امام مجاہد شہید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی شہادت کو خراج عقیدت پیش کرنے والی مرکزی کمیٹی کی پریس ریلیز نمبر 4

امام مجاہد شہید آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی شہادت کو خراج عقیدت پیش کرنے والی مرکزی کمیٹی کی پریس ریلیز نمبر 4

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیک یا ثاراللہ و ابن ثارہ

تلوار پر خون کی فتح کے مہینے محرم الحرام اور پوری دنیا کے حریت پسندوں کے سرور و سردار حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا کے ایام عزا کی آمد اور اسی طرح امام مجاہد شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای قدس سرّہ اور رہبر انقلاب اسلامی کے اہل خانہ کے شہداء کے وداع، جلوس جنازہ اور تدفین کے قریب اس عظیم اجتماع کے فکری اور تبلیغی رخ کو ایران کی عزیز قوم اور ملک و بیرون ملک اس یگانۂ روزگار قائد کے تمام چاہنے والوں کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای مدظلہ العالی نے اپنے پہلے پیغام میں ہمارے رہبر شہید کے بارے میں کہا تھا: "مجھے یہ توفیق حاصل ہوئی کہ میں شہادت کے بعد ان کے جسم مبارک کی زیارت کروں۔ جو کچھ میں نے دیکھا، وہ صلابت و استقامت کا ایک پہاڑ تھا اور میں نے سنا کہ انھوں نے اپنے سالم ہاتھ کی مٹھی بھینچ رکھی تھی..."

یہ "بھنچی ہوئی مٹھی"، جو اس عظیم شخصیت کی آخری رخصت کی علامت قرار پائی ہے، صرف ایک علامت نہیں بلکہ امت کے اس مہربان باپ کے اسی مضبوط ہاتھ کا جلوہ ہے، جو بارہا عالمی سامراج کے سامنے بلند رہا، نہ کبھی لرزا اور نہ کبھی خدا کے سوا کسی کے سامنے کھلا۔

اسی بند مٹھی اور ان جیسے طاقتور مظلوم کے جوش مارتے ہوئے خون کی وجہ سے ہی دنیا بھر کے آزاد منش اور حریت پسند انسانوں کے دلوں میں کہرام مچا ہوا ہے اور ایرانی قوم کو پھر سے ایک نئی بعثت حاصل ہوئی ہے۔ ایسی بعثت جسے حق کے محاذ کے پرچم کی سربلندی، اپنے امام مجاہد شہید کے خون کے انتقام اور اسلامی مملکت ایران کے لیے ایک زیادہ طاقتور مستقبل کی تعمیر کے ذریعے جاری رکھنا ہوگا۔ رہبر شہید اعلیٰ اللہ مقامہ ایک خونیں جنگ میں شہید ہوئے۔ ایسی شہادت جس کی مثال کسی جنگ میں ان کے مرتبے اور شان کی کسی شخصیت کے لیے علمائے شیعہ رضوان اللہ علیہم کے درمیان نہیں ملتی۔

اس مقدس خون کے اسی جوش کے تسلسل میں، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، اس پروگرام کا مرکزی نعرہ یہ ہوگا: "اٹھ کھڑے ہونا ہوگا۔"

یہ نعرہ اسی "قیام للہ" کا تسلسل ہے جسے ہمارے رہبر عزیز دام ظلہ نے اس سال 4 جون کو (امام  خمینی کی برسی کے موقع پر) خمینی کبیر اور خامنہ ای عزیز کے مکتب کی بنیاد قرار دیا تھا، ایسا قیام جو 15 خرداد 1342 ہجری شمسی (5 جون 1963) سے شروع ہوا، بہمن 1357 ہجری شمسی (11 فروری 1979) میں کامیابی سے ہمکنار ہوا، مزاحمت کے دور میں جاری رہا اور اب خدا کے اس صالح بندے کی مظلومانہ شہادت کے بعد اسے ایک نئی منزل حاصل ہو گئی ہے۔

"اٹھ کھڑے ہونا ہوگا۔" یعنی یہ خون اتنا جوش مار رہا ہے کہ اب کسی بھی عاشق کو بیٹھے رہنے کی اجازت نہیں دے گا۔

"اٹھ کھڑے ہونا ہوگا۔" یعنی وہ عہد جو بعثت یافتہ قوم نے ان کے خون سے باندھا ہے، جان کی آخری حد تک جاری رہے گا۔

اس پروگرام کے لیے، جسے "ایران کے شہید آقا سے آخری وداع" کا نام دیا گیا ہے، بصری شناخت (visual identity) کا ایک پیکج تیار کیا گیا ہے تاکہ تمام میڈیا مواد، تشہیری اشیاء، شہری و عوامی فضاسازی، ثقافتی مصنوعات اور متعلقہ پروگرام اسی کی بنیاد پر تیار اور نشر کیے جائیں۔

لیکن یہ سوگ صرف ایران کے لوگوں تک محدود نہیں۔ مزاحمتی محاذ کے ممالک سے لے کر دنیا کے گوشہ و کنار تک سبھی آزاد منش اور حریت پسند انسان اس عظیم شہادت کے سوگوار ہیں۔ امت مسلمہ اسی مکتب سے الہام لیتے ہوئے خدا کے اس فرمان کا نعرہ لگا رہی ہے: "قوموا للہ" (اللہ کے لیے اٹھ کھڑے ہو)۔ یہ نعرہ ہمارے شہید امام کی آخری بصیرت افروز ہدایات اور پیغامات کا نچوڑ ہے۔ "قوموا للہ" صرف ان کی نصیحت نہیں ہے بلکہ ان کے مکتب سے بیعت کی تجدید ہے۔ یہ دنیا کے لیے ایک اعلان ہے کہ وہ عظمت، وہ ایمان اور وہ بے مثال شجاعت اب پہلے سے زیادہ قوت و استحکام کے ساتھ جاری رہے گی۔

اللہ کی توفیق اور حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خاص عنایت سے، یہ الوداع اور خدا حافظی، فتح مبین کا پیش خیمہ اور ملت ایران و امت مسلمہ کی نئی بعثت کا ایک اہم موڑ ثابت ہوگی، جو رہبر عالی قدر انقلاب مدظلہ العالی کی قیادت میں روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوگی، ان شاء اللہ۔

رہبر شہید انقلاب کے تحریری و تقریری آثار کی حفاظت اور نشر و اشاعت کا ادارہ

16 جون 2026 بمطابق یکم محرم الحرام 1448 ہجری

16 جون 2026