یوم محنت کشاں اور یوم معلم کی مناسبت سے رہبر انقلاب کا پیغام:
ٹیچر اور مزدور، ثقافت اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے یوم محنت کشاں اور یوم معلم کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے، جس میں سماج کے ان دو اہم طبقوں کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا گيا ہے۔ انھوں نے اساتذہ اور مزدوروں کے مقام اور ان کی منزلت کو سراہتے ہوئے ایران کی ترقی و پیشرفت کے دشمنوں کی شکست اور انھیں مایوس کرنے کے معاشی اور ثقافتی جہاد میں ان کی اہمیت کو فوجی میدان کی اہمیت کی مانند بتایا۔ انھوں نے ٹیچروں کو ثقافتی جنگ کی سب سے مؤثر کڑی اور مزدوروں کو معاشی جنگ کے سب سے بااثر عناصر بتاتے ہوئے ٹیچروں اور مزدوروں کو ثقافت اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سے تعبیر کیا۔ رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پہلی اور دوسری مئی کے دو دن، ایسے ایام ہیں جن میں محنت کشوں اور اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ زبانی اور علامتی خراج تحسین سے الگ ہٹ کر، جو اپنے آپ میں ایک بجا اور صحیح کام ہے، کسی بھی ملک کی پیشرفت، علم و عمل کے دو پروں کی مرہون منت ہے۔ معلّم، اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے پہلے مرحلے میں کردار ادا کرتا ہے۔
علم و دانش کی تعلیم، مہارتوں میں اضافے اور آئندہ نسل کی فکری نشوونما اور اس کے تشخص کے ڈھانچے کی تشکیل کی بڑی ذمہ داری اس کے کندھوں پر ہے۔ وہ اسٹوڈنٹس اور دینی طلبہ جو کسی بھی استاد کے زیر سایہ پرورش پاتے ہیں، مستقبل قریب میں اپنی سیکھی ہوئی مہارتوں اور حاصل کردہ علوم کو جامۂ عمل پہنائیں گے اور ان شاء اللہ زندگی کے مختلف میدانوں، گھر کے محبت بھرے ماحول سے لے کر کام کی جگہوں اور گلی کوچوں تک میں اپنے اخلاق، رویّے اور گفتگو میں اپنے اساتذہ کے کردار اور گفتار کی جھلک پیش کریں گے۔
دوسری طرف کام کا میدان ایک وسیع میدان ہے جو پورے ملک پر محیط ہے، گھروں، دفاتر، کاروباری مراکز اور مساجد سے لے کر کھیتوں، ورکشاپس، کارخانوں، کانوں اور مختلف خدماتی شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ جتنا زیادہ یہ وسیع میدان محنت اور احساس ذمہ داری جیسے دو بنیادی عناصر سے آراستہ ہوگا، جو ہر بڑی کامیابی کی بنیاد ہیں، اتنی ہی زیادہ ملک کی ترقی کی ضمانت، بہتر اور مضبوط ہوگی۔
ہم جانتے ہیں کہ ایک محنت کش، اپنے عزم اور حسن عمل کے پرتو میں کبھی کبھی ایسا بلند مقام حاصل کر لیتا ہے کہ ایک مہربان استاد اور مربّی کی طرح اس کے توانا اور فنکار ہاتھ پر بھی تشکر و امتنان کا بوسہ دینا چاہیے۔ البتہ یہ اس ابتدائی تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے جو ہر انسان کو اپنے اولین مربّیوں یعنی اپنے والدین سے ملتی ہے اور اس کے بعد استاد کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرنے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
اب جبکہ اسلامی جمہوریۂ ایران نے سینتالیس سال سے زائد جدوجہد کے بعد اللہ کے فضل و کرم سے اپنی ترقی و پیشرفت کے مخالفین کے ساتھ عسکری میدان میں اپنی نمایاں طاقت کا کچھ حصہ دنیا کے سامنے ثابت کر دیا ہے تو اقتصادی اور ثقافتی میدان میں بھی انھیں مایوس کرنا اور شکست دینا ضروری ہے۔
اساتذہ ثقافتی میدان میں سب سے مؤثر کڑی اور محنت کش معاشی و اقتصادی میدان میں اہم ترین عناصر ہوں گے چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں، ثقافت اور معیشت کے ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ وہ اپنی اہم خاص حیثیت کی اہمیت سے، ملازمت اور کام سے بڑھ کر، جسے انجام دینے کے بدلے میں اجرت ملتی ہے، بخوبی واقف ہوں۔
جیسا کہ اس کام کے ساتھ اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہیے کہ ہر سال یا ہر کچھ وقت بعد زبانی خراج تحسین پیش کرنا اپنی جگہ مناسب ہے لیکن ان دونوں طبقوں کی کوششوں کی قدردانی اس سے کہیں زیادہ گہری اور عملی ہونی چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ جس طرح ایران کی عزیز قوم سڑکوں اور چوراہوں پر موجودگی کے ذریعے اپنی عسکری فورسز کی حمایت کر رہی ہے، اسی طرح اسے اساتذہ اور محنت کشوں کی مدد کے لیے بھی مضبوط عملی پشت پناہی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
جیسے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا انتظام چلانے میں طلبہ کے اہل خانہ کا تعاون پہلے سے زیادہ ہونا چاہیے اور اسی طرح ملک میں تیار ہونے والی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دے کر ان کا پروڈکشن کرنے والے محنت کشوں بالخصوص نقصان اٹھانے والے تاجروں اور کاروباریوں کی حمایت کی جانی چاہیے، تاکہ وہ حتیٰ المقدور ملازمین کی برطرفی سے گریز کریں، چاہے وہ پیداواری یونٹس کے ہوں یا سروسز کی یونٹس کے، بلکہ ہر مزدور کو جہاں وہ کام کرتا ہے، اس پروڈکٹ یا سروس یونٹ کا سرمایہ سمجھیں۔ البتہ حکومت کو بھی اس خیرخواہانہ عمل کی حتی الامکان حمایت کرنی چاہیے۔
عزیز ایران، جیسا کہ وہ برسوں کوشش کے بعد ایک عسکری طاقت کے طور پر ابھرا ہے، ان شاء اللہ اسی طرح ایرانی-اسلامی تشخص کے خطوط کی ترسیم اور انھیں اساتذہ کے ذریعے نوجوانوں کے دل و دماغ میں راسخ کر کے اور ملکی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دے کر، جو ایرانی محنت کشوں کی کوشش کا نتیجہ ہیں، ترقی و پیشرفت کی چوٹیوں کی طرف گامزن رہے گا۔ اور یہ سب ان شاء اللہ، ہمارے آقا (امام زمانہ) عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی دعائے خیر اور وسیلے سے بہت جلد اور بہتر طریقے سے انجام پائے گا۔ بِاِذنِاللہ تعالی۔
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
یکم مئی 2026
1 مئی 2026
