وزارت خارجہ کے اعلی عہدیدار ڈاکٹر علی باقری کنی "تاریخ کی صحیح سمت" نامی میڈل دیئے جانے کے پروگرام میں: شہید رہبر کی میراث؛ آج تاریخ کی صحیح سمت پہلے سے زیادہ واضح ہے
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی تقاریر اور تحریروں کی حفاظت و اشاعت کے ادارے نے 9 جون 2026 کو تہران میں ایک پروگرام میں بین الاقوامی کارکنوں، فنکاروں اور سیاستدانوں کو "تاریخ کی صحیح سمت میڈل" سے نوازا۔ یہ پروگرام امام خامنہ ای کی جائے شہادت سے کچھ میٹر کے فاصلے پر کشوردوست اسٹریٹ پر منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں "تاریخ کی صحیح سمت میڈل" مندرجہ ذیل شخصیتوں کو دیا گیا:
مائک ویلیس ، یوروپی پارلیمنٹ کے سابق ممبر
کمال شرف، یمن کے معروف کارٹونسٹ
یحیی ابوزکریا، الجزایر کے مصنف اور نامہ نگار
تشار گاندھی مصنف، ھندوستان کے ساجی کارکن اور مہاتما گاندھی کے پرپوتے
پروفیسر ہائم برشیت-زابنر، مورّخ، فیلم پروڈیوسر اور فوٹوگرافر
سولاف فواخرجی، شام کے سینما اور ٹی وی کی اداکارہ
شارلوٹ کیٹس، کینڈا کی قیدیوں کے حقوق کی کارکن
اکسپلوسیو میڈیا، استقامتی محاذ سے متعلق لوگو والے ویڈیو بنانے والے فنکاروں کا گروہ
اس پروگرام میں، عزادار عوام کے ساتھ ساتھ کچھ بین الاقوامی مہمان بھی شریک ہوئے اور شہید رہبر کی یاد میں اور فلسطینی قوم اور مسئلہ فلسطین کی حمایت میں ان کے تاریخی موقف پر اظہار عقیدت کیا۔
یہ پروگرام آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی تقاریر اور تحریروں کی حفاظت و اشاعت کے ادارے کے اعلی عہدیدار جناب مھدی ابراہیم زادہ کے خطاب سے شروع ہوا۔
دنیا کی جوان نسل کا بیدار ہونا
اس کے بعد اس سال تمغہ پانے والوں کا انتخاب کرنے والی کمیٹی کے نمائندہ ڈاکٹر سعید رضا عاملی نے، حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا: امام خامنہ ای نے یوروپ اور امریکہ کی جوان نسل سے یہ نہیں کہا کہ آپ لوگ تاریخ کی صحیح سمت میں ہو جائیے بلکہ یہ کہا کہ آپ لوگ تاریخ کی صحیح سمت میں ہیں اور یہی امریکی نوجوان ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ اور میناب پرائمری اسکول کے بچوں کے قتل عام کی مظلومیت کی حمایت میں تین دن تک ڈٹے رہے۔ آج اس وقت یہ بیداری اور آگاہی پائی جاتی ہے جبکہ جنگ ویتنام کے تعلق سے اس بیداری میں برسوں لگ گئے تھے۔
پوری دنیا سے ہمدلی کی آوازیں
پروگرام میں موجود شخصیتوں کو اعزاز سے نوازنے سے پہلے، ان شخصیتوں کے ویڈیو پیغامات کو نشر کیا گیا جو اس اعزاز کے لئے منتخب ہوئے مگر کسی وجہ سے حاضر نہ ہو سکے۔
اخلاقی شجاعت کی سنگین قیمت:
اس او اے اس یونیورسٹی کے برطانوی فلم ساز و مورخ، پروفیسر ہائم برشیت زابنر کو، صیہونیت کے خلاف برسوں علمی جدوجہد کرنے پر اس تمغے کے لئے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے پروگرام کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ تاریخ کی صحیح سمت میں ہونا کبھی بھی اس حد تک دشوار نہیں رہا ہے؛ جس طرح ایرانی عوام نے اس حقیقت کو اپنے پورے وجود سے محسوس کیا ہے۔
انہوں نے ایرانی عوام کو، فلسطینیوں کی مصیبت کو یاد کرنے اور اسے دور کرنے کی کوشش کرنے پر سراہا اور کہا کہ ایران سنہ 1953 سے اب تک دسیوں طرح کے دباؤ اور امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باوجود، اسی طرح ڈٹا ہوا ہے؛ حالانکہ بہت سی قومیں سامراجی طاقتوں کے سامنے سرینڈر ہو چکی ہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام کے آخر میں امید ظاہر کی کہ صیہونیت کا زوال خطے مین صلح و انصاف پر منتج ہوگا۔ انھوں نے کہا: "تاریخ کی صحیح سمت میں ہونا حالانکہ سخت ہے، لیکن اس کے اپنے ثمرات بھی ہیں۔"
سینما استقامت کی پوزیشن میں:
شام کی مشہور اداکارہ سولاف فواخرجی نے اپنے پیغام میں، سرزمین فرشتگان نامی فلم کے پروڈکشن کے عمل کے بارے میں کہا کہ جب ہم نے اس پروجکٹ پر کام شروع کیا تو ہمارا مقصد فلسطین، غزہ اور اس کے عوام کے لئے فلم بنانا تھا۔ ہم نے جدوجہد کے جذبے کے ساتھ کام کیا اور جب بھی ہمارا حوصلہ پست ہوتا تھا تو ہم غزہ کے عوام کو یاد کرتے تھے کہ وہ کتنی بڑی مصیبت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے تاکید کی کہ یہ فلم ان انسانوں کے حقوق کے بارے میں ہے جن کے حقوق کو چھین لیا گیا ہے؛ زندگی کے حق، آزادی کے حق سے لے کر غذا، پانی، سیکورٹی، تعلیم اور کھیل کے حق کو۔ انہوں کہا: غزہ کے بچوں کی ہنسی تک چھین لی گئ ہے۔
فواخرجی نے اپنے پیغام کے آخر مین غزہ، فلسطین، شام، لبنان اور ایران کے عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب روز قیامت اللہ ہم سے پوچھے گا کہ غزہ کے لئے کیا کیا تو ہم اس فیلم کو ہاتھ میں اٹھائیں گے۔
انسانی فریضہ:
ہندوستان کے معروف مصنف اور ایکٹیوسٹ تشار گاندھی نے، جو مہاتما گاندھی کے پوتے ہیں، اپنے ویڈیو پیغام میں کہا: " قیامت کا دن مسئلہ فلسطین کے بارے میں ہم نے جو موقف اختیار کیا ہے، اسی کے مطابق فیصلہ کرے گا اور اس دن ان لوگوں کو جو بے طرف رہے ہیں، مجرموں کے ساتھ شمار کیا جائے گا۔ اسی طرح انہوں نے ایران کو اس بات کے لئے سراہا کہ وہ اس لڑائی میں نہ صرف صیہونیوں کے مقابلے میں بلکہ مغربی طاقتوں کے مقابلے میں جو ان کا ساتھ دے رہی ہیں، بہادری کے ساتھ ڈٹا ہوا ہے۔
سامراج کے مرکز کی تحقیر
کینڈا کی وکیل اور فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والے صامدون نٹ ورک کی کوآرڈینیٹر شارلوٹ کیٹس نے، جنھیں سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے امریکہ سے نکال دیا گیا ہے، اپنی بات کو شہید رہبر کے اس جملے کے حوالے سے جس میں انہوں نے امریکی نوجوانوں کو خطاب کیا تھا، شروع کیا: "آپ اس وقت تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑے ہیں جو اپنا ورق پلٹ رہی ہے۔"
انہوں نے خطے میں جاری اگریشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دیا کہ آج کسی بھی دور کی بہ نسبت یہ بات زیادہ واضح ہے کہ استقامتی محاذ تاریخ کی صحیح سمت میں ہے۔
کیٹس نے اسلامی جمہوریہ کے موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایران اور جمہوری اسلامی کی استقامت تھی جس نے دنیا کو دکھا دیا کہ امریکہ کی بھی تحقیر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے سامراج کے مرکز میں ساکن عوام سے میدان میں آنے کا مطالبہ کیا اور تاکید کی کہ فلسطین، لبنان، ایران، یمن، عراق سمیت پورے خطے میں استقامت کا ساتھ دینا اور نسل کشی، صیہونیت اور سامراج کو ختم کرنا ان کا فریضہ ہے۔
"استقامت یعنی زندگی" مغربی سامراج کی مذمت
پہلی بیرونی شخصیت جس نے اس پروگرام کو بہ نفس نفیس خطاب کیا وہ یوروپی پارلیمنٹ میں آیرلینڈ کے سابق نمائندہ مائک ویلیس تھے، جنہیں خارجہ پالیسی، سماجی انصاف کے دفاع اور مسئلہ فلسطین کے تعلق سے مستقل موقف رکھنے پر سراہا گیا
انسانیت کے لئے عالمی سطح پر جدوجہد
ویلیس نے تاکید کی کہ تاریخ کے مطالعے کے بغیر عالمی سطح پر موجود حالات کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی استعار اور سامراج سیکڑوں سال سے تشدد اور جرائم کو اپنائے ہوئے ہے اور یہ عمل 7 اکتوبر سے شروع نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے امریکہ اور مغربی طاقتوں کی بین الاقوامی حقوق کو نظرانداز کرنے اور عالمی اداروں کو ہتھکنڈے کے بہ طور استعمال کرنے پر مذمت کی اور کہا کہ بہت سے یورپی سیاستداں ابھی بھی نسل پرستی کا شکار اور سفید فام کی برتری کے طلبگار ہیں۔
ویلیس کے لفظوں میں، ایسے حالات میں یورپ کے 90 فیصدی سیاستداں صیہونیت کی حمایت کر رہے ہیں کہ یورپی عوام کی اکثریت فلسطین کے ساتھ ہے۔
انہون نے اسی طرح یورپی پارلیمنٹ کے دوہرے رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یوروپی پارلیمنٹ ایران میں حجاب کے بارے میں مستقل بولتی ہے، لیکن جس وقت اسرائیل نے غزہ میں 20000 فلسطینی مسلمان خواتین کو شہید کیا، اس وقت اس نے سکوت اختیار کر لیا۔
ویلیس نے دسیوں طرح کی پابندیوں، امریکہ اور اسرائیل کے نفوذ اور حملے کے مقابلے میں ایران کی استقامت کو سراہا اور کہا: "حالیہ برسوں میں جو سب سے بڑا درس سیکھا وہ استقامت کی اہمیت ہے۔ استقامت یعنی زندگی۔"
انہوں نے آخر میں تاکید کی کہ مغربی سامراج کے خلاف جدوجہد، انسانیت کے دفاع کے لئے عالمی جدوجہد ہے اور کہا: "صیہونیت اپنے خاتمے پر ہے اور آخر کار حق اور انصاف کی جیت ہوگی۔"
ایک قوم کی دمکتی روح
ویلیس کی تقریر کے بعد، وزارت خارجہ کے اعلی عہدیدار ڈاکٹر علی باقری نے حاضرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے ایرانی قوم کی تاریخی اور معنوی لحاظ سے گہری تبدیلی کی طرف اشارہ کیا ا ور کہا کہ اس پروگرام کے انعقاد کی جگہ دو طرح کی تصویریں حاضرین کے سامنے ہیں جو ایک دوسرے سے پوری طرح تضاد رکھتی ہیں: ایک طرف امریکہ اور صیہونی حکومت کا سیاہ چہرہ ہے تو دوسری طرف اس عظیم قوم کا زندہ، متحرک اور دمکتا دل ہے جو اپنے شہید رہبر کے پاکیزہ خون سے تازہ دم ہو گئی ہے۔
"آج امریکہ شکست کھا چکا ہے"
ڈاکٹر باقری نے "طاقت کے ذریعہ امن" کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی شدت سے مذمت کی اور کہا: "طاقت کے ذریعہ صلح کا مطلب حقیقت میں عقل، منطق، گفتگو اور انسانوں کے ایک دوسرے پر باہمی تعاون کو نظرانداز کرنے اور اس کی جگہ بربریت، انسانوں کے قتل اور جرم کو لانا ہے۔"
انہوں نے تاکید کی کہ آج دشمن کا اصلی چہرہ اس طرح سامنے آگیا ہے کہ اب تاریخ کی صحیح سمت کی تشخیص دینے کے لئے کسی پیچیدہ تجزیہ کی ضرورت نہیں ہے اور وہ راہ جو شہیدوں کے خون سے روشن ہوئی ہے، اب دنیا کی سبھی قوموں کے لئے پوری طرح واضح ہے۔
ڈاکٹر باقری نے آگے کہا: "ایرانی قوم نے اپنے شہید رہبر کی زیر قیادت ایرانی اور ہم معاصر عالمی تاریخ میں درخشاں صفحہ جوڑ دیا۔ ہماری قوم نے ٹرمپ اور نتنیاہو کی سرکردگی میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی بربریت کے مقابلے مین استقامت کا مظاہرہ کرکے دنیا کے بتا دیا کہ اگر کوئی قوم حق کے راستے پر ڈٹ جائے تو دنیا کی سب سے طاقتور فوجوں کو بھی شکست سے دوچار کردے گی۔"
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی: "آج ہم بڑے فخر سے کہ رہے ہیں کہ امریکہ کو شکست ہو چکی ہے۔"
وزارت خارجہ کے اعلی عہدیدار ڈاکٹر باقری نے کہا کہ ٹرمپ کے جارحانہ رویے کا جاری رہنا حقیقت میں اس کی اسٹریٹیجک شکست کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا: "تشدد اور جرائم کا جاری رہنا ان کی شکست و ناکامی کی نشانی ہے۔ یہاں تک کہ خود امریکہ میں بھی منصف مزاج تجزیہ کار اور آگاہ شخصیتیں بھی، کھلے لفظوں مین ایرانی قوم کے مقابلے میں امریکہ کی اسٹریٹیجک شکست اور ٹرمپ کی ناکامی کی بات کہہ رہی ہیں۔
نریٹیو کی فیصلہ کن جنگ
ایرانی فیلم پروڈیوسر اور اسکرپٹ رائٹر بابک لطفی خواجہ پاشا نے اس پروگرام سے خطاب میں، عالمی پیمانے پر نریٹیو سیٹ کرنے میں میڈیا کے فیصلہ کن رول کے بارے میں بات کی۔
انہوں نے تاکید کی کہ اس وقت دنیا میں سنگین المیہ ہو رہا ہے کہ جسے میڈیا اس طرح کورج نہیں دے رہا ہے جس طرح دینا چاہئے۔ ہمیں میڈیا کے میدان میں پوری طاقت کے ساتھ سرگرم رہنا چاہیے؛ ورنہ مغرب ہم پر حاوی ہو جائے گا، کیونکہ وہ اپنی کرتوتوں کو میڈیا کے پروپیگنڈے کے سانچے میں چھپانا اچھی طرح جانتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ "تاریخ کی صحیح سمت" عنوان مئی سنہ 2024 میں شہید امام خامنہ ای کے امریکی اسٹوڈنٹس کے نام لکھے گئے خط سے لیا گیا ہے؛ ایسا خط جس میں انہوں نے اسٹوڈنٹس کی طرف سے فلسطین کی حمایت اور ان میں سیاسی بیداری کو سراہا تھا۔
واضح رہے کہ کشوردوست اسٹریٹ پر پروگرام ان پروگراموں کا حصہ ہے جو دنیا میں ایسی شخصیتوں کی تعظیم کے لئے منعقد ہوتے ہیں جنہوں نے استقامتی محاذ کی کسی شاخ سے جڑ کر صیہونی اور عالمی سامراج کے خلاف موقف لیا ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ تمغہ تہران، کاراکاس اور غانہ میں، چنندہ شخصیتوں کو دیا گیا تھا۔
9 جون 2026

