ایرانی قوم کے خلاف دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے مجرموں کو ان کے جرائم کی سزا دی جانی چاہیے: رہبر انقلاب اسلامی

ایرانی قوم کے خلاف دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے مجرموں کو ان کے جرائم کی سزا دی جانی چاہیے: رہبر انقلاب اسلامی

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ‌ای نے اتوار 28 جون 2026 کو ہفتۂ عدلیہ اور شہید بہشتی اور ان کے رفقائے کار کے یوم شہادت کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا جس میں موجودہ حالات، میناب اور لامرد سمیت پورے ملک میں امریکا و صیہونی حکومت کے جنگي جرائم اور بعض دیگر اہم نکات پر روشنی ڈالی گئي ہے۔
پیغام حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آل اللہ کے ایام مصیبت اور حضرت ثار اللہ علیہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا کی شہادت کے ایام پر میں پوری ایرانی قوم اور امت مسلمہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔

حق کے قیام، امت کی اصلاح اور ظلم و ستم سے مقابلے کے لیے امام حسین علیہ السلام کی تحریک اور قیام، حق و باطل اور انصاف و ظلم کے ٹکراؤ کی تاریخ کی بلند ترین چوٹی ہے اور اس میں دنیا کے تمام آزاد منش انسانوں کے لیے نہایت قیمتی اور ناقابل فراموش درس ہیں۔ سید الشہداء علیہ السلام کے خون کو "خون خدا" کہا جاتا ہے، جو کائنات کی رگوں میں جاری ہے اور حیات بخش کارنامے رقم کرتا ہے۔ ایران کی اسلامی تحریک اور اسلامی انقلاب بھی چونکہ اسی نورانی سرچشمے سے نکلی ہوئی ایک شاخ ہے، اس لیے اسے ہمیشہ قیام حسینی کے اہداف کے حصول کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ ہر سال 7 تیر (28 جون) ہمیں اسلامی انقلاب کی اس نمایاں شخصیت کی یاد دلاتا ہے جس نے عدلیہ کی سربراہی سنبھال کر اس مقصد کے لیے مسلسل اور انتھک جدوجہد کی، یہاں تک کہ اپنے مخلص انقلابی ساتھیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا۔ ان کی مظلومیت اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے بہتّر ساتھیوں کی تعداد، اس نظام اور اس کے معماروں کے حسینی ہونے کی گواہ بن گئی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام میں عدلیہ کا رول، عوام کے حقوق کی حفاظت، اجتماعی حقوق اور قانونی آزادیوں کا احیاء، بدعنوانیوں کا خاتمہ، عدل کا نفاذ، الٰہی حدود کا قیام اور قانون کے نفاذ کی نگرانی ہے۔ اس راہ میں کامیابی کا ثمر رضائے الہی کے حصول کے علاوہ نظام کے اس اہم ستون پر عوام کے اعتماد کی تقویت بھی ہے۔ انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ، تمام ریاستی اداروں، محکموں اور ذمہ دار تنظیموں سے بجا توقع یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے مطلوبہ معیار اور ملت کے بلند مقام کے مطابق ترتیب دیں اور اس کی اصلاح کرتے رہیں۔ اس سلسلے میں عدلیہ کو امور کی اصلاح اور نظام کے دیگر شعبوں کو متحرک رکھنے کے لیے ایک منفرد بلکہ بے مثال مقام حاصل ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ خود عدلیہ کے اندر بھی اصلاح اور تعمیر نو کے عمل کو مسلسل آگے بڑھایا جائے۔ آج معاشرے کی عمومی توقع یہ ہے کہ عدلیہ کی کارکردگی میں اس امر کی عملی شکل نظر آئے، اس طرح سے کہ عدالتی تغیرات صرف تبدیلی کے دستاویز، منصوبوں اور روڈ میپ میں درج الفاظ تک محدود نہ رہیں بلکہ حقیقت کا روپ اختیار کریں اور اس کے آثار عدالتوں کے کمروں اور اجلاسوں سے لے کر عوامی ماحول اور سماجی زندگی تک نمایاں ہوں تاکہ لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی میں بدعنوانیوں کے خلاف مضبوط کارروائی، حقوق کی پامالی میں کمی، مقدمات کے جلد فیصلے، ججوں کے فیصلوں کے معیار و صحت میں بہتری اور انصاف کے تقاضوں تک آسان رسائی کی صورت میں اس کے مثبت نتائج کو محسوس کر سکیں۔ عدلیہ کی اس مطلوبہ تصویر میں عدل و انصاف کا نفاذ اس درجے تک پہنچ جائے کہ ہر مظلوم اسے اپنا محفوظ سہارا سمجھے، خصوصاً وہ لوگ جو کسی طرح کی طاقت رکھتے ہیں، دوسروں کے حقوق پر دست درازی کی ہمت نہ کریں، سفارش اور دباؤ کا دروازہ مکمل طور پر بند ہو جائے اور عدلیہ کے کسی شعبے میں جان پہچان یا تعلق ہونا کسی شخص کے لیے کسی قسم کی برتری یا فائدے کا سبب نہ سمجھا جائے۔

البتہ قوم کے حقوق کی بحالی صرف انفرادی معاملات تک محدود نہیں ہے بلکہ مختلف اجتماعی اور عوامی حقوق بھی، جیسے معاشی تحفظ کا حق، مواقع تک منصفانہ رسائی، قدرتی وسائل سے منصفانہ استفادہ، صاف اور صحت مند ماحول، قانونی آزادیوں سے بہرہ مندی اور مؤثر طرز حکمرانی کا حق وغیرہ بھی، انصاف کے فروغ کے اہم مسائل میں شمار ہوتے ہیں۔

آج پوری ایرانی قوم سے متعلق سب سے اہم قانونی اور عدالتی مسائل میں سے ایک، بین الاقوامی مجرموں اور سامراجی و جارح طاقتوں  کے جرائم کے نتیجے میں، خصوصاً 2025 اور 2026 کے دوران، اس کے پامال شدہ حقوق کی بحالی اور ان کی قانونی پیروی ہے۔

دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے مظلوم شہداء کے خون سے لے کر ہمارے عزیز وطن اور ایرانی قوم کے ہر فرد کو، ملک کے اندر بلکہ بیرون ملک بھی پہنچنے والے جسمانی، روحانی، مادی اور معنوی نقصانات تک، میناب اور لامرد میں بچوں کے قتل اور عدیم المثال جنگی جرائم سے لے کر اسپتالوں اور عوامی خدمات کے مراکز پر حملوں تک، چند روزہ نومولود بچوں سے لے کر عزیز بزرگوں کے قتل تک اور ان سب سے بڑھ کر اپنے دور کی بے مثال اور یگانہ شخصیت ہمارے رہبر مجاہد اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف کا قتل، ان میں سے ہر ایک ایسا واقعہ ہے جو سینکڑوں بلکہ ہزاروں اہم قانونی مقدمات کی بنیاد بنتا ہے، جن کی اندرون ملک اور بین الاقوامی عدالتوں میں پوری سنجیدگی کے ساتھ پیروی کی جانی چاہیے۔ جو چیز مسلّم ہے، وہ یہ ہے کہ ان مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانا اور انھیں ان کے مجرمانہ اعمال کی سزا دینا چاہیے۔

اس سلسلے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اوّل، امریکی اور صیہونی دشمن کے بعض سربراہان کی جانب سے ان جرائم کا اعتراف یہاں تک کہ ڈھٹائی کے ساتھ ان پر افتخار ہے جو قطعی طور پر جرم کا اقرار ہے اور اس نے قوم کے پامال شدہ حقوق کی بحالی کے لیے قانونی اقدامات کی مناسب راہ فراہم کر دی ہے۔

دوم، گزشتہ سال تیر ماہ (جون کے اواخر) میں عدلیہ کے ذمہ داران سے اپنی آخری ملاقات کے دوران رہبر شہید انقلاب کی جانب سے دوسری مسلط کردہ جنگ کے دوران ہونے والے جرائم کی قانونی پیروی کے بارے میں دی گئی ہدایت پر عمل کرنے کا لازمہ یہ ہے کہ اس کا دائرہ تیسری مسلط کردہ جنگ تک بھی پھیلا دیا جائے اور اس کی مسلسل پیروی اس وقت تک جاری رکھی جائے جب تک عدالتی فیصلہ صادر نہ ہو جائے اور اس کے نفاذ کی ذمہ داری اہل عناصر کے سپرد نہ کر دی جائے۔ یہ اقدام بجائے خود ایسے جرائم کے دوبارہ وقوع پذیر ہونے کی روک تھام کرے گا۔

البتہ عدالتی نظام میں ہمہ گیر اصلاح کی راہ میں کامیابی اور بیان کردہ اہداف کے حصول میں مزید تیز رفتاری کے لیے مختلف اقدامات اور ضروری کام درکار ہیں، جن میں سے بیشتر کو رہبر شہید انقلاب، قدس سرّہ نے عدلیہ کے ذمہ داران سے سالانہ ملاقاتوں اور اپنی مفصل ہدایات، بیانات اور سفارشات میں بارہا بیان فرمایا ہے۔ ان امور پر سنجیدگی سے توجہ اور انھیں عملی جامہ پہنانے کی کوشش پر، جو عدلیہ کے معزز ذمہ داران کی کامیابی کی کنجی ہے، میری بھرپور تاکید اور سنجیدہ توقع ہے۔

عدل و انصاف تک رسائی اور ظلم اور بدعنوانی سے مقابلے کا راستہ دشوار ہے۔ یہ راستہ اخلاص اور توکل، حد درجہ تقویٰ و پرہیزگاری، مضبوط عزم و ارادے، مسلسل محنت، دوچنداں کوشش، شجاعت، ٹھوس عزم، جدت عمل، جدید ٹیکنالوجی کے درست استعمال اور امور کی 'اسمارٹ سازی' کے ذریعے ہموار ہوگا۔ ان تمام اہداف کا حصول اللہ کے اذن، حضرت عدل منتظَر، ہمارے آقا امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خاص عنایات کے سائے میں ممکن ہوگا، ان شاء اللہ۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

29 جون 2026

28 جون 2026