قم کی مسجد جمکران اور نئے عالمی نظام کا آغاز

قم کی مسجد جمکران اور نئے عالمی نظام کا آغاز

آج شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای اور ان کے شہید اہل خانہ کے جسد خاکی قم پہنچے۔ تہران میں تشییع کے بعد یہ دوسرا شہر ہے جہاں ان کا جلوس جنازہ نکالا جا رہا ہے۔ قم ہزاروں سال پرانا ایک تاریخی شہر ہے، جہاں بے شمار علماء اور دانشوروں نے زندگی گزاری ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اہلبیت علیہم السلام کے بعض اصحاب بھی اسی شہر میں مدفون ہیں۔ قم کی سب سے بڑی زیارت گاہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا حرم اطہر ہے، جو ساتویں امام، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی صاحبزادی اور آٹھویں امام، امام رضا علیہ السلام کی ہمشیرہ ہیں۔ تقریباً سو برس قبل حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم کے قریب حوزۂ علمیۂ قم یا قم کے اعلیٰ دینی تعلیمی مرکز کی بنیاد رکھی گئی۔

قم کے اہم مقدس مقامات میں سے ایک مسجد جمکران بھی ہے۔ جمکران، قم کے جنوب میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ ایک ہزار سال سے بھی پہلے، شیعہ مسلمانوں کے آخری امام کی غیبت کے ابتدائی دور میں، مسجد جمکران کی بنیاد رکھی گئی۔ شیعہ عقیدے کے مطابق، امام مہدی علیہ السلام غیبت کے زمانے میں عام لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہ کر اجنبیوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں لیکن بعض خاص مواقع پر مخلص مؤمنین اور اپنے حقیقی مددگاروں سے ملاقات کرتے ہیں۔ تاریخی روایات کے مطابق، مسجد کی تعمیر کے حکم کے علاوہ بھی کئی مرتبہ بعض مؤمنین کو اسی مسجد میں امام زمانہ علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ اسی وجہ سے یہ مسجد شیعہ مسلمانوں کے نزدیک خاص تقدس اور اہمیت رکھتی ہے۔ شیعہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ جب الہی مشیت کے مطابق مناسب حالات پیدا ہوں گے تو بارہویں امام دوبارہ اعلانیہ زندگي کی طرف لوٹ آئیں گے اور اپنی خاص الہی ذمہ داریوں کو انجام دیں گے۔

ان دنوں ایران کے عوام خون خواہی یا انتقام کے سرخ پرچم اٹھا کر شہید آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی تشییع میں شریک ہو رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی یہی سرخ پرچم شہید سردار قاسم سلیمانی کی خون خواہی کے لیے بلند کیے گئے تھے۔ انتقام کا سرخ پرچم ان علامتوں میں سے ایک ہے جو ہمیشہ امام حسین علیہ السلام کے روضۂ مبارک کے گنبد پر لہرایا جاتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام ایک دردناک سانحے میں اپنے اہل خانہ اور وفادار ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوئے تھے۔

شہید آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے شہید اہل خانہ کی نماز جنازہ مسجد جمکران میں ادا کی گئی ہے اور تشییع کا آغاز بھی وہیں سے ہوا ہے۔ یہ ایک ایسا آغاز ہے جہاں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی امید، گزشتہ مظالم کی خون خواہی اور ایک عظیم رہبر شہید کی باوقار تشییع کی علامتیں ایک دوسرے سے ملتی دکھائی دیتی ہیں اور بظاہر یہ تاریخ کے ایک نئے باب کے آغاز کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

7 جولائی 2026