"خون دلی کہ لعل شد" کے آرمینیائی ترجمے کی رسم اجرا کی تقریب میں یریوان یونیورسٹی کے شعبۂ مشرقی علوم کی پروفیسر:

آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی سوانح حیات کے آرمینیائی ترجمے سے اسلامی جمہوریۂ ایران کی تاریخ کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی سوانح حیات کے آرمینیائی ترجمے سے اسلامی جمہوریۂ ایران کی تاریخ کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔

یریوان یونیورسٹی کی نائب سربراہ برائے تعلیمی امور نے کہا کہ کتاب "خون دلی کہ لعل شد" کے آرمینیائی زبان میں ترجمے سے اسلامی جمہوریۂ ایران کی گزشتہ چند عشروں کی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے گا۔

محترمہ الینا آسریان نے یریوان یونیورسٹی کے شعبۂ مشرقی علوم میں اس کتاب کے آرمینیائی زبان میں ترجمے کی رسم اجرا کی تقریب میں اسے ایک نہایت اہم واقعہ قرار دیا اور کہا کہ اس کتاب کی آرمینیائی زبان میں اشاعت سے قارئین کو آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شخصیت اور ایران میں گزشتہ چند عشروں کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اس کتاب کا ترجمہ یریوان یونیورسٹی کے ایران شناسی کے شعبے کی ایک طالبہ نے کیا ہے، کہا کہ یہ تقریب ایک بار پھر اس یونیورسٹی میں مشرقی علوم، بالخصوص ایران شناسی کے فروغ کے عمل کی عکاسی کرتی ہے۔ آسریان نے کہا کہ ایران شناسی کا فروغ خود ایک پل قائم کرتا ہے، نہ صرف علمی، تعلیمی اور ثقافتی شعبوں میں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بھی۔

انھوں نے "خون دلی کہ لعل شد" کے آرمینیائی زبان میں ترجمے کی رسم اجرا کو آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع بھی قرار دیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں فارسی سے آرمینیائی زبان میں مزید کتابوں کے ترجمے آرمینیا کے اسٹوڈنٹس اور عوام کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے تاکہ وہ اسلامی جمہوریۂ ایران کی تاریخ اور اس ملک کے ادبی آثار سے مزید واقف ہو سکیں۔

محترمہ آسریان نے اپنی تقریر کے آخر میں ایران اور آرمینیا کے درمیان ثقافتی اور علمی شناخت کو فروغ دینے کے لیے اس طرح کے کاموں کے جاری رہنے کی اہمیت پر زور دیا۔

9 اکتوبر 2026