باب المندب، وہ محاذ جسے امریکا نظر انداز نہیں کر سکتا

باب المندب، وہ محاذ جسے امریکا نظر انداز نہیں کر سکتا

یمن کی مغربی ساحلی پٹی پر رونما ہونے والے حالیہ واقعات نے باب المندب اور بحیرۂ احمر کی صورت حال کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اب یمن کے مغربی ساحل، باب المندب اور بحیرۂ احمر کے اسٹریٹجک جزائر پر انصاراللہ کا مکمل کنٹرول ہے اور اسی چیز نے اس تحریک کی حیثیت کو یمن کی جنگ کے ایک مؤثر فریق سے، دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک میں فیصلہ کن طاقت میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس تبدیلی کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب اسے گزشتہ دو برس کے تجربات اور انصاراللہ کی بحری صلاحیت کو محدود کرنے کی امریکا کی براہ راست کوشش کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے۔

طوفان الاقصیٰ آپریشن شروع ہونے کے بعد انصاراللہ نے غزہ کی جنگ میں داخل ہو کر اپنی کارروائیوں کا دائرہ بحیرۂ احمر تک پھیلا دیا۔ اس کا اعلان کردہ ہدف صہیونی حکومت پر دباؤ ڈالنا اور اس حکومت سے متعلق بحری جہازوں کی آمدورفت کو روکنا تھا۔ انصاراللہ کے میزائل اور ڈرون حملوں نے اسرائیل سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں اور مفادات کو نشانہ بنایا اور بہت جلد ان حملوں نے بحیرۂ احمر میں بحری جہازرانی کی سلامتی کو، خطے میں امریکی پالیسی کے اہم مسائل میں شامل کر دیا۔ رہبر شہید آيت اللہ خامنہ ای نے انصاراللہ اور یمن کے عوام کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے 16 جنوری 2024 کو کہا تھا: "یمن کی قوم اور انصاراللہ کی حکومت نے بھی واقعی بڑا کام انجام دیا، غزہ کے عوام کی حمایت میں انھوں نے جو کام انجام دیا، وہ واقعی قابل تحسین اور قابل تعریف ہے۔ انھوں نے صہیونی حکومت کی حیاتی شریانوں پر ضرب لگائی۔ امریکا نے دھمکی دی لیکن وہ امریکا سے نہیں ڈرے! ایسا ہی تو ہے، جب انسان خدا سے ڈرتا ہے تو غیر خدا سے نہیں ڈرتا۔ ان کا کام واقعی جہاد فی سبیل اللہ کا مصداق ہے۔"

واشنگٹن نے شروع میں ایک بحری اتحاد تشکیل دے کر اور بحیرۂ احمر میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا کر اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش انصاراللہ کی جانب سے پیدا کیے گئے حالات کو ختم نہیں کر سکی۔ حملے جاری رہے اور امریکا کو مجبوراً سیکورٹی اور دفاعی موجودگی کی سطح سے آگے بڑھ کر یمن کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی میں داخل ہونا پڑا۔ اس کوشش کی آخری حد  Operation Rough Riderکے نام سے موسوم آپریشن میں نظر آئی۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جسے امریکا نے انصاراللہ کی بحری اور میزائلی صلاحیت کو کمزور کرنے اور بحیرۂ احمر میں بحری جہازرانی کی سلامتی بحال کرنے کے مقصد سے شروع کیا تھا۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ وہ اپنی فضائی اور بحری برتری کے سہارے انصاراللہ کے فوجی ڈھانچے کو تباہ اور بحری جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی اس تحریک کی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے لیکن نتیجہ امریکا کے اعلان کردہ اہداف کے مطابق نہیں رہا۔ تحریک انصاراللہ اپنی آپریشنل صلاحیت قائم رکھنے میں کامیاب رہی اور امریکا نے آخرکار اس آپریشن کے طے شدہ ہدف کو حاصل کیے بغیر ہی اسے روک دیا۔

اس تجربے کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یمن کے مغربی ساحل کے حالیہ واقعات سے پہلے امریکا کے پاس بحیرۂ احمر میں براہ راست مداخلت کے لیے ضروری وسائل اور محرکات موجود تھے اور اس نے انھیں استعمال بھی کیا لیکن پھر بھی وہ انصاراللہ کو خطے کی بحری پوزیشن سے باہر نہیں نکال سکا۔ اب وہی کھلاڑی اس سے پہلے والی پوزیشن میں نہیں بلکہ ایسی پوزیشن میں ہے کہ جہاں اس نے مغربی ساحل اور باب المندب کے زیادہ حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ فرق واشنگٹن کے لیے آج کی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ انصاراللہ اب صرف زیادہ فاصلے سے بحری جہازوں کے خلاف اپنی بحری صلاحیت استعمال نہیں کر رہا ہے بلکہ مغربی ساحل، باب المندب اور بحیرۂ احمر کے جزائر اس کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ جغرافیائی پوزیشن اس تحریک کو زیادہ آپریشنل گہرائی اور اسے اس سمندری گزرگاہ کے آس پاس کے علاقوں پر اپنی طاقت نافذ کرنے کا امکان فراہم کرتی ہے۔

اس دوران مغربی ساحل پر سعودی اتحاد سے وابستہ فورسز کی ہزیمت کی خاص اہمیت ہے۔ یہ فورسز گزشتہ برسوں کے دوران بحیرۂ احمر میں اثر و نفوذ کا ایک حصار قائم کرنے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اہم ترین وسائل میں شامل تھیں۔ المخا کے اطراف کے علاقے، تعز کا مغربی ساحل اور باب المندب کی طرف جانے والے راستے اسی منصوبے کا حصہ تھے۔ تاہم ان فورسز کا شیرازہ بکھرنے اور انصاراللہ کے کنٹرول کے مزید مستحکم ہو جانے کے ساتھ ہی یہ فوجی ڈھانچہ عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔ دریں اثنا المخا صرف ایک ساحلی شہر نہیں ہے۔ تعز کے مغربی علاقوں کو بحیرۂ احمر کے ساحل اور باب المندب سے جوڑنے میں اس کا محل وقوع اس کی اسٹریٹجک اہمیت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اس علاقے پر کنٹرول نے مغربی ساحل پر انصاراللہ کی جغرافیائی پوزیشن کو مکمل کر دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں باب المندب اب ایسی پوزیشن میں نہیں رہ گيا ہے جہاں سعودی اتحاد سے وابستہ فورسز اس کے ذریعے انصاراللہ کی سمندر تک رسائی پر دباؤ ڈال سکیں۔

یہی حقیقت امریکا اور صہیونی حکومت کے اندازوں کو مشکل بنا چکی ہے۔ باب المندب اسرائیل کے لیے بحر ہند اور مشرقی ایشیا کے ساتھ رابطے میں ایک اہم بحری راستہ ہے اور امریکا کے لیے بھی اس بحری نیٹ ورک کا ایک حصہ ہے جو خلیج فارس کو بحیرۂ احمر، نہر سوئز اور بحیرۂ روم سے ملاتا ہے۔ بنابریں اس علاقے میں انصاراللہ کی پوزیشن کا مستحکم ہونا صرف یمن کی جنگ میں توازن کی تبدیلی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس نے خطے میں امریکا کے مطلوبہ سیکورٹی ڈھانچے کو بھی متاثر کیا ہے۔ تاہم آج امریکا کے حالات اس وقت سے یکسر مختلف ہیں جب اس نے Operation Rough Rider شروع کیا تھا۔ واشنگٹن اس وقت ایران کے ساتھ علاقائی جنگ میں مصروف ہے اور اپنی فوجی اور سیاسی توانائی کا ایک اہم حصہ اس محاذ پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ایسی صورت میں یمن میں انصاراللہ کے خلاف ایک براہ راست اور وسیع محاذ کھولنا اس کے لیے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگا فیصلہ ہوگا۔

اس مسئلے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب باب المندب کو آبنائے ہرمز کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے۔ یہ دونوں آبی راستے جزیرہ نمائے عرب کے دو اطراف میں واقع ہیں اور دونوں توانائی کی سیکورٹی اور عالمی تجارت میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکا عام حالات میں ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ پلان بنا سکتا ہے لیکن ایران کے ساتھ علاقائی جنگ کی حالت میں بحیرۂ احمر میں کوئی بھی فوجی اقدام ایک بڑا رسک ہوگا۔ اس جنگ کے دوران ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اڈوں اور انفراسٹرکچر کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے۔اس لیے واشنگٹن دیگر محاذوں پر ایران کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھے بغیر انصاراللہ کے ساتھ وسیع جنگ کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ باب المندب کی صورت حال بدلنے کے لیے براہ راست جنگ میں امریکا کی شمولیت، جنگ کا دائرہ بڑھا سکتی ہے اور خطے میں امریکی فورسز اور مفادات پر دباؤ میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

ایسے حالات میں سعودی عرب بھی آسانی سے امریکا کی خالی جگہ پُر نہیں کر سکتا۔ ریاض نے گزشتہ برسوں میں یمن کے مغربی ساحل پر اپنی پراکسی فورسز کی بھرپور حمایت کی ہے اور توازن تبدیل کرنے کے لیے بہت کچھ خرچ کیا ہے لیکن ان فورسز کی شکست نے ظاہر کر دیا ہے کہ پچھلی پوزیشن کو بحال کرنے کے لیے اس سطح کی مداخلت کرنی ہوگی جس کی سعودی عرب کو بھاری قیمت چکانی ہوگی۔ خاص طور پر اس لیے کہ کوئی بھی نئی اور بڑی جنگ سعودی عرب کے تیل کے بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں اور تیل پائپ لائنوں پر حملے کا خطرہ بڑھا دے گی۔ لہذا آج امریکا کے لیے بنیادی مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ انصاراللہ کے ٹھکانوں پر کیسے حملہ کیا جائے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن، بھاری قیمت چکا کر بھی نئی صورت حال کو تبدیل کر سکے گا یا نہیں۔ Operation Rough Rider کے تجربے سے اس سوال کے پہلے حصے کا واضح جواب مل چکا ہے: امریکا براہ راست فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود انصاراللہ کی بحری صلاحیت کو ختم نہیں کر سکا۔ اب جب انصاراللہ نے اپنی فوجی طاقت کے ساتھ ہی مغربی ساحل اور باب المندب میں اپنی جغرافیائی پوزیشن بھی مستحکم کر لی ہے تو اس صورت حال کو تبدیل کرنا زیادہ دشوار ہو گیا ہے۔

اس زاویے سے موجودہ حالات کو یمن کی جنگ میں صرف ایک میدانی فتح نہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر دیکھنا چاہیے۔ انصاراللہ نے مغربی ساحل، باب المندب اور بحیرۂ احمر کے جزائر پر اپنا کنٹرول مستحکم کرکے ایسی پوزیشن حاصل کر لی ہے جس کے اثرات براہ راست خطے کی بحری سیکورٹی اور بیرونی طاقتوں کے اندازوں تک کو اپنے دائرے میں لے لیتے ہیں۔ یہ پوزیشن انصار اللہ کو یہ امکان بھی فراہم کرتی ہے کہ وہ وسیع فوجی نقل و حرکت کے بغیر صرف ایک حساس مقام پر کنٹرول کو ایک اسٹریٹجک دباؤ کے وسیلے کے طور پر استعمال کرے۔ ظاہر سی بات ہے کہ امریکا اور صہیونی حکومت اس صورت حال کو تسلیم نہیں کریں گے اور اسے تبدیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے لیکن کسی حقیقت کو تسلیم نہ کرنے اور اسے تبدیل کرنے کی طاقت کے درمیان بہت فرق ہوتا ہے۔ طوفان الاقصیٰ کے بعد کے دور میں بحیرۂ احمر کے تجربے نے دکھا دیا ہے کہ امریکا کی فوجی برتری، انصاراللہ کو اس پوزیشن سے ہٹانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اور اس وقت مغربی ساحل اور باب المندب پر مکمل کنٹرول نے کسی بھی بیرونی فوجی اقدام کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

اسی وجہ سے باب المندب ایسا محاذ بن گیا ہے جسے امریکا نظر انداز نہیں کر سکتا لیکن اسی کے ساتھ وہ اس کی قیمت کا اندازہ لگائے بغیر ایک نیا تصادم بھی شروع نہیں کر سکتا۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو بحیرۂ احمر کے توازن میں رونما ہوئی ہے: تحریک انصاراللہ، یمن کی جنگ میں شریک ایک طاقت سے بڑھ کر ایک ایسے کھلاڑی میں تبدیل ہو گئی ہے جس کی جغرافیائی پوزیشن اور فوجی صلاحیت براہ راست دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک پر اثر انداز ہو گئی ہے اور امریکا کے پاس اس حقیقت کو تبدیل کرنے کے لیے اب وہ آپشن نہیں رہ گئے ہیں جو Operation Rough Rider سے پہلے اس کے پاس تھے۔

تحریر: احمد حاجی صادقیان

21 ستمبر 2026