بغداد میں کتابوں کی بین الاقوامی نمائش کے موقع پر "آقا اور کتاب" کے زیر عنوان نشست کا انعقاد:
امام شہید کے افکار ثقافتی شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے الہام کا منبع ہیں
بغداد میں کتابوں کی بین الاقوامی نمائش کے مقام پر سنیچر 5 ستمبر 2026ء کو فکر و ثقافت کے شعبے سے وابستہ محققین اور صاحب نظر افراد کی شرکت سے "آقا اور کتاب" کے زیر عنوان ایک نشست منعقد ہوئی، جس کے دوران بچوں کی تربیت، روایت آقا اور صدی کا نابغہ جیسی تین کتابوں کی رونمائی بھی کی گئی۔ نشست میں عراقی ناشرین کی یونین کے سربراہ ڈاکٹر عبدالوہاب الراضی، رہبر شہید کے افکار و نظریات کے ماہر اور محقق ڈاکٹر محمد مہدی شریعتمدار اور امام شہید کے داماد حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر شیخ محمدجواد محمدی گلپائیگانی نے خطاب کیا۔
عراقی ناشرین کی یونین کے سربراہ اور بغداد کی کتابوں کی بین الاقوامی نمائش کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالوہاب الراضی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ "آقا اور کتاب" کے عنوان سے منعقد ہونے والی یہ نشست اُس شخصیت کی وجہ سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے، جس نے جہاد، علم، فکر اور ثقافت کو یکجا کر دیا تھا، کہا کہ امام شہید نے اپنی پوری زندگی امت کے مقاصد کی خدمت اور اس کی عزت و وقار کے دفاع کے لیے وقف کر دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ امام شہید ایک مجتہد فقیہ، شجاع رہبر، کتاب خواں، صاحب نظر اور مصنف تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس شہید کی شخصیت صرف سیاسی یا دینی پہلوؤں تک محدود نہیں تھی بلکہ ان کی شخصیت کا دائرہ ثقافتی اور عرفانی میدانوں تک بھی پھیلا ہوا تھا اور ان کے جو تحریری و تقریری آثار ہمارے درمیان ہیں، وہ دراصل درس اور عبرتیں ہیں جن سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے اپنے موقف پر امام شہید کی ثابت قدمی، اصولوں پر استقامت اور اپنی قوم سے وفاداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان اہم ترین اہداف و مقاصد میں سے ایک جن کا وہ دفاع کرتے تھے، فلسطین کا مسئلہ اور اپنی سرزمین کو آزاد کرانے کا فلسطینی عوام کا حق تھا۔ الراضی نے امام شہید کی تحریروں، افکار اور موقف کو نمونہ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رہبر شہید کے الفاظ اور طرز عمل کو ثقافتی اور فکری سرگرمیوں کے لیے الہام کا سرچشمہ بننا چاہیے۔
اس کے بعد امام شہید کے افکار و نظریات کے ماہر اور محقق ڈاکٹر محمد مہدی شریعتمدار نے کہا کہ کتاب سے امام شہید کا تعلق بچپن ہی سے ایسے گھرانے میں قائم ہوا جہاں مطالعے اور علم کو زندگی میں بنیادی مقام حاصل تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والد کا کتب خانہ اور کتاب سے ان کی دلچسپی رہبر شہید کی علمی اور ثقافتی شخصیت کی تشکیل میں مؤثر عوامل میں سے تھے۔ شریعتمدار نے کہا کہ امام شہید مطالعے کی ثقافت کو صرف خود تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ اسے اپنے بچوں اور فیملی تک بھی منتقل کرتے تھے۔ وہ اپنی سنگین ذمہ داریوں کے باوجود جب کوئی اہم کتاب، بالخصوص مزاحمتی ادب کے سلسلے میں پڑھتے تو اسے گھر لے جاتے اور اپنے بچوں کو بھی اپنے ساتھ اسے پڑھنے کی ترغیب دلاتے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امام شہید کی تربیتی فکر صرف اپنی فیملی تک محدود نہیں تھی بلکہ مختلف نسلوں اور معاشرے کو بھی اپنے دائرے میں لیتی تھی، چنانچہ وہ ہمیشہ مصنفین، مؤلفین اور ثقافتی اداروں کو یہ سفارش کرتے تھے کہ بچوں پر خصوصی توجہ دیں اور مقابلوں کے انعقاد، کتابوں کی نمائش اور اسکولوں میں مطالعے کے لیے ایک وقت مقرر کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے ان تک کتاب خوانی کی ثقافت منتقل کریں۔ شریعتمدار نے کہا کہ امام شہید کے مطالعے کا دائرہ بہت وسیع تھا اور صرف فقہ، اصول اور تفسیر تک محدود نہیں تھا بلکہ ان کے مطالعے کے دائرے میں ہزاروں عالمی اور عربی کہانیاں، ناول اور ادبی کتب بھی شامل تھیں اور وہ جو کچھ پڑھتے تھے، اس کے بارے میں نقادانہ رائے رکھتے تھے۔ انھوں نے آخر میں کہا کہ امام شہید نے سیکھنے اور سکھانے والے، دونوں کا تصور بیک وقت اپنی شخصیت میں مجسم کیا کیونکہ انھوں نے علم اور کتاب سے محبت اپنے گھر سے سیکھی اور پھر اس ثقافت کو عملی طور پر اپنے بچوں اور اپنے بعد والی نسلوں تک منتقل کیا۔
نشست میں امام شہید کے داماد حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر محمد جواد محمدی گلپائیگانی نے پڑھنے اور سیکھنے کے معاملے میں امام شہید کی اسٹریٹیجک سوچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی زندگی کے تمام مراحل کو آگہی والے عمل اور فی سبیل اللہ جہاد کا میدان سمجھتے تھے اور کتاب اور مطالعے کو اس ثقافتی جہاد کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ امام شہید کا ماننا تھا کہ ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کا واحد راستہ علمی بنیادوں کی تقویت اور عوامی آگاہی میں اضافہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ رہبر شہید کتاب کو سب سے بنیادی ثقافتی تخلیق سمجھتے تھے اور ہمیشہ زور دے کر کہتے تھے کہ کوئی بھی دوسرا ابلاغی یا ثقافتی ذریعہ کتاب کی جگہ نہیں لے سکتا۔ مطالعے پر ان کی توجہ اس قدر تھی کہ وہ نہ صرف خود اس کا باقاعدگی سے اہتمام کرتے تھے بلکہ اپنے سیکھے ہوئے اہم نکات بھی خاندان کے افراد تک منتقل کرتے تھے۔ ڈاکٹر گلپائیگانی نے مطالعے کے سلسلے میں رہبر شہید کے کبھی نہ ختم ہونے والے جذبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے کتاب پڑھنا کوئی عارضی عادت نہیں تھی بلکہ معاشرے کی پیشرفت و بلندی کے لیے ایک ٹھوس اور دائمی طرز عمل تھا۔ وہ بارہا کہتے تھے کہ وہ کبھی بھی مطالعے سے نہیں تھکتے اور اگر کوئی کتاب ایک طرف رکھتے ہیں تو اکتاہٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف کسی دوسری ذمہ داری کی انجام دہی کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد جواد محمدی گلپائیگانی نے امام شہید کے مطالعے کے وسیع دائرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالعے کا دائرہ دینی علوم کی کتابوں، انتظامی اور سماجی ذمہ داریوں سے متعلق متون اور مختلف شعبوں کی کتابوں کے مطالعے تک پھیلا ہوا تھا، یہاں تک کہ کوئی بھی تقریر کرنے یا بیان جاری کرنے سے پہلے عمیق مطالعہ ان کے پروگرام میں شامل تھا۔ انھوں نے آخر میں فیملی کے سلسلے میں امام شہید کی تربیتی روش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں اور ان کے بچوں کو لکھنے اور پڑھنے کی ترغیب دلانے پر خصوصی توجہ دیتے تھے اور ان کی تحریروں کا بغور جائزہ لے کر اصلاحی نکات نہایت اپنائیت کے ساتھ انھیں بتاتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ رہبر شہید اس حد تک کتاب کا احترام کرتے تھے کہ آرام کے وقت بھی علم کے احترام اور تقدس کی علامت کے طور پر کبھی اپنے پاؤں کتابوں کی الماری کی طرف نہیں پھیلاتے تھے۔
اس نشست کے دوران بچوں کی تربیت، روایت آقا (اپنے والد کے سلسلے میں رہبر شہید کی یادداشتوں کا مجموعہ) اور صدی کا نابغہ (شہید محمد باقر الصدر کے بارے میں رہبر شہید کے بیانوں کا مجموعہ) جیسی تین کتابوں کی رونمائی بھی کی گئی۔
6 ستمبر 2026

