عرب قوم کی پیشانی سے یہ کلنک کا داغ کون مٹائے گا؟
بعض عرب بادشاہ اور سربراہان اپنے معبود امریکہ کی خوشنودی کی خاطر اپنے عربی جذبات و قومیت کو بھی جس کا وہ ہمیشہ دم بھرتے ہیں، اسرائیل کے معاملے میں بھول جاتے ہیں اور اس کی جگہ امریکہ سے مدد حاصل کرنے کے لئے اسرائیل کے ساتھ ریس کا میدان سجاتے ہیں۔
عرب قوم کی پیشانی سے یہ کلنک کا داغ کون مٹائے گا؟ کیا عرب ممالک میں بیدار مسلم نوجوان اس خیانت کو برداشت کر پائیں گے؟
غاصب اسرائیل کے خلاف دکھایا جانے والا وہ جوش و خروش کہاں چلا گیا؟ وہ وعدے کہاں گئے جو عرب سربراہان نے اسرائیل کے خلاف جنگ کے بارے میں اپنے عوام سے کئے تھے؟ اللہ اور اس کے نیک بندوں کی لعنت ہو اس ہاتھ پر جس نے اسرائیل کے ساتھ پہلے امن معاہدے پر دستخط کئے اور اپنی سیاہ دنیاوی زندگی اور آخرت میں اپنے انجام کو فرعون جیسا بنا لیا۔ نیک بندوں، فرشتوں، انبیا اور اولیا کی لعنت ہو ان لوگوں پر جو اسی راہ پر گامزن ہیں۔ خاص طور پر ان لوگوں پر جنہوں نے مظلوم فلسطینی قوم کو جھوٹی آس دلائی مگر انھیں مصیبتوں کی تاریکی میں دھکیل کر وقتی عیش و عشرت حاصل کیا ہے۔
4 جون 1990
14 اگست 2020

