عدلیہ کے سربراہ: امریکی اور صیہونی مستکبروں اور قاتلوں کے خلاف جہاد سے ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے
عدلیہ کے سربراہ نے "ایک نئے عالمی نظام کا طلوع" کے نام سے شائع ہونے والی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا موضوع "رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی زندگی اور افکار پر ایک نظر" ہے، کہا کہ جہاں کہیں بھی امریکی اور صیہونی ظالموں کے خلاف کوئی پرچم بلند ہوگا، اسلامی جمہوریہ ایران اس کی حمایت کرے گا اور ہم امریکی اور صیہونی مستکبروں اور قاتلوں کے خلاف جہاد سے ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
حجت الاسلام والمسلمین محسنی اژہ ای نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، دنیا کے حریت پسند انسانوں کے رہبر، شہید امام خامنہ ای رحمت اللہ علیہ کی شہادت پر ایک بار پھر تعزیت اور مبارکباد پیش کی اور کہا: "چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے کہ ہمارے بیدار عوام، جن میں چھوٹے بڑے، بوڑھے اور جوان سبھی شامل ہیں، اپنے شہید امام کے غم میں سوگوار ہیں اور انتقام کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے شہید امام اور اپنے تمام شہداء کے خون کے منتقم ہیں۔ ہم میناب کے معصوم بچوں کے خون کے منتقم ہیں۔"
عدلیہ کے سربراہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکا اور صیہونی حکومت کو ایرانی قوم کے خلاف اپنے جرائم کی قیمت ادا کرنا ہوگی، کہا کہ اسلامی شریعت اور اسلامی جمہوریہ ایران کے قوانین میں محارب، مفسد فی الارض اور جنگی مجرموں کے احکام پوری طرح واضح ہیں۔ اسی طرح جنیوا کنونشن اور اس کے ملحقہ پروٹوکولز سمیت تمام بین الاقوامی معاہدوں میں بھی جنگی مجرموں کے بارے میں واضح قوانین موجود ہیں۔ اسی بنا پر ہم پوری طاقت سے اعلان کرتے ہیں کہ امریکا اور صیہونی حکومت کے مجرم حکمرانوں کا گریبان کبھی نہیں چھوڑیں گے، انھیں قانون کے مطابق گرفتار کریں گے، عدالت میں پیش کریں گے، سزا دیں گے اور ان سے اپنے شہداء کا بدلہ لیں گے اور انھیں ایرانی قوم کے تمام نقصانات کی تلافی کرنے پر مجبور کریں گے۔
انھوں نے مستکبروں کے خلاف مسلسل جہاد پر زور دیتے ہوئے کہا: "اسلامی جمہوریہ ایران آئندہ بھی پوری قوت اور استقامت کے ساتھ مزاحمتی محاذ کی حمایت جاری رکھے گا۔ جہاں بھی امریکی اور صیہونی ظالموں کے خلاف کوئی پرچم بلند ہوگا، ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور اس کی حمایت کریں گے۔ ہم مستکبرین اور امریکی و صیہونی قاتلوں کے خلاف جہاد سے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ عدلیہ کے سربراہ نے پڑوسی ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ اسلام کے دشمنوں کی خباثت اور سازشوں کو بہتر طور پر سمجھیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم تمام ہمسایہ ممالک کی حمایت کرتے ہیں، بشرطیکہ وہ دشمن کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی نہ بنیں۔ انھوں نے میدان اور سڑکوں پر عوامی احتجاج اور سفارت کاری کے باہمی تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "اسلامی جمہوریہ ایران جس طرح عسکری میدان میں مضبوطی سے کھڑا ہے، اسی طرح سفارتی میدان میں بھی اپنے دشمنوں سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرے گا اور سخت موقف اختیار کرے گا۔"
محسنی اژہ ای نے کہا: "آج دنیا مجرم امریکا اور اس کی مادی طاقت کے سہارے کام کرنے والی صیہونی حکومت کی اصل حقیقت کو پہچان چکی ہے۔ دنیا جان گئی ہے کہ امریکا اور صیہونی حکومت بچوں کے قاتل اور نسل کش ہیں۔ دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ امریکیوں اور صیہونیوں کے نزدیک اسپتال، تعلیمی ادارے اور دیگر شہری مراکز بھی حملے کے اہداف ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی لفظ امریکی اور صیہونی مجرموں کی خباثت بیان نہیں کر سکتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہماری قوم غم زدہ ضرور ہے لیکن مایوس نہیں ہے۔ ہماری قوم مضبوط عزم اور بندھی ہوئی مٹھی کے ساتھ امریکی اور صیہونی دشمنوں کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے۔ دشمن اپنی بے بسی کی وجہ سے جنگ بندی اور مذاکرات کی بات کرنے پر مجبور ہوئے لیکن ہماری قوم ان کے جرائم کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور خون خواہی کا پرچم بلند رکھے گی۔
عدلیہ کے سربراہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہمارے دشمن الٰہی تعلیمات کو سمجھنے سے عاجز ہیں، کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ کی راہ میں شہادت کا کیا مطلب ہے؟ ہماری قوم شہادت کو عظیم کامیابی سمجھتی ہے، اس لیے وہ کبھی یزید اور یزیدیوں سے سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ خالص اسلام کے مکتب میں، جس کے معلم ہمارے دونوں رہبران انقلاب تھے، شہید سید حسن نصر اللہ اور شہید یحییٰ سنوار جیسے شاگرد تیار ہوئے، جو استقامت اور جہاد کے عظیم نمونے تھے۔ ہمارے شہید امام کے صالح جانشین، آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای، بھی یقیناً اسی نورانی راستے کی طرف رہنمائی کریں گے اور ان شاء اللہ ان کی قیادت میں حق کے محاذ کو مزید بڑی کامیابیاں حاصل ہوں گی۔ تقریب کے ایک اور حصے میں انھوں نے رہبر شہید کی انقلابی اور مجاہدانہ شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہید امام خامنہ ای صرف ایرانی قوم یا اسلامی امت کے رہبر نہیں تھے بلکہ وہ دنیا کے تمام آزاد منش انسانوں کے رہبر تھے۔ انسانی عظمت اور اعلیٰ اخلاق کی تمام صفات ان کی شخصیت میں مجتمع تھیں۔ انھوں نے انبیائے کرام کی طرح عدل قائم کرنے، مظلوموں کی مدد کرنے، ظالموں کے خلاف کھڑے ہونے اور طاغوت سے جنگ کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کی، یہاں تک کہ بدترین مجرموں کے ہاتھوں شہادت کا بلند مقام پایا۔
عدلیہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہمارے دونوں رہبران انقلاب نے انسانوں کے وقار، آزادی اور خودمختاری کے لیے جدوجہد کی۔ دنیا کے اہل علم کو چاہیے کہ وہ ان دونوں عظیم الہی شخصیات کی زندگی اور فکر کا گہرائی سے مطالعہ کریں۔ ہمارے امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اس وقت فرمایا تھا کہ 'امریکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا'، جب دنیا میں امریکا کے مقابلے کا تصور بھی موجود نہیں تھا۔ شہید امام خامنہ ای نے بھی اپنے صالح پیشوا امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی طرح اپنی حکمت، رہنمائی اور قیادت کے ذریعے عالمی مزاحمتی قوتوں میں امریکی سامراج کے مقابلے کے لیے اعتماد اور حوصلہ پیدا کیا۔
6 جولائی 2026

