"خون دلی کہ لعل شد" کے آرمینیائی ترجمے کی رسم اجرا کی تقریب میں آرمینیا میں ایران کے سفیر:
درد، اذیت اور قید کی داستان بیان کرتے ہوئے بھی "خون دلی کہ لعل شد" عشق اور امید کی بات کرتی ہے
آرمینیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا کہ کتاب "خون دلی کہ لعل شد" کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ درد، تکلیف، تشدد اور قید کی داستان بیان کرتے ہوئے بھی ان یادداشتوں میں "عشق اور امید" کی روح حکم فرما ہے۔
خلیل شیر غلامی نے یریوان یونیورسٹی کے شعبۂ مشرقی علوم میں اس کتاب کے آرمینیائی زبان میں ترجمے کی رسم اجرا کی تقریب میں کہا کہ یہ کتاب نجی زندگی روایت کے پیرائے میں اور سادہ و بے تکلف زبان میں ایران کی معاصر تاریخ کے ایک حصے کو بیان کرتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کتاب میں جب درد و تکلیف، تشدد اور قید کا ذکر ہوتا ہے، تب بھی ہم واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ درد و تکلیف سے زیادہ عشق اور امید کی بات کی گئی ہے۔ آرمینیا میں ایران کے سفیر نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی زندگی میں کتاب اور مطالعے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کتاب ان کی پوری زندگی میں "مونس و ہمدم" رہی ہے اور ایران و دنیا کے ادب سے ان کی وسیع واقفیت کا تعلق بھی کتاب کے ساتھ اسی لگاتار رشتے سے ہے۔
شیر غلامی نے کہا کہ "خون دلی کہ لعل شد" آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی کے اس دور کی داستان بیان کرتی ہے جس کے بارے میں اسلامی انقلاب کے بعد کے دور میں معلومات زیادہ نہیں ہیں۔ اس دور میں سیاسی سرگرمیاں، قید، تشدد اور وہ مشکلات شامل ہیں جن کا سامنا انھوں نے اور ان کے اہل خانہ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے کے برسوں میں کیا۔ انھوں نے آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی کے اس حصے کو ایران میں بعد کی تبدیلیوں کا پیش خیمہ قرار دیا اور کہا کہ یہ کتاب نجی یادداشتوں کے ذریعے اس دشوار راستے کی داستان بیان کرتی ہے جو انھوں نے جوانی سے طے کیا۔
شیر غلامی نے اس کتاب میں آیت اللہ خامنہ ای کے اہل خانہ سے متعلق ایک واقعے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بیان کردہ یادداشتوں میں سے ایک ان کے بیٹے کی اس دعا سے متعلق ہے جو انھوں نے امام رضا علیہ السلام کے حرم اقدس میں اپنے والد کی رہائی کے لیے کی تھی اور اس کے دو دن بعد ان کے والد رہا ہو گئے تھے۔ آرمینیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے مزید کہا کہ "یہ کتاب ایک عظیم آئيڈیل کی یادداشتیں ہیں اور اس طرح کے آئيڈیل کسی ایک قوم سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ پوری انسانیت سے متعلق ہوتے ہیں۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ آرمینیا کے عوام اس کتاب کا ترجمہ پڑھ کر ایران کی تاریخ اور وہاں کی سیاسی جدوجہد کے تجربات کے بعض پہلوؤں سے مزید واقف ہوں گے، اور "سختی اور رنج و الم" کے "کارنامے اور کامیابی" میں بدلنے کی داستان قارئین کے لیے نئے افق کھولیں گی۔ شیر غلامی نے اپنی تقریر کے آخر میں کتاب کی آرمینیائی مترجم مریم زازیان کی، جو آرمینیا کی سرگرم ایران شناسوں میں سے ایک ہیں، قدردانی کی اور اس تقریب کی میزبانی پر یریوان یونیورسٹی اور اس کے شعبۂ مشرقی علوم کا شکریہ ادا کیا۔
9 اکتوبر 2026

