھ چوما، انہوں نے میری والدہ کا حال پوچھا اور کہا کہ انہیں میرا سلام کہنا، پھر چلے گئے۔
دوسری بار جب میں ان سے ملنے آیا، تو جنازے کے بعد تھا؛ جہاں تک مجھے یاد ہے، بارہ روزہ جنگ سے پہلے۔ ایک اجلاس منعقد ہوا اور میں، میرے بھائی سید مہدی اور میری بہن زینب موجود تھے۔ پھر ہم ہال کے پیچھے گئے اور آقا کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگے۔ جیسے ہی وہ آئے، انہوں نے مسکرا کر سلام کیا؛ اسی ایک مسکراہٹ نے ہمارا سارا غم دور کر دیا۔ میں نے انہیں چوما۔ سبحان اللہ! واقعی ان میں عجیب کشش تھی۔ وہ بالکل اسی طرح تھے جیسا میں نے سید (والد) کے بارے میں کہا: جب تم کافی دنوں سے ان کا انتظار کر رہے ہو اور ان کی یاد میں تڑپ رہے ہو، اور پھر ایک گھنٹہ ان کے ساتھ بیٹھتے ہو، تو بہت سارے غم، پریشانیاں اور سوالات ختم ہو جاتے ہیں۔ اس لمحے بھی جب آقا دروازوں کے پیچھے سے اور منبر کے پاس سے باہر آئے، میں نے انہیں چوما، سلام کیا اور ان سے اپنے لیے دعا کرنے کی درخواست کی۔ سید مہدی نے بھی ایسا ہی کیا۔ وہ مختصر ملاقات ہمارے غم اور اندوہ کے ایک بڑے حصے کو ہلکا کرنے کے لیے کافی تھی۔
یہاں تک کہ کچھ عرصہ پہلے، جب میرے بھائی سید مہدی آقا کی خدمت میں پہنچے اور انہوں نے ان کے سر پر عمامہ رکھا، تو ان سے کہا کہ میں سید (حسن) کو نہیں بھولتا اور انہیں کبھی نہیں بھلایا ہے؛ سید کے درجات ہر روز جنت میں بلند ہوتے رہتے ہیں۔ یہ کیسی بات ہے؟ اس کا ایک عرفانی پہلو ہے؛ آقا محض دلاسہ دینے، تعزیت اور ہمدردی کے لیے کوئی جذباتی بات نہیں کر رہے کہ سید کے درجات ہر روز جنت میں بلند ہوتے رہتے ہیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سید حسن کے بعد حزب اللہ اب وہ حزب اللہ نہیں رہی اور کمزور ہو گئی ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ ہم جنگ کے میدان کے بیچ میں ہیں اور جنگ میں اتار چڑھاؤ ہوتے ہیں؛ ایک دن ہمارے حق میں ہوتا ہے اور ایک دن دشمن کے حق میں۔ مادی محاسبات میں، کسی تحریک کے رہنما کا مارا جانا یا یہاں تک کہ امام اور رہبر کی شہادت کو شکست سمجھا جا سکتا ہے، لیکن ہم کربلا کی اولاد ہیں؛ یہ عزم، استقامت اور قربانی دینے کی تیاری، امام حسین (علیہ السلام) کے خون سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر کسی جہادی اور ایمانی تحریک میں — جیسا کہ امام خامنہ ای نے حزب اللہ کی تحریک کو بیان کیا — رہنماؤں اور سادات کی شہادت کا مطلب شکست ہو، یا اگر ہم اسلامی جمہوریہ کے بارے میں، جو امام خمینی کی انقلاب کی تسلسل ہے اور کربلا کی ثقافت پر مبنی ہے، ایسا سوچتے ہیں، تو درحقیقت ہم اپنے ہی اصولوں کے ساتھ تضاد میں پڑ جاتے ہیں۔ امام خمینی کہتے تھے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ کربلا اور امام حسین (علیہ السلام) کے عاشورا سے ہے۔ اس لیے، ہماری تحریک کی بنیاد امام حسین کے خون، قربانی اور شہادت کی وجہ سے زندہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جنہوں نے اس راہ میں خون نہیں دیا، وہ اس احساس کو پوری طرح نہ سمجھ سکیں — بے شک، شاید وہ اس پر ایمان رکھتے ہوں — لیکن جس نے خود خون دیا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کا تعلق اور شراکت کہیں زیادہ گہری، سنجیدہ اور قیمتی ہو گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، جو شخص دشمن سے خون کا بدلہ لینا چاہتا ہے، وہ اس راہ پر اور زیادہ پختہ اور مستحکم ہو جاتا ہے۔
امام خامنہ ای کی شہادت، سید کی شہادت اور ان کمانڈروں کی شہادت جو ان سے پہلے یا ان دونوں ادوار کے درمیان شہید ہوئے، تحریک کو زیادہ قوت اور رفتار دیتی ہے اور ہر کوئی اس خون کا اثر دیکھے گا۔ آج لبنان میں جاری رکھنے اور قربانی دینے کے لیے، بس یہ ایک جملہ کافی ہے: سید شہید ہو گئے؛ اب ہمارے پاس کیا بچا ہے؟ اس لیے ہمیں راہ کے آخر تک جانا ہے۔ ہم آخری منزل پر پہنچ چکے ہیں اور ہماری سب سے قیمتی چیز ہم نے پیش کر دی ہے۔ اب امام خامنہ ای کی شہادت کے بعد، کون امریکہ اور اسرائیل کی علاقے میں استکباری، ظالمانہ اور برتری پسندانہ منصوبہ بندی، ان کی عہد شکنی، دھوکہ دہی اور لالچ کے بارے میں شک کر سکتا ہے؟ تقریباً ۴۵ سے ۴۷ سال کی قربانی، شہادت، چیلنج اور جنگ کے بعد، کون ہتھیار ڈالنے کو تیار ہے؟
پس یہ شہادت نہ صرف تحریک کو روکتی ہے، بلکہ زیادہ حوصلہ، زیادہ اصرار اور بلند بصیرت پیدا کرتی ہے۔ جو کوئی آج پیچھے رہ جاتا ہے، اسے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ شاید اس کی ایک برکت یہ بھی ہے کہ ہم اس مشکل فضا میں آ گئے ہیں۔ خود سید کہتے تھے کہ یہ دور چھٹنی، آزمائش اور صفوں کے الگ ہونے کا دور ہے؛ لوگ اور گروہ ایک دوسرے سے پہچانے جاتے ہیں۔ سید کے الفاظ میں، اللہ تعالیٰ فتح کو خالص اور کھرے لوگوں کو دیتا ہے؛ یعنی اس خالص اور مومن گروہ کو جس نے اس راہ میں اللہ کے قریب ہونے کے سوا کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ یہ بھی معاملے کی ایک برکت اور مثبت پہلوؤں میں سے ایک ہے اور سب کچھ تاریک نہیں ہے۔ اللہ کا وعدہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جنت ان آزمائشوں، مشکلات اور بلاوں کا بدلہ ہے جو مومن اس دنیا میں جھیلتے ہیں۔ سختی اور آسانی میں، یا تو ہمیں ایمان والا ہونا چاہیے، یا پھر دین صرف لقلقہ زبانی (زبان پر لگی ہوئی بات) ہو اور ہم جو بھی باتیں کرین ، وہ صرف میڈیا اور ظاہری دکھاوے کے لیے ہو۔ الحمدللہ، ہم بھی شہیدوں کے خاندانوں کی گنتی میں شامل ہو گئے ہیں اور شہیدوں کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مجاہدین اور شہیدوں کے خاندانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ قربانی، ایمان اور وفاداری والے ہیں اور انشاء اللہ وہی فتح اور قریب کی کامیابی کے مستحق ہوں گے۔
ان دنوں کچھ میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ نے مزاحمتی گروہوں کو چھوڑ دیا ہے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
پہلی بات تو یہ کہ یہ صیہونی پروپیگنڈہ مشینری اور تنخواہ لینے والے مزدور ہیں۔ اسلامی جمہوریہ آپ کو کیسے چھوڑ سکتا ہے، جبکہ پہلے دنوں سے، جب وہ خود اپنی کمزور ترین حالت میں تھا اور اس پر مسلط کردہ جنگ (ایران-عراق جنگ) کے بیچ میں تھا، اس نے آپ کو اکیلا نہیں چھوڑا؟ اب وہ کیوں چھوڑے؟ چھوڑنا، کمزوری اور غداری، علی بن ابی طالب، امام خمینی اور امام خامنہ ای کی اولاد کا کام نہیں ہے۔ ہم یہ بات گھر کے اندر سے جانتے ہیں۔ میں اپنے والد کے پاس بیٹھتا تھا اور دیکھتا تھا کہ آقا (رہبر) اور اسلامی جمہوریہ کی موجودگی انہیں کتنا اطمینان دیتی تھی۔
بس ایک مثال دیتا ہوں۔ کبھی کبھی میں ان کے ساتھ مذاق کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں لوگوں کی آپ سے محبت کتنی زیادہ ہے اور آپ کا مقام کتنا بلند ہے؛ یہاں تک کہ جب میں ایران آتا ہوں، تو یہ محبت لبنان کے مقابلے میں زیادہ واضح طور پر دیکھتا ہوں، کیونکہ یہاں کے لوگ اسے بہت صاف صاف ظاہر کرتے تھے۔ ایک بار میں اپنے والد کے پاس بیٹھا تھا اور وہ کسی سے فون پر بات کر رہے تھے، کہہ رہے تھے کہ یہ معاملہ ٹھیک ہو جائے گا یا اس طرح کی کوئی بات۔ اس معاملے کی اندرونی تفصیلات تھیں اور میں نے جان بوجھ کر نہیں سنا — یعنی میں خود کو اس میں داخل ہونے کا کوئی حق نہیں دیتا تھا — لیکن ان کے ایک جملے نے میری توجہ حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں، وہ جو چاہے مجھے بھیج دے؛ میں یہ معاملہ آقا (امام خامنہ ای) کے ساتھ حل کروں گا، میں خود ان سے کہوں گا۔
چھوڑنا، ناشکری اور غداری، وہ رویہ ہے جو سامراجی اور ظالم اپنے غلاموں کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ سید کہتے تھے، ہم ولی فقیہ کے نزدیک عزیز اور صاحب عزت ہیں۔ اسلامی جمہوریہ اور حزب اللہ کے درمیان، امام خامنہ ای اور سید حسن کے درمیان، اور ہمارے اور مختلف عہدوں پر اپنے بھائیوں، خاص طور پر سپاہ پاسداران انقلاب میں، ایک ایسا رشتہ ہے جو محبت، پہچان اور لگاؤ پر مبنی ہے۔ میں پہچان کی بنیاد پر بات کر رہا ہوں۔ جو کوئی بھی الحاج قاسم سلیمانی اور دوسرے کمانڈروں اور شہیدوں کو جانتا ہے جن کا حزب اللہ سے براہ راست تعلق تھا، وہ جانتا ہے کہ ان کا پچھلے شہید کمانڈروں اور سید کے ساتھ کتنا گہرا تعلق تھا۔ وہاں ایک حقیقی بھائی چارہ ہے؛ جو ان چھوٹے اور مزدور لوگوں کی سمجھ اور تصور سے بالاتر ہے۔ ان کے پاس گالی گلوچ، شکوک و شبہات پھیلانے، بے عقلی اور ابتذال کے سوا کوئی منطق نہیں ہے۔ بدقسمتی سے، لبنان میں اظہار رائے کی آزادی — اور وہ بھی صرف اپنے اور اپنے گروہ کے لیے — کے بہانے، تمام مقدسات کی توہین کی جاتی ہے اور کسی حد کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ بس ان پروپیگنڈہ کرنے والوں کی مثالیں، طرز عمل اور اخلاقی پس منظر، یہاں تک کہ ذاتی زندگی دیکھ لیں، تو آپ کو "سور کے منھ سے صرف گھر گھر کی آواز باہر آتی ہے" کا مطلب سمجھ میں آ جائے گا۔
بہرحال، ہمیں ان باتوں سے زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ امیرالمومنین علی بن ابی طالب (علیہ السلام) نے اپنے اس مقام و مرتبے کے ساتھ، جسے پوری دنیا تسلیم کرتی ہے، ساٹھ یا ستر سال گالیاں سنیں؛ تو ہماری کیا حیثیت ہے! لیکن امام خامنہ ای کا خوبصورت قول یہ ہے کہ یہ سچ ہے کہ ہم مظلوم ہیں، لیکن ہم طاقتور بھی ہیں؛ انشاء اللہ۔
آخری سوال: سید حسن نصراللہ کا خاندان امام خامنہ ای کی شہادت کے وقت کہاں تھا؟
میں اپنے گھر پر نہیں تھا۔ اس رات سارے فیملی ممبرایک ساتھ نہیں تھے، حالانکہ خاص طور پر سید کی شہادت کے بعد ہم ایسی نسشت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے شک، اس سے پہلے بھی ہم اکٹھے ہوتے تھے، لیکن اس قدر توجہ کے ساتھ نہیں کہ تمام بہنیں اور بھائی ضرور افطار کی میز پر ساتھ ہوں۔ میں اس رات ایک رشتہ دار کے گھر افطار کر رہا تھا۔
جیسے جیسے ماحول آہستہ آہستہ مبہم ہوتا گیا — نہ کوئی خبر تھی، نہ کوئی تصدیق، نہ کوئی تردید — بالکل ویسا ہی ماحول تھا جیسا میرے والد کی شہادت والی رات کو تھا۔ ہم بے چین تھے اور ہمارے پاس قطعی خبر نہیں تھی؛ ایک طرف، ہمارا دل کچھ کہہ رہا تھا کہ کچھ ہوا ہے، اور دوسری طرف، اسرائیلی دعویٰ کر رہے تھے اور دوسری طرف تردید ہو رہی تھی۔ یہاں تک کہ ہمارے ساتھیوں کو بھی اس لمحے پوری طرح یقین نہیں تھا۔ اسی رات، جب آقا (رح) کی شہادت ہوئی، میں نے اپنے اس رشتہ دار سے جو میرے پاس بیٹھا تھا، کہا کہ میرا احساس بالکل میرے والد کی شہادت والی رات جیسا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ میرے والد کی شہادت کی دوسری رات ہے۔
بے شک، اس غم کے ساتھ ساتھ، ایک پہلو سے، ایک قسم کا سکون بھی تھا۔ یہاں میں پھر سے آقا کے عرفانی پہلو پر آتا ہوں۔ ہم ویڈیوز میں دیکھتے تھے کہ ایک نوجوان ان کی خدمت میں آتا تھا اور کہتا تھا کہ میرے لیے دعا کریں کہ میں شہید ہو جاؤں، آقا کہتے تھے کہ انشاء اللہ ۷۰، ۸۰ یا ۹۰ سال کی عمر میں شہید ہونا؛ ابھی جاؤ، پڑھائی کرو اور اپنے معاشرے کے لیے مفید بنو۔ درحقیقت، انہوں نے اپنے بارے میں بھی یہی کہا تھا؛ کہ ان کی شہادت بڑھاپے میں ہوگی۔ اتنی عظمت والا شخص، واقعی اپنے دور کا یکتا تھا۔ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا اور جانا ہے، لیکن آقا کی مضبوطی، شوکت اور شخصیت، معاملات کی سمجھ اور نظر، ان کے خیالات اور تحریریں، سب کچھ بتاتا تھا کہ آپ ایک مختلف انسان اور ایک مختلف نمونے کے سامنے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی کا اختتام شہادت کے ساتھ کیا، یہ صرف ایک ذاتی انجام نہیں تھا؛ اسے ایک وسیع تر افق سے دیکھا جانا چاہیے کہ اس خون کو اسلامی جمہوریہ اور اس راستے کی حفاظت کے لیے کیسے استعمال کیا گیا۔
جیسا کہ میں نے کہا، ہم نے اپنی سب سے قیمتی چیز پیش کر دی؛ لیکن اس کے بدلے میں، وہ اس آیت کے مصداق تھے "صَدَقوا ما عاهَدُوا اللهَ عَلَیه" (انہوں نے اللہ سے کیے گئے اپنے عہد کو پورا کیا)۔ چاہے سید ہوں یا امام خامنہ ای، دونوں نے اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کیا۔ یہ ہمارے لیے اور ان تمام لوگوں کے لیے، جن کے بال سفید ہو رہے ہیں، ایک تحریک ہے کہ ابھی بھی وقت ہے؛ لیکن ہمیں خوف اور وسوسوں کے سامنے وفادار، ثابت قدم اور مضبوط رہنا چاہیے، اور پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی سے اس راستے کو جاری رکھنا چاہیے۔
لیکن بہت سادہ اور کسی بھی انسان کی طرح، میں کہتا ہوں کہ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (خدا ان کی عمر کو لمبی اور مبارک کرے) کے آنے سے ، ہمارے غم، اندوہ اور دل کے دکھ کے ایک حصے کو سکون مل گیا۔ ایک رہبر (رہنما) کو کھو دینا، جس کے ساتھ آپ کا صرف ایک رسمی تعلق ہے، ایک بات ہے، لیکن اس رہبر کو کھو دینا جو آپ کا محبوب اور عشق ہے، دوسری بات ہے۔ میں ہمیشہ کہتا تھا کہ میں امام رضا (علیہ السلام) کی زیارت اور امام خامنہ ای کو دیکھنے کے لیے ایران آتا ہوں، اور سب جانتے ہیں کہ میں کس شوق کے ساتھ آقا (رہبر) کے دیدار کا انتظار کرتا تھا۔ میرے لیے دیدار کا دن عید جیسا ہوتا تھا؛ جیسے آپ کو اپنی زندگی بھر کی محنت کا انعام ملنے والا ہو۔ امام خامنہ ای کو دیکھنے کے لیے میرا انتظار اور تیاری ایسی ہی تھی۔ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (اطال اللہ فی عمرہ) کی موجودگی بھی واقعی ہماری آنکھوں کا نور، ہمارے دل اور جان کا سکون اور ہمارے زخموں پر مرہم ہے۔ میں ہمیشہ اس جملے کو دہراتا ہوں: انشاء اللہ وہ نور ہیں، نور سے ہیں، نور، محبت، ولایت اور اطاعت کے مالک ہیں، اور اس مقام کے مستحق ہیں۔
میرا عقیدہ ہے، جو ہم سنتے ہیں، اس کی بنیاد پر، کہ انشاء اللہ یہ ایک الٰہی تدبیر ہے اور حضرت صاحب الامر (امام مہدی، علیہ السلام) کی نگرانی میں ہے۔ یہ صرف ایک جذباتی احساس نہیں ہے، بلکہ ایک یقین ہے۔ بے شک، جذباتی طور پر بھی، سید مجتبیٰ واقعی دلوں کے مالک ہیں۔ میں اپنی، اپنے خاندان اور اپنے قریبی لوگوں کی بات کر رہا ہوں۔ سب کہتے ہیں کہ انہیں بتا دو کہ ہم ان کے ساتھ ہیں؛ اسی محبت، اسی اطاعت اور اسی ولایت کے ساتھ، اور آپ کا ہمارے دلوں میں وہی مقام ہے۔
سبحان اللہ! یہ اللہ کا کام ہے؛ ورنہ اتنی محبت اور مومنین اور دوستوں کے دلوں میں یہ گہری رسائی کہاں سے آتی ہے؟
امام خامنہ ای کی شہادت کا اثر دنیا کی قوموں، خاص طور پر عرب دنیا کے لوگوں کے ردعمل میں دیکھا جانا چاہیے۔ میں نے خود انہی دنوں سوشل میڈیا پر ردعمل کو فالو کیا تھا۔ صرف ایرانی ہی نہیں تھے جو امام خامنہ ای سے معافی مانگ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم نے آپ کو نہیں پہچانا؛ کچھ عرب ممالک میں بھی لوگ کہہ رہے تھے کہ ہمیں دھوکہ دیا گیا، ہماری آنکھیں بند کر دی گئیں اور جان بوجھ کر ایسا کیا گیا کہ ہم آپ کو پہچان نہ سکیں،آپ سے نفرت کریں اور آپ سے محبت نہ کریں؛ اور پھر، وہ ان کی تعریف کر رہے تھے۔ یہ امام کی شہادت کی برکتیں ہیں۔
ایک تشریح جو مجھے ان بزرگوں کے بارے میں درست لگتی ہے، وہ یہ ہے: اپنے والد کی شہادت سے پہلے، میں سوچتا تھا کہ اللہ نے انہیں سن ۲۰۰۰ اور ۲۰۰۶ کی فتح، اتنی مقبولیت اور یہ عالمی مقام دیا ہے؛ تو اللہ ان کا اور کیسے احترام کرے گا؟ پھر، اللہ نے شہادت کے ذریعے انہیں عزت بخشی۔ تب مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ مقبولیت اور عالمیت سے بالاتر، تقدس ہے؛ اور تقدس صرف شہادت کے ساتھ مکمل ہوتا ہے۔
حدیث قدسی میں آیا ہے کہ "جب میں اپنے بندے سے محبت کرتا ہوں، تو میں اسے قتل کرتا ہوں؛ اور جب میں اسے قتل کرتا ہوں، تو اس کا خون بہا مجھ پر ہے اور میں خود اس کا خون بہا ہوں۔" اللہ ان بزرگوں سے محبت کرتا تھا، انہیں اپنے پاس بلا لیا اور شہادت کو بہترین طریقے سے ان کے مقدر میں کیا، یہاں تک کہ ان کی شہادت کا طریقہ بھی ان کے مرتبے کے مناسب تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چھوٹے بڑے پہلو میں ان کا کام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس لیے، ان کی عمر اللہ کے لیے تھی، ان کی زندگی اللہ کے لیے تھی، ان کی شہادت اللہ کے لیے تھی اور ان کا خون بھی اللہ کے لیے ہی رہے گا۔
یہ کتنی بڑی سرمایہ کاری ہے! ہو سکتا ہے کہ میں اور آپ کچھ لمحات کے لیے اللہ کے لیے خالص ہوں، پھر کہیں غفلت کر جائیں یا اپنی زندگی کا ایک حصہ اس راستے سے الگ کر لیں؛ لیکن یہ بزرگ اپنی جوانی کے آغاز سے لے کر اپنی زندگی کے اختتام تک، شہادت کے لمحے تک اور یہاں تک کہ اپنی شہادت کے بعد بھی، اللہ کے لیے ایک خالص سرمایہ تھے۔
سید صاحب! ہمیں آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے ہمیں اپنا وقت دیا۔ اگر کوئی اور بات باقی ہے، تو براہ کرم بتائیں۔
خدا آپ کو محفوظ رکھے۔ میں واقعی بہت خوش ہوں کہ یہ گفتگو ہوئی۔ میں ہمیشہ سوشل میڈیا پر امام شہید کا تعارف کرانے کے لیے سخت موقف رکھتا تھا؛ میں کہتا تھا کہ میں لڑوں گا تاکہ سائبر اسپیس میں امام شہید سے متعلق صفحات فعال رہیں اور دکھائی دیں۔ مخالفین میرے بارے میں بری باتیں کہتے تھے، لیکن اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرے خیال سے ہمارا فرض ہے کہ ہم امام شہید کو دنیا سے متعارف کرائیں اور سب کو بتائیں کہ وہ کون تھے۔ میرے والد کہتے تھے کہ ہمیں رہبر کا تعارف کروانا چاہیے، کیونکہ وہ دنیا کے سب سے مظلوم انسان ہیں۔ اس لیے، میں بھی جتنا ہو سکے، ہر ممکن کوشش کرنے کی کوشش کروں گا۔ آپ یہ جان لیں کہ لبنان کے بہت سے نوجوان بھی آقا (رہبر) سے محبت کرتے ہیں۔
2 اگست 2026
