یریوان میں "خون دلی کہ لعل شد" کے آرمینیائی ترجمے کی رسم اجرا کی تقریب کا آغاز
رہبر شہید انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای اعلیٰ اللہ مقامہ کی خودنوشت سوانح حیات "خون دلی کہ لعل شد" کے آرمینیائی ترجمے کی رسم اجرا کی تقریب جمعے کے روز آرمینیا کے دارالحکومت یریوان کی یونیورسٹی میں منعقد ہوئی۔
یہ تقریب جمعہ 9 اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے یریوان یونیورسٹی کے شعبۂ مشرقی علوم میں منعقد ہوئی۔ اس کتاب کا آرمینیائی زبان میں ترجمہ آرمینیائی ایران شناس اور مترجم مریم زازیان نے کیا ہے۔
یہ پروگرام آرمینیا میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے سفارت خانے کے ثقافتی دفتر اور انقلاب اسلامی ثقافتی و تحقیقاتی مرکز کے زیر اہتمام یریوان یونیورسٹی کے شعبۂ مشرقی علوم کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔ ایران کے وزیر اسپوروٹس اور نوجوانان احمد دنیامالی، انقلاب اسلامی ثقافتی و تحقیقاتی مرکز کے بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر محمد اخگری، آرمینیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر خلیل شیر غلامی اور یریوان یونیورسٹی میں شعبۂ ایران شناسی کے سربراہ وارطان وسکانیان اس تقریب کے مقررین میں شامل ہیں۔
کتاب "خون دلی کہ لعل شد" میں ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی جدوجہد اور قید کے دور سے متعلق یادداشتیں بیان کی گئی ہیں۔ یہ کتاب سب سے پہلے عربی زبان میں "انّ مع الصّبر نصراً" کے عنوان سے شائع ہوئی اور بعد میں اس کا فارسی ترجمہ "خون دلی کہ لعل شد" کے عنوان سے قارئین کے لیے پیش کیا گیا۔
9 اکتوبر 2026

