logo khamenei

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا پہلا پیغام

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا پہلا پیغام

اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے رہبر انقلاب آيت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے بدھ کی شام قوم کے نام اپنا پہلا پیغام جاری کیا۔ اس پیغام میں انھوں نے ملک کو درپیش حالات، جنگ کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر اپنے موقف کا اظہار کیا ہے۔ پیغام کا متن حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

مَا نَنسَخْ مِنْ ءَآیَۃٍ اَوْ نُنسِھَا نَاتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَآ اَوْ مِثْلِھا.

اَلسَّلامُ‌عَلَیکَ یا داعِیَ‌اللہِ وَ رَبّانِیَّ آیاتِہِ، اَلسَّلامُ‌عَلَیکَ یا بابَ‌‌ اللہِ وَ دَیّانَ دینِہِ، اَلسَّلامُ‌عَلیکَ یا خَلیفَہَ‌ اللہِ و ناصِرَ حَقِّہِ، اَلسَّلامُ‌ عَلیکَ یا حُجَّۃَ‌ ا‌للہِ وَ دَلیلَ اِرادَتِہ؛ اَلسَّلامُ‌عَلیکَ اَیُّھَا المُقَدَّمُ المَامُول؛ اَلسَّلامُ‌عَلیکَ بِجَوامِعِ السَّلام؛ اَلسّلامُ‌عَلیکَ یا مَولایَ صاحِبَ الزَّمان.

ابتدائے کلام میں اپنے آقا (امام زمانہ) عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی خدمت میں انقلاب اسلامی کے عظیم الشان رہبر خامنہ ای عزیز و حکیم کی شہادت کی مناسبت سے تعزیت پیش کرتا ہوں اور ان سے ایران کی عظیم قوم کی ایک ایک فرد بلکہ پوری دنیا کے تمام مسلمانوں اور اسلام و انقلاب کے تمام حامیوں، ایثار کرنے والوں اور تحریک اسلامی بالخصوص حالیہ جنگ کے شہیدوں کے اہل خانہ اور خود حقیر کے لیے دعائے خیر کی التجا کرتا ہوں۔

میرے کلام کا دوسرا حصہ، ایران کی عظیم قوم سے خطاب پر مبنی ہے۔ سب سے پہلے میں مجلس خبرگان (رہبر انقلاب کا تعین کرنے والی ماہرین اسمبلی) کی رائے کے بارے میں اختصار سے اپنا موقف بیان کروں۔ آپ کے اس خادم سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو آپ ہی کی طرح اسلامی جمہوریہ ایران کے ٹیلی ویژن سے معزز ماہرین اسمبلی کی رائے کی اطلاع ملی۔ حقیر کے لیے اس جگہ پر بیٹھنا جو دو عظیم الشان رہبروں، خمینی کبیر اور شہید خامنہ ای کے مسند تھی، ایک سخت کام ہے کیونکہ اس کرسی پر وہ شخص بیٹھ چکا جو خدا کی راہ میں ساٹھ سال سے زیادہ مجاہدت اور ہر طرح کی لذتوں اور آرام و آسائش کو ترک کر کے صرف عصر حاضر میں ہی نہیں اس ملک کے حکمرانوں کی پوری تاریخ میں ایک گوہر تابناک اور ممتاز شخصیت میں تبدیل ہو گیا تھا۔

مجھے یہ توفیق حاصل ہوئی کہ میں نے ان کی شہادت کے بعد ان کے جسم کی زیارت کی۔ جو کچھ میں نے دیکھا وہ صلابت کا ایک پہاڑ تھا اور میں نے سنا کہ ان کا جو ہاتھ صحیح و سالم تھا اس کی مٹھی بھنچی ہوئی تھی۔ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں، جو لوگ جانتے ہیں وہ مدتوں تک بیان کر سکتے ہیں۔ اس کم فرصت میں، میں اسی اختصار پر اکتفا کرتا ہوں اور تفصیلات کو بعد کے مواقع کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔ تو ایسے شخص کے بعد قیادت کی کرسی پر بیٹھنے میں دشواری کی وجہ یہ ہے۔ اس فاصلے کو پورا کرنا صرف اللہ تعالی کی مدد اور آپ عزیز عوام کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔

یہیں پر ضروری ہے کہ میں وہ بات بیان کروں جس کا میرے اصل کلام سے براہ راست تعلق ہے۔ وہ بات یہ ہے کہ رہبر شہید اور ان کے عظیم الشان پیشرو کا ایک اصلی ہنر، تمام میدانوں میں عوام کو پہنچانا، انھیں لگاتار بصیرت اور آگہی فراہم کرتے رہنا اور عملی طور پر ان کی قوت و صلاحیت پر بھروسہ کرنا تھا۔ انھوں نے اس طرح سے جمہور اور جمہوریت کے معنی کو عملی جامہ پہنایا تھا اور دل کی گہرائيوں سے اس پر عقیدہ رکھتے تھے۔ اس چیز کا واضح اثر ان کچھ دنوں میں جب ملک بغیر رہبر اور بغیر سپریم کمانڈر کے تھا، دیکھا گیا۔ حالیہ واقعے میں ایران کی عظیم قوم کی بصیرت اور ہوشیاری اور اس کی پامردی، شجاعت اور موجودگی نے دوست کو تعریف کرنے اور دشمن کو غرق حیرت ہونے پر مجبور کر دیا۔ یہ آپ عوام ہی تھے جنھوں نے ملک کی قیادت کی اور اس کی طاقت و قوت کو یقینی بنایا۔ اس تحریر کے آغاز میں، میں نے جس آیت کا ذکر کیا وہ اس معنی میں ہے کہ اللہ کی کوئی بھی آيت ایسی نہیں ہے جس کی مہلت ختم ہو جائے یا وہ بھلا دی جائے سوائے اس کے کہ اللہ جل جلالہ کی طرف سے اس کی جگہ اس کے جیسی یا اس سے برتر عطا کی جائے۔

اس آیت کا حوالہ دینے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ حقیر رہبر شہید کی سطح کا ہے، ان سے بہتر سمجھے جانے کی تو بات ہی الگ ہے بلکہ اس آيت مبارکہ کے ذکر کرنے کی وجہ، آپ عزیز قوم کے بھرپور اور بجا کردار کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اگر وہ عظیم نعمت ہم سے چھن گئی تو اس کی جگہ ایرانی قوم کی عمّار جیسی موجودگي، اس نظام کو عطا کر دی گئی۔ یہ بات جان لیجیے کہ اگر میدان میں آپ کی طاقت ظاہر نہ ہو تو نہ تو رہبری میں اور نہ ہی دوسرے مختلف اداروں میں، جن کا حقیقی کام عوام کی خدمت ہے، ضروری لیاقت نہیں رہ جائے گی۔ یہ بات بہتر طریقے سے عملی جامہ پہنے اس کے لیے پہلے تو خداوند عالم کی یاد، اس پر توکل اور معصومین علیہم السلام کے انوار طیبہ سے توسل کو اکسیر اعظم اور کبریت احمر کی طرح دیکھا جانا چاہیے جو مختلف طرح کی گشائشوں اور دشمن پر حتمی فتح کو یقینی بنانے والا ہے۔ یہ ایک بڑی خصوصیت ہے جو آپ کے پاس ہے اور آپ کے دشمن کے پاس نہیں ہے۔

دوسرے یہ کہ قوم کے مختلف طبقوں اور افراد کے درمیان اتحاد میں کوئي خلل واقع نہ ہو کیونکہ یہ اتحاد سخت حالات میں ایک الگ طرح کا جلوہ دکھاتا ہے۔ یہ چیز اختلافی مسائل کو نظر انداز کرنے سے حاصل ہوگي۔

تیسرے یہ کہ میدان میں مؤثر موجودگی باقی رہنی چاہیے، چاہے اس صورت میں جو آپ نے جنگ کے ان دنوں اور راتوں میں دکھائی ہے اور چاہے مختلف سماجی، سیاسی، تربیتی، ثقافتی اور یہاں تک کہ سیکورٹی میدانوں میں اپنے مؤثر کرداروں میں آپ نے دکھائی ہے۔ اہم یہ ہے کہ صحیح اور اجتماعی اتحاد میں خلل ڈالے بغیر کردار کو صحیح طریقے سے سمجھا اور جہاں تک ممکن ہو عملی جامہ پہنایا جائے۔ رہبری اور بعض دیگر عہدیداروں کی ایک ذمہ داری سماج اور مختلف طبقوں کو ان کرداروں کو سمجھانا ہے۔ اس لحاظ سے میں رواں سال (1447 ہجری) کے یوم قدس کے پروگراموں میں عوام کی موجودگی پر تاکید کرتا ہوں جس میں دشمن کو کچلنے کے عنصر پر سبھی کو توجہ دینی چاہیے۔

چوتھے یہ کہ ایک دوسرے کی مدد کی طرف سے غافل نہ رہیے۔ بحمد اللہ زیادہ تر ایرانیوں کی دائمی خصلت یہی رہی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ ان خاص ایام میں کہ جو قوم کے بعض لوگوں پر دوسروں کی نسبت زیادہ سخت گزر رہے ہیں، یہ چیز زیادہ نمایاں ہونی چاہیے۔ یہیں پر میں خدمات فراہم کرنے والے اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عزیز قوم اور عوامی ڈھانچوں کی مدد اور اعانت میں کسی بھی طرح کی کمی نہ آنے دیں۔

اگر ان باتوں کا خیال رکھا گيا تو عظمت و شکوہ کے ایام تک آپ ملت عزیز کی رسائی کی راہ ہموار ہو جائے گي۔ اس کا سب سے قریبی مصداق، اللہ کے اذن سے موجودہ جنگ میں دشمن پر فتح ہو سکتی ہے۔

میرے کلام کا تیسرا حصہ، اپنے شجاع مجاہدوں کا صدق دل سے شکریہ ہے جنھوں نے ایسے حالات میں جب ہماری عزیز قوم اور وطن عزیز مظلومانہ طریقے سے سامراجی محاذ کے سرغناؤں کے حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے، اپنی ٹھوس ضربوں سے دشمن کی راہ بند کر دی ہے اور انھیں وطن عزیز پر تسلط اور اس کی ممکنہ تقسیم کے وہم سے باہر نکال دیا ہے۔

عزیز مجاہدو! عوام کی خواہش مؤثر اور پشیمان کر دینے والے دفاع کو جاری رکھنا ہے۔ اسی طرح یقینی طور پر آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے وسیلے کو بدستور استعمال کرتے رہنا چاہیے۔ دوسرے محاذ کھولنے کے بارے میں، جن کا دشمن کو بہت معمولی تجربہ ہے اور وہ ان کے مقابلے میں بری طرح مار کھائے گا، غور کیا گیا ہے اور جنگ کی صورتحال کے جاری رہنے اور مصلحت کے تقاضے کی صورت میں وہ محاذ بھی کھول دیے جائیں گے۔

میں اسی طرح مزاحمتی محاذ کے جانبازوں کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم مزاحمتی محاذ کے ملکوں کو اپنے بہترین دوست مانتے ہیں اور مزاحمت اور مزاحمتی محاذ اسلامی انقلاب کی اقدار کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ بلا شبہہ اس محاذ کے ارکان کا ایک دوسرے سے تعاون، صیہونی فتنے سے نجات کی راہ کو قریب تر کر دے گا، جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ شجاع اور مومن یمن نے غزہ کے مظلوم عوام کے دفاع کو ترک نہیں کیا اور ایثار پیشہ حزب اللہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ کی مدد کو آ گیا ہے اور عراق کی مزاحمت نے بھی پوری دلیری سے اسی راستے کو اپنایا ہے۔

اپنے کلام کے چوتھے حصے میں، میرا خطاب ان لوگوں سے ہے جنھیں گزشتہ کچھ دنوں میں نقصان پہنچا ہے۔ چاہے وہ لوگ ہوں جنھیں اپنے کسی عزیز یا عزیزوں کی شہادت کا داغ سہنا پڑا ہو، چاہے وہ لوگ ہوں جو زخمی ہوئے ہوں اور چاہے وہ لوگ ہوں جن کے گھربار یا کام کاج کی جگہ کو نقصان پہنچا ہو۔ اس حصے میں سب سے پہلے تو میں بلند مقام شہیدوں کے اہل خانہ سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ بات میرے اس مشترکہ تجربے کی بنیاد پر ہے جو ان عزیزوں کے ساتھ ہی مجھے بھی حاصل ہوا ہے۔ میں نے اپنے والد کے علاوہ، جنھیں کھونے کا داغ ہمہ گیریت حاصل کر چکا ہے، اپنی عزیز اور باوفا اہلیہ کو، جن سے مجھے بہت امیدیں تھیں، اپنی فداکار بہن کو، جنھوں نے خود کو اپنے والدین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا اور آخرکار اپنا اجر حاصل کیا اور اسی طرح ان کی چھوٹی بچی اور اپنی دوسری بہن کے شوہر کو جو ایک عالم اور باوقار انسان تھے، شہیدوں کے قافلے کے حوالے کیا ہے۔ تاہم جو چیز مصیبتوں پر صبر کو ممکن بلکہ آسان بناتی ہے وہ صبر کرنے والوں کو گرانقدر اجر عطا کرنے کے اللہ کے حتمی اور قطعی وعدے پر توجہ ہے۔ بنابریں صبر کرنا چاہیے اور اللہ جل جلالہ کے لطف و کرم اور اس کی مدد کی امید اور اس پر اعتماد رکھنا چاہیے۔

دوسرے یہ کہ میں سبھی کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم شہیدوں کے خون کے انتقام کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ جو انتقام ہمارے مد نظر ہے وہ صرف رہبر عظیم الشان انقلاب کی شہادت کا نہیں ہے بلکہ قوم کا ہر فرد جو دشمن کے ذریعے شہید ہوتا ہے، وہ خود انتقام کا ایک الگ موضوع ہے۔ البتہ اس انتقام کا ایک محدود حصہ اب تک عملی جامہ پہن چکا ہے لیکن جب تک انتقام مکمل نہیں ہو جاتا، انتقام کا مسئلہ، تمام دوسری معاملات کے اوپر رہے گا اور خاص طور پر ہم اپنے بچوں اور نونہالوں کے خون کے سلسلے میں زیادہ حساسیت سے کام لیں گے۔ بنابریں دشمن نے میناب کے شجرۂ طیبہ اسکول کے سلسلے میں جان بوجھ کر جو جرم انجام دیا ہے، وہ اس سلسلے میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

تیسرے یہ کہ ان حملوں میں اپنے اعضائے جسمانی کا نذرانہ پیش کرنے والے جانبازوں کا یقینی طور پر مفت میں علاج ہونا چاہیے اور انھیں کچھ دوسری سہولیات بھی ملنی چاہیے۔

چوتھے یہ کہ جہاں تک موجودہ حالات اجازت دیں، لوگوں کے ذاتی گھروں اور اثاثے کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے ضروری اور طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جائے۔ مؤخر الذکر دو باتوں پر عمل، محترم ذمہ داران کے لیے لازمی ہے اور وہ اس کی رپورٹ حقیر کو دیں۔

اور ایک بات جس کی یاد دہانی کرانا ضروری ہے، یہ ہے کہ ہم ہر حال میں دشمن سے ہرجانہ لیں گے اور اگر اس نے انکار کیا تو جتنا ہماری تشخیص ہوگی، اتنا اس کے اموال میں سے ہم حاصل کریں گے اور اگر وہ بھی ممکن نہ ہوا تو اتنا ہی اس کے اثاثہ جات کو نابود کریں گے۔

میرے کلام کا پانچواں حصہ، خطے کے بعض ملکوں کے سربراہوں اور مؤثر رہنماؤں سے خطاب پر مبنی ہے۔ ہم مشترکہ زمینی یا سمندری سرحدیں رکھنے والے اپنے سبھی پندرہ ہمسایہ ملکوں سے ہمیشہ گہرے اور تعمیری تعلقات کے خواہاں رہے ہیں اور اب بھی ہیں لیکن دشمن نے گزشتہ برسوں سے تدریجی طور پر ان میں سے بعض ملکوں میں اپنے فوجی اور مالی مراکز بنائے تاکہ خطے پر اپنا تسلط قائم کر سکے۔ حالیہ حملوں میں ان میں بعض فوجی اڈوں کو استعمال کیا گيا اور ہم نے فطری طور پر، جیسا کہ ہم نے پہلے ہی واضح وارننگ دی تھی، ان ملکوں پر کسی طرح کا حملہ کرنے کے بجائے صرف انہی اڈوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد بھی ہم مجبوری میں یہ کام کریں گے، اگرچہ بدستور ہم اپنے اور ہمسایوں کے درمیان دوستی کی ضرورت پر یقین رکھتے ہیں۔ ان ملکوں کو ہمارے وطن عزیز پر حملہ کرنے والوں اور ہمارے عوام کے قاتلوں کے سلسلے میں اپنا موقف واضح کر لینا چاہیے۔ میں سفارش کرتا ہوں کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو ان اڈوں کو بند کر دیں کیونکہ وہ یقینی طور پر اب تک سمجھ ہی گئے ہوں گے امریکا کی جانب سے امن و سلامتی کے قیام کا دعوی، ایک جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں رہا ہے۔

یہ چیز اس بات کا سبب بنے گی کہ وہ اپنی اقوام کے ساتھ، جو عام طور پر کفر کے محاذ کا ساتھ دینے اور ان کے حقارت آمیز رویے سے ناراض ہیں، مزید گہرے رشتے استوار کر لیں اور ان کی دولت اور طاقت میں اضافہ ہو۔ میں ایک بار پھر دوہراتا ہوں کہ اسلامی جمہوری نظام، علاقے میں کسی طرح کا تسلط اور سامراج شروع کئے بغیر، تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اتحاد اور دوطرفہ گہرے اور پرجوش تعلقات کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔

اپنے کلام کے چھٹے حصے میں میرا خطاب، ہمارے رہبر شہید سے ہے۔ اے ہمارے رہبر! آپ نے اپنی جدائی کے ذریعے ہم سب کے دل کو گہرا غم دے دیا۔ آپ ہمیشہ سے اس انجام کے مشتاق تھے اور حضرت حق تعالی نے آخرکار رمضان المبارک کے دسویں دن کی صبح قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے آپ کو وہ انجام عطا کر دیا۔ آپ نے بہت ساری مظلومیتیں پوری شجاعت اور حلم کے ساتھ برداشت کیں اور ماتھے پر شکن نہ آنے دی۔ بہت سارے لوگوں نے آپ کی حقیقی قدر کو نہیں سمجھا اور شاید بہت زیادہ وقت گزرنے کے بعد پردے اور رکاوٹیں ہٹیں اور وہ قدر واضح ہوگی۔

ہمیں امید ہے کہ آپ کو انوار طیبہ، صدیقین، شہداء اور اولیاء کے جوار میں جو اعلی مقام حاصل ہوا ہے، وہاں بھی آپ اس قوم اور مزاحمتی محاذ کی تمام اقوام کی پیشرفت کے بارے میں سوچیں گے اور اس کے لیے وسیلہ بنیں گے، جیسا کہ آپ اپنی دنیوی زندگي میں ایسے ہی تھے۔ ہم آپ سے عہد کرتے ہیں کہ اس پرچم کو بلند رکھنے کے لیے، جو حق کے محاذ کا اصل پرچم ہے اور آپ کے مقدس اہداف و مقاصد تک رسائی کے لیے اپنے پورے وجود سے کوشش کریں گے۔

ساتویں حصے میں، میں ان تمام حضرات کا جنھوں نے مجھے اپنی حمایت سے نوازا، منجملہ مراجع عظام، مختلف ثقافتی، سیاسی، سماجی شخصیات، وہ افراد جنھوں نے پرشکوہ اجتماعات میں نظام سے دوبارہ بیعت کے اعلان کے لیے شرکت کی ہے اور اسی طرح انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ کے سربراہوں اور حسن تدبیر اور ضروری اقدامات کے لیے رہبری کی عارضی کونسل کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

مجھے امید ہے کہ ان پرفیض گھڑیوں اور ایام میں اللہ کا خاص لطف و کرم ایران کی پوری ملت بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں اور مستضعفین کے شامل حال ہوگا۔

آخر میں، میں ہمارے آقا (امام زمانہ) عجل اللہ تعالی فرجہ الشرف سے التماس کروں گا کہ وہ قدر کے ان بچے ہوئے دنوں اور راتوں اور ماہ مبارک رمضان کے باقی ماندہ دنوں میں خداوند کریم سے دشمن پر ہماری قوم کے ٹھوس غلبے اور اسی طرح ان کی عزت و وسعت اور عافیت ان کے گزر جانے والے عزیزوں کے بلند درجات اور اخروی عافیت کے لیے دعا کریں۔

والسلام وعلیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ و تحیاتہ

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

21 اسفند 1404 مطابق 22 رمضان المبارک 1447

12 مارچ 2026

12 مارچ 2026