شہید سید علی خامنہ ای نے اپنے خون سے امریکا کو شکست دے دی

شہید سید علی خامنہ ای نے اپنے خون سے امریکا کو شکست دے دی

رہبر انقلاب اسلامی کی ویب سائٹ (khamenei.ir) نے رہبر شہید امام خامنہ ای رحمت اللہ علیہ کی تشییع جنازہ میں شرکت کے لیے تہران آنے والے یمنی وفد کے ایک رکن، یمن کے اہم سیاسی رہنما اور تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد ناصر البخیتی سے ایک مختصر گفتگو کی تھی، جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

سوال: اس وقت آپ کی ایران آمد کا مقصد کیا ہے؟

جواب: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ہم سید قائد، آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ایران آئے ہیں۔ یہ کم سے کم فریضہ ہے جو ہم اس عظیم رہبر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے سلسلے میں ادا کر سکتے ہیں۔

سوالہ: کیا آج آپ خود کو ایران کا مہمان سمجھتے ہیں؟ آپ یہاں اپنی موجودگی کو کس طرح بیان کریں گے؟

جواب: یمن، ایران اور مزاحمتی محاذ کے دیگر ممالک ایک مشترکہ مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ لہذا ہم خود کو ایران کا مہمان نہیں سمجھتے بلکہ ایران کی خوشی اور غم، دونوں میں ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

سوال: یمن میں رہبر شہید کن خصوصیات کے حوالے سے جانے جاتے ہیں اور وہاں ان کا کیا اثر ہے؟

جواب: آيت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایران میں اسلامی انقلاب کی تشکیل میں بڑا کردار ادا کیا۔ اسی طرح جب وہ ایران کے صدر تھے تو انھوں نے ملک کے امور چلانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے امام خمینی کے انتقال سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کیا اور حکمت و صبر کے ساتھ ایران کی قیادت کی۔ شہید خامنہ ای کی نمایاں خصوصیت مسائل سے نمٹنے میں ان کا صبر اور حکمت، نیز مختلف شعبوں، جیسے سیاست، فلسفے، ادب اور تاریخ میں ان کا وسیع علم اور تجربہ تھا۔ اسی وجہ سے بہت سے غیر ملکی عہدیدار جو، ان سے ملاقات کرتے تھے، حیران رہ جاتے اور ان کے علم و آگہی کی وسعت پر متحیر ہو جاتے تھے۔

رہبر شہید سید علی خامنہ ای نے اپنی شہادت کے ذریعے امت کی ایک بڑی خدمت بھی انجام دی کیونکہ ان کی شہادت نے سب سے پہلے ایران کے اندرونی محاذ کو متحد کیا اور پوری دنیا کے مسلمانوں پر حجت تمام کر دی۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس جنگ میں امریکہ کے مقابلے میں اپنے خون سے فتحیاب ہوئے کیونکہ ان کے پاکیزہ خون کے باعث ٹرمپ اس جنگ کا کوئی بھی مقصد حاصل نہ کر سکا جن میں سرفہرست ایران کے نظام کو گرانا تھا۔ جو کچھ ہوا، وہ اس کے بالکل برخلاف تھا۔ ایرانی قوم، اسلامی انقلاب، اس کے اصولوں اور مسئلۂ فلسطین و امت کے دیگر مسائل کے سلسلے میں اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کے گرد متحد ہو گئی۔

سوال: رہبر شہید میں بہت سی خصوصیات تھیں۔ ان کی وہ کون سی نمایاں خصوصیات یا صفات تھیں جو آپ کو ان کی شخصیت میں مجذوب کرتی تھیں؟

جواب: شہید علی خامنہ ای میں کئی نمایاں خصوصیات تھیں، جن میں مسائل سے نمٹنے میں صبر و حکمت، بالخصوص اندرونی چیلنجوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت اور وسیع علم اور آگہی شامل تھے۔ انھی خصوصیات نے انھیں سخت ترین حالات میں ایران کے امور سنبھالنے کے قابل بنایا، خصوصاً امام خمینی کی وفات کے بعد۔ وہ مسئلۂ فلسطین اور امت کے مسائل کے سلسلے میں ایران کی اخلاقی فرض شناسی کی پابندی میں بھی کامیاب رہے۔

سوال: امام شہید کی آخری رسومات کا نعرہ قرآنی عبارت "قُومُوا لِلَّہِ" (اللہ کے لیے اٹھ کھڑے ہو) ہے۔ اس نعرے کے سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

جواب: یقیناً جب ہم حرکت میں آتے ہیں تو اپنے سفر کا آغاز اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنے سے کرتے ہیں اور اپنے فیصلے مادی، سیاسی، اقتصادی اور عسکری اندازوں اور حساب کتاب کی بنیاد پر نہیں بلکہ الہی ہدایات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ لہذا آئندہ مراحل میں بھی ہمارا یہی نعرہ ہونا چاہیے کیونکہ ہمیں اسی کی ضرورت ہے۔ بعض لوگ اپنے فیصلے مادی، فوجی اور اقتصادی حساب کتاب کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ اگر ہم بھی معاملات کا جائزہ اسی زاویے سے لیں تو ایک نتیجے پر پہنچیں گے اور وہ امریکی منصوبہ بندی اور امریکی تسلط کے سامنے جھک جانا ہے۔ بنابریں ہماری جدوجہد خداوند عالم کی رضا کے لیے ہونی چاہیے تاکہ ہم الہی توفیق، حمایت اور فتح حاصل کر سکیں، ان شاء اللہ۔

سوال: یمن میں انصاراللہ تحریک آئندہ مرحلے میں "قُومُوا لِلَّہِ" کے نعرے کو کس طرح عملی جامہ پہنا سکتی ہے؟

جواب: شہید سید علی خامنہ ای کا نعرہ "قُومُوا لِلَّہِ" اور اسی طرح وہ نعرہ جو ان کی آخری رسومات میں بلند کیا گیا، وہی ہے جس پر ہم عملی میدان میں کاربند ہیں۔ جب ہم اپنے عسکری فیصلے کرتے ہیں تو وہ اللہ کی آواز پر لبیک کہنے کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ جب ہم نے صیہونی حکومت کے اندرونی علاقے میں پہلا حملہ کیا اور اسی طرح باب المندب کو صیہونی حکومت کی بحری آمدورفت کے لیے بند کیا تو بہت سے مبصرین اور تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ فیصلہ غلط ہے کیونکہ ہم امریکا، برطانیہ اور صیہونی حکومت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

تاہم ہمارا جواب واضح تھا: ہم اپنے فیصلے اللہ کے احکامات پر لبیک کہنے کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں۔" اسی طرح وہ فرماتا ہے: "تو جو تم پر زیادتی کرے، تم بھی اس پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر کی ہے۔" بنابریں جب ہم اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں تو ہمارا مقصد لازمی طور پر فتح حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ ہم اس کی رضا اور اپنی دینی و اخلاقی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے لڑتے ہیں۔

سوال: آپ مجموعی طور پر رہبر شہید کی مختصر الفاظ میں کس طرح توصیف کریں گے؟

جواب: شہید علی خامنہ ای اپنے عرفانی اور روحانی خطابات کے حوالے سے ممتاز تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے: "ان کی نشانیاں ان کے چہروں سے نمایاں ہیں۔" جو بھی شہید علی خامنہ ای کو دیکھتا ہے، وہ اپنے باطن اور ضمیر میں محسوس کرتا ہے کہ یہ شخص ایک منصفانہ مقصد اور حق و حقیقت کا حامل ہے۔ یہ بات ان کے چہرے سے محسوس کی جا سکتی ہے۔

سوال: براہ کرم کیا آپ اس جملے کو مکمل کر سکتے ہیں؟ "میں نے رہبر شہید علی خامنہ ای سے سیکھا کہ ..."

جواب: میں نے رہبر شہید علی خامنہ ای سے صبر اور حکمت سیکھی۔ اسی طرح روحانی اور عرفانی انداز میں گفتگو کرنے کا طریقہ اور اس بات کی اہمیت بھی سیکھی کہ انسان کو مختلف علوم پر، خواہ وہ تاریخی ہوں یا فلسفیانہ یا دیگر علوم، عبور حاصل ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی زندگی کے امور کو درست اور مناسب طریقے سے چلا سکے۔

سوال: آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے آخری خطابات میں سے ایک میں امام حسین علیہ السلام کے حوالے سے کہا تھا: "مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلہ" آج اس جملے کا کیا مفہوم ہے؟

جواب: اس دنیا میں لڑائی، دراصل جواز کی جنگ ہے، حق کے جواز اور باطل کے جواز کے درمیان جنگ۔ یزید، امام حسین علیہ السلام سے جو چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ وہ باطل کے جواز کو تسلیم کریں اور اس کی بیعت کر لیں۔ یہ کشمکش اس وقت سے لے کر آج تک جاری ہے۔ آج بھی جنگ حق اور باطل کے درمیان ہے۔ امریکا اب صرف ہمارے ملکوں پر قبضے اور ان پر تسلط تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کے جواز کو بھی تسلیم کر لیں اور اس کا حصہ بن جائیں۔

امریکیوں نے دھمکیاں دے کر شہید سید علی خامنہ ای سے یہ کہنے کی کوشش کی کہ اگر انھوں نے مسئلۂ فلسطین سے دوری اختیار نہیں کی تو وہ ایران کو تباہ کر دیں گے اور خود انھیں بھی نشانہ بنائیں گے لیکن انھوں نے انکار کر دیا کیونکہ مسئلۂ فلسطین سے دست بردار ہونا اور دنیا بھر کے کمزور بنا دیے گئے لوگوں کی حمایت کے بارے میں ایران کے فرائض کو ترک کرنا، امریکی اقدامات کے جواز کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوتا، گویا وہ امریکیوں کی بیعت کر لیتے۔ لہذا ان کے لیے اس بات کو مسترد کرنا اور اپنے جد امجد امام حسین علیہ السلام کی راہ و روش پر چلنا فطری امر تھا۔ امام حسین علیہ السلام اپنے خون سے کامیاب ہوئے اور آج سید علی خامنہ ای بھی اپنے خون سے امریکا پر فتحیاب ہوئے ہیں۔

سوال: ہم امام اور رہبر شہید کا انتقام کس طرح لیں گے؟

جواب: خداوند عالم اپنی کتاب میں اس فیصلہ کن جنگ کے بارے میں، جس میں ہم اس وقت ہیں، بنی اسرائیل سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اگر تم اچھے کام کروگے تو اپنے لیے ہی کروگے اور اگر برے کام کروگے تو وہ بھی اپنے لیے ہی کروگے۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ صیہونی حکومت کو آخرکار اپنے تمام جرائم کی قیمت چکانی پڑے گی۔

ہمارے نزدیک سید علی خامنہ ای، سید حسن نصراللہ اور فلسطین و یمن میں مزاحمتی محاذ کے بہت سے رہنماؤں کو کھو دینا ایک بڑا نقصان ہے اور اس کا جواب دیا جانا چاہیے کیونکہ اگر ہم دشمن تک یہ پیغام نہیں پہنچاتے کہ اسے ان اقدامات کی قیمت چکانی پڑے گی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن اپنی جارحیت جاری رکھے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم امریکا اور صیہونی حکومت، دونوں کو ان تمام اقدامات کی قیمت چکانے پر مجبور کر دیں گے کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔

15 اکتوبر 2026