رہبر شہید انقلاب پوری شجاعت کے ساتھ کہتے تھے: مطمئن رہیے، آپ ہی فتحیاب ہیں

رہبر شہید انقلاب پوری شجاعت کے ساتھ کہتے تھے: مطمئن رہیے، آپ ہی فتحیاب ہیں

حجۃ الاسلام والمسلمین محمد محمدی گلپائیگانی، رہبر شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای کے دفتر کے سربراہ اور ان کے سب سے قریبی افراد میں شمار ہوتے تھے۔ شہید خامنہ‌ای کے ساتھ تقریباً چار عشروں کی رفاقت اور قربت نے انھیں ان کی شخصیت کو مکمل اور ہمہ جہت انداز میں پہچاننے کا موقع دیا۔ اسی وجہ سے KHAMENEI.IR نے رہبر شہید کے دفتر کے انچارج سے گفتگو میں آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی خامنہ‌ای کی خصوصیات اور اوصاف کا جائزہ لیا ہے۔ یہ انٹرویو رہبر انقلاب کی شہادت کے کچھ ہی دنوں بعد مارچ 2026 میں لیا گیا تھا۔

سوال: آپ تقریباً چار عشروں تک رہبر شہید کے ساتھ رہے۔ اس رفاقت اور آشنائی کی شروعات کہاں سے ہوئی؟

جواب: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم و صلّی اللہ علیٰ سیّدنا محمد و آلہ الطاہرین۔ میری ان سے آشنائی سنہ 1979 میں انقلاب کی کامیابی کے بعد ہوئی۔ اس وقت میں اصفہان کی آٹھویں جوائنٹ بیس میں امام خمینی رحمت اللہ علیہ کا نمائندہ تھا اور رہبر شہید تہران میں تھے تاہم میں وہاں کے کام ان کی ہم آہنگی سے کیا کرتا تھا۔ اڈے کا ماحول بہت زہریلا تھا، وہ منافقین کا مرکز تھا جو کھل کر اسلام اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف باتیں کرتے تھے۔ قریب ایک سال تک وہاں رہنے کے بعد میرا ٹرانسفر تہران ہوگیا اور مجھے فضائیہ کے عقیدتی و سیاسی امور کی ذمہ داری دی گئی۔ اُس وقت آقا کے پاس فوج میں ولایت فقیہ کی نمائندگی کا دفتر تھا جسے " امام خمینی کا مشاورتی دفتر" کہا جاتا تھا۔ چونکہ میرا ان کے پاس آنا جانا تھا اور وہ مجھے اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے انھوں نے فضائیہ میں اس مشاورتی دفتر کے ایک شعبے کی ذمہ داری مجھے دے دی۔ یوں میں عقیدتی شعبے سے اس مشاورتی دفتر میں منتقل ہوگیا۔ یہ ذمہ داری امام خمینی کے انتقال اور آقا کے رہبری کی ذمہ داری سنبھالنے تک جاری رہی۔ اس وقت انھوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں تم سے ملنا چاہتا ہوں اور مجھے تم سے کام ہے۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، انھوں نے فرمایا: اب وہاں کا کام سمیٹو اور میرے پاس آ جاؤ، میری مدد کرو۔ میں نے عرض کیا: امام کے مشاورتی دفتر کا کیا ہوگا؟ انھوں نے فرمایا: اب تو وہ موضوع ہی ختم ہوگیا ہے، جب امام دنیا سے رخصت ہوگئے تو مشاورتی دفتر کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ میں آگیا اور پورے 37 سال، ان کی قیادت کے زمانے میں، ان کی خدمت میں رہا۔

سوال: اس ہمراہی میں آپ نے ان کی شخصیت میں کون سی خصوصیات اور صفات دیکھیں جو آپ کے لیے نمایاں تھیں؟

جواب: وہ ایک دانا عالم، باصلاحیت خطیب اور غیر معمولی سیاستداں تھے، اس طرح سے کہ مختلف ممالک کے سربراہوں یا دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے ان کی سرکاری ملاقاتوں میں، جن میں اکثر میں موجود ہوتا تھا، صاف محسوس ہوتا تھا کہ وہ سب سے برتر ہیں، وہ کچھ ہی جملے بولتے تھے کہ سب متحیر رہ جاتے تھے۔ جب روس کے موجودہ صدر ولادیمیر پوتین پہلی بار ان سے ملاقات کے لیے آئے تو ملاقات ختم ہونے کے بعد مجھ سے ان کا خیال رکھنے کی سفارش کر رہے تھے۔

وہ غیر معمولی ذہین انسان تھے، واقعی بے مثال تھے۔ ان کی یادداشت بہت مضبوط تھی، کافی پرانے زمانے کی باتیں بھی ان کے ذہن میں محفوظ تھیں۔ وہ ایک بے نظیر رجالی تھے اور علم رجال میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ اجتہاد کے لوازمات میں سے ایک رجال ہے، مجتہد کو لازمی طور پر رجال سے آشنا ہونا چاہیے تاکہ وہ جان سکے کہ یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں، اس کی سند کمزور ہے یا نہیں، اسے ان تمام چیزوں کے جائزے میں ماہر ہونا چاہیے۔ اس میدان میں وہ بے نظیر تھے۔ اس کے علاوہ مختلف ادوار کے بڑے علماء کو بھی بخوبی جانتے تھے، مثال کے طور پر اگر ان سے پوچھا جاتا کہ آقا باقر بہبہانی کون تھے اور ان کے شاگرد کون تھے، تو وہ ان کے تمام شاگردوں کے نام گنوا دیتے، جیسے وہ خود وہاں موجود رہے ہوں اور انھیں پہچانتے ہوں۔

وہ قرآن سے بہت مانوس تھے اور یہ بات میرے لیے پوری طرح واضح تھی جسے میں خود دیکھتا تھا۔ رمضان المبارک میں، کہ اب ان کی جگہ خالی ہے، وہ دو بار پورے قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے پابند تھے اور وہ ایسا کرتے تھے، ماہ رمضان میں پورے دو قرآن پڑھتے تھے۔ انھوں نے قرآن سے نئے تفسیری نکات اور نئی فکری جہتیں حاصل کی تھیں۔ ان کے سبھی دوست اس بات کا اعتراف کرتے تھے۔ قرآن مجید کی آیات پر ان کی بہت گہری نظر تھی، قرآن مجید کی تفاسیر سے واقف تھے اور ان سے استفادہ کرتے تھے۔

اس کے علاوہ وہ ایک بہترین شاعر بھی تھے۔ ہماری ایک مشکل "حجاب معاصرت" ہے، یعنی اگر ہم جیسے لوگ کسی غیر معمولی انسان کے ہم عصر ہوں تو ہم اسے ویسا نہیں پہچان پاتے جیسے پہچاننا چاہیے، کچھ وقت گزرنا ضروری ہے تاکہ اس کی صحیح شناخت ہو سکے۔ تو حجاب معاصرت واقعی ایک پردہ اور رکاوٹ ہے۔ ان کی سیاسی ذمہ داری یعنی رہبری نے ان کی دوسری غیر معمولی خوبیوں اور صفات کو چھپا دیا تھا۔ وہ شاعر تھے، خطیب تھے، حکیم تھے، عالم تھے، فقیہ تھے، مجتہد تھے، یہ تمام صفات ان میں موجود تھیں لیکن لوگوں کی نظر میں زیادہ تر ان کی یہی سیاسی قیادت رہتی تھی۔ انھوں نے مجھے شاعری سے آشنا کیا۔ میں بھی کبھی کوئی شعر، کوئی غزل کہہ لیتا ہوں۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ تمھاری طبیعت موزوں ہے، زیادہ شعر پڑھو اور شعر کہو۔ میں یہ کام کرنے لگا، کبھی غزل کہتا تو کبھی قصیدہ۔ پھر ان کے سامنے پڑھتا، وہ تعریف بھی کرتے اور خامیاں بھی بتاتے تھے۔ وہ بڑے شاعروں سے واقف تھے۔ ہر سال جب ہم ان کے ساتھ مشہد جاتے تو ایک دن خاص طور پر پرانے ممتاز شاعروں اور اپنے دوستوں کے ساتھ ملاقات رکھتے تھے، مشہد میں چار افراد تھے جو بہت نمایاں تھے، دو تین گھنٹے ان کے ساتھ بیٹھتے، پرانی باتیں کرتے، شعر پڑھتے اور سنتے تھے۔ البتہ اپنی زندگی میں وہ جان بوجھ کر اپنے اشعار دوسروں کو کم ہی دیتے تھے، لیکن اب جبکہ وہ دنیا سے جاچکے ہیں، تو بہتر ہوگا کہ متعلقہ افراد ان اشعار کو شائع کریں، یہ بہت مناسب ہوگا۔

یہ ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ ان کی ذاتی زندگی میں بھی ایسی باتیں ہیں جو واقعی ہم سب کے لیے سبق ہیں۔ وہ عیش و عشرت کے مخالف تھے، تعیش پرستی کے سخت مخالف تھے اور ان کی زندگی بہت سادہ تھی۔ یہ بات خود ان کی ہے: مجھ سے کہتے تھے کہ میری ذاتی زندگی کا سارا سامان ایک پک اپ میں آ سکتا ہے، شاید اس سے بھی کم ہو، سوائے میری کتابوں کے۔ ان کے پاس کتابیں بہت تھیں۔ وہ کہتے تھے کہ میرے گھر کا پورا سامان ایک پک اپ سے زیادہ نہیں ہے! یہ مذاق نہیں۔ ہم نے ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے جنھیں دنیا کی کشش نے گمراہ کر دیا لیکن وہ اس دنیا کو، جو پوری شدت سے ان کی طرف آئی تھی، ٹھکرا دیتے تھے۔ مجھے ان کے جدّ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا یہ فرمان یاد آگیا: "یا دُنیا ... غُرّی غَیری ... قَد طَلَّقتُك ثَلاثاً" اے دنیا! کسی اور کے پاس جا، میرے پاس نہ آ، میں نے تجھے تین طلاقیں دے دی ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک سے یا خود ایران سے ان کے لیے قیمتی تحائف آتے تھے مگر وہ ان پر نظر بھی نہیں ڈالتے تھے، اپنی معمولی ضرورت کے مطابق کچھ لیتے اور باقی امدادی کمیٹی یا دوسری جگہوں پر بھیج دیتے۔ ان کا یہی طریقہ تھا اور وہ اس طرح کی چیزیں بہت کم استعمال کرتے تھے۔ غرض یہ کہ وہ عیش و عشرت کے مخالف تھے۔

آپ دیکھیے کہ اس تعیش پرستی نے لوگوں کی زندگی کے ساتھ کیا کیا ہے! آقا اس بات کے پابند تھے کہ اگر وہ نکاح پڑھائيں گے تو مہر  سونے کے چودہ سکّوں سے زیادہ نہ ہو۔ البتہ آج چودہ سکوں کی قیمت بھی بہت زیادہ ہوگئی ہے، اس زمانے کی قیمت کو سامنے رکھیے۔ اگر مہر چودہ سکّوں سے زیادہ ہوتا تو وہ نکاح نہیں پڑھاتے تھے، چاہے ان کے دوست ہوں یا قریبی لوگ۔ میں ایسے افراد کو جانتا ہوں جنھیں آقا بہت چاہتے تھے، وہ آتے اور کہتے کہ ہمارے بیٹے یا بیٹی کا نکاح 110 سکوں پر پڑھا دیجیے، تو وہ فرماتے: براہ کرم کسی اور سے پڑھوا لیجیے، میں چودہ سکّوں سے زیادہ پر نہیں پڑھتا۔ ان کی بڑی بیٹی میری بہو تھیں جو اس حملے میں شہید ہوگئیں، میں نے کہا: آقا! یہ قلم اور یہ کاغذ آپ کے سامنے ہے، جتنا چاہیں مہر لکھ دیجیے۔ انھوں نے فرمایا: کیا میں اپنے لیے اس چیز سے زیادہ مد نظر رکھوں جس کی میں لوگوں کو سفارش کرتا ہوں؟ نہیں، جو دوسروں کے لیے ہے، وہی میرے لیے بھی ہے، یعنی وہی چودہ سکّے۔ ان کی روش یہی تھی۔

ان کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ وہ نماز شب پڑھنے والے اور رات میں جاگ کر عبادت کرنے والے تھے۔ وہ عام طور پر اذان صبح سے دو گھنٹے پہلے اٹھ جاتے تھے اور ہر صبح، طلوع فجر سے پہلے سورۂ یاسین پڑھتے تھے۔ پورے دو گھنٹے بیدار رہتے، اپنے خدا سے دعا، مناجات اور راز و نیاز کرتے، گریہ کرتے اور راتوں کو آنسو بہاتے تھے۔ یہ بیداری اذان صبح تک جاری رہتی، پھر نماز صبح ادا کرتے، طلوع آفتاب کے قریب کچھ دیر آرام کرتے اور اس کے بعد کام کے لئے آ جاتے تھے۔

وہ بہت زیادہ محنتی تھے۔ جب وہ شہید ہوئے تو ان کی عمر تقریباً 87 سال کی تھی، اس کے باوجود کہتے تھے کہ مجھے وقت کم پڑ جاتا ہے، میرے لیے وقت کم ہے اور کام زیادہ۔ وہ بے حد محنتی تھے۔ اس بات کا بہت خیال رکھتے تھے کہ ان کا وقت فضول ضائع نہ ہو اور اس سلسلے میں بہت کوشش کرتے تھے۔ مثال کے طور پر وہ خود مسلح فورسز کی سپریم کمان سنبھالتے تھے۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے یہ ذمہ داری جناب ہاشمی رفسنجانی اور آقا کے سپرد کر دی تھی اور وہ خود ان معاملات میں بالکل بھی مداخلت نہیں کرتے تھے لیکن آقا نے خود سپریم کمان اپنے ہاتھ میں رکھی تھی۔ ہفتے میں ایک دن، عموماً اتوار کو، ان کا وقت مسلح فورسز کے کمانڈروں کے لیے مخصوص ہوتا تھا اور دفتر کے لوگوں کو اس دن ان سے کوئی کام نہیں تھا۔ وہ پورے وقت مسلسل سوال کرتے، معلومات لیتے، جستجو کرتے، ہدایات دیتے اور فورسز کو کنٹرول کرتے تھے۔ اگر آپ اچھی طرح سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس میدان میں ان کا مینیجمنٹ کیسا تھا تو آپ کو دیکھنا ہوگا کہ جب انھوں نے یہ ذمہ داری سنبھالی اس وقت ہماری مسلح فورسز کی کیا حالت تھی اور جب ان کی شہادت ہوئی تو وہ کہاں پہنچ چکی تھیں۔ آج امریكا اور اسرائیل کانپتے ہیں۔ یہی اسرائیل تھا جس نے چھے روزہ جنگ میں تین بڑے ممالک کو شکست دی تھی: اردن، شام اور مصر۔ چھے روزہ جنگ تو بہت مشہور ہے۔ اب کیا ہوا کہ اسے امن و سکون نصیب نہیں اور اس کی ہیبت ٹوٹ گئی ہے؟ صرف وہی نہیں بلکہ امریكا بھی۔ کس کی ہمت تھی کہ امریكا کی بات پر کوئی بات کہہ سکے؟ یہ دونوں جو چاہتے تھے کرتے تھے۔ ہم امید ہے کہ یہ سب حضرت ولی عصر صاحب الزمان علیہ الصلاۃ و السلام کے ظہور کی تمہید ہو۔ مختصر یہ کہ وہ نماز شب پڑھنے والے اور راتوں میں جاگ کر عبادت کرنے والے تھے۔

حوزہ ہائے علمیہ (اعلیٰ دینی تعلیمی مراکز)، خاص طور پر حوزۂ علمیہ قم پر ان کی خاص توجہ تھی۔ اگر حوزۂ علمیہ کو ان کی پشت پناہی حاصل نہ ہوتی تو معلوم نہیں حالات کیسے ہوتے۔ ایسے افراد ملک کے مختلف گوشوں اور دور دراز علاقوں میں موجود ہیں جو چالیس سال تک کسی مسجد میں نماز پڑھاتے رہے، شہر کے عالم رہے، مگر اب ریٹائر ہوگئے ہیں، اب وہ نہ بول سکتے ہیں، نہ کام کرسکتے ہیں اور کوئی ان کا خیال بھی نہیں رکھتا۔ ہم نے ایک گروہ بنایا جس کا کام ایسے لوگوں کی خبرگیری ہے۔ وہ مثال کے طور پر چابہار جاتے ہیں، یا ارومیہ جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہاں دو علماء ایسے ہیں جو اب بیمار ہیں یا ضعیف ہو چکے ہیں یا اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے ہیں اور مالی استطاعت نہیں رکھتے، وہ ان کی مدد کرتے ہیں اور انھیں راضی کرتے ہیں۔ وہ ہاتھ اٹھا کر دعا دیتے تھے کہ کوئی تو ہے جو ہماری مدد کر رہا ہے۔ ان کے یہی الفاظ ہوتے ہیں۔ اس لیے حوزہ ہائے علمیہ ان کے احسان مند ہیں۔

یونیورسٹیوں پر بھی ان کی خاص توجہ تھی۔ ماہ رمضان میں حسینیۂ امام خمینی میں طلبہ اور جوانوں کے لیے کئی گھنٹوں کی نشستیں رکھتے تھے، ہر شخص جو چاہتا مائیک پر کہتا، وہ سنتے، پھر جواب دیتے اور ان کے ساتھ افطار بھی کرتے تھے۔ انھوں نے ان جوانوں کو آگے بڑھایا اور خاص طور پر وہ نوجوانوں پر بھروسہ کرتے تھے۔ یہ بھی ان کی ایک خصوصیت تھی۔

ان کی ایک اور خصوصیت ان کے فرزندان ارجمند ہیں۔ ان کے فرزند ایسے ہیں جن کے بارے میں امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا کہ "یُذَکّرُکُمُ اللہَ رُؤیَتُہ" ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھو بیٹھو جنھیں دیکھ کر تمھیں خدا یاد آئے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آقا کے بچے ایسے ہی ہیں، نورانی چہرے والے، کسی سے کوئی توقع نہ رکھنے والے۔ ہم نے دوسروں کو بھی دیکھا ہے، اگر موازنہ کریں تو بہت فرق ہے۔ اب میں اس سے زیادہ وضاحت نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے چار بیٹے ہیں اور چاروں عالم دین ہیں۔ دو بیٹیاں بھی ہیں، جن میں بڑی بیٹی میری بہو تھیں اور شہید ہوگئیں، جبکہ چھوٹی بیٹی آقائے مصباح الہدیٰ باقری کی زوجہ ہیں اور آقای مصباح بھی اس واقعے میں شہید ہوگئے اور وہ بھی شہداء میں شامل ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی کی، جو میری بہو تھیں، ایک چھوٹی بچی تھی، پتہ نہیں آپ نے اس کی تصویر دیکھی ہے یا نہیں۔ آقا جب گھر تشریف لاتے تھے تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ بچی زیادہ تر ان کی گود میں ہوتی تھی۔ حالانکہ میں بھی اس کا دادا تھا لیکن ہم لوگ اسے کم ہی دیکھتے تھے۔ آقا کو اس بچی سے بہت لگاؤ تھا۔

وہ ہمیشہ شہادت کی آرزو ظاہر کیا کرتے تھے۔ آپ کو وہ شعر یاد ہی ہوگا جو انھوں نے ایک نشست میں پڑھا تھا؟ "ما مدعیان صف اوّل بودیم، از آخر مجلس شہدا را چیدند" (ہم پہلی صف کے دعویدار تھے جبکہ مجلس کی آخری صفوں سے شہیدوں کو چنا گیا) جیسے ہی انھوں نے یہ شعر پڑھا، ان کی آواز بھر آئی اور وہ آگے نہ پڑھ سکے۔ ایک بار ان کے سامنے شہادت کا ذکر ہوا تو میں نے کہا: آقا! آپ کی فیملی ہے، ان کی خوشیاں آپ سے وابستہ ہیں، تو انھوں نے کہا: ان شاء اللہ ہم سب ایک ساتھ شہید ہوں گے!

یہ میری نواسی کی تصویر ہے، اسے اچھی طرح دیکھیے، اچھی طرح دکھائیے، بالکل فرشتوں جیسی ہے۔ یہ بچی اب مٹی کے نیچے ہے، پتہ نہیں! شاید اپنی ماں کے سینے پر ہو۔ اس کا کیا قصور تھا؟ "وَ اذَا المَوءودَۃُ سُئلَت، باَیّ ذَنبٍ قُتلَت." (اور جب زندہ درگور کی ہوئی (لڑکی) سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ پر قتل کی گئی؟ سورۂ تکویر، آيت 8 اور 9) ان آخری چند مہینوں میں آقا کی خوشی کا ذریعہ یہی بچی تھی۔ جب بھی میں ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تو پوچھتا: زہرا خانم کیسی ہیں؟ اس کا نام زہرا تھا، تو وہ ہنس کر کہتے: ماشاء اللہ، بڑی شرارتی ہے۔

میں ذاتی طور پر چونکہ ان سے بہت مانوس تھا اور رابطے میں تھا، اس لیے آخری دو تین مہینوں میں مجھے محسوس ہوتا تھا کہ وہ خود کو تیار کر رہے ہیں، کبھی کبھی میرے ذہن میں یہی خیال آتا تھا۔ جب بھی کوئی بات ہوتی اور بعض فوجی افسران آکر رپورٹیں دیتے، تو وہ پوری شجاعت کے ساتھ کہتے: کوئی مسئلہ نہیں، آپ مطمئن رہیں کہ آپ ہی فتحیاب ہوں گے۔ اور ان کی بات کا فوجی افسران پر بہت گہرا اثر ہوتا تھا۔

ان کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ انھوں نے فوجی افراد، خاص طور پر کچھ نوجوانوں کی تربیت کی تھی۔ اس بارہ روزہ جنگ میں ہمارے بہترین افراد ایک ہی دن میں شہید ہوگئے، وہ فوجی کمانڈر جو شہید ہوئے، معمولی لوگ نہیں تھے، چاہے سپاہ کے کمانڈر ہوں یا دوسرے لوگ، لیکن انھوں نے اسی دن ان کے متبادل منصوب کر دیے، جیسے سب کچھ ان کی مٹھی میں ہو اور حالات بالکل نہیں بگڑے۔

سوال: آپ ان کے ارادے اور شخصیت کے اس ثبات و استحکام کی وجہ کیا سمجھتے تھے؟

جواب: دو باتوں نے انھیں مضبوطی سے قائم رکھا تھا اور یہ چیز میرے لیے بالکل واضح تھی۔ ایک خدا پر توکل اور خدا کے وعدوں پر مکمل حسن ظن کہ خدا اپنے وعدے کے مطابق عمل کرتا ہے: "ان تَنصُرُوا اللہَ یَنصُرکُم" (اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمھاری مدد کرے گا۔ سورۂ محمد، آيت 7) ان کا توکل غیر معمولی تھا۔ دوسری چیز اہلبیت علیہم السلام سے توسل تھا۔ اس معاملے میں بھی وہ غیر معمولی تھے۔ آپ دیکھتے ہی تھے کہ ہر مناسبت سے دفتر میں مجلس عزا ہوتی تھی۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مجالس پہلے اس شدت سے نہیں ہوتی تھیں۔ وہ باقاعدہ اور عملی طور پر پورے پانچ دن حضرت زہرا کے ایام شہادت کی مناسبت سے مجلس منعقد کرتے تھے۔ اس کے علاوہ دوسرے ائمہ معصومین علیہم السلام کے لیے بھی دفتر میں مجالس ہوتی تھیں جن میں خود بھی شریک ہوتے تھے۔ چہاردہ معصومین علیہم السلام میں ان کی سب سے زیادہ توجہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت حجت عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی طرف تھی۔

دسمبر 2025 میں نجف میں امیر المومنین کے روضۂ اطہر کے صحن حضرت زہرا کے افتتاح کے لیے مجھے دعوت دی گئی تھی اور میں مقامات مقدسہ کی زیارت کے لیے گیا تھا۔ واپس آ کر ان کی خدمت میں عرض کیا: آقا! میں نے وہاں امام حسین علیہ السلام سے دعا کی، التجا کی کہ خدا آپ کو یہ توفیق دے کہ آپ اپنے جدّ امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو سکیں۔ آقا نے فرمایا: ان شاء اللہ خدا تمھاری دعا قبول کرے۔ ان کی آرزو تھی کہ وہاں جا سکیں، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ وہ امام حسین اور حضرت حجت سے بہت زیادہ توسل کرتے تھے۔ ہر کچھ دن بعد خاموشی سے جمکران تشریف لے جاتے تھے اور ایسے وقت میں جاتے تھے کہ وہاں زیادہ زائر نہ ہوں، ہم بھی ایک گوشے میں بیٹھ جاتے اور وہ اپنے حال میں ہوتے۔ ہمیں معلوم نہیں وہ کیا کہتے تھے مگر بہت دیر تک دعا و عبادت کرتے۔ سجدے میں سر رکھ کر مدد طلب کرتے تھے۔ روایت میں بھی ہے کہ ہمارے شیعہ یہ گمان نہ کریں کہ ہم نے انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے، ایسا نہیں ہے۔

بہرحال، وہ ان دو چیزوں کے پابند تھے۔ میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں: اللہ پر توکل اور اس کے سلسلے میں حسن ظن، اور اہلبیت علیہم السلام سے توسل، خاص طور پر ان تین ہستیوں سے، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت حجت عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف۔

سوال: کیا انھوں نے اپنی شہادت کے بعد کے حالات کے بارے میں بھی کوئی بات کی تھی؟

جواب: جب کبھی ہم سوال کرتے تو فرماتے: خدا آپ لوگوں کو آپ کے حال پر نہیں چھوڑے گا، فکر نہ کریں۔ جس وقت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کا انتقال ہوا تھا تو کسی کو یقین نہیں تھا کہ حالات اس طرح سنبھل جائیں گے۔ خود انھوں نے اپنی رہبری کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا، آپ نے دیکھا ہی ہوگا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ اتنی عظیم شخصیت انقلاب کی قیادت سنبھالے گی؟ آقا واقعی دنیا میں بے نظیر تھے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا، ہم حجاب معاصرت میں ہیں، کئی برس گزر جانے کے بعد معلوم ہوگا کہ وہ کتنی عظیم شخصیت تھے۔ وہ امام خمینی کے تربیت یافتہ تھے، ان سے عشق کرتے تھے۔ ہر سال 4 جون کو امام خمینی کے مزار پر، جہاں دسیوں لاکھ لوگ آتے تھے، جن میں دوسرے ممالک سے آئے ہوئے لوگ بھی ہوتے تھے، وہ ایک گھنٹے سے زیادہ کی تقریر کرتے تھے۔ کسی نے بھی ان کی طرح امام خمینی کی تشہیر نہیں کی۔ "قدر گوہر شاہ بداند یا بداند جوہری"۔

سوال: بہت شکریہ کہ آپ نے ہمیں اپنا وقت دیا۔

جواب: آخر میں میں سبھی لوگوں اور پوری قوم کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔ ہماری قوم نے واقعی حق ادا کر دیا۔ ان ویڈیوز میں جو دن رات ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں، ہر قسم کے لوگ موجود ہیں۔ لوگ نعرے لگا رہے ہیں اور تمام مشکلات کے باوجود اس پرچم تلے کھڑے ہیں۔ میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ خداوند عالم ان شاء اللہ ہر ممکن طریقے سے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا۔

اگرچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے: "لَمَوتُ قَبیلَۃٍ اَیسَرُ من مَوت عالم" اگر ایک قبیلہ مر جائے، چاہے ہزاروں افراد ہوں، تب بھی میرے لیے اسے برداشت کرنا ایک عالم کی موت سے آسان ہے۔ یہ پیغمبر کا فرمان ہے اور آقا بھی یقیناً ایک جلیل القدر عالم تھے۔

میں میڈیا کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں، ذرائع ابلاغ نے بہت اچھا کام کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ خدا آپ کی تائید کرے، خدا آپ کو سلامت رکھے۔ اپنی قدر سمجھیے۔ مناسب ہے کہ میں یہ بات بھی کہہ دوں۔ دعائے عالیۃ المضامین میں ایک جملہ ہے جو بہت دلچسپ اور پرکشش ہے۔ آپ خدا سے عرض کرتے ہیں: "لا تَسلُبَنى ما مَنَنتَ بہ عَلىَّ" اے خدا! جو نعمتیں تو نے مجھے عطا کی ہیں، انھیں مجھ سے سلب نہ کر۔ خدا نے یہ نعمت آپ کو دی ہے۔

ان شاء اللہ ہمیں امید ہے کہ آپ کی توفیقات اس سے بھی زیادہ ہوں اور آپ جوان اپنی جوانی کی قدر جانیں۔ آپ اپنی جوانی اسلامی جمہوریہ کے دور میں گزار رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ یہ ملک گلستان بن گیا ہے لیکن یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ اس کی بنیاد درست ہے، اساس درست ہے۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ اپنا کام کر کے چلے گئے، پھر آقا کو جتنی مدت ملی اس میں انھوں نے بحمدللہ ایک ایک کر کے امور کو انجام تک پہنچایا۔ خدا کا شکر۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

15 جولائی 2026