"اللہ اکبر" کا نظریہ اور مزاحمتی محاذ میں طاقت کے نظام اور نصرت کی منطق

"اللہ اکبر" کا نظریہ اور مزاحمتی محاذ میں طاقت کے نظام اور نصرت کی منطق

"اللہ اکبر" محض ایک مذہبی نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی و دفاعی نظریہ ہے جس نے دنیا میں طاقت کی درجہ بندی والے نظام کو چیلنج کر دیا ہے۔ مادی فکر میں "طاقت" کا اندازہ ناخالص داخلی پیداوار یا اقتصادی قوت، ایٹمی ہتھیاروں اور سیاسی اثر و رسوخ یا ویٹو جیسے پیمانوں سے لگایا جاتا ہے۔ اس نظام میں مظلوم قوموں کو ہمیشہ "چھوٹا" اور بڑی طاقتوں کو "بڑا" قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے پیغام حج نے ایک بار پھر دنیا کو اسلامی تمدن کے بنیادی ترین راز یعنی "اللہ اکبر" کی طرف متوجہ کیا ہے۔

یہ عبارت صرف مسجدوں میں پڑھے جانے والے ذکر کا نام نہیں بلکہ حقیقی خودمختاری کا اعلان ہے۔ جب کوئی انسان "اللہ اکبر" کہتا ہے تو درحقیقت وہ بڑے ہونے کی زمین کی تمام دعویدار طاقتوں کو چھوٹا بتاتا ہے۔ یہ مومنوں کے ذہن میں سامراجی طاقتوں کا رعب و دبدبہ توڑنے کے لیے مزاحمت کی پیدائش کا نقطۂ آغاز ہے۔

"اللہ اکبر" کی منطق میں اصل طاقت صرف اللہ کے لازوال منبع سے متعلق ہے۔ تسلط پسندانہ سامراجی نظام کی بنیاد تکبر پر رکھی گئی ہے، یعنی جھوٹی بڑائی کے دعوے پر۔ "اللہ اکبر" کا نظریہ اس غبارے کی ہوا نکال دیتا ہے۔ سورۂ بقرۂ کی آيت نمبر 165:"اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّہِ جَمِیعًا" (بے شک ساری قوت و طاقت بس اللہ کے لیے ہی ہےکے مطابق تمام مادی طاقت کے تمام مراکز، اللہ کے ارادے کے سامنے ہیچ ہیں۔ اس لیے مزاحمتی محاذ میں نصرت، محض ایک اتفاق نہیں بلکہ مجاہد انسان کے عزم کا خدا کی مطلق طاقت سے جڑ جانے کا نتیجہ ہے۔ بنابریں "اللہ اکبر" کی منطق کی فکر و معرفت، نفسیات اور ڈھانچے جیسی تین سطحوں پر تعریف کی جا سکتی ہے:

فکری و معرفتی سطح  (ایک قطبی حقیقت پر اجارہ داری کا خاتمہ):

جدید دنیا میں حقیقت اور طاقت کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا گیا ہے۔ بڑی طاقتوں کا دعویٰ ہے کہ حقیقت وہی ہے جسے وہ ٹیکنالوجی، ذرائع ابلاغ اور معیشت کے ذریعے مسلط کرتی ہیں۔ جب مزاحمتی محاذ کا کوئی مجاہد "اللہ اکبر" کہتا ہے تو وہ دراصل ایک فکری و معرفتی انقلاب برپا کر رہا ہوتا ہے۔ وہ حقیقت کے سرچشمے کو زمینی اور طاقتور مراکز سے ہٹا کر ایک عالی اور مطلق مرکز یعنی خداوند متعال کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑی طاقتوں کے دعوے، (جیسے ٹیکنالوجی کی برتری نام نہاد قانونی اعتبار ) اس مجاہد کی فکری دنیا میں اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ وہ "اللہ اکبر" کہہ کر دشمن کی طاقت کے وہم پر پڑے ہوئے پردے کو چاک کر دیتا ہے:

"اور اللہ اکبر کے اسلحے نے ایرانی قوم کو ایسی قوت و طاقت عطا کی کہ آج کی دنیا کے شقی ترین لوگوں کے ہاتھوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرزند خلف، قائد عظیم الشان حضرت آيت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ کی شہادت کے جاں گداز واقعے کے بعد اسے الہی بعثت حاصل ہوئی اور ہر اس میدان میں جہاں ضرورت تھی، اس قوم نے بھرپور طریقے سے موجود ہو کر اپنے پر افتخار کارناموں پر دنیا کو حیرت زدہ کر دیا۔"(1)

نفسیاتی سطح (رعب اور خوف پر کنٹرول):

مغربی سیاستداں رعب و دبدبے کے مفہوم سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کے نزدیک طاقت صرف زور بازو کا نام نہیں بلکہ دوسروں کے دلوں میں خوف اور احساس کم تری پیدا کرنے کا نام ہے۔ ظالم طاقتیں ہمیشہ اپنے مخالف کو کمزور اور خود کو ناقابل شکست دکھانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی ہمت توڑ دیں۔

"اللہ اکبر" کی منطق دراصل دشمنوں کے کھوکھلے رعب کو کنٹرول کرنے کی نفسیاتی حکمت عملی ہے۔ یہ دو لفظ مجاہد کے ذہن میں طاقت کے توازن کو بدل دیتے ہیں۔ ایسے عالم میں جب دشمن ذرائع ابلاغ اور عسکری طاقت کے ذریعے اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے، مجاہد، طاقت کے اصل منبع یعنی خداوند عالم کو بڑا دکھا کر اور اس کی عظمت کو سامنے لا کر دشمن کی اس بڑائی کو ایک کھوکھلی اور حقیر چیز بنا دیتا ہے۔ یہاں نصرت، ایک نفسیاتی فتح ہے۔ جب دشمن کی بڑائی کا خوف ختم ہو جائے تو مزاحمت کا عزم اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب الٰہی مدد ایک مجرد تصور نہیں رہتی بلکہ عملی استقامت اور ثابت قدمی کی قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

"اسی اللہ اکبر کے ہتھیار کے ذریعے اسلامی مملکت ایران میں غیور مجاہدوں اور جان کی قربانی دینے والی فورسز نے مزاحمتی محاذ خاص طور پر لبنان عزیز کی مزاحمتی فورسز کے ساتھ مل کر تیسری مسلط کردہ جنگ میں امریکا اور صیہونی حکومت کی از سر تا پا مسلح دو دہشت گرد فوجوں کے خلاف زبردست فتوحات حاصل کیں، خداوند عالم پر توکل کرتے ہوئے اور اپنے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے بڑے شیطان اور اس کے پالتو جانور صیہونی حکومت کو زمین، فضا اور سمندر میں بری طرح سنگسار کیا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی مدد کے سچے وعدۂ الہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔"(2)

ڈھانچے کی سطح (انفرادی طاقت سے اصل طاقت کی طرف منتقلی): مغربی سیاسی تجزیوں میں کسی تحریک کی پائیداری، اس کی قیادت اور مالی وسائل سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر لیڈر مر جائے یا وسائل ختم ہو جائیں تو تحریک بکھر جاتی ہے۔ "اللہ اکبر" کی منطق بغیر کسی انسانی مرکز والے ایک طرح کے ڈھانچے کے پیدا ہونے کا موجب بنتی ہے۔ مزاحمتی محاذ میں چونکہ تحریک کا آخری مرجع (خداوند متعال) ابدی اور غیر متغیر ہے، اس لیے کسی کمانڈر کی شہادت اور کسی طاقت کے مرکز کے ختم ہو جانے سے تحریک کے راستے کی سمت نہیں بدلتی۔ یہ وہی اسٹریٹیجک خودمختاری ہے۔ مزاحمتی محاذ بجائے اس کے کہ زمینی وابستگیاں رکھنے والا ایک جسم اور ڈھانچہ ہو، آسمانی اقدار سے جڑے ہوئے ایک ڈھانچے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ یہ ڈھانچہ اس بات کا سبب بنتا ہے کہ نصرت ایک عارضی فتح نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل بن جائے۔

"اللہ اکبر کا یہی نعرہ تھا جس نے ایران سے لے کر لبنان، فلسطین، عراق اور شام تک اور افریقا اور یمن سے لے کر افغانستان و پاکستان اور دنیا کی تمام حریت پسند اقوام تک، امت مسلمہ اور مزاحمتی محاذ کے مجاہد جوانوں کے آپسی رشتوں کو مضبوط بنایا تاکہ اللہ کی یہ مضبوط رسی، غاصب صیہونی جارحین کے مقابلے میں امت مسلمہ کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑی ہو، داعش کا شیرازہ بکھیر دے، طوفان الاقصیٰ کھڑا کر دے اور متزلزل صیہونی حکومت کی سانسیں روک دے۔"(3)

نتیجہ یہ کہ "اللہ اکبر" بظاہر ایک مذہبی نعرہ دکھائی دیتا ہے لیکن مزاحمت کی منطق میں یہ طاقت کے ڈھانچوں کو توڑنے والا ایک وسیلہ ہے۔ یہ دو لفظ مادی طاقتوں کے رعب و دبدبے کے خلاف ایک طرح کا فکری و معرفتی انقلاب اور تکنیکی برتری کے مصنوعی خوف کے مقابلے میں ایک نفسیاتی ڈھال ہیں اور ایسا پائیدار ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں جو تحریک کی بقا کو کسی ایک فرد کی قیادت سے بلند تر سطح پر یقینی بناتا ہے۔ "اللہ اکبر" کا یہی ہتھیار ثابت کرتا ہے کہ حکمرانی کا اصل سرچشمہ، انسانی تدبیروں سے ماورا ہے۔

جب ایرانی، یمنی، فلسطینی یا لبنانی مجاہد "اللہ اکبر" کا نعرہ لگاتے ہوئے دشمن کی فوجی ٹیکنالوجی کے دل پر حملہ کرتا ہے تو درحقیقت وہ خدا کی لامحدود طاقت سے جوڑ کر محدود انسانی طاقت کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اس سلسلے میں زور دے کر کہتے تھے کہ جو قومیں فکر رکھتی ہیں، اپنی شناخت رکھتی ہیں، جذبہ رکھتی ہیں، خدا پر بھروسہ کرتی ہیں اور اللہ پر توکل کرتی ہیں، وہ ڈٹ جاتی ہیں اور اللہ ان کی مدد کرتا ہے: "وَلَو قاتَلَکُمُ الَّذینَ کَفَروا لَوَلَّوُا الاَدبارَ ثُمَّ لایَجدونَ وَلیًّا وَلا نَصیرًا. سُنَّۃَ اللہ الَّتی قَدخَلَت من قَبلُ وَلَن تَجـدَ لسُنَّۃ اللہ تَبدیلا" (اور اگر (یہ) کافر لوگ تم سے جنگ کرتے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور پھر وہ (اپنے لیے) کوئی حامی و مددگار نہ پاتے۔ یہی اللہ کا دستور ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے اور تم اللہ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔ سورۂ فتح، آيت 22 اور 23یہ اللہ کی سنّت ہے۔ (حکومت و نظام کے عہدیداروں اور وحدت اسلامی کانفرنس کے شرکاء سے ملاقات میں بیان، 25 نومبر 2018)

"اللہ اکبر" مزاحمت کو صبر و استقامت کا مفہوم عطا کرتا ہے۔ ایسے عالم میں کہ کسی غیر الہی اور غیر توحیدی نظام کے زیر سایہ اپنی شناخت بنانے والا سپاہی تکنیکی برتری کی امید پر لڑتا ہے اور پہلی ہی فنی شکست پر نفسیاتی بکھراؤ کا شکار ہو جاتا ہے، حق کے محاذ کا مجاہد "ان تَنصُرُواْ اللَّہَ یَنصُرکُم" (اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمھاری مدد کرے گا (اور تمھیں ثابت قدم رکھے گا)۔ سورۂ محمد، آیت 7کی منطق کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ اس منطق میں شکست کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے کیونکہ فریضے کی ادائیگی، خود نصرت ہے۔ یہی اندرونی نصرت، مزاحمتی محاذ کو ایسی استقامت عطا کرتی ہے جسے نہ تو کوئی بنکر بسٹر بم متزلزل کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اقتصادی پابندی۔ اسی لیے سامراجی طاقتوں سے برائت اور بیزاری کا اعلان صرف ایک زبانی یا جسمانی عمل نہیں بلکہ ایک دائمی حکمت عملی ہے۔ "اللہ اکبر" ڈھانچہ تیار کرنے والا نعرہ ہے جو مزاحمت کو افراد پر انحصار سے نکال کر اور اسے ایک فولادی ڈھانچے میں تبدیل کر کے معاشرے کو ایک طرح کی اسٹریٹیجک خودمختاری عطا کرتا ہے۔ ایسا ڈھانچہ جو اللہ اکبر کی بنیاد پر تشکیل پایا ہو، "حق" پر قائم ہوتا ہے، کسی ایک فرد پر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج مزاحمتی محاذ، ایک محدود چھاپہ مار گروہ سے ایک ایسی علاقائی طاقت بن چکا ہے جس کا اپنا نظریہ ہے۔ اسی تناظر میں قائد امت، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے فرمایا: "ان طاقتوں کے مقابلے میں، جو اس بات کی عادی ہو چکی ہیں کہ ہر اس قوم کو دھمکائیں اور منہ زوری کریں جو ان کے سامنے جھکنے پر تیار نہ ہو، یہ قوم اپنی طاقت، اپنی صلاحیت، خدا اور قرآن مجید کے احکامات پر بھروسے کے سہارے، جنھوں نے اس سے کہا ہے کہ خدا پر بھروسہ کرو اور کسی سے نہ ڈرو، ڈٹ جانے، مرعوب نہ ہونے اور ان کی دھمکیوں کو سنجیدہ نہ لینے کا عزم رکھتی ہے۔وہ اپنے برحق موقف اور حق طلبی کے راستے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔" (طریق القدس فوجی مشقوں میں شامل فورسز سے ملاقات میں خطاب، 23 اپریل 1997)

آج کی دنیا میں، جب بین الاقوامی ادارے نام نہاد بڑی طاقتوں کے کنٹرول میں ہیں، "اللہ اکبر" آزاد قوموں کے لیے سانس لینے کا واحد راستہ اور عدل کی طرف واپسی کی ایک پکار ہے۔ یہ نعرہ مذہبی حدود سے آگے بڑھ کر تمام حریت پسندوں کی مشترک زبان بن گیا ہے۔ آج لبنان، یمن، عراق اور فلسطین میں جو نصرت دکھائی دیتی ہے، وہ اس درخت کا پھل ہے جس کی جڑیں سیاسی توحید کی زمین میں پیوست ہیں اور شاخیں قرآنی عزت کے آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ ایک نئے دور کی بشارت ہے جس میں طاقت اور منہ زوری کی منطق، حق کی منطق کے سامنے ماند پڑ جائے گی۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا تھا: "اگر وہ اپنی ساری قوت و طاقت بھی اکٹھا کر لیں تب بھی اس قوم کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو مل کر 'اللہ اکبر' کا نعرہ لگاتی ہو۔ اس قوم میں تفرقہ ڈالنے کی کوششیں بے سود ہیں۔ مسلمان آپس میں بھائی ہیں اور بعض فاسد عناصر کے منفی پروپیگنڈوں سے ان میں تفرقہ پیدا نہیں ہو گا۔ آج پوری امت اسلامیہ ان شیطانی طاقتوں کے مقابلے میں ہیں جو اسلام کی بنیاد کو ہی ختم کر دینا چاہتی ہیں، وہ طاقتیں جو سمجھ چکی ہیں کہ ان کے لیے جو چیز، خطرہ ہے وہ اسلام ہے، مسلم قوموں کا اتحاد ہے۔ آج پوری دنیا کے مسلمانوں کو متحد ہو جانا چاہیے۔" (کردستان کے علمائے دین سے ملاقات میں خطاب، 26 اگست 1980)

"اللہ اکبر" مزاحمتی محاذ کا قطب نما ہے جو نصرت کا راستہ دکھاتا ہے۔ یقیناً اس ٹکراؤ کا انجام شاکر و صابر بندوں کی فتح ہے کیونکہ اللہ کا وعدہ اٹل ہے: "وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمنینَ (اور ہم پر اہل ایمان کی نصرت لازم ہے۔ سورۂ روم، آيت 47آج مزاحمتی محاذ اس آیت کی مجسم تفسیر ہے اور "اللہ اکبر" انسانیت کے لیے سامراج کے تاریک دور سے عدل کی روشن صبح کی طرف جانے کا رمز ہے۔

تحریر: خدیجہ احمدی بیغش، اسسٹنٹ پروفیسر، ٹیچرز ٹریننگ یونیورسٹی، تہران

(1) https://ur.khamenei.ir/news/150028

(2) https://ur.khamenei.ir/news/150028

(3) https://ur.khamenei.ir/news/150028

15 جولائی 2026