عراق میں امام شہید کی فیملی کی یاد میں منعقدہ نشست میں شیخ جواد گلپائیگانی:

امام شہید اپنی اہلیہ محترمہ کا خاص احترام کرتے تھے، امام شہید کی نظر میں بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار بنیادی ہے۔

امام شہید اپنی اہلیہ محترمہ کا خاص احترام کرتے تھے، امام شہید کی نظر میں بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار بنیادی ہے۔

"رہبر شہید سید علی خامنہ ای کی فیملی کی ایمانی طرز زندگی" کے زیر عنوان بغداد کے شہید حیدر المیاحی ہال میں عراقی خواتین اور امام شہید کے داماد حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر شیخ محمد جواد محمدی گلپائیگانی کی شرکت سے پیر سات ستمبر کو ایک نشست منعقد ہوئی۔

اس نشست کا آغاز قرآن کریم کی آیات کی تلاوت اور عراق و اسلامی جمہوریۂ ایران کے قومی ترانوں سے ہوا اور اس کے بعد حاضرین نے امام شہید کی یاد میں ان کی اور ان کے شہید اہل خانہ کی ارواح کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ اس کے بعد نشست کا انعقاد کرنے والی کمیٹی کی نمائندہ محترمہ مریم عبایجی نے اس پروگرام کے انعقاد کے مقاصد اور اہمیت کے بارے میں گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ امام شہید کی سیرت اور ایمانی زندگی کے بارے میں گفتگو محض ایک عارضی بات نہیں ہے بلکہ اس سیرت کے بارے میں گفتگو دراصل ایک مکمل مکتب سے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ انھوں کہا کہ یہ ایسا مکتب ہے جس میں زہد و تقویٰ اور رہبر شہید کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط تعلق نمایاں طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم آج اس نشست میں صرف رہبر شہید کی سیرت اور زندگی کے بارے میں گفتگو کرنے کے لیے اکٹھا نہیں ہوئے بلکہ ہم اس مکتب کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں جس میں رہنماؤں اور شہداء کی تربیت ہوئی، ایسے لوگوں کی تربیت جنھوں نے ہمیں استقامت اور ایثار کے بلند ترین درجات سکھائے۔

اس کے بعد حوزۂ علمیہ کی استاد اور امام شہید کے افکار کی محقق ڈاکٹر زینب شریعتمدار نے اپنی گفتگو میں فیصلہ کن وقت اور بالخصوص امام شہید کی تشییع جنازہ کے موقع پر عراقی عوام کی تاریخی شرکت کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے امام شہید، امت کے رہبر تھے جنھیں امریکی و صہیونی دشمن کے خلاف جہاد کے شہید کے طور پر یاد کیا جانا چاہیے۔ عراقی عوام نے ان کی تشییع جنازہ میں شرکت کرکے ایک تاریخی اور افسانوی دن رقم کیا۔

 اس کے بعد امام شہید سید علی حسینی خامنہ ای کے داماد اور امریکی و صہیونی جارحیت میں شہید ہونے والی بچی زہرا محمدی کے والد اور سیدہ بشریٰ حسینی خامنہ ای کے شوہر حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر شیخ محمد جواد محمدی گلپائیگانی نے اسلامی انقلاب کے رہبر شہید کے ایمانی طرز زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے ابتدا میں پروگرام کے منتظمین، بالخصوص دار العصر پبلیکیشنز، حشد الشعبی کی انتظامیہ، ثقافتی شعبے میں سرگرم عراقی خواتین اور امام شہید کے تحریری و تقریری آثار کی حفاظت و اشاعت کے دفتر کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر گلپائیگانی نے اپنی گفتگو کے آغاز میں امام شہید کی تربیتی سیرت کا بنیادی محور محبت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گھر اور فیملی، اپنے بچوں اور رشتہ داروں کو محبت سے سرشار رکھتے تھے۔ وہ ایک دمکتے سورج کی مانند تھے اور ان کے ساتھ رہنے والے سبھی لوگ ان کی محبت و شفقت سے بہرہ مند ہوتے اور سعادت محسوس کرتے تھے۔ جو بھی ان کے قریب آتا، وہ اس محبت کو محسوس کرتا اور ان کے بے پناہ جذبۂ محبت کا گرویدہ ہوجاتا۔

انھوں نے کہا کہ بچوں کی تربیت میں رہبر شہید کی کامیابی کا بنیادی راز یہی گہرے جذبات تھے جن کا اظہار وہ اپنے آس پاس کے لوگوں سے کرتے تھے اور جس کی جھلک فیملی میں پوری طرح محسوس کی جا سکتی تھی۔ امام شہید کے داماد نے مزید کہا کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ امام شہید ہر عمر کے لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ خاندان کے ہر فرد، چھوٹی سے چھوٹی عمر سے لے کر بڑی عمر کے افراد تک، سب سے گفتگو کرتے تھے اور اپنے اردگرد کے لوگوں کی بات توجہ سے سنتے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امام شہید اپنے آس پاس کے ہر عمر کے لوگوں پر توجہ دیتے تھے اور فیملی کے تمام افراد سے محبت کا اظہار کرتے اور اس محبت کا اظہار اپنی زبان سے بھی کرتے تھے۔ امام شہید کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ وہ بات کرنے والے انسان تھے، یعنی وہ فیملی کے ساتھ گھل مل کر اپنائیت سے بات چیت کرتے اور گھر میں ایک گرم جوشی کا ماحول پیدا کر دیتے تھے۔ شیخ محمد جواد محمدی گلپائیگانی نے کہا کہ اپنی فیملی کے سلسلے میں رہبر شہید کی روش کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ وہ ہمیشہ لوگوں، حتیٰ کہ بچوں تک کو احترام سے مخاطب کرتے تھے۔

ڈاکٹر گلپائیگانی نے رہبر شہید کی جانب سے خواتین کے خصوصی احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے گھر میں سب سے زیادہ قابل احترام شخصیت ان کی اہلیہ محترمہ تھیں اور وہ اپنی اہلیہ کا بہت زیادہ احترام اور ادب کرتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ رہبر شہید کی نظر میں بچوں کی تربیت میں سب سے بنیادی کردار ماں کا تھا اور وہ ماں کو ہر شخص کی زندگی میں سب سے زیادہ مؤثر فرد سمجھتے تھے۔ امام شہید کے داماد نے مزید کہا کہ رہبر شہید خود کہتے تھے کہ ان کی تربیت میں بنیادی کردار ان کی والدہ کا تھا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ خواتین کی سماجی سرگرمیاں، جو ضروری بھی ہیں، بچوں اور خاندان سے غفلت کا سبب نہیں بننی چاہیے۔ انھوں نے رہبر شہید کی زندگی میں "ماں" کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان کہ "جنت ماؤں کے پیروں تلے ہے"، امام شہید کی زندگی میں حقیقی مصداق کا حامل تھا، یہاں تک کہ ان کی سیاسی اور سماجی زندگی میں بھی ماں کا اہم کردار تھا۔

شیخ محمد جواد محمدی گلپائیگانی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ رہبر شہید نے زہد اور پارسائی کا درس اپنے والد کے مکتب سے سیکھا جبکہ انقلاب سے پہلے رہبر شہید کی فیملی کو معاشی اعتبار سے سختی و دشواری کا سامنا تھا اور ان کے والد اس مسجد میں امام جماعت تھے جو آج مسجد صدیقیہا کے نام سے معروف ہے، لیکن مشہد کے بہت سے مالدار لوگ اس مسجد میں ان کی اقتدا میں نماز پڑھتے تھے، کیونکہ مرحوم سید جواد خامنہ ای زہد، تقویٰ اور پارسائی میں مشہور تھے۔ انھوں نے امام شہید کی تربیتی روش کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رہبر شہید بات چیت کرنے والے انسان تھے لیکن اس کے باوجود ایسا نہیں تھا کہ وہ مسلسل نصیحتیں کرتے رہیں۔ اپنے اردگرد کے ماحول پر جو تربیتی اثر وہ ڈالتے تھے، وہ سب سے پہلے ان کے کردار اور عمل کے ذریعے ہوتا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ انسان کبھی بھی رہبر شہید کے کردار اور گفتار میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتا تھا۔ ڈاکٹر گلپائیگانی نے کہا کہ وہ جو کتابیں پڑھتے تھے، ان کے دلچسپ نکات گھر میں اپنے بچوں اور ان کے بچوں کو بتاتے تھے۔ رہبر شہید کو شہداء کی یادداشتوں اور ان کی کتابوں سے خصوصی دلچسپی تھی اور وہ ان کا خلاصہ دوسروں کو بھی سناتے تھے۔

8 ستمبر 2026

بغداد انٹرنیشنل بک فیئر میں انقلاب اسلامی پبلیکیشنز کی موجودگی