رہبر شہید امام خامنہ ای کے چہلم کی مجلس کا انعقاد:
حجۃ الاسلام حاج علی اکبری: ٹرمپ، کیٹرنگ کے ٹرک سے تاریخ کے کوڑے دان تک پہنچے گا
رہبر شہید اسلامی انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے چہلم کی مجلس تہران کے مصلائے امام خمینی میں منعقد ہوئی جس میں عوام کی ایک بڑی تعداد، ملک کے سول و عسکری حکام، انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہان اور امام شہید کے بیٹوں نے شرکت کی۔
تہران کے مختلف صنفوں کے لوگوں نے مجلس میں پُرجوش شرکت کرتے ہوئے رہبر شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے راستے اور ان کے اہداف کو جاری رکھنے پر زور دیا۔ معنوی اور روحانی ماحول میں منعقد ہونے والی اس مجلس میں بعض قاریوں نے قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کی اور اس کا ثواب رہبر شہید سید علی خامنہ ای کو ہدیہ کیا جبکہ اہلبیت علیہم السلام کے مداحوں نے مرثیہ خوانی کی۔
مجلس کے دوران "امریکا مردہ باد" اور "اسرائیل مردہ باد" کے نعرے گونجتے رہے اور لوگوں نے انتقام کے نعرے لکھے ہوئے پلے کارڈز اٹھا کر امام شہید کی شہادت کے ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ "امام کے ساتھ ہمارا عہد، انتقام، انتقام" اور "لبیک سید مجتبیٰ" جیسے نعرے بھی مجلس میں لگائے جانے والے نعروں میں شامل تھے۔
مجلس سے خطاب کرتے ہوئے تہران کے امام جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین حاج علی اکبری نے کہا کہ "انتقام" رہبر انقلاب کا مطالبہ اور عوام کی بعثت کا کلیدی نکتہ ہے اور ٹرمپ کو کیٹرنگ ٹرک سے کوڑے کے ٹرک میں اور کوڑے کے ٹرک سے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جانا چاہیے۔
انھوں نے رہبر شہید کی علمی، معنوی اور جہادی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پرورش ایک فقیہ، زاہد اور مجاہد والد اور ایک فاضل، دانشور، مومنہ اور علویہ والدہ کے زیر سایہ ہوئی اور انھوں نے علم، معنویت اور جہاد کے راستے میں اعلیٰ مدارج حاصل کیے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین حاج علی اکبری نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ رہبر شہید فقاہت اور اجتہاد کے میدان میں اعلیٰ ترین مقام تک پہنچے، کہا کہ انھوں نے روحانی سیر و سلوک اور جہادی طریقت کے راستے میں بھی بلند درجات حاصل کیے اور اپنی صلاحیت اور بے نظیر ذہانت سے استفادہ کرتے ہوئے خود کو معنویت اور تقویٰ کے نور سے آراستہ کیا اور کمال اور عروج کے سفر میں اعلیٰ ترین اخلاقی فضائل حاصل کیے۔
انھوں نے امام خمینی کے ساتھ رہبر شہید کے رشتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ امام روح اللہ کی خدمت میں رہ کر ان کی روح پرور تاثیر، پختہ عزم، عظیم شخصیت اور جہاد کی بلندی سے استفادہ کرنے میں کامیاب ہوئے اور جوانی کے آغاز ہی سے امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے قدم سے قدم ملا کر مجاہدت کے راستے پر گامزن رہے۔
تہران کے امام جمعہ نے مزید کہا کہ رہبر شہید نے امام خمینی اور امت کے امین کی حیثیت سے ولایت الٰہی کی عظیم امانت اپنے ذمے لی اور ہدایت کا پرچم اٹھائے رکھا، ایسا پرچم جس کے محور میں مزاحمت کا پرچم موجود تھا۔
انھوں نے معاشرے کی ہدایت و رہنمائی میں رہبر شہید کے 37 سالہ کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے تمدن شناس اور تمدن ساز فقیہ کی حیثیت سے امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے مکتب مزاحمت کو ملک میں جامہ عمل پہنایا اور مدبرانہ اور دوراندیشانہ منصوبہ بندی کے ذریعے ایرانی قوم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو مزاحمت کی راہ پر گامزن کیا۔
حجۃ الاسلام والمسلمین حاج علی اکبری نے مزید کہا کہ اس راہ میں تربیتی مزاحمت، تعلیمی و تربیتی نظام کے لیے ایک مزاحمت کار انسان تیار کرنے کا راستہ پیش کرنا اور اسی طرح دشمن کی ثقافتی یلغار کے مقابلے میں ایرانی قوم کے ایمانی، دینی اور قومی تشخص کی تقویت کے ذریعے ثقافتی مزاحمت بھی شامل تھی۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ رہبر شہید نے علم و اجتہاد، اخلاق و سیر و سلوک اور صبر و جہاد کے میدان میں بلند چوٹیوں کو سر کیا اور ایرانی قوم کی عزت اور پیشرفت کی راہ کی حیثیت سے مزاحمت کے راستے کو مستحکم کیا۔
18 اگست 2026

