یریوان یونیورسٹی میں "خون دلی کہ لعل شد" کے آرمینیائی ترجمے کی رسم اجرا کی تقریب؛ درد، استقامت اور امید کی داستان
رہبر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خودنوشت سوانح حیات "خون دلی کہ لعل شد" کے آرمینیائی زبان میں ترجمے کی رسم اجرا کی تقریب جمعہ، 9 اکتوبر 2026 کو آرمینیا کے دارالحکومت یریوان کی یونیورسٹی کے شعبۂ مشرقی علوم میں منعقد ہوئی۔ یہ کتاب، جس میں ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ای کی سیاسی جدوجہد، قید اور تشدد کے دور کی یادداشتیں بیان کی گئی ہیں، آرمینیا کی ایران شناس اور مترجم مریم زازیان نے آرمینیائی زبان میں ترجمہ کی ہے۔ یہ اس کتاب کا مختلف زبانوں میں ہونے والا یہ چھبیسواں ترجمہ ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ "زنداں سے پرے رنگ چمن" کے نام سے ہوا ہے۔
اس تقریب کا اہتمام آرمینیا میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے سفارت خانے کے ثقافتی دفتر اور انقلاب اسلامی ثقافتی و تحقیقاتی مرکز نے یریوان یونیورسٹی کے شعبۂ مشرقی علوم کے تعاون سے کیا۔ اس تقریب کے مقررین میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر اسپورٹس اور نوجوانان احمد دنیا مالی، انقلاب اسلامی ثقافتی و تحقیقاتی مرکز کے بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر محمد اخگری، آرمینیا میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے سفیر خلیل شیر غلامی، یریوان یونیورسٹی کی نائب سربراہ برائے تعلیمی امور الینا آسریان، شعبۂ مشرقی علوم کے سربراہ روبن ہوہانیس ملکونیان اور اس یونیورسٹی میں ایران شناسی کے شعبے کے سربراہ واردان وسکانیان شامل تھے۔
کتاب "خون دلی کہ لعل شد" پہلے عربی زبان میں "انّ مع الصّبر نصراً" کے عنوان سے شائع ہوئی تھی، جس کے بعد اس کا فارسی ترجمہ قارئین کے لیے پیش کیا گیا۔ اس کتاب کے پندرہ ابواب میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے، جن میں بچپن اور تعلیم سے لے کر سیاسی جدوجہد میں شمولیت، قید اور اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے کے برسوں میں تشدد برداشت کرنے تک کے واقعات شامل ہیں۔
اس تقریب میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر اسپورٹس اور نوجوانان احمد دنیا مالی نے اپنی تقریر کے آغاز میں رہبر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور حالیہ جنگوں کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور ایران پر امریکا اور صیہونی حکومت کے حملوں کی مذمت کی۔ انھوں نے ایران کے امن پسند ہونے اور جارحیت کے مقابلے میں استقامت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ امن کے خواہاں رہے ہیں لیکن ہم اپنی سرزمین اور عوام کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت اور حملے کے مقابلے میں آخری سانس تک ڈٹے رہیں گے اور ماضی کی طرح جارحیت کرنے والوں کو اپنے کیے پر پچھتانے پر مجبور کر دیں گے۔ دنیا مالی نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں غیر ملکی تسلط کے خلاف استقامت اور مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کو رہبر شہید آيت اللہ خامنہ ای کی سیاسی فکر کا ایک اہم پہلو قرار دیا۔ انھوں نے ایران اور آرمینیا کے درمیان ثقافتی اور عوامی تعلقات کو فروغ دینے پر بھی زور دیا اور امید ظاہر کی کہ اس کتاب کے آرمینیائی زبان میں ترجمے کی اشاعت سے دونوں قوموں کو ایک دوسرے کو بہتر طور پر جاننے اور دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں اور نوجوانوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کا موقع ملے گا۔
یریوان یونیورسٹی کی نائب سربراہ برائے تعلیمی امور الینا آسریان نے "خون دلی کہ لعل شد" کے آرمینیائی زبان میں ترجمے کو آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شخصیت اور اسلامی جمہوریہ ایران میں گزشتہ چند عشروں کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا ایک اہم موقع قرار دیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس کتاب کا ترجمہ یونیورسٹی کے ایران شناسی کی ایک طالبہ نے کیا ہے۔ انھوں نے اس تقریب کو یونیورسٹی میں مشرقی علوم، بالخصوص ایران شناسی کے فروغ کے عمل کی علامت قرار دیا۔ آسریان نے اس کتاب کے آرمینیائی زبان میں ترجمے کی رسم اجرا کو آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع بھی قرار دیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں فارسی سے آرمینیائی زبان میں مزید کتابوں کے ترجمے آرمینیا کے اسٹوڈنٹس اور عوام کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے تاکہ وہ اسلامی جمہوریۂ ایران کی تاریخ اور اس ملک کے ادبی آثار سے مزید واقف ہو سکیں۔
آرمینیا میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے سفیر خلیل شیر غلامی نے "خون دلی کہ لعل شد" کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کتاب "خون دلی کہ لعل شد" کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ درد، تکلیف، تشدد اور قید کی داستان بیان کرتے ہوئے بھی ان یادداشتوں میں "عشق اور امید" کی روح حکم فرما ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں کہا کہ کتاب میں جب درد و تکلیف، تشدد اور قید کا ذکر ہوتا ہے، تب بھی ہم واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ درد و تکلیف سے زیادہ عشق اور امید کی بات کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتاب نجی زندگی روایت کے پیرائے میں اور سادہ و بے تکلف زبان میں ایران کی ہم عصر تاریخ کے ایک حصے کو بیان کرتی ہے۔ شیر غلامی نے کہا کہ "خون دلی کہ لعل شد" آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی کے اس دور کی داستان بیان کرتی ہے جس کے بارے میں اسلامی انقلاب کے بعد کے دور میں معلومات زیادہ نہیں ہیں۔ اس دور میں سیاسی سرگرمیاں، قید، تشدد اور وہ مشکلات شامل ہیں جن کا سامنا انھوں نے اور ان کے اہل خانہ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے کے برسوں میں کیا۔
انھوں نے آیت اللہ خامنہ ای کے اہل خانہ سے متعلق ایک واقعے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بیان کردہ یادداشتوں میں سے ایک ان کے بیٹے کی اس دعا سے متعلق ہے جو انھوں نے امام رضا علیہ السلام کے حرم اقدس میں اپنے والد کی رہائی کے لیے کی تھی اور اس کے دو دن بعد ان کے والد رہا ہو گئے تھے۔ آرمینیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے مزید کہا کہ "یہ کتاب ایک عظیم آئيڈیل کی یادداشتیں ہیں اور اس طرح کے آئيڈیل کسی ایک قوم سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ پوری انسانیت سے متعلق ہوتے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ آرمینیا کے عوام اس کتاب کا ترجمہ پڑھ کر ایران کی تاریخ اور وہاں کی سیاسی جدوجہد کے تجربات کے بعض پہلوؤں سے مزید واقف ہوں گے، اور "سختی اور رنج و الم" کے "کارنامے اور کامیابی" میں بدلنے کی داستان قارئین کے لیے نئے افق کھولے گی۔
یریوان یونیورسٹی کے شعبہ مشرقی علوم کے سربراہ روبن ملکونیان نے کتاب "خون دلی کہ لعل شد" کے مندرجات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر شہید کی زندگی اور شخصیت سے سے واقف ہونے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ان کی زندگی ابتدا سے آخر تک جدوجہد، قومی اور تہذیبی اقدار سے وابستگی اور اپنے عقائد کے دفاع سے جڑی رہی۔ انھوں نے کہا کہ مجاہدت، آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی پوری زندگی کا اٹوٹ حصہ رہی۔ انھوں نے کہا کہ ہیرو عام طور پر اپنی زندگی جس انداز میں گزارتے ہیں، ان کی زندگی کا اختتام بھی اسی راستے اور اہداف و مقاصد کی عکاسی کرتا ہے۔ ملکونیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کے رہبر شہید نے بھی اپنی پوری زندگی جدوجہد کی راہ پر گزاری اور اپنی قومی و تمدنی اقدار کے وفادار رہے۔ یریوان یونیورسٹی کے شعبۂ مشرقی علوم کے سربراہ نے مختلف ثقافتوں میں شہادت کے مقام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی اور افسانوی روایات میں وطن اور قومی اقدار کے دفاع کی راہ میں شہادت کو خاص مقام حاصل ہے اور یہ تصور آرمینیا کے عوام کی تاریخ اور ثقافت میں بھی پایا جاتا ہے۔
انھوں نے اپنے ملک اور قومی اقدار کے دفاع میں جانیں قربان کرنے والے آرمینیا کی امر شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے شہدا کے احترام اور ان کی یاد محفوظ رکھنے کو ایران اور آرمینیا کی قوموں کی مشترکہ ثقافتی قدر بتایا۔ ملکونیان نے تاریخی حافظے کی حفاظت اور شہدا کے احترام کو کتاب "خون دلی کہ لعل شد" کے اہم پیغامات میں شمار کیا اور طلبہ کو اس کتاب کے مطالعے کی دعوت دی۔ انھوں نے کتاب کی آرمینیائی مترجم مریم زازیان کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انھوں نے اس کتاب کے ترجمے کی دشوار ذمہ داری قبول کی اور اسے دقت نظر اور مناسب معیار کے ساتھ مکمل کیا۔
یریوان یونیورسٹی میں ایران شناسی کے شعبے کے سربراہ واردان وسکانیان نے اپنی تقریر میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی فکر اور ایران و آرمینیا کے تاریخی تعلقات میں ثقافت اور تہذیب کے مقام پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے خطے میں ایران کے تاریخی کردار کے بارے میں آیت اللہ خامنہ ای کے خیالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے تمدنی علاقے کی بنیاد منہ زوری، دباؤ اور دوسروں پر اپنی باتیں مسلط کرنے پر نہیں ہے بلکہ ثقافتی اور تمدنی رشتے اس دائرے کی قوموں کے درمیان رابطے کی اصل زبان ہیں۔ وسکانیان نے مزید کہا کہ ایران نہ منہ زوری کی زبان مانتا ہے، نہ تسلط کی اور نہ دباؤ کی بلکہ ایران کا تمدنی دائرہ صرف ایک زبان جانتا ہے اور وہ ہے تمدن و ثقافت کی زبان۔ انھوں نے ایران اور آرمینیا کی تاریخی سرحد اور دونوں ممالک کے درمیان طویل ثقافتی روابط کا ذکر کرتے ہوئے فارسی کتابوں کے آرمینیائی زبان میں ترجمے کو ایک دوسرے کی شناخت کی تقویت کے لیے ایک مؤثر قدم قرار دیا۔ وسکانیان نے مزید کہا کہ آرمینیائی زبان ڈھائی ہزار سال سے زیادہ عرصے سے فارسی زبان کے ساتھ ہمسائیگی میں رہی ہے اور دونوں زبان میں لین دین ہوتا رہا ہے اور ایسی کتابوں کی اشاعت دونوں قوموں کے درمیان ثقافتی اور تمدنی رشتوں کو جاری رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
انقلاب اسلامی ثقافتی و تحقیقاتی مرکز کے بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر محمد اخگری نے بھی اس تقریب میں پروگرام کی میزبانی کرنے پر یریوان یونیورسٹی کا شکریہ ادا کیا اور کتاب کی رسم اجرا کی تقریب کے انعقاد کے لیے آرمینیا میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے ثقافتی دفتر کی کوششوں کو سراہا۔ انھوں نے بتایا کہ آرمینیائی ترجمے کی رسم اجرا سے پہلے یہ کتاب پچیس زبانوں میں شائع ہو چکی تھی اور اس ترجمے کے ساتھ اس کتاب کے کل تراجم کی تعداد چھبیسں ہو گئی ہے۔ اخگری نے کتاب کے مندرجات کی وضاحت کرتے ہوئے اسے صرف یادداشتوں کے ایک مجموعے سے کہیں بڑھ کر قرار دیا اور کہا کہ کتاب 'خون دلی کہ لعل شد' صرف یادداشتوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ اس شخص کے عزم اور روحانی سفر کی داستان ہے جس نے زندانوں کی تاریک کال کوٹھریوں سے نور آزادی کی جانب راستہ کھولا۔
کتاب "خون دلی کہ لعل شد" کے آرمینیائی زبان میں ترجمے کی رسم اجرا کی تقریب میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی ہم عصر تاریخ کو متعارف کرانے اور ایران و آرمینیا کے درمیان ثقافتی اور علمی روابط کو وسعت دینے کے لیے ادب اور ترجمے میں بھرپور صلاحیت پائی جاتی ہے۔
10 اکتوبر 2026

