امام خامنہ ای نے امت کو اسلام کی طرف لوٹا دیا: بحرین کے مرجع تقلید آيت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم
بحرین کے شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ عیسیٰ قاسم نے اپنے ایک ٹیلی وائزڈ پیغام میں امام خامنہای قدس سرّہ کو انقلابی شخصیات میں ایک ممتاز چہرہ قرار دیا جو بصیرت و عزم کے حامل اور امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے سب سے مناسب جانشین تھے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ وہ امت کو حقیقی اور درست طور پر اسلام کی طرف واپس لانے کے سلسلے میں ایک ماہر، باصلاحیت اور محنتی شخصیت تھے۔
khamenei.ir کی رپورٹ کے مطابق، رہبر شہید انقلاب اسلامی کی شہادت کے پچھترویں دن کتاب "حکایت السید" کی رسم اجراء کی تقریب ایرانی، عرب اور بین الاقوامی شخصیات کی موجودگی میں تہران میں رواق کشور دوست کے مقام پر منعقد ہوئی، جس میں آیت اللہ عیسیٰ قاسم نے اپنے پیغام میں امام شہید انقلاب کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا اور موجودہ جنگ کو جہالت اور ایمان کے محاذوں کی جنگ قرار دیا۔
بحرین کے مرجع تقلید نے اس پیغام میں امام شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای قدس سرّہ کو انقلابی چہروں میں ایک ممتاز شخصیت قرار دیا جو بصریت و پختہ عزم کے حامل، منصوبہ بندی میں ماہر اور ان شخصیات میں سے تھے جنھوں نے اپنی جان انقلاب اور اس کے عظیم رہبر امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی راہ میں قربان کی۔
آیت اللہ عیسیٰ قاسم نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ اس عظیم، باعزت اور الہی انقلاب کے اصولوں نے امام خامنہای کے پورے وجود کا احاطہ کر رکھا تھا، ان کا وجود انقلاب میں ڈوبا ہوا تھا، ان کی سوچ صحت مند اور نگاہ عاقلانہ تھی اور وہ ہمیشہ بلند عزم اور جدوجہد کے ساتھ انقلاب کی راہ میں مجاہدت کرتے رہتے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے انتقال کے بعد، امام خامنہای اسلامی حکومت کی امامت اور قیادت کے لیے سب سے مناسب جانشین اور اس انقلاب کی کامیابی کے روشن راستے کو مکمل کرنے والے تھے۔
انھوں نے اس عہد میں عظیم اسلامی انقلاب کو ایسے وقت میں ہدایت یافتہ اور ہدایت کرنے والی حکومت قائم کرنے والا بتایا جب امت علم و عمل کے لحاظ سے اسلام سے دور ہو گئی تھی۔ انھوں نے اس بات کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہ اسلام ہی باعزت زندگی کا واحد راستہ ہے اور اسلام کے بغیر کوئی انسانی زندگی باعزت، ترقی یافتہ، پرسکون اور خوشحال نہیں ہو سکتی، کہا کہ کوئی بھی نیک، پرشکوہ، پائیدار، پاک اور ترقی یافتہ انجام، اسلام کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ یہ انقلاب اور اسلامی حکومت، امت مسلمہ اور پوری انسانیت کو دنیا و آخرت میں ان کی موجودہ اور مستقبل کی بدبختی سے نجات دلانے کے لیے آئے ہیں۔
آیت اللہ قاسم نے نجات اور سعادت کے لیے ایک شرط بیان کی اور کہا: یہ تبھی ہوگا جب امت، اسلام پر عمل کے سلسلے میں سنجیدہ اور مؤثر ہوگی، اپنی پوری زندگی اس کی ہدایت پر استوار کرے گی، اس کی راہ و روش کی پابندی کرے گی، اس کی قیادت کی پابند ہوگی اور اس کے کلمے کے محور پر متحد ہوگی، وہ کلمہ جو کبھی بھی اپنے پیروکاروں کو حق سے باطل، عدل سے ظلم، یا نیکی سے برائی کی طرف نہیں موڑتا۔ انھوں نے انقلاب کی کامیابی اور اسلامی حکومت کے قیام کے سلسلے میں امام خمینی رحمت اللہ علیہ اور ان کی قیادت میں فقہاء و علماء کی قربانیوں کی طرف اشارہ کیا اور حکومت کے قیام اور اس کی حفاظت کی راہ میں سب سے عظیم اور بزرگ لوگوں کی جانفشانی کو الہی کامیابیوں کی بنیاد اور اساس قرار دیا۔
آیت اللہ قاسم نے مزید کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے طاغوت اور سامراج کے شیطانی اور مذموم خوابوں اور اہداف کے ناکام اور ان کے مفادات کے تباہ ہونے کی طرف اشارہ کیا اور ان میں اسلامی حکومت کے قیام کا خوف پیدا ہونے کے بارے میں کہا کہ اس سے بڑھ کر کوئی خوف نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ نظام ایک اسلامی، معیاری اور زمین پر حاکم نظام ہے جو حقیقی، منصفانہ، حکیم، توانا، محفوظ اور روح و جسم کی زندگی کو بلند کرنے والی حکومت کے طور پر ایک زندہ گواہ اور بے مثال نمونہ ہے، ایک ایسی حکومت جو انسانی بھائی چارے کو زندہ کرتی ہے اور دنیا میں نافذ دیگر طاغوتی اور جاہلانہ نظاموں کی کمزوری، برائی، نقص اور ظلم کو آشکار کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کی جنگ جہالت اور ایمان کے محاذ کے درمیان بھڑکی ہوئی ہے اور جہالت کے محاذ کی کمان امریکی طاغوت، گمراہ صہیونیت اور موسیٰ علیہ السلام کی صحیح تعلیمات سے منحرف یہودی قیادت کے ہاتھ میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی قیادت میں "فرعون" ٹرمپ اور صہیونزم میں "فرعون" نیتن یاہو ہے۔ یہ دونوں آج برے لوگوں میں بدترین، اقدار و مقدسات کے سب سے بڑے دشمن، خون میں سب سے زیادہ غرق اور خدا و اس کی حرام کردہ چیزوں کے سلسلے میں سب سے زیادہ گستاخ ہیں۔
بحرینی شیعوں کے روحانی پیشوا نے اسی طرح ایمان کے محاذ کے بارے میں کہا: باطل وجہالت کے محاذ کے مقابل ایمان کا محاذ ہے جو وسیع مزاحمتی محاذ میں امت مسلمہ کے فرزندان پر مشتمل ہے اور اس میں سب سے آگے اسلامی جمہوریہ اور اس کی شجاع، مؤمن، بہادر اور حکیم قیادت ہے، جو اقدار، خون، عزت و وقار، انسانی شرف اور تمام مقدسات کے لیے سب سے زیادہ امانت دار اور اس کی حفاظت میں سب سے سخت کوش ہے۔ شیخ عیسیٰ قاسم نے مزید کہا کہ عالمی سامراج انسانیت کو دو بڑی مصیبتوں کی طرف لے جا رہا ہے، ایک مادی اور دوسری روحانی مصیبت۔
انھوں نے کہا کہ ان سامراجی مصیبتوں کے مقابل، اسلامی محور مزاحمت نے خدا کی راہ میں جہاد اور حقوق و مقدسات کے دفاع کو بحال کیا، اور اس طرح انسانیت کو ان دو مصیبتوں سے نجات کا راستہ دکھایا۔ آیت اللہ قاسم نے اسلامی قیادت کے کردار کے بارے میں کہا کہ مناسب اسلامی قیادت نے مزاحمت کے فرزندوں کو یہ موقع دیا کہ وہ اخلاص اور سچائی کے ساتھ انسانیت کی خدمت کے لیے قدم بڑھائیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ جنگ، فرزندان مزاحمت کے باوقار موقف، بے مثال شجاعت، عظیم قربانیوں اور صداقت، عدل اور اخلاق کے راستے پر استقامت سے دنیا اور غیر جانبدار افراد میں قوت و حوصلے کا ایک شاندار جذبہ پیدا کرتی ہے۔ یہ جذبہ، اسلام کی عظمت اور سالم و صحت مند اور طاقتور انسان تیار کرنے کی اس کی صلاحیت کا غماز ہے اور اسی طرح اس نے نجات سلامتی، امن، کامیابی، عزت، محبت اور دوستی کے ساحل کی طرف دنیا کی رہنمائی میں اسلام کی زیبائی اور حقانیت کا گہرا ادراک پیدا کیا ہے۔
15 مئی 2026

