بوسنیا کے بارے میں رہبر شہید کے موقف کا جائزہ
بوسنیا میں کتاب "سرائیوو کی سڑکوں پر چہل قدمی" کی رسم اجراء کا پروگرام
تصویری کتاب "سرائیوو کی سڑکوں پر چہل قدمی؛ آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ای کی نظر میں بوسنیا و ہرزیگووینا" کی رسم اجراء کا پروگرام 24 اکتوبر کو سرائیوو میں منعقد ہوا، جس میں بوسنیا و ہرزیگووینا، ترکی اور برطانیہ کی شخصیات نے شرکت کی۔
آئین کی نگہبان کونسل کے سیکریٹری اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے امور میں رہبر شہید انقلاب کے نمائندے آیت اللہ احمد جنتی نے کتاب "سرائیوو کی سڑکوں پر چہل قدمی" کی اشاعت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ رہبر شہید ہمیشہ دنیا بھر کے مسلمانوں اور مظلوموں کے مستقبل کے بارے میں ذمہ داری کا احساس رکھتے تھے اور بوسنیا کے عوام کی حمایت کو امت مسلمہ کے سلسلے میں اپنے فرائض میں شامل سمجھتے تھے۔ آیت اللہ جنتی نے اپنے پیغام کے ایک اور حصے میں خطروں اور جارحیت کے مقابلے میں مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام مسلمانوں بلکہ دنیا کے تمام آزاد انسانوں کو اتحاد و یکجہتی کے ساتھ ان تمام جرائم کا پہلے سے زیادہ مضبوط جواب دینا چاہیے۔
پروگرام کے دیگر مقررین نے بھی بوسنیا کی جنگ کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے اس ملک کے مسلمانوں کی حمایت میں آیت اللہ خامنہ ای کے کردار اور ایران و بوسنیا کے تعلقات کی تاریخی یادداشت محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے اس ملک کے مسلمانوں کی حمایت میں عوامی اور بین الاقوامی کوششوں سے متعلق اپنے تجربات اور یادیں بھی بیان کیں۔
ترکی کے قدس ٹی وی نیٹ ورک کے سربراہ نورالدین شیرین نے 1986 اور 1992 میں آیت اللہ خامنہ ای سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1992 میں ایران کے دورے کے دوران، جب بوسنیا کی جنگ جاری تھی، آیت اللہ خامنہ ای نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنی تمام سیاسی، اقتصادی، فوجی اور سماجی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بوسنیا کے عوام کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس اپیل کے بعد ترکی کے رضاکاروں کے گروہ بوسنیا کے مسلمانوں کے دفاع کے لیے اس ملک روانہ ہوئے۔ ان میں سے بعض جنگ کے دوران شہید یا زخمی بھی ہوئے۔
برطانیہ میں مقیم مصنفہ اور صحافی آرزو مرالی نے بھی کتاب "سرائیوو کی سڑکوں پر چہل قدمی" کی رسم اجراء کے پروگرام میں کہا کہ بوسنیا کی جنگ کے واقعات نے برطانیہ کے بہت سے نوجوان مسلمانوں کی زندگی اور فکری راستے پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے افکار اور تقاریر پر اپنی تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بوسنیا کے بارے میں ان کے موقف کے جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کے عوام کی حمایت، ان کی شخصیت کی دو اہم خصوصیات کا مظہر تھی: قوموں کی ثقافت اور تمدن پر گہری توجہ اور مظلوم و ستم رسیدہ عوام کے سلسلے میں احساس ذمہ داری۔
مرالی نے فارسی ادب اور وکٹر ہیوگو اور ٹالسٹائی سمیت دنیا کے ممتاز ادیبوں کی تصانیف سے آیت اللہ خامنہ ای کی آگہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نقطۂ نظر کے مطابق مختلف ثقافتوں کے درمیان مشترکہ انسانی رشتے موجود ہیں اور مظلوموں کی حمایت کو قومی یا مذہبی سرحدوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس مصنفہ اور صحافی نے زور دے کر کہا کہ بوسنیا کے عوام کے لیے آیت اللہ خامنہ ای کی حمایت صرف سیاسی موقف اور تقاریر تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں عملی اقدامات اور ضروری وسائل کی فراہمی بھی شامل تھی۔ انھوں نے بوسنیا کی جنگ کے تجربے کو ایک ایسی تحریک کے آغاز کا پیش خیمہ بھی قرار دیا جسے بعد میں "مزاحمت کا محاذ" کہا جانے لگا۔
لندن میں اسلامی انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ مسعود شجرہ نے بھی بوسنیا کی جنگ کے دوران برطانیہ کے مسلمانوں کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بوسنیا کے عوام کی حمایت کے لیے آیت اللہ خامنہ ای کی اپیل ان اہم عوامل میں سے ایک تھی جنھوں نے مختلف ممالک کے مسلمانوں اور رضاکاروں کو اس ملک کے عوام کی مدد کے لیے متحرک کیا۔ انھوں نے اس دور میں برطانوی مسلم پارلیمنٹ کی رکنیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں، جب بین الاقوامی ادارے بوسنیا کے عوام کے قتل عام کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے تھے، برطانیہ کے مسلمانوں کے گروہ، امداد اکٹھا کرنے اور ضروری سامان اس ملک کے عوام تک پہنچانے میں مصروف تھے۔ لندن میں اسلامی انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے بوسنیا کی جنگ کا موجودہ فلسطین اور خطے کی صورت حال سے موازنہ کرتے ہوئے مظلوم عوام کی حمایت میں یکجہتی اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ بوسنیا کے تجربے نے ثابت کیا کہ ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے احساس ذمہ داری، اتحاد اور قربانی دینے کی تیاری ضروری ہے۔
بوسنیا کے سیاسی اور سماجی کارکن دمیر محمود چاہیچ نے بھی اس پروگرام میں کتاب "سرائیوو کی سڑکوں پر چہل قدمی" کی اشاعت کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب صرف ایرانیوں کے لیے اہم نہیں بلکہ سب سے پہلے بوسنیا و ہرزیگووینا کے عوام کے لیے اہم ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ آیت اللہ خامنہ ای نے ان کے اور ان کی جدوجہد کے بارے میں کیا کہا تھا۔ انھوں نے جنگ کے زمانے کی اپنی یادیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نہ ہوتا تو آج ہمارا وجود بھی نہ ہوتا۔
محمود چاہیچ نے کہا کہ بوسنیا کے معاشرے میں ایران کی حمایت کی کچھ یادیں فراموش ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران نے بوسنیا کے عوام کو بغیر کسی شرط یا ذاتی مفاد کے امداد فراہم کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای بوسنیا کے عوام کی حمایت کو محض رضاکارانہ مدد نہیں بلکہ ایک دینی اور انسانی فریضہ سمجھتے تھے۔ اسی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ ایران بھی اس ملک کے عوام کی حمایت کو اپنی ذمہ داری کی ادائیگی تصور کرتا تھا۔
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے تحریری و تقریری آثار کے تحفظ اور اشاعت کے دفتر کے بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اخگری نے بھی اس پروگرام کے لیے اپنے ویڈیو پیغام میں کتاب "سرائیوو کی سڑکوں پر چہل قدمی" کو فن، انسانی ضمیر اور اسلامی ذمہ داری کے باہمی تعلق کی ایک داستان قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتاب آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ای کے بیانات کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے بوسنیا کی جنگ کی بعض حقیقتوں اور اس ملک کے عوام کے لیے ایرانی قوم کی حمایت کو بیان کرتی ہے۔
بوسنیا کی جنگ کے دوران آیت اللہ خامنہ ای کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے اخگری نے کہا کہ یہ حمایت اسلامی احساس ذمہ داری کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ ان کے بقول، اس حمایت نے "تہران کی سڑکوں کو سرائیوو کی سڑکوں کے دل سے جوڑ دیا۔" اخگری نے اس کتاب کو بوسنیا کے مسلمانوں کے نسلی تصفیے کے سلسلے میں بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی دعویدار تنظیموں کی خاموشی کا ایک ثبوت بھی قرار دیا اور پروگرام کے منتظمین اور کتاب کی اشاعت میں شریک افراد کا شکریہ ادا کیا۔
کتاب "سرائیوو کی سڑکوں پر چہل قدمی؛ آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ای کی نظر میں بوسنیا و ہرزیگووینا" میں بوسنیا و ہرزیگووینا، اس ملک کی جنگ اور اس کے عوام کی حمایت کے بارے میں ان کے بیانات اور خیالات اکٹھا کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب ان کے موقف کو دوبارہ سامنے لانے اور نئی نسل تک پہنچانے کے مقصد سے شائع کی گئی ہے۔ اس میں جنگ کے دوران بوسنیا و ہرزیگووینا کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی امداد کی تصاویر بھی شامل ہیں اور اسے الگورتھم پبلشرز نے بوسنیائی زبان میں شائع کیا ہے۔
کتاب "سرائیوو کی سڑکوں پر چہل قدمی" کے پیش لفظ میں آيا ہے: "مستقبل کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ماضی کو فراموش نہ کریں۔ یہ کتاب بوسنیا و ہرزیگووینا میں ہمارے لیے دیے گئے اسباق، رہنمائی اور نصیحتوں کو یاد رکھتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنا، اس کا مطالعہ کرنا اور اسے سننا چاہیے۔" "بوسنیا میں اسلامی نشانیاں، یادگاریں اور جذبات"، "جمہوریت کے پردے میں مغرب کے صلیبی عزائم"، "بوسنیا کے عوام کا مسلمان ہونا ہی ان کا جرم"، "مسلمان قوم بوسنیا و ہرزیگووینا کا روشن مستقبل" اور "یورپ میں اسلامی تشخص کے تحفظ کی کوشش" اس کتاب کے ابواب کے عناوین ہیں۔
25 اکتوبر 2026
