غریب الوطنی میں قید کے دوران شہید ہونے والوں کی قومی کانفرنس کے نام رہبر انقلاب کا پیغام

غریب الوطنی میں قید کے دوران شہید ہونے والوں کی قومی کانفرنس کے نام رہبر انقلاب کا پیغام

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے مقدس مشہد میں "شہدائے غریب اسارت" (غریب الوطنی میں قید کے دوران شہید ہونے والے سپاہیوں) کی قومی کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں، ان شہداء کو مقدس دفاع کے دوران، شجاعت، ایمان اور پائیداری کے ساتھ ساتھ، ایرانی قوم کی مظلومیت اور غریب الوطنی کا ایک گوشہ قرار دیا اور زور دے کر کہا ہے کہ اس طرح کی کانفرنسوں کا انعقاد استقامت کی تعظیم ہے۔
رہبر انقلاب کا پیغام، جو آج رات امام رضا علیہ السلام کے روضۂ اطہر میں شہید فاؤنڈیشن میں ولی فقیہ کے نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین موسوی مقدم نے پڑھا، حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اسّی کی دہائی میں آٹھ سالہ مقدس دفاع، جہاں شجاعت، ایمان، پائیداری اور عسکری جدت طرازیوں میں ایرانی قوم کا افتخار آمیز امتحان تھا، وہیں مظلومیت، غریب الوطنی اور روحانی و جسمانی ایذائيں برداشت کرنے کا میدان بھی تھا۔

قید سے رہا ہونے والے جنگي قیدیوں نے اپنی قید کے دوران کیے جانے والے تشدد اور غیر انسانی سلوک کے بارے میں جو چیزیں تحریر کی ہیں، وہ اس دوسرے پہلو کے ایک حصے کو بیان کرتی ہیں جو بلاشبہ اس کے صرف ایک گوشے کی عکاسی کرتی ہیں۔

اب ان لوگوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جنھوں نے اس جانکاہ غریب الوطنی میں، اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کر دی اور جام شہادت نوش کر لیا ہے۔ ان میں سے جن لوگوں کی اب تک شناخت ہو چکی ہے، ان کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک تکلیفیں برداشت کیں لیکن شیطان صفت جیلروں کے مطالبوں اور مسلط کردہ باتوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا اور اذیتوں کو برداشت کیا ہے۔ خدا کا درود و سلام ہو ان پر۔

یہ کانفرنس، ان کی استقامت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہے۔ اس کانفرنس کے منتظمین نے مسئلے کو درست سمجھا اور پورے خلوص سے عمل کیا ہے۔

خداوند انھیں بھی اور ان تمام لوگوں کو بھی، جو مزاحمت کی خدمت کر رہے ہیں، بہترین جزا عطا فرمائے۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ

سید علی خامنہ ای

13 فروری 2026