کتاب "خون دلی کہ لعل شد" کے ہوسا زبان میں ترجمے کی تقریب رونمائی کے نام شیخ ابراہیم زکزکی کا پیغام:
شہید خامنہ ای اور ان کا پاک خون سرطانی صیہونی حکومت کو نہیں چھوڑے گا
کتاب "خون دلی کہ لعل شد" کے ہوسا زبان میں ترجمے کی تقریب رونمائی، شیخ ابراہیم زکزکی کے خصوصی پیغام سے 18 مئی 2026 کو منعقد ہوئي۔ اس تقریب میں، جو متعدد مفکرین، ثقافتی شعبے کے افراد اور دینی و بین الاقوامی شخصیات کی موجودگی اور خطاب کے ساتھ منعقد ہوئی، اس کتاب کے جرمن اور قزاقی زبان کے ترجموں کی بھی رونمائی کی گئی، جنھیں آیت اللہ العظمیٰ شہید خامنہ ای رحمت اللہ علیہ کے تحریری و تقریری آثار کی حفاظت اور نشر و اشاعت کے ادارے کے بین الاقوامی شعبے کی کوششوں سے شائع کیا گیا ہے۔
اس تقریب کا خصوصی حصہ، نائجیریا کے شیعوں کے رہنما شیخ ابراہیم زکزکی کا ویڈیو پیغام تھا۔ انھوں نے اپنے پیغام میں حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے خاندانی پس منظر اور ان کی مجاہدت کی تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، انھیں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا بہترین جانشین قرار دیا اور کہا کہ رہبر شہید اس زخم کے باوجود جو چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ان کے ساتھ رہا، ایک پرجوش اور ثابت قدم جوان کی طرح انقلاب اور اسلامی امت کے دفاع کے راستے پر گامزن رہے۔
شیخ زکزکی نے اسی طرح امریکا کے موجودہ صدر کی جانب سے اپنے پہلے دور صدارت میں امام خامنہ ای کو بھیجے گئے خط کے واقعے کا بھی ذکر کیا، ایسا خط جسے، ان کے بقول، رہبر شہید نے وصول کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ انھوں نے اس واقعے کے بارے میں ایک امریکی شہری کی بات نقل کرتے ہوئے کہا: "ایسا لگتا تھا گویا خود امام خمینی دوبارہ زندہ ہو گئے ہوں۔" نائجیریا کی تحریک اسلامی کے رہنما نے اپنے پیغام کے ایک اور حصے میں آیت اللہ خامنہ ای کو علم، شجاعت، دوراندیشی اور قیادت میں ایک بے مثال شخصیت قرار دیا اور کہا کہ ہم اس شہید کے پیروکار اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ اسی راستے پر چلیں گے جس پر وہ گامزن رہے۔
شیخ ابراہیم زکزکی نے شہید خامنہ ای کے خون کے اثر کے بارے میں کہا کہ امام سید علی خامنہ ای نے دکھایا کہ رہبر کیسا ہونا چاہیے، رہبر ایسا ہونا چاہیے جو اپنے بارے میں نہیں بلکہ عوام کے بارے میں سوچتا ہو۔ انھیں امت کی بقا کی فکر تھی اور بلا شبہہ ان کا خون ان شاء اللہ اس کینسر کے پھوڑے یعنی صیہونی حکومت کے خاتمے اور مغربی سامراج کے زوال تک ان مجرموں کے حامیوں کا گریبان پکڑے رہے گا۔ نائجیریا کے شیعوں کے رہنما نے اپنے پیغام کا اختتام، امام سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں سامراج کے خلاف حق کے محاذ کے روشن مستقبل پر زور دیتے ہوئے، ان الفاظ کے ساتھ کیا: "امام سید مجتبیٰ خامنہ ای، ان شاء اللہ عالمی سامراج کے خاتمے اور اسلامی انقلاب کی واحد اور برتر طاقت کے قیام تک اس راستے کو جاری رکھیں گے۔"
کتاب "خون دلی کہ لعل شد" آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کی سوانح حیات ہے، جس میں ان کی زندگی کے بعض حصوں، بچپن، خاندانی ماحول، حوزوی تعلیم، سیاسی جدوجہد اور اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے تک کے قید و جلاوطنی کے حالات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب پہلی بار عربی زبان میں شائع ہوئی تھی اور اس کے بعد 25 سے زائد زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ کتاب "خون دلی کہ لعل شد" کی انگریزی زبان میں آڈیو بک شہید رہبر انقلاب کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دستیاب ہے۔
18 مئی 2026

