لبنان کی تحریک امل کی مجلس عاملہ کے رکن خلیل حمدان:

امام خامنہ ای فداکاری، جہاد اور استقامت میں بے مثال تھے

امام خامنہ ای فداکاری، جہاد اور استقامت میں بے مثال تھے

جناب خلیل حمدان! سب سے پہلے میں آپ کی خدمت میں سلام اور خوش آمدید عرض کرتا ہوں اور آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت ہمیں دیا تاکہ KHAMENEI.IR  کے پورٹل کی طرف سے آپ سے گفتگو کر سکیں...

یہ میرے لیے افتخار کی بات ہے... میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔

سوال: پہلے سوال کے طور پر، براہ کرم اسلامی انقلاب اور امام خمینی (قدس سرہ) کے ساتھ امام سید موسیٰ صدر کے رشتے کے بارے میں بتائيے اور یہ بھی بتائیے کہ شہید چمران نے ان کے درمیان تشکیل پانے والے رشتے میں کیا کردار ادا کیا تھا؟

خلیل حمدان: ایران کے اسلامی انقلاب اور امام خمینی (قدس سرہ) کے ساتھ مغوی امام سید موسیٰ صدر کے رشتے کے بارے میں اختصار سے بات کرنا ابتدا ہی سے بولنے والے کے لیے مشکل ہے کیونکہ اس رشتے اور تعلق کی ایک طویل تاریخ ہے جسے چند جملوں میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔ یہ تعلق گہرا اور مستحکم بھی تھا اور بہت اپنائیت والا بھی اور اس میں ملاقاتوں اور وسیع رابطوں کا ایک بحر بے کراں پایا جاتا تھا۔ مغوی امام، رہبر، سید موسیٰ صدر کا دل، امام خمینی کی محبت سے سرشار تھا اور ایران کے حالات کو تبدیل کرنے اور اسلامی جمہوریۂ ایران کو ایک مستقبل ساز جمہوریہ کے طور پر قائم کرنے کے لیے انھیں امام خمینی سے بڑی امیدیں تھیں۔ لبنان کے مستقبل کے بارے میں بھی انھیں ایسی ہی امیدیں تھیں۔ دوسرے لفظوں میں امام سید موسیٰ صدر کبھی بھی ایران میں انقلاب کی فکر سے دور نہیں رہے اور امام خمینی (قدس سرہ) بھی لبنان کے مسائل اور وہاں کی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لینے سے کبھی غافل نہیں رہے۔

اس تناظر میں کچھ نکات کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلی بات شہید مصطفیٰ چمران کی لبنان آمد کی ہے۔ یہ ممتاز اور بے مثال انسان اتفاق سے یا محض ملازمت تلاش کرنے کے لیے لبنان نہیں آئے تھے۔ امریکا میں انھیں اہم ترین علمی و سائنسی پوزیشن حاصل تھی، یہاں تک کہ وہ ناسا میں بھی ایک عہدے پر فائز تھے۔ انھوں نے پلاسما فزکس میں ڈاکٹریٹ کی تھی اور ایک معروف اور ممتاز شخصیت تھے۔ اس کے باوجود انھوں نے ان تمام مواقع کو ترک کر دیا تاکہ اس انقلاب کے راستے کو جاری رکھ سکیں۔

در حقیقت شہید مصطفیٰ چمران کو امام خمینی (قدس سرہ) اور امام سید موسیٰ صدر کے درمیان ، خداوند انھیں صحیح سلامت واپس لوٹائے، رشتے اور رابطے کی سب سے نمایاں کڑی قرار دیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے 1964 میں مصر میں ٹریننگ کے بعد، سوئٹزرلینڈ میں جمال عبدالناصر کے نمائندے فتحی دیب کے ذریعے، جو اس وقت دنیا کی آزادی کی تحریکوں کے ساتھ رابطے کے ذمہ دار تھے، ابراہیم یزدی اور بیرون ملک مقیم ایرانی انقلابیوں کے ایک گروہ کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا کہ خفیہ طور پر ایک نئی نسل کو ٹریننگ دی جائے اور اسے منظم کیا جائے۔ عبدالناصر نے بھی اس پروگرام کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ سلسلہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔ تاہم رفتہ رفتہ شہید چمران نے ان ملاقاتوں کو وسعت دینے اور ایسی نسل کی ٹریننگ کی کوشش شروع کی جو عسکری اور فکری اعتبار سے ایران کے سرنگوں ہو چکے شاہ کی حکومت کا مقابلہ کر سکے۔

اس کے بعد امام سید موسیٰ صدر نے جرمنی کے ایک سفر کے دوران سید صادق طباطبائی اور کچھ ایرانی برادران سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ وہ ایسے قابل شخص کو تلاش کریں جو امام خمینی کے افکار کا بھی قائل ہو تاکہ جبل عامل کے فنی و پیشہ ورانہ ادارے کا مینجمنٹ سنبھال سکے۔ اس رابطے کے نتیجے میں شہید مصطفیٰ چمران 1970ء میں لبنان پہنچے اور انھوں نے اس ادارے کو ایک عام تعلیمی مدرسے سے ایسے انسانوں کی تربیت گاہ میں تبدیل کر دیا جو صاحب ایمان اور فرض شناس ہوں، ایسے انسان جو اساتذہ اور طلبہ دونوں میں فکر اور ہدف کے حامل تھے۔ یہ مرکز ایک ایسے پرجوش مقام میں تبدیل ہو گیا جہاں ایرانی انقلابیوں، کمانڈروں اور ذمہ دار عہدیداروں کا آنا جانا رہتا تھا۔

ان لوگوں میں جو اس دور میں جبل عامل کے ادارے اور شہید چمران سے ملاقات کے لیے آئے، مرحوم سید احمد خمینی بھی شامل تھے۔ انھوں نے تحریک امل کا اسلحہ بھی ہاتھ میں لیا، اگلی صفوں میں گئے اور صہیونی حکومت کے ان ٹینکوں میں سے ایک کے ملبے پر کھڑے ہوئے جسے اس وقت تحریک امل کے مجاہدین اور مزاحمتی فورسز نے تباہ کیا تھا۔ وہ دور جبل عامل کی تعمیر و ترقی اور اس کی صورت حال کی بہتری اور احیاء کے میدان کا ایک معروف دور تھا۔

اسی طرح امام سید موسیٰ صدر، خداوند عالم انھیں صحیح سلامت واپس لوٹائے، اور امام خمینی (قدس سرہ) کے درمیان تقریباً ہر ماہ رابطہ ہوتا تھا۔ متعدد شخصیات، جیسے سید محمد غروی، حجۃ الاسلام شیخ حسن حریری اور دیگر ایرانی برادران کا ایک گروہ، انتہائی احتیاط اور مکمل رازداری کے ساتھ یہ رابطہ قائم کرواتا تھا۔ درحقیقت امام سید موسیٰ صدر امام خمینی کی سرگرمیوں اور پروگراموں پر مسلسل نظر رکھتے تھے اور امام خمینی بھی امام سید موسیٰ صدر کی سرگرمیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے تھے۔ ان دونوں شخصیات کے درمیان اہم مشترکہ نکات تھے: اول، ایران کے شاہ کی حکومت کا خاتمہ اور دوم، افراد کو اکٹھا کرنے کا طریقہ اور تبدیلی کے عمل کے بارے میں نقطۂ نظر۔

امام خمینی "نہ شرقی، نہ غربی" کے نعرے کی وجہ سے مشہور تھے اور امام سید موسیٰ صدر بھی اسی راستے پر گامزن تھے۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ مشرق اور مغرب سے آزاد اور غیر وابستہ ایک مستقل کام ہونا چاہیے۔ یہ طرز فکر، افراد کو فکری اور ثقافتی میدان میں یکجا کرنے میں بھی نمایاں تھا۔ اسی لیے ان کے راستے کی شفافیت اس اصول پر استوار تھی کہ سیاست کو دینی بنائیں، دین کو سیاسی نہ بنائیں۔ اس نقطۂ نظر سے سوچ اور نظریاتی اصولوں میں دونوں امام کی فکری بنیاد مشترک تھی۔

البتہ ان دونوں عظیم شخصیات کے درمیان ایک اور مشترک رشتہ بھی موجود تھا۔ امام سید موسیٰ صدر کو 31 اگست 1978 کو اغوا کیا گیا اور صرف ایک ماہ بعد صدام حسین کی حکومت کے اہلکاروں نے امام خمینی سے عراق چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ وہ عراق اور کویت کی سرحد تک گئے لیکن حکومت کویت نے انھیں ملک میں آنے کی اجازت نہیں دی اور ان حالات میں سرگردانی کی صورت حال پیدا ہو گئی۔ میں نے آیت اللہ دعائی کی یادداشتوں میں پڑھا ہے کہ وہ نقل کرتے ہیں: امام خمینی نے عراق اور کویت کی سرحد پر مجھ سے کہا: "اگر امام سید موسیٰ صدر لبنان میں موجود ہوتے تو میں لبنان چلا جاتا۔" میں اس بات کو ان دونوں شخصیات کے آپسی گہرے رشتے کی علامت سمجھتا ہوں اور یہ ایسی بات ہے جو وقتی جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرے اور مستحکم رشتے کا نتیجہ تھی۔

مثال کے طور پر، امام سید موسیٰ صدر نے لبنان میں ایرانی انقلابیوں کی صورت حال جاننے کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا: کسی کو محکمہ امن عامہ نے گرفتار کر لیا تھا، کسی کو ڈی پورٹ کر دیا تھا، شاہ ایران کسی شخص کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا تھا، کوئی شام کے راستے نکل جانا چاہتا تھا وغیرہ وغیرہ...۔ تحریک امل میں ایک گروپ ایرانی انقلابیوں سے متعلق ان امور کو دیکھتا تھا، جن میں حجۃ الاسلام شیخ محمد یعقوب بھی شامل تھے، جو ان معاملات کو انتہائی باریک بینی سے دیکھتے تھے۔ اسی طرح مرحوم الحاج مصطفیٰ حاج، جو اس وقت محکمۂ امن عامہ کے کمشنر تھے، ان کے معاملات پر خصوصی توجہ دیتے تھے؛ کون محکمۂ امن عامہ میں گرفتار ہے، کون اپنے ویزا کی مدت بڑھوانا چاہتا ہے، شاہ ایران کس کی تلاش میں ہے وغیرہ وغیرہ...۔ یہاں تک کہ اس دور میں منصور قدر، امام خمینی کے ساتھ امام صدر کے تعاون اور ایرانی انقلابیوں کو پناہ دینے کی وجہ سے، ان سے بہت زیادہ تنگ آ چکے تھے۔

اصل اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ لیبیا میں امام صدر کے غائب ہونے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد امام خمینی کو عراق سے نکال دیا گیا۔ میں نے جیک شیراک کی کتاب "ہر قدم، ایک ہدف" پڑھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب امام خمینی عراق اور کویت کی سرحد پر پہنچے تو عراق میں صدام حسین کے نمائندے نے مجھ سے رابطہ کیا اور عراق کے صدر کی جانب سے ایک پیغام مجھے بھیجا۔ یہاں مجھے تعجب ہوا کہ یہ پیغام کیا ہے اور معاملہ کیا ہے۔ اس پیغام میں درخواست کی گئی تھی کہ امام خمینی کو پیرس جانے کی اجازت نہ دی جائے بلکہ انھیں مشورہ دیا جائے کہ وہ لیبیا چلے جائیں۔ یعنی اس کے بعد کہ جب مجرم معمر قذافی نے امام صدر کو لیبیا میں غائب کر دیا تھا اور لیبیا وہی قید خانہ بن چکا تھا جو عالمی طاغوتی نظام نے ان کے لیے مقرر کر رکھا تھا، وہ چاہتے تھے کہ امام خمینی کو بھی وہیں اور امام سید موسیٰ صدر کے پاس بھیج دیا جائے تاکہ اسلامی انقلاب کے ساتھ ان کا رابطہ منقطع کر دیا جائے۔ لیکن جیک شیراک کہتے ہیں کہ اس وقت کے صدر نے اس پیغام کو کوئی اہمیت نہیں دی اور امام خمینی کو پیرس میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔

سوال: اس وقت جیک شیراک کا کیا کردار تھا؟

خلیل حمدان: وہ اس وقت صدر کے مشیر تھے اور ابھی صدر نہیں بنے تھے۔ اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ مجموعی طور پر عرب حکومتوں، یعنی امریکا سے وابستہ عرب حکومتوں اور اسی طرح خلیج فارس کی حکومتوں نے، جو خلیج فارس کے خطے پر شاہ ایران کے تسلط سے خوفزدہ تھیں، جسے وہ خلیج فارس کا پولیس مین کہتی تھیں، فیصلہ کیا کہ نئے انقلاب سے جان چھڑائی جائے کیونکہ یہ انقلاب، شاہ ایران کی فوجی طاقت سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔ اس معنی میں کہ یہ ایک فکری اور بنیادی تبدیلی تھی اور پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی اور پھر کوئی اسے قابو نہیں کر سکتا تھا۔

درحقیقت ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو چیز امام سید موسیٰ صدر اور امام خمینی کو ایک دوسرے سے جوڑ رہی تھی، وہ ایک مقصد، ایک راستہ اور ایک مستقبل تھا۔ اسی وجہ سے آج جب میدانوں کی وحدت کی بات کی جاتی ہے تو یہ جاننا چاہیے کہ امام صدر نے دوسروں سے کافی پہلے دنیا کی آزادی کی تحریکوں اور اسی طرح اسلامی انقلاب ایران کے ساتھ رابطہ شروع کر دیا تھا۔

یہاں میں 1980ء میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں، وہ جنگ جسے مجرم صدام نے خلیج فارس کے ممالک کی مالی اور فوجی حمایت سے شروع کیا۔ اس جارحیت کا مقصد انقلاب کو قابو کرنا اور اس کے اثرات و نتائج کو ایران سے باہر پھیلنے سے روکنا تھا۔ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ ایران کی سرزمین کا ایک حصہ الگ کر دیا جائے۔ لیکن بحمدللہ ہم کہتے ہیں کہ جس طرح آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا ہے، اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد سے ایک عملی جائزے کی بنیاد پر ہم نے نہ اپنی سرزمین کو نظر انداز کیا ہے اور نہ اس کا کوئی حصہ کھویا ہے۔ لہذا انقلاب کی شناخت محفوظ رہی، انقلاب کی سرزمین محفوظ رہی اور تمام تر محاصروں کے باوجود یہ راستہ جاری رہا۔

بنابریں اختصار کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تعلق کل سے جزء، اور جزء سے کل کا تعلق تھا، یہ کوئی وقتی اور عارضی تعلق نہیں تھا بلکہ امام صدر کی فکر اور امام خمینی کی فکر کے درمیان ایک گہرا اور عمیق تعلق تھا۔

ایک اور نکتہ یہ ہے کہ انقلاب کی کامیابی کے بعد ہم اسلامی جمہوریۂ ایران گئے۔ اس وقت ابھی گولیوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں اور حالات مکمل طور پر پرامن نہیں ہوئے تھے۔ ہم 23 فروری 1979 کو شیعہ مجلس اعلیٰ اور تحریک امل کے طیارے سے ایران گئے۔ اس وفد میں سیکریٹری جنرل سید حسین حسینی، نائب سیکریٹری جنرل جناب نبیہ بری موجود تھے اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ محاذوں پر شہید چمران کے ساتھ مستقل رہنے کی وجہ سے، خواہ وہ وہاں موجود ہوتے یا بیروت آتے، میں بھی اس وفد کا رکن تھا۔ میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس رفاقت نے میرے لیے ایک قیمتی تجربہ پیدا کیا اور مجھے جہادی افکار کے ایک مجموعے سے بھی آشنا ہونے کا موقع ملا، ایسے افکار جنھیں اگر کوئی جاننا یا سیکھنا چاہے تو اسے بہت طویل وقت درکار ہوگا۔

اسی لیے میں کہتا ہوں کہ شہید مصطفیٰ چمران عمل میں میرے استاد اور آئیڈیل تھے، یعنی انھوں نے کبھی مجھ سے کوئی کام کرنے کے لیے نہیں کہا، بلکہ وہ خود کرتے تھے اور مجھے ان کے طرز عمل سے سیکھنا ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ محاذ پر بھی اور مدرسے میں بھی، میں جبل عامل کے فنی ادارے میں شہید چمران کا سیکریٹری تھا۔ میری شخصیت کی تشکیل میں ان کا بہت بڑا کردار تھا۔ 18 سال کی عمر میں شہید مصطفیٰ چمران کی برکت سے میں جنوبی علاقے کی کمان کا رکن بن گیا کیونکہ انھوں نے مجھے امام موسیٰ صدر سے پہلے سے کہیں زیادہ متعارف کرایا اور اس وقت مجھے ان کے نزدیک قابل اعتماد شخص قرار دیا۔

ہم ایران گئے اور امام خمینی سے تکمیلیہ نامی ایک مدرسے میں ملاقات کی جو تہران کے اولین مدارس میں سے ایک تھا۔ وہاں جناب حسینی، جناب نبیہ بری، حجۃ الاسلام شیخ عبدالامیر قبلان، حجۃ الاسلام شیخ محمد مہدی شمس الدین، دیگر افراد اور شہید مصطفیٰ چمران بھی موجود تھے۔ پتہ نہیں کیوں وہاں آیت اللہ طالقانی بھی موجود تھے،  میں واقعی اس کی وجہ سمجھ نہیں سکا اور نہ اس کا کوئی تجزیہ کر سکا، شاید ملاقات کے لیے آئے تھے یا کوئی اور وجہ تھی، مجھے معلوم نہیں۔ امام خمینی نے فرمایا: آپ ہمارے لیے جو بہترین تحفہ لائے ہیں، وہ مصطفیٰ چمران ہیں۔ اس وقت ہم نے اس بات کو بہت سادہ انداز میں لیا اور اس کی گہرائی پر غور نہیں کیا۔

دو دن بعد شہید چمران نے مجھے ہوٹل استقلال بلایا۔ الحاج عادل عون بھی موجود تھے، جو ادارے کے نگراں تھے۔ وہ شہید چمران کے دوستوں میں سے تھے اور وہی شخص تھے جو ان کے بیروت پہنچنے کے وقت ہوائی اڈے پر ان کے استقبال کے لیے گئے تھے۔ الحاج عادل عون اس سے پہلے جمال عبدالناصر کے یہاں ٹریننگ حاصل کر چکے تھے لیکن وہ مصطفیٰ چمران کو نہیں جانتے تھے؛ یعنی انھیں معلوم نہیں تھا کہ یہ شخص وہی مصطفیٰ چمران ہیں۔ امام صدر نے ان سے کہا تھا: جاؤ اور مصطفیٰ چمران نامی ایک شخص کا استقبال کرو؛ہوائی اڈے پر ان کا انتظار کرو اور "مصطفیٰ چمران" کے نام کی ایک تختی ہاتھ میں رکھو۔

انھوں نے بتایا کہ میں ائير پورٹ گیا اور انتظار کرنے لگا۔ اچانک میں نے ایک شخص کو دیکھا جو ایک کے بعد ایک رکاوٹوں کو پھلانگتا ہوا میری طرف آ رہا تھا، وہ میرے پاس پہنچا، مجھے گلے لگایا اور گالوں کو چوما اور کہا: میں مصطفیٰ چمران ہوں۔ میں نے کہا: آپ مصطفیٰ چمران ہیں؟ آپ ابو جمال ہیں، مصطفیٰ چمران نہیں! اس نے کہا: آپ ابو جمال ہیں؟ میں نے جواب دیا: میں مصطفیٰ چمران ہوں۔ شہید چمران رونے لگے اور کہنے لگے: الحمدللہ، اب میری آرزوئیں پوری ہو گئیں اور اسی طرح کی کچھ باتیں کہیں۔

وہ جبل عامل آئے۔ شہید مصطفیٰ چمران کو جبل عامل سے عجیب اور دائمی لگاؤ تھا اور یہ بات واقعی حیران کن تھی۔ وہی جملہ جو انھوں نے اپنی وصیت میں فرمایا تھا: کاش میں غریبوں کے قدموں کی خاک ہوتا۔ وہ ادارے میں بھی کہتے تھے کہ تواضع کا مطلب خاکساری ہی ہے، ان کی مراد یہی مفہوم تھا۔

بہرحال، شہید چمران نے مجھے اور الحاج عادل عون کو بلایا اور کہا: میں یہاں سے، ایران سے، جبل عامل کے فنی ادارے کے لیے ایک ٹرک بھیج رہا ہوں تاکہ میری کتابیں اور سامان لے آئے۔ ہم نے ان سے کہا: ڈاکٹر چمران، آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: "کیا آپ نے امام خمینی کی بات نہیں سنی کہ انھوں نے فرمایا تھا بہترین تحفہ مصطفیٰ چمران ہے؟ انھوں نے مجھ سے کہا ہے کہ میں یہاں رک جاؤں۔" سچ بتاؤں تو اس کے بعد میں خود پر قابو نہیں رکھ سکا اور بکھر گیا۔

سوال: کیا وہ آپ کے ساتھ لبنان سے آئے تھے؟

خلیل حمدان: جی ہاں، اسی جہاز سے۔ میں ان کے ساتھ اسی پرواز سے آیا تھا لیکن وہ ایران میں رک گئے۔ حقیقتاً میں خود پر قابو نہیں رکھ سکا اور بہت غمگین ہو گیا، برادر عادل عون کی بھی یہی کیفیت تھی۔ ہم نے ان سے کہا: ڈاکٹر، امام صدر کو غائب ہوئے بہت کم عرصہ، تقریباً پانچ ماہ گزرے ہیں۔ وہ تحریک امل کے پہلے نمبر کے رہنما تھے اور آپ دوسرے نمبر پر ہیں۔ کیا یہ درست ہے کہ تحریک امل اس طرح اپنی قیادت سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو؟ ہمیں آپ کی ضرورت ہے، ڈاکٹر۔ انھوں نے فرمایا: میرا ایران میں ہونا ایران کے لیے بھی بہتر ہے اور آپ کے لیے بھی۔ اس بات کے بعد، کوئی مزید بحث نہیں کر سکتا تھا۔ انھوں نے امام خمینی کے فرمان کو ایک واجب ذمہ داری سمجھا تھا اور یہ معاملہ اسی طرح آگے بڑھتا رہا۔

1979 سے ہم شہید چمران اور ان کے ساتھ موجود بہت سے طلبہ سے رابطے میں تھے۔ ان میں شہید علی عباس، عبدالرضا موسوی، صادق کفل کفل، طہٰ حسین، نصیف نعمہ اور زہیر علوی شامل تھے۔ یہ نوجوانوں کا ایک گروہ تھا جو وہاں ان کے ساتھ رہ گیا تھا۔ لیکن مجھ سے کہا گیا کہ میں ادارے میں ہی رہوں اور اپنی سرگرمیاں اسی دائرے میں جاری رکھوں۔

اسی سلسلے میں پہلی بار ہم آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ای قدس سرہ سے 1980 میں شہید مصطفیٰ چمران کے دفتر میں متعارف ہوئے۔ یہ ایک مختصر اور سرسری سی ملاقات تھی۔ شہید مصطفیٰ چمران نے ہمارے بارے میں بات کرنے کے بجائے جبل عامل کے فنی ادارے کے بارے میں گفتگو کی۔ یہ کہ یہ لوگ ادارے سے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ وہ طلبہ، شہدا اور اس بات پر ادارے کی تعریف کر رہے تھے کہ وہ "مردوں کا کارخانہ" ہے۔ اس کے بعد ہم کچھ منٹ اور آقائے شہید کی خدمت میں رہے اور پھر وہ اپنی بہت زیادہ مصروفیات کی وجہ سے تشریف لے گئے۔

سوال: اس وقت شہید چمران کی کیا ذمہ داری تھی اور آقا کا کیا عہدہ تھا؟

خلیل حمدان: شہید چمران وزیر دفاع تھے اور امام شہید آیت اللہ خامنہ ای، اعلیٰ دفاعی کونسل میں امام خمینی کے نمائندے تھے۔ اس کے بعد وہ محاذ پر چلے گئے، جہاں کافی فورسز نہیں تھیں اور ہر طرف بدامنی، بغاوت اور خطرے کی کیفیت طاری تھی اور بہت سارے مسائل تھے۔

اس کے بعد آقا سے ہماری کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اگر اجازت دیں تو میں ان ملاقاتوں کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔ پہلی ملاقات 25 فروری 1979 کو ہوئی، یعنی انقلاب کی کامیابی کا مہینہ تھا اور شہید مصطفیٰ چمران کے ذریعے آیت اللہ خامنہ ای سے تعارف ہوا۔ پھر 1997 میں جب ہم جناب خاتمی کے صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دینے ایران گئے تھے، ان سے ملاقات ہوئی۔ اسی طرح عرب پارلیمانوں کے نمائندوں کی کانفرنس اور اسلامی پارلیمانوں کی یونین کے تشکیل کے اجلاس میں بھی آقا سے ملاقات ہوئی۔ وہاں ہم نے متعدد شخصیات سے بھی ملاقات کی، جن میں جناب ناطق نوری، مرحوم آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی اور جناب کمال خرازی شامل تھے، جو اس وقت وزیر خارجہ تھے۔

اس کے علاوہ میرا خیال ہے کہ 1989 میں امام خمینی قدس سرہ کے جلوس جنازہ کے موقع پر بھی تحریک امل کے وفد کے لیے، جس کی سربراہی میں کر رہا تھا، آیت اللہ خامنہ ای سے ایک ملاقات مقرر کی گئی تھی اور وہاں ہم نے ان سے ملاقات کی۔ یہ فطری بات تھی کہ ایسی شخصیت سے ملاقات ہو جو محروموں، انقلابیوں اور اس طرح کے موضوعات سے اس قدر وابستہ تھی۔ اسی ملاقات میں ہم نے امام سید علی خامنہ ای سے بیعت کی کیونکہ وہ ایک مستقبل ساز شخصیت کے مالک تھے جس طرح امام خمینی قدس سرہ نے ان کے لیے مہر تاباں کا لفظ استعمال کیا تھا۔

اس کے بعد اس گفتگو میں جب ہم نے اپنی تعزیت، احترام اور خراج عقیدت پیش کیا تو واقعی اس بار جب میں ان کی خدمت میں تھا تو میرے دل میں ہیبت محسوس ہو رہی تھی، ایک مستقبل ساز شخصیت، جو ایسی ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے والی تھی جسے پہاڑ بھی برداشت نہیں کر سکتے، وہ بھی ایک طویل جنگ، محاصرے اور تمام موجودہ مشکلات کے بعد۔ در حقیقت میں نے ان کے چہرے میں استقامت، شجاعت، مہربانی اور محبت دیکھی۔ انھوں نے کہا: "آپ تحریک امل والے ہم میں سے ہیں اور ان شاء اللہ امام موسیٰ صدر واپس آئیں گے۔ انھوں نے بہت زیادہ جہاد اور فداکاری کی اور حقیقت میں طویل عرصے تک لبنان کے شیعوں پر روا رکھے جانے والے ظلم کا ازالہ کیا۔" ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ انھیں امام صدر کی زندگی اور کردار پر پوری باریکی سے مکمل عبور حاصل ہے۔ انھوں نے اسرائیل کے بارے میں امام صدر کے موقف پر بھی زور دیا، وہی لفظ "مکمل شر"۔ انھوں نے ہمیں یاد دلایا کہ امام موسیٰ صدر نے کہا تھا: "اسرائیل مکمل شر ہے۔" اور امام خمینی نے بھی کہا تھا: "اسرائیل ایک کینسر کا ٹیومر ہے۔" یعنی دونوں نے اس شر کی ماہیت کے بارے میں ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔

پھر انھوں نے کہا: تحریک امل، آپ ہم میں سے ہیں اور ہم آپ کی فیملی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آپ کا اپنے ملک، یعنی ایران کا سفر بار بار ہوگا۔ ان شاء اللہ ہم یہاں موجود بھائیوں کو بھی ہدایت دیں گے کہ تحریک امل کے استقبال اور اس کے امور کو آسان بنانے کی ذمہ داری انجام دیں، آپ ہم میں سے ہیں۔ انھوں نے ایک بار پھر اس نکتے پر زور دیا۔ اس کے بعد امام خمینی کے چہلم کے موقع پر 1989 میں جناب نبیہ بری کی موجودگی میں ایک ملاقات ہوئی۔ چونکہ اس معاملے کی ذمہ داری اور دیکھ ریکھ میرے سپرد تھی، اس لیے تحریک کی بعض شخصیات کے ساتھ میں بھی موجود تھا۔

سچ بات یہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی گفتگو سے مجھے حیران کر دیا۔ جناب نبیہ بری کی جانب سے تعزیت پیش کرنے اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے ساتھ رشتے کی اہمیت پر زور دینے اور یہ کہنے کہ آپ ہمارے لیے نمونہ ہیں اور اسی طرح کی دوسری باتوں کے بعد، اور آپ جانتے ہیں کہ یہ باتیں آقا اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے لیے ان کی قلبی اور حقیقی محبت کی بنیاد پر کہی جاتی ہیں، میں نے آقا سے ایسی باتیں سنیں جن کی مجھے توقع نہیں تھی۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ ہم سے ایسی باتیں کہیں گے۔ اگر کوئی ان باتوں کو تکلفات سمجھے بھی تو کہنا چاہیے کہ یہ ان پسندیدہ اور دلنشیں تکلفات میں سے تھے نہ کہ ناپسندیدہ تکلفات میں سے۔ جس چیز نے مجھے حیران کیا وہ یہ تھی کہ انھوں نے کہا: آپ اپنی ہی فیملی میں ہیں۔ پھر انھوں نے جناب نبیہ بری کی طرف رخ کیا اور کہا: تمھاری ہڈی میری ہڈی ہے، تمھارا گوشت میرا گوشت ہے اور تمھارا خون میرا خون ہے، تمھارا دشمن میرا دشمن اور تمھارا دوست میرا دوست ہے اور اسی طرح کی باتیں کہیں۔ جناب نبیہ بری نے جواب میں کہا: انتہائی شکریے کے ساتھ میں اس لطف کو اپنے لیے باعث شرف سمجھتا ہوں اور آقا کے سامنے سر تعظیم خم کر دیا۔

جب ہم نشست سے باہر آئے تو میں نے جناب نبیہ بری سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ "تمھارا گوشت، میرا گوشت ہے" ؟ یہ لفظ امام زین العابدین علیہ السلام کی دعا اور دعائے ندبہ میں بھی آیا ہے، وہاں جہاں امیرالمومنین علیہ السلام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے خطاب کرتے ہوئے کہا گيا ہے: "آپ کا گوشت میرا گوشت ہے۔" یہ ایسی بات نہیں جسے کوئی رہبر بغیر ٹھوس عقیدے اور پختہ یقین کے زبان پر لائے۔ ان شاء اللہ یہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوگا اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے ساتھ گزشتہ مستحکم تعلقات کے ساتھ مل کر، رشتوں کو مزید مضبوط اور بہتر بنائے گا۔ حقیقت میں جب میں جناب نبیہ بری سے بات کر رہا تھا تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں کیونکہ وہ ان باتوں کو اتنا قابل قدر سمجھتے تھے کہ انھوں نے ہمیں ایسی باعزت و باوقار جگہ پر قرار دیا تھا۔ اس کے بعد اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاسوں کے موقع پر متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ اسی طرح 2017 میں بھی آقا سے ملاقات ہوئی۔

ان تیرہ ملاقاتوں میں سے ایک میں، جن میں مجھے آیت اللہ شہید امام سید علی خامنہ ای قدس سرہ کی خدمت میں حاضری کی توفیق حاصل ہوئی، میں ایک وفد کے سربراہ کی حیثیت سے اعلیٰ سطحی وفود کے ایک گروہ کے ساتھ موجود تھا۔ اس وقت جناب نبیہ بری ایک ضروری کام کی وجہ سے ہمارے ساتھ نہیں تھے۔ تقریر ختم ہونے کے بعد وہ اٹھے۔ میں پہلی صف میں بیٹھا ہوا تھا۔ انھوں نے میری طرف دیکھا۔ میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور مشتاق تھا کہ ان تک پہنچوں۔ آقا میری طرف آئے، انھوں نے مجھے گلے لگایا اور پوچھا: جناب نبیہ بری کیسے ہیں؟ تحریک امل کے برادران کیسے ہیں؟ خوش آمدید اور اسی طرح کی باتیں کہیں۔ پھر انھوں نے بہت گرم جوشی سے مجھے گلے لگایا۔ واقعی میں اس ملاقات اور اس گرم جوشی بھرے استقبال سے حیران تھا۔ میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا: آقا! کیا میں اس قدر لطف کے لائق ہوں؟ اور میں نے انتہائی محبت اور احترام کے ساتھ ان کے سامنے سر جھکا دیا۔

فوربس میگزین کی رپورٹ کے مطابق بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں دنیا کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہونے والی شخصیت کی جانب سے اتنی انکساری نے مجھ پر بہت اثر ڈالا۔ بہرحال دوست ہو یا دشمن، جو بھی منصفانہ طور پر مطالعہ کرے گا، وہ اس شخصیت کے ممتاز مقام کا اعتراف ضرور کرے گا۔ میرے لیے ایک اور نکتہ بھی دلچسپ تھا۔ کچھ عرصے سے میں مختلف وفود کے ساتھ ان ملاقاتوں میں شریک ہوتا آ رہا تھا۔ فطری طور پر مجھے توقع نہیں تھی کہ انھیں میرا نام یاد ہوگا یا وہ مجھے پہچانتے ہوں گے لیکن جیسے ہی انھوں نے میری طرف دیکھا، انھوں نے فوراً مجھے پہچان لیا۔ یہ حافظہ، یہ ذہانت اور یہ یادداشت واقعی حیرت انگیز تھی۔ ایک ایسا رہنما جو ہزاروں لوگوں سے ملتا ہے، وہ لبنان سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کو اتنی ساری ملاقاتوں میں سے کیسے یاد رکھتا ہے؟ حقیقت میں امام آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کا سانحہ بہت سنگین ہے۔ جب ہم اس شخصیت کے کیے ہوئے کاموں، ان کی پیش کی ہوئی قربانیوں، ان کی فداکاریوں اور ان کی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہیں تو شاید ہی کوئی ہوگا جو لاتعلق رہ سکے اور آنسو نہ بہائے۔ انسان ایسی شخصیت کے فقدان پر گہرے غم میں ڈوب جاتا ہے۔

لیکن اس ملاقات میں، جو جناب رئیسی کے انتقال پر تعزیت پیش کرنے کی مناسبت سے ہوئی تھی، ہم جناب نبیہ بری کے ساتھ موجود تھے۔ جناب نبیہ بری نے اس سانحے سے ہونے والے رنج و الم کے بارے میں بات کی، میری مراد جناب رئیسی کے انتقال کی مصیبت سے ہے۔ درحقیقت جناب نبیہ بری نے جناب رئیسی اور اسی طرح وزیر خارجہ کے انتقال پر اپنی تعزیت اور غم کا اظہار کیا، جو جناب نبیہ بری کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی محبوب اور پیاری تھی۔ جناب نبیہ بری کے انتہائی غم کے ساتھ بات کرنے کے بعد آقا نے کہا: یہ مصائب ہمیں مزید مضبوط کرتے ہیں، ہم ان سے سبق لیتے ہیں اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پھر آیت اللہ خامنہ ای نے امام خمینی کا ایک واقعہ بیان کیا اور کہا کہ جب جمہوری اسلامی پارٹی کا دفتر دھماکے سے اڑا دیا گیا اور  ساٹھ سے زیادہ انتہائی اہم شخصیات شہید ہو گئیں اور اس سے پہلے اور بعد میں بھی شہید رجائی، شہید باہنر اور دیگر افراد شہید ہو چکے تھے تو ملک پر غم کا ایک انتہائی بھاری ماحول چھایا ہوا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ہم امام خمینی کے پاس گئے اور کہا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اتنے مصائب کے ساتھ کیا کریں؟ شہید خامنہ ای نے مزید کہا کہ اس وقت انھوں نے امام خمینی سے یہ جملہ سنا: "قبرستان ان بزرگ شخصیات سے بھرے پڑے ہیں جن کے بارے میں لوگ سمجھتے تھے کہ ان کے بغیر تاریخ کا پہیہ چلنا بند ہو جائے گا لیکن ہمارے پاس کافی تجربہ، یقین اور ایمان ہے کہ یہ راستہ مزید قوت کے ساتھ آگے بڑھے گا اور اللہ کے اذن سے کبھی نہیں رکے گا۔"

اس لیے در حقیقت امام سید علی خامنہ ای کی شہادت امریکی اور صہیونی مجرموں کے لیے ایک ننگ شمار ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ عوام کے ساتھ ان کی استقامت اور پائیداری کی سطح کو ظاہر کرتی ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر لاریجانی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا تھا کہ وہ ان کے پاس گئے تھے تاکہ انھیں گھر سے باہر لے آئیں کیونکہ ان کے خیال میں خطرہ سو فیصد تھا۔ انھوں نے ان سے کہا کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔ آقا نے فرمایا تھا: کیا آپ تمام ایرانی عوام کے لیے ایسا محفوظ مقام فراہم کر سکتے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ نہیں، آقا۔ اس پر انھوں نے کہا تھا کہ تو پھر میں بھی اپنا گھر نہیں چھوڑوں گا۔ دشمن بھی یہ جانتے ہیں، میں کبھی گھر سے باہر نہیں جاؤں گا۔ وہ پوری طرح آگاہ تھے کہ خطرہ سو فیصد ہے لیکن وہ وہیں ڈٹے رہے اور ایسی قیادت کی مثال بن گئے جو اپنے معاشرے کے درد اور تشویشوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور کسی بھی لمحے عوام سے جدا نہیں ہوتی۔

کبھی بعض رہنما صرف نظریہ پیش کرتے ہیں، گفتگو کرتے ہیں اور ہدایات جاری کرتے ہیں لیکن ان سفارشات کو صرف عام لوگوں کے لیے چاہتے ہیں اور خود ان کی یا ان کے قریبی افراد کی جانب سے ان باتوں کی پابندی بہت کم ہوتی ہے لیکن شہید امام خامنہ ای رحمت اللہ علیہ میرے خیال میں عوام کے لیے ایک نمونہ اور مثال تھے۔ میرے خیال میں اسلامی جمہوریۂ ایران اور عالم اسلام میں کوئی ایسا شخص نہیں مل سکتا جو فداکاری، جہاد، استقامت اور ان اصولوں اور اقدار کے ساتھ اخلاص میں ان سے آگے ہو جن کی بنیاد پر یہ نظام تشکیل پایا ہے۔ یہ موضوع تمام تر بڑے نقصانات کے باوجود ہمیں غم اور ساتھ ہی غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کہ ایسی روشن تاریخ صرف بات کرنے سے نہیں بنتی بلکہ حق اور خیر پر عمل کرنے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی سے وجود میں آتی ہے۔ اسی لیے وہ اس راستے اور اس مکتب کے وفادار تھے اور جو کچھ کہتے تھے، خود بھی اس پر عمل کرتے تھے۔ گفتار کے ساتھ ہی کردار کے بھی دھنی: امام سید علی خامنہ ای۔

سوال: آپ نے بتایا کہ لبنان میں امام موسیٰ صدر کے سب سے قریب شہید چمران تھے اور جب وہ ایران آئے تو  کچھ برسوں میں شاید آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ای، شہید چمران کے سب سے قریبی لوگوں میں تھے۔ آپ کے خیال میں امام موسیٰ صدر کی شخصیت اور آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ای کی شخصیت میں کون سی مشترکہ خصوصیات تھیں جنھوں نے شہید چمران کو ان دونوں شخصیات میں مجذوب کر دیا تھا؟

خلیل حمدان: میرا ماننا ہے کہ وہ لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو تاریخ ساز بنتے ہیں۔ بنابریں امام شہید موسیٰ صدر اور آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ای قدس سرہ کے درمیان فکری تعلق بھی تھا اور روحانی تعلق بھی۔ فکری اعتبار سے ایک مرحلے میں آیت اللہ خامنہ ای نے قم میں امام موسیٰ صدر سے ملاقات کی تھی اور خود انھوں نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وہ دور ان دونوں کے درمیان باہمی اثر پذیری کا دور تھا۔ امام صدر، آقا سے گيارہ سال بڑے تھے، امام صدر 1928 میں پیدا ہوئے تھے اور آیت اللہ خامنہ ای 1939 میں۔ انھیں امام صدر سے خاص عقیدت تھی، بالخصوص اس لیے بھی کہ اس وقت امام صدر اسلامی معیشت کے بارے میں گفتگو کرتے تھے اور اس موضوع پر ایک جریدہ بھی شائع کرتے تھے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی یادداشتوں میں بھی اسی تعلق اور اسلامی معیشت کے موضوع پر ایک سہ ماہی رسالے کی اشاعت کا ذکر ملتا ہے۔

امام موسیٰ  صدر 1960 میں لبنان آئے۔ امام صدر اور آیت اللہ خامنہ ای قدس سرہ کے درمیان براہ راست نشست و برخاست کا سلسلہ ڈیڑھ سال سے زیادہ نہیں رہا لیکن شہید مصطفیٰ چمران کے ذریعے ان کا رابطہ مسلسل جاری رہا۔ امام صدر، شہید مطہری جیسی شخصیات کا بھی ذکر کرتے تھے، البتہ ان کی شہادت سے پہلے اور ان کے نمایاں افکار اور خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ قم کے حوزۂ علمیہ کے بعض ممتاز طلبہ کا بھی نام لیتے تھے جن سے مستقبل کی امیدیں وابستہ تھیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے بھی بعد میں ان باتوں کو نقل کیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شہید چمران اور آیت اللہ خامنہ ای کے روابط زیادہ قریبی تھے۔ یہ روابط کس طرح اتنے گہرے ہوئے تھے، اس کا مجھے علم نہیں لیکن یہ بات واضح طور پر محسوس ہوتی تھی۔ وہ بعض افراد اور ناموں کا ذکر کرتے تھے۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ اس وقت ڈاکٹر علی شریعتی کی تصانیف پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی اور ان کی بعض کتابوں کا، جیسے 'شہادت'، 'ہاں، ایسا ہی تھا'، 'دعا' اور 'فاطمہ، فاطمہ ہیں' فارسی سے عربی میں ترجمہ ہو چکا تھا۔ اسی دور میں شہید مطہری کی بعض تصانیف کا بھی ترجمہ کیا گیا۔

وہ زمانہ جس میں امام صدر اور آیت اللہ خامنہ ای موجود تھے، تحریری آثار اور وسیع پیمانے پر کتابوں کی اشاعت کا زمانہ نہیں تھا بلکہ زیادہ تر رابطے خط و کتابت کے ذریعے ہوتے تھے۔ انقلاب کی کامیابی سے پہلے میں نے شہید چمران سے اس خط و کتابت کے بارے میں کچھ باتیں سنی تھیں لیکن اس وقت ہم شخصیات کے درمیان براہ راست تعلقات پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے۔ ہمارے ذہن میں جو چیز رہ گئی تھی، وہ امام خمینی کا نام تھا۔

سوال: آپ آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت اور لبنان کے ساتھ ان کے تعلقات کا کس طرح جائزہ لیں گے؟ لبنان، لبنان کے شیعوں اور لبنان کی مزاحمت کو آیت اللہ خامنہ ای کی فکر، مؤقف اور فیصلوں میں کیا مقام حاصل رہا ہے، بالخصوص اس لیے بھی کہ آپ کو تحریک امل میں ایران کے ساتھ براہ راست رابطے کا تجربہ رہا ہے؟

خلیل حمدان: پہلے میں ایک نکتے کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔ اسلامی انقلاب کے بنیادی اصولوں میں کچھ ایسے نکات ہیں جن کی پابندی انقلاب کے تمام مخلص رہنما اپنے لیے لازمی سمجھتے ہیں اور ان پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان اصولوں میں مسئلۂ فلسطین، لبنان میں مزاحمت اور دنیا کے آزاد منش افراد کے ساتھ روابط شامل ہیں۔ مثال کے طور پر فلسطین کا مسئلہ اسلامی انقلاب کی کا میابی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ انقلاب کی کامیابی سے پہلے بھی موجود تھا۔ عام طور پر دنیا میں جو انقلاب آتے ہیں وہ سماجی اسباب، ظلم اور غلط رویوں کے پر رد عمل کے نتیجے میں آتے ہیں لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب کی فکری بنیادوں میں، حتیٰ کہ انقلاب کی فتح سے بھی پہلے فلسطین کا مسئلہ بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا تھا۔

امام خمینی قدس سرہ نے فلسطین کے بارے میں ایک کتاب لکھی تھی اور انقلاب کی کامیابی سے پہلے کی ان کی تقاریر میں بھی فلسطین کا مسئلہ سنجیدگی سے زیر بحث آتا تھا۔ یہاں تک کہ امام صدر نے چودہ سال کی عمر میں قم کے روزنامہ استوار میں ایران کے شاہ کے خلاف ایک مضمون لکھا تھا۔ اس دور میں امام صدر کی عمر تقریباً سولہ سال تھی اور وہ اپنی تحریروں میں شاہ کے مظالم کا ذکر بھی کرتے تھے اور فلسطین کے مسئلے پر بھی بات کرتے تھے۔ اگر ہم آیت اللہ خامنہ ای قدس سرہ کی تقاریر پر نظر ڈالیں تو ہمیں شاید ہی کوئی ایسی تقریر ملے جس میں انھوں نے مسئلۂ فلسطین اور اس سے متعلق موضوعات کے بارے میں گفتگو نہ کی ہو۔ یہ مسئلہ ہمیشہ ان کی بنیادی فکرمندی میں رہا ہے۔

دنیا میں رونما ہونے والی وسیع تبدیلیوں کے پیش نظر آیت اللہ خامنہ ای کی کارکردگی کو جو چیز 1989 کے بعد ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے دنیا کو دارالکفر اور دارالایمان میں تقسیم نہیں کیا، جیسا کہ بعض اسلامی جماعتیں، خواہ وہ شیعہ ہوں یا غیر شیعہ یہ کام کرتی ہیں۔ انھوں نے دنیا کو دو محاذوں، ظالم اور مظلوم میں تقسیم کیا۔ اسی بنیاد پر وینزوئیلا، انقلابیوں سے روابط، ان کی حمایت اور مختلف ذرائع ابلاغ اور حلقوں میں ان کے مطالبات کو پیش کرنے جیسے موضوعات آیت اللہ خامنہ ای کی ہدایات پر جاری رہے۔ آج بھی یونیورسٹیوں میں اس طرز فکر کا مطالعہ کیا جاتا ہے، یعنی بعض اسلامی تحریکوں کے ان نعروں، جو کافر اور مومن جیسی تقسیم پر زور دیتے ہیں اور آیت اللہ خامنہ ای کے اس طرز فکر کے درمیان فرق کا، جو لوگوں کی دینی وابستگی سے قطع نظر دنیا کا تجزیہ ظالم اور مظلوم، مستکبر اور مستضعف کی بنیاد پر کرتے تھے۔

اس موضوع نے عالمی سطح پر ایک بڑی پیشرفت کا راستہ کھولا اور یہاں تک کہ اسلامی انقلاب کے بارے میں بعض جماعتوں کے، جن میں بائیں بازو کے دھڑے اور یورپی حلقے بھی شامل تھے، نقطۂ نظر کو تبدیل کر دیا کیونکہ اس سے پہلے وہ اسے محض ایک شیعہ اور مسلکی تحریک سمجھتے تھے لیکن بعد میں اس کے بارے میں ان کا نظریہ بدل گیا۔ میرا ماننا ہے کہ اس موضوع پر گھنٹوں بات کی جا سکتی ہے لیکن اسلامی جمہوریۂ ایران کو اس طرز فکر کی بھاری قیمت چکانی پڑی جن میں پابندیاں، بھاری دباؤ اور اس کے خلاف بہت سی طاقتوں کی باہمی سازشیں شامل تھیں کیونکہ اسلامی جمہوریہ نے مظلوموں کا ساتھ دیا اور ظلم کے مقابلے میں مظلوم کا دفاع کیا۔

سوال: لبنان اور صہیونی دشمن کے مقابلے میں لبنانی عوام کی مزاحمت کے بارے میں آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ای کی پالیسیاں کیا تھیں؟ کیا آپ کو اپنی یادوں میں بالخصوص تحریک امل کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے پیش نظر، ان کا کوئی نمایاں موقف یا تحریک امل کے لیے کوئی خاص نصیحت یاد ہے؟

خلیل حمدان: آقا ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ لبنان میں مزاحمت کا وجود بنیادی اور ضروری امر ہے۔ وہ مزاحمتی فورسز کے قیام میں امام موسیٰ صدر کے کردار کے بارے میں گفتگو کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انھیں اس موضوع پر وسیع معلومات حاصل تھیں اور وہ ہمیشہ اس بات پر تاکید کرتے تھے کہ اس مزاحمت کو باقی رکھا جائے اور اس کی حفاظت کی جائے۔ اسی لیے اس سلسلے میں کوئی بھی نشست اسلامی اتحاد پر ان کی تاکید سے خالی نہیں ہوتی تھی، بالخصوص شیعوں کے اتحاد اور خاص طور پر تحریک امل اور حزب اللہ کے درمیان اتحاد پر۔ یعنی وہ عموماً اپنی گفتگو کا آغاز ہمارے باہمی تعلقات کی صورت حال کے بارے میں سوال سے کرتے تھے اور آخر میں بھی ہمیشہ اسلامی اتحاد اور شیعوں کے اتحاد کی ضرورت اور اہمیت پر تاکید کرتے تھے۔

یہاں تک کہ آخری ملاقات میں بھی، جو جناب رئیسی کے انتقال پر تعزیت کی مناسبت سے ہوئی تھی اور جس میں جناب نبیہ بری بھی موجود تھے، ایک بات قابل توجہ تھی۔ آقا نے اس مرتبہ لبنان میں قومی اتحاد و وفاق کے بارے میں گفتگو کی۔ اس سے پہلے میں نے ہمیشہ ان سے اسلامی اتحاد، شیعوں کے اتحاد اور بالخصوص تحریک امل اور حزب اللہ کے درمیان اتحاد کے بارے میں سنا تھا لیکن اس ملاقات میں انھوں نے قومی اتحاد کی بات کی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ لبنان کی طاقت اس کے موقف اور گروہوں کے اتحاد میں ہے اور تاکید کی کہ دشمن کے مقابلے میں متحد رہیے۔ البتہ یہ حصہ، یعنی "دشمن کے مقابلے میں" ممکن ہے بعض لوگوں کو پسند نہ آئے لیکن انھوں نے اس اتحاد پر بہت زیادہ تاکید کی تھی۔

سوال: کیا آپ نے کبھی ایک بار بھی یہ محسوس کیا کہ وہ لبنان کے داخلی امور میں مداخلت کر رہے ہیں یا کوئی خاص حکم دینا چاہتے ہیں؟ تحریک امل کے ساتھ ان کا طرز عمل کیسا تھا؟

خلیل حمدان: میں نے ان سے کبھی بھی عمومی ہدایات کے سوا کچھ نہیں سنا، ایسی ہدایات جن میں اتحاد، اس راہ پر استقامت اور امام صدر، شیخ محمد یعقوب اور صحافی عباس بدرالدین کی واپسی کے لیے دعا پر تاکید ہوتی تھی۔ البتہ وہ ہمیشہ امام صدر اور ان کے دونوں ساتھیوں کا بھی ذکر کرتے تھے۔ میں یہ بات جواب سے گریز کے لیے نہیں بلکہ اس بنیاد پر کہ میں خود اس کا گواہ رہا ہوں، کہہ رہا ہوں: میں نے ان سے ایک بار بھی یہ نہیں سنا کہ وہ ہمیں کہیں کہ ہمیں یہ کرنا چاہیے یا وہ کرنا چاہیے۔ جو کچھ وہ بیان کرتے تھے، وہ ہمیشہ عمومی خطوط، اتحاد کی ضرورت، باہمی ہماہنگی اور اسی طرح کے بنیادی مسائل ہوتے تھے۔

سوال: آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد خطے کے مستقبل کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟ آپ کے خیال میں اس خون کا خطے کی اقوام کی تحریکوں یا بیداری پر کیا اثر پڑے گا؟

خلیل حمدان: درحقیقت ہم ایک انتہائی فیصلہ کن اور حساس مرحلے میں ہیں کیونکہ پرانا عالمی نظام ختم ہو چکا ہے لیکن نئے عالمی نظام کی خصوصیات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوئی ہیں۔ اسی لیے آج ہم جن تمام محاذ آرائیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، وہ بڑی طاقتوں، بالخصوص امریکا کی نئی پوزیشن اور طاقتوں کی نئی صف بندی متعین کرنے کی کوشش ہے۔ پچھلے عالمی نظام میں یورپ کا بنیادی کردار تھا اور وہ خطے کی قسمت کے بارے میں فیصلے کرتا تھا لیکن اب میرے خیال میں یورپ یہ کردار کھو چکا ہے اور امریکا اس مرحلے کی خصوصیات اور نئے نظاموں کی پوزیشن متعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

آج پورا مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا کا پورا خطہ امریکا کے زیر تسلط ہے۔ اگر آپ اس خطے کے ممالک کے لیے کسی آزاد کردار کو تلاش کرنا چاہیں گے تو اسے نہیں پائیں گے کیونکہ یہ ممالک زیر تسلط ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ ساز باز کرنے والی حکومتوں کے تیل کے سرمائے امریکا کے اختیار میں ہیں اور ان حکومتوں کا مستقبل عملی طور پر امریکا کے ہاتھ میں ہے۔ یہ ممالک ایسے فیول اسٹیشنوں میں بدل گئے ہیں جن کے اوپر ایک پرچم لہرا تو دیا گیا ہے لیکن وہ ویسے ہی کام کرتے ہیں، جیسا امریکا چاہتا ہے، وہ ان سے خراج وصول کرتا ہے، فوجی اڈے قائم کرتا ہے، تسلط قائم کرتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے، یہ سب کچھ امریکا کی طاقت کی وجہ سے انجام پاتا ہے۔

صرف اسلامی جمہوریۂ ایران اور لبنان و غزہ میں مزاحمت اس دائرے سے باہر باقی رہ گئی ہے۔ وہ اس صورت حال کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایک ایسا خطہ تشکیل دیا جا سکے جو مکمل طور پر امریکا کے تسلط میں ہو۔ تاہم اسلامی جمہوریۂ ایران اپنی، اپنی سرحدوں، اپنے مستقبل اور اس نظریے کی حفاظت کرنے میں کامیاب رہا ہے جس پر وہ قائم ہے۔ اسی لیے امریکا نے نظام کی تبدیلی، نظام کے رویے میں تبدیلی یا کسی اور موضوع کے بارے میں جو بھی نعرے لگائے تھے، وہ اس کے مطلوبہ نتائج تک نہیں پہنچ سکے۔ اب ہم ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اسلامی جمہوریۂ ایران نئے عالمی نظام میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور اپنی حفاظت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ کوئی بھی ایران کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ امریکا، پاکستان اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی نوٹ کے بارے میں اگر آپ دوست یا دشمن، قریب یا دور، ملکی یا غیر ملکی، کسی سے بھی سوال کریں تو سب کہیں گے کہ یہ سمجھوتہ اسلامی جمہوریۂ ایران کے مفاد میں رہا ہے اور ایران نئے عالمی نظام میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ جس طرح امام سید موسیٰ صدر نے فرمایا تھا: :سورج کی روشنی میں کمزوروں کی کوئی زندگی نہیں ہوگی۔"

طاقت ہی باقی رہتی ہے، جیسا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے: "ہم نے نہ کوئی سرزمین کھوئی ہے اور نہ کسی عقیدے یا اصول سے دست بردار ہوئے ہیں بلکہ ہم نے نظام اور رہبری کو بھی فطری طور پر محفوظ رکھا ہے۔" یہ راستہ بھی، ان شاء اللہ، جاری رہے گا اور نتیجتاً ہم نہ کسی نئے نظام کے پٹھو ہوں گے اور نہ دوسری طاقتوں کی آرزوؤں اور خواہشات کے سامنے جھکیں گے۔ یہ مسئلہ تمام سطحوں پر اسلامی جمہوریۂ ایران کی طاقت کا نتیجہ ہے، ایک ایسا ملک جو اپنے وسائل، اپنی سرحدوں اور عالمی سطح پر اپنی طاقت اور مقام کی حفاظت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

سوال: حجت الاسلام والمسلمین سید حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ای کی پہلی نماز جمعہ کے خطبے، یعنی جمعہ نصر میں انھوں نے لبنان کے عوام سے عربی زبان میں خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ میری تعزیت لبنان کی وفادار قوم، حزب اللہ اور تحریک امل کے پرجوش نوجوانوں، میرے بیٹو... اور پھر انھوں نے کچھ خوب صورت نصیحتیں بیان کیں۔ تحریک امل میں آقا کی ان باتوں کو کس طرح لیا گیا؟

خلیل حمدان: یہ باتیں ہمارے لیے نئی نہیں تھیں کیونکہ آیت اللہ خامنہ ای اکثر ملاقاتوں میں، جب بھی حزب اللہ کا نام لیتے تھے، تحریک امل کا بھی ذکر کرتے تھے۔ انھوں نے کبھی تحریک امل کو فراموش نہیں کیا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات جب ہم کچھ ملاقاتوں میں موجود نہیں ہوتے تھے تو ان کی تقاریر اور بیانات کے ذریعے سنتے تھے کہ وہ ہمیشہ فرماتے تھے: تحریک امل اور حزب اللہ یا حزب اللہ اور تحریک امل۔ تو یہ سماجی ماحول کئی برسوں سے مزاحمت کا ماحول رہا ہے اور اس کی فکری پشت پناہی حسینی سیرت و  ثقافت ہے۔ زمینی لحاظ سے بھی جب امام سید موسیٰ صدر نے فوجی ٹریننگ کا آغاز کیا تو ہمارے بعض علماء اعتراض کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ بچوں کو قتل ہونے، عورتوں کو اسیر ہونے اور بزرگوں کو قتل کیے جانے کے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اسرائیل ہمارے گھروں کو تباہ کر دے گا اور ہمارے کھیتوں کو آگ لگا دے گا وغیرہ وغیرہ۔ اسی لیے وہ امام صدر سے پوچھتے تھے کہ آپ لوگوں کو فوجی ٹریننگ اور ہتھیار اٹھانے کی دعوت کیوں دیتے ہیں اور آپ نے کہا ہے کہ گھر میں اسلحہ رکھنا قرآن اور انجیل رکھنے کی طرح ایک فریضہ ہے؟

اس زمانے میں امام موسیٰ صدر کے خلاف ایک بڑی لہر اٹھ کھڑی ہوئی۔ روزنامہ اور جریدہ الحوادث نے ان سے کہا: جناب! عوامی ماحول بری طرح آپ کے خلاف ہے کیونکہ آپ لوگوں کو مزاحمت کی دعوت دے رہے ہیں۔ امام صدر نے جواب میں صرف ایک جملہ کہا تھا: "کیا ہمارا تعلق کربلا سے نہیں ہے؟ کیا کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اپنی ہر چیز قربان نہیں کر دی؟" اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اس زندگی میں ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور ہماری ثقافت میں اور تحریک امل اور حزب اللہ سے آیت اللہ خامنہ ای کی گفتگو اور ہدایات کی روشنی میں، ہمیشہ یہ عقیدہ موجود رہا ہے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بعض اوقات اگر انسان کوئی قیمت ادا نہ کرے تو اسے اس سے کہیں زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ مثال کے طور پر اگر آپ بیمار ہو جائیں تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور علاج کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ آپ یہ قیمت ادا نہ کرنے کا فیصلہ کریں لیکن اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ آپ گھر میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ یا اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ اسکول جائے تو آپ کو لازمی طور پر فیس ادا کرنی ہوگی، شاید سالانہ دو ہزار یا پانچ ہزار ڈالر۔ ممکن ہے بچت کی وجہ سے آپ یہ رقم ادا نہ کریں لیکن اس صورت میں آپ کا بچہ ان پڑھ رہ جائے گا اور اس کی زندگی بے سہارا لوگوں جیسی ہوگی اور وہ اپنے ماحول اور خاندان سے دور رہ جائے گا۔

بنابریں قیمت چکانے کا مسئلہ ہمیشہ موجود رہتا ہے لیکن ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں، اس کا ذمہ دار وہ دشمن ہے جو تباہی مچاتا، قتل کرتا، تخریب کرتا اور شہریوں، بچوں اور بزرگوں کو نشانہ بناتا ہے۔ لبنان میں ساڑھے چار ہزار سے زیادہ شہید، بارہ ہزار سے زیادہ زخمی اور تقریباً ساٹھ ہزار رہائشی مکانات تباہ ہو چکے ہیں اور بہت سے دیگر نقصانات بھی ہوئے ہیں لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسرائیل 1948 میں حولا میں داخل ہوا اور اسی سال اکتوبر کے مہینے میں ایک سو تین افراد شہید ہوئے۔ اس وقت مناخم بیگن اس مسلح گروہ کا سربراہ تھا، نہ کوئی فوج تھی، نہ مزاحمت، نہ اسلامی جمہوریۂ ایران اور نہ ہی ان میں سے کوئی چیز۔ بنابریں یہ خطرہ بہت پہلے سے ہمارے سروں پر منڈلاتا رہا ہے۔ اصل مسئلہ ہماری جغرافیائی پوزیشن ہے۔ امام صدر فرمایا کرتے تھے: اللہ نے ہمیں ایسی جگہ قرار دے کر عزت بخشی ہے، ایسی جگہ جو ایک بڑے چیلنج کے ساتھ ہے۔ انسان یا تو اس چیلنج کا مقابلہ کرے یا پھر اس کے لیے نجات کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ یعنی دشمنوں کے مقابلے میں کھڑے ہونے سے گریز آخرکار انسان کے لیے نجات کی کوئی راہ فراہم نہیں کرے گا۔ اسی لیے یہ مسئلہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک فطری امر ہے اور یہ سماجی ماحول کئی برسوں سے ایسے حالات کے لیے آمادہ رہا ہے۔

امام موسیٰ صدر کا کردار، ان کی ہدایات اور ان کی باتیں بھی اسی بنیاد پر ہوتی تھیں۔ مثال کے طور پر 1975 میں یاطر میں انھوں نے جنوبی لبنان کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: "اپنا گھر بیچ دو اور ہتھیار خریدو، اپنا بستر بیچ دو اور ہتھیار خریدو، اپنی گائے بیچ دو اور ہتھیار خریدو۔ دوسرے الفاظ میں، اگر ہم کمزوری کا شکار ہو گئے تو ہمارے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ اسی لیے ان باتوں نے ہمارے معاشرے اور سماجی ماحول میں کوئی حیرت پیدا نہیں کی۔ البتہ کچھ افراد اور کچھ آوازیں تھیں لیکن وہ حقیقت میں مزاحمت کے ماحول سے تعلق نہیں رکھتی تھیں اور عملی طور پر بھی میدان میں ان کی کوئی مؤثر اور فیصلہ کن حیثیت نہیں تھی۔

سوال: آیت اللہ خامنہ ای کہتے تھے کہ مزاحمت کی قیمت چکانی پڑتی ہے لیکن یقینی طور پر سر جھکانے کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

خلیل حمدان: بالکل، ہم بھی یہی نکتہ بیان کرنا چاہتے تھے یعنی جھکنے کی قیمت کہیں زیادہ سنگین ہے اور یہ ایک زمینی حقیقت ہے۔

سوال: یعنی یہ حقیقت تاریخی تجربے سے ثابت ہو چکی ہے؟

خلیل حمدان: جی ہاں، یہ تاریخی تجربے سے ثابت ہو چکی ہے۔ اسرائیلی جارحیت، مزاحمت کی تشکیل سے پہلے شروع ہو چکی تھیں اور مزاحمت بھی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں وجود میں آئی۔

5 ستمبر 2026

بغداد انٹرنیشنل بک فیئر میں انقلاب اسلامی پبلیکیشنز کی موجودگی