رہبر شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کے پروگرام کے موقع پر Khamenei.ir کو صدر مملکت جناب پزشکیان کا خصوصی انٹرویو

رہبر شہید انقلاب کو الوداع کہنا، میرے لیے در حقیقت ان کی راہ کو جاری رکھنے کا عہد ہے

رہبر شہید انقلاب کو الوداع کہنا، میرے لیے در حقیقت ان کی راہ کو جاری رکھنے کا عہد ہے

سوال: دشمن نے رہبر انقلاب کو شہید کرنے کے بعد ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کی کوشش کی لیکن عملی طور پر اسلامی جمہوریۂ ایران اور مزاحمتی محاذ کی کامیابیوں کے سبب یہ نیا عالمی نظام مزاحمتی محاذ اور ایران کے حق میں بدل گیا۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: بسم اللہ الرحمن الرحیم. سب سے پہلے میں اپنے عزیز رہبر، ان کے معزز اہل خانہ اور ان تمام عزیزوں کی شہادت پر تعزیت پیش کرتا ہوں جنھوں نے اس جنگ رمضان میں ایران اور اسلام کی عزت و سربلندی کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔ دشمن یہی کرنا چاہتا تھا اور اس نے کیا بھی لیکن اس کام کا نتیجہ اس کے اپنے حق میں نہیں بلکہ ہمارے حق میں نکلا۔ اس نئی صورتحال نے پورے خطے کے جغرافیا کو ہلا دیا، مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر دیا اور دنیا بھر کے لوگوں پر بھی دشمن کے جرائم اور اس کے دعووں کی حقیقت پہلے سے زیادہ واضح ہو گئی۔ اس نے دکھا دیا کہ انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین، آزادی، امن اور سکون کے بارے میں اس کے تمام دعوے جھوٹے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ان تمام بدامنیوں، تباہیوں، نقصانات اور جرائم کے اصل ذمہ دار صیہونی ہیں، جنھیں امریکا کی کھلی اور مضبوط حمایت حاصل ہے اور یورپی ممالک بھی پس پردہ ان کی حمایت کرتے ہیں۔

سوال: ہم ایرانی قوم کی جانب سے اس عظیم وداع کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

جواب: دیکھیے انسان کے عمل کی زبان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوتی۔ لوگ بہت سی باتیں کرتے ہیں۔ اگر میں ابھی تعریف کروں یا تنقید کروں تو جو چیز سب لوگ دیکھیں گے وہ یہ ہے کہ میری فارسی، میری بات چیت کچھ ہی لوگ سمجھیں گے لیکن عوام کا یہ عمل اور یہ موجودگی پوری دنیا سمجھتی ہے۔ یہ جو عظمت ہے، یہ جو آنسو کچھ لڑکیوں، مردوں اور بچوں کی آنکھوں سے بہہ رہے ہیں، کسی کے حکم سے نہیں نکل سکتے۔ یہ دل کا درد اور اندر کا غم ہوتا ہے جو انسان کو رونے پر مجبور کر دیتا ہے، مجبور بھی نہیں کرتا بلکہ آنکھوں سے خود بخود آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور دنیا یہ سب دیکھ رہی ہے۔ اس کے بعد کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے، کسی تعریف کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے عزیز رہبر کی تشییع میں عوام کی باتیں اور ان کا رویہ، ہر بات سے زیادہ واضح اور بولنے والا ہے۔ اور جب اسے "الوداع" کہا جاتا ہے تو میں اسے الوداع نہیں مانتا۔ میرے نزدیک یہ دراصل ان کے راستے کو جاری رکھنے کا عہد ہے۔

آپ کا بہت شکریہ۔

شکر گزار ہوں، بہت شکریہ۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔

6 جولائی 2026