ایوان کشور دوست میں کتاب "حکایتالسید" کی رسم اجراء
وہ کتاب جو ایک رہبر کی تربیت و پرورش کو بیان کرتی ہے
کتاب "حکایتالسید" کی رسم اجراء کی تقریب جمعرات 14 مئی 2026 کو تہران میں واقع ایوان کشور دوست میں منعقد ہوئی۔
حکایتالسید" کتاب "روایت آقا" کا عربی ترجمہ ہے، جو رہبر شہید انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای رحمت اللہ علیہ کے والد گرامی آیت اللہ سید جواد خامنہ ای رحمت اللہ علیہ کی زندگی کے بارے میں رہبر شہید کی یادوں پر مبنی ہے۔ جمعرات 14 مئی کو تہران میں امام خامنہ ای کے شہادت کے مقام کے قریب متعدد ایرانی، عرب اور بین الاقوامی شخصیات اور مہمانوں کی موجودگی میں اس کتاب کی رونمائي کی گئی۔
یہ کتاب رہبر شہید انقلاب کے والد اور استاد آیت اللہ سید جواد خامنہ ای کی زندگی، شخصیت اور علمی و روحانی روش کی داستان ہے جو خود شہید امام خامنہ ای کی زبان سے بیان ہوئی ہے اور خود ان کی شخصیت کے تربیتی اور عرفانی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے ضبط تحریر میں آئی ہے۔ کتاب "حکایتالسید" جس کی رونمائی رہبر شہید کے مقام شہادت کے قریب کی گئی، دستاویزی اور زبانی تاریخ کے لحاظ سے ایک خاص مقام رکھتی ہے کیونکہ یہ صرف ایک خاندانی یادوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایران کی سماجی اور مذہبی تہوں، ایران اور عراق کے علمائے دین کے طرز زندگی، خاندانی تربیت اور ایران کی رواں تاریخ کی مؤثر شخصیات کی پرورش میں اس کے کردار کا ایک دریچہ شمار ہوتی ہے۔
اس تقریب میں آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے تحریری و تقریری آثار کی حفاظت و اشاعت کے ادارے کے بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اخگری نے کہا کہ آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں یادیں، شہادت کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں، ہم پوری عزت و احترام کے ساتھ اس ہستی کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں جو اپنے علم اور اخلاص کے ذریعے دلوں اور جانوں پر گہرا اثر چھوڑ گئی۔ کتاب روایت آقا کے عربی ترجمے کی رونمائی کے لیے ہمارے آج کے اجتماع نے اس مقام کو ایک خاص ثقافتی اور روحانی پہلو فراہم کر دیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کتاب حکایت السید صرف ایک بڑے عالم کی زندگی کی داستان نہیں ہے بلکہ ایک ایسے انسان کی شخصیت کی طرف کھلنے والا دریچہ ہے جس نے اسلامی انقلاب کے رہبر کی شخصیت پر گہرا تربیتی اور عرفانی اثر ڈالا ہے۔ یہ کتاب ایک لائق بیٹے یعنی رہبر شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کی یادوں کے ذریعے اس عظیم انسان اور بااثر والد کی زندہ اور سچی تصویر پیش کرتی ہے اور اخلاقی، معرفتی اور تربیتی اقدار کا ایک خزانہ قارئین کے سامنے کھول دیتی ہے۔
اس تقریب میں بحرین کے مرجع تقلید آیت اللہ عیسیٰ قاسم کا ٹیلی وائزڈ پیغام بھی دکھایا گیا۔ انھوں نے اس پیغام میں اسلامی انقلاب کے شہید امام کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے موجودہ جنگ کو جہالت اور ایمان کے محاذوں کی جنگ قرار دیا۔ انھوں نے امام شہید کو انقلابی چہروں میں ایک ممتاز شخصیت قرار دیا جو بصریت و پختہ عزم کے حامل، منصوبہ بندی میں ماہر اور ان شخصیات میں سے تھے جنھوں نے اپنی جان انقلاب اور اس کے عظیم رہبر امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی راہ میں قربان کی۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ وہ امت کو حقیقی اور درست طور پر اسلام کی طرف واپس لانے کے سلسلے میں ایک ماہر، باصلاحیت اور محنتی شخصیت تھے۔ آیت اللہ عیسیٰ قاسم نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ اس عظیم، باعزت اور الہی انقلاب کے اصولوں نے امام خامنہای کے پورے وجود کا احاطہ کر رکھا تھا، ان کا وجود انقلاب میں ڈوبا ہوا تھا، ان کی سوچ صحت مند اور نگاہ عاقلانہ تھی اور وہ ہمیشہ بلند عزم اور جدوجہد کے ساتھ انقلاب کی راہ میں مجاہدت کرتے رہتے تھے۔
کویت کے حوزۂ علمیہ کے ممتاز استاد اور نمایاں عالم دین آیت اللہ حسین المعتوق نے کہا کہ ہم اس وقت اس بابرکت مقام پر اکٹھا ہوئے ہیں تاکہ وہ باتیں پھر سے بیان کر سکیں جو امام خامنہ ای نے اپنے والد یعنی اس عالم ربانی ، مجاہد، پرہیزگار، متقی، مجتہد اور فقیہ کے بارے میں بیان کی ہیں۔ انھوں نے کتاب حکایت السید کی خصوصیات کے بارے میں کہا کہ اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم اس بااثر والد کے اثرات سے واقف ہوتے ہیں جس نے اپنے بچوں کے لیے ایک ایمانی، پاکیزہ اور مناسب ماحول بنایا کیونکہ وہ انہی لوگوں میں سے ایک تھے جنھوں نے وہ ماحول تیار کیا جس سے مبارک اسلامی انقلاب ابھرا۔ اس کے بعد ہم امام خامنہ ای کی شخصیت کے ایک اہم پہلو اور اس ماحول سے واقف ہوتے ہیں جس میں یہ عظیم عالم پروان چڑھے۔ وہ ماحول جو اسلام کو قبول کرتا ہے، سمجھتا ہے، اس پر عمل کرتا اور اللہ سے تعلق کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ انھوں نے امام خامنہ ای کی شخصیت کے پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ اس شخصیت کے سامنے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس حدیث کا عملی ترجمہ ہے کہ علماء، پیغمبروں کے وارث ہیں۔ پیغمبروں کے وارثوں کے اس نمونے میں وہ علماء نہیں ہیں جو بغیر ذمہ داری کے زندگی گزارتے ہیں بلکہ پیغمبر کے مدنظر وہ علماء ہیں جو اسلام اور انسانیت کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں اور عزت و وقار کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور شہید امام سید علی خامنہ ای، پیغمبروں کے کام کو جاری رکھنے والوں میں سے ہیں۔
عالمی مجلس اہل بیت کے سکریٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی نے اس تقریب میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ آج ہمیں زندگی میں تین روشوں کا سامنا ہے، کہا کہ ایک وہ طرز جو سیکولر نظریے پر مبنی ہے یعنی دین، معاشرے میں کوئی کردار نہیں رکھتا بلکہ اس کا صرف انفرادی پہلو ہے۔ دوسرا طرز الحادی ہے یعنی انسان کا رویہ خدا، توحید اور آخرت کے انکار پر مبنی ہے، قدرتی طور پر ایسا انسان، مادّی نقطۂ نظر کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ تیسری روش، مؤمنانہ طرز زندگی کی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کتاب سے جو کچھ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ رہبر شہید کے والد نفس کے تزکیہ و تربیت میں بھی، اور اہل خانہ اور ساتھیوں کے ساتھ تعلقات میں بھی ایک آئیڈیل اور مؤثر شخصیت تھے۔ وہ والد بھی تھے، استاد بھی تھے اور مربی بھی تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جو بھی انسانی معاشرے میں بااثر بننا چاہتا ہے، اسے اپنے نفس کی تربیت اور تزکیے کی یہ منزل طے کرنی ہوگی۔ اگر خود اس کی تربیت نہ سکے تو وہ دوسروں کی تربیت نہیں کر سکتا۔
قم میں حزب اللہ کے نمائندے حجت الاسلام شیخ معین دقیق نے اس تقریب میں کہا کہ آج کی دنیا اثر پذیری کے حالات میں ہے۔ دنیا جاننا چاہتی ہے کہ یہ رہبر کون تھا جس کے خلاف زمین کے تمام منہ زور ظالم اکٹھا ہوئے اور اس کے قتل کی سازش کی؟ یہ سوچ کر کہ اس کی شہادت سے اس ملک میں اسلامی تمدن تباہ ہو جائے گا اور اس کی شہادت سے مزاحمت کا محور ختم ہو جائے گا لیکن انھیں شکست ہوئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج ہمیں سب سے زیادہ "حکایت السید" کی ضرورت ہے، اسی خالص محمدی اسلام کی تاکہ وہ تمام امتوں اور قوموں تک پہنچ سکے۔ دشمن آج اقدار اور معیارات کو پوری طرح پلٹ دینا چاہتے ہیں، وہ انسانی معاشروں کو، جزیرۂ ایپسٹین کے معیاروں کے ذریعے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔
جس چیز نے اس تقریب کو ایک عام ثقافتی واقعے سے الگ کر دیا، وہ اس جگہ کا جذباتی ماحول تھا۔ تمام عرب شرکاء کو کاغذ دیے گئے تاکہ وہ اپنی مادری زبان میں رہبر شہید سے خطاب کرتے ہوئے اپنے دل کی باتیں لکھیں۔ جن عورتوں اور مردوں کے ہاتھ میں قلم تھا، ان میں سے اکثر کی آنکھیں نم تھیں کیونکہ وہ اپنے دینی اور مذہبی رہبر کی شہادت پر سوگوار تھے یا اسلامی دنیا کے سیاسی رہبر کے عزادار تھے۔ سب سے جذباتی لمحات وہ تھے جب عربی زبان میں رہبر شہید انقلاب کی آواز رواق کشور دوست میں اور ان کی شہادت کے مقام کے قریب نشر ہوئی۔ بہت سے عرب مہمان جن کی آنکھیں پرنم تھیں، خود کو اس مرد کے قریب محسوس کر رہے تھے جس نے طویل عرصے تک تہران کی فلسطین اسٹریٹ سے امت کی قیادت کی تھی۔
14 مئی 2026

