کتاب "خون دلی کہ لعل شد": انصاف پسندی کی سفیر، زندگی کی کتاب، اسلامی انقلاب کی شناخت کا بہترین منبع
کتاب خون دلی کہ لعل شد کے ہوسا، جرمن اور قزاقی زبان کے ترجموں کی تقریب رونمائی 18 مئی 2026 کو تہران میں متعدد مفکرین، علمی و ثقافتی شعبے کے افراد اور دینی و بین الاقوامی شخصیات کی موجودگی اور خطاب کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں مقررین نے اس کتاب کے ترجمے اور بین الاقوامی اشاعت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی اور کتاب کے قارئین پر اس کے اثرات کا ذکر کیا۔ اسی طرح نائجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما شیخ ابراہیم زکزکی نے بھی اس تقریب کے لیے ایک خصوصی ویڈیو پیغام ارسال کیا۔
اس کے بعد لبنان میں ایران کے سابق کلچرل اتاشی سید کمیل باقر زادے نے اس کتاب کی اشاعت سے پہلے، جو عربی زبان میں تھی، اس کے مطالعے کے بارے میں گفتگو کی اور تہران یونیورسٹی میں عربی زبان و ادب کے پروفیسر ڈاکٹر محمد علی آذر شب کے ساتھ شہید خامنہ ای کی خصوصی نشستوں کی آڈیو ریکارڈنگز کی بنیاد پر کتاب کی تدوین کے عمل پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر آذر شب نے کتاب "انّ مع الصبر نصراً" کے نام سے عربی میں شائع ہونے والی اس کتاب کی تدوین میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ سید کمیل زادے نے کتاب کی تصویری تدوین اور فارسی و انگریزی ترجموں کے مراحل کی طرف بھی اشارہ کیا اور اس کتاب کی رونمائی کی پہلی تقریب کو یاد کرتے ہوئے، شہید سید حسن نصراللہ سے متعلق ایک واقعہ نقل کیا۔ انھوں نے کہا کہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس کتاب کو پہلی بار ایسی شخصیت متعارف کروائے اور اس کی رونمائی کرے جس کے سامعین اور ناظرین کا دائرہ پوری عرب دنیا میں پھیلا ہو۔ اسی وجہ سے ہم نے شہید سید حسن نصراللہ سے درخواست کی کہ وہ کتاب کا مطالعہ کریں اور اگر اس کی تائید کریں تو اسلامی انقلاب کی کامیابی کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر اپنی تقریر میں اس کا تعارف کروائیں... اور ایسا ہی ہوا۔ سید کمیل باقر زادے نے اسی طرح شہید نصراللہ کے حوالے سے بتایا کہ انھوں نے "کتاب خون دلی کہ لعل شد" کو ابتدا سے انتہا تک ایک ہی نشست میں پڑھ لیا تھا اور اسے سوانح نگاری اور تاریخی واقعات بیان کرنے کے لیے ایک مناسب نمونہ پایا تھا۔ باقر زادے کا کہنا تھا کہ یہ کتاب حزب اللہ کے جوانوں کے درمیان زندگی کے مختلف مراحل میں ایک تعلیمی اور الہام بخش کتاب میں تبدیل ہو چکی ہے۔
ثقافتی ادارے نسیم رحمت کے مینیجر اور اس کتاب کے ہسپانوی و پرتگالی ترجمے اور اشاعت کے مہتمم حجت الاسلام والمسلمین ناجی نے "خون دلی کہ لعل شد" کو بین الاقوامی میدان میں ایرانی عوام کی انصاف پسندی کا سفیر قرار دیا۔ انھوں نے ہسپانوی ترجمے کی رونمائی کی تقریب کے لیے رہبر شہید کے پیغام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پیغام نے کتاب کی اشاعت کے عمل میں نئی روح پھونک دی اور اس کی تصویری تدوین، ترجمے اور اشاعت کے عمل نے بہت سے افراد کو پوری طرح بدل دیا۔ انھوں نے اسی طرح اس کتاب کی اشاعت کو دنیا کے انصاف پسندوں کے درمیان رابطہ قائم کرنے کی کوشش قرار دیا اور کولمبیا کی پارلیمنٹ اور یونیورسٹیوں میں کتاب کی رونمائی اور جنوبی امریكا کے جوانوں اور دینی و سماجی شخصیات میں اس کے اثر پر روشنی ڈالی۔
تقریب کے ایک اور حصے میں امام صادق (ع) یونیورسٹی کے اکیڈمک بورڈ کے رکن ڈاکٹر حسین محمدی سیرت نے کہا کہ ہر ترجمہ اپنے ساتھ منفرد روایات اور واقعات لے کر آتا ہے۔ انھوں نے خود نوشت سوانح حیات کے قالب کو بین الاقوامی اشاعت کے لیے ایک مؤثر قالب قرار دیا، جو مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے گوناگوں قارئين کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ انھوں نے اسی طرح شہید خامنہ ای کی شخصیت میں مجاہدت اور علم کے توازن کو کتاب کی نمایاں خصوصیات میں شمار کیا اور "خون دلی کہ لعل شد" کو اسلامی انقلاب اور اسلامی طرز زندگی کے تعارف کا ایک مناسب نمونہ قرار دیا۔ محمدی سیرت نے ایک اطالوی مصنف کا واقعہ نقل کیا، جس نے کتاب کا مطالعہ کرنے اور رہبر شہید کی جانب سے اپنی والدہ اور اہلیہ کے بارے میں بیان کردہ توصیفات کو پڑھنے کے بعد ایرانی مسلمان خواتین کے مقام و منزلت پر رشک کا اظہار کیا تھا۔
اس تقریب کے ایک اور مقرر ڈاکٹر امید رضائی نے، جو افریقائی مسائل اور امور کے محقق ہیں، رہبر شہید کے افکار و نظریات میں شہادت پسندی کے مفہوم اور نائجیریا کی اسلامی تحریک پر اس کے اثرات کے بارے میں بات کی۔ انھوں نے افریقا کے مختلف علاقوں میں اسلامی تحریکوں پر شہید خامنہ ای اور اسلامی انقلاب کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے اس براعظم میں سامراج مخالف اور شہادت پسندانہ افکار کی بنیاد پر قائم کروڑوں لوگوں پر مشتمل معاشروں کے وجود میں آنے کی بات کی۔ انھوں نے اسی طرح ہوسا زبان بولنے والے معاشرے کے لیے اس کتاب کے انتخاب کو ایک مناسب اقدام قرار دیا اور کہا کہ افریقا کے ہوسا زبان کے قارئین میں رہبر شہید کے افکار کا زبردست خیر مقدم ہوا ہے۔ ان کے بقول، ہوسا زبان افریقا میں دو کروڑ سے زیادہ افراد کی مادری زبان ہے۔
تقریب کے اختتام پر اسلامی جمہوریۂ ایران کی حکومت کی ترجمان ڈاکٹر فاطمہ مہاجرانی کی موجودگی میں، کتاب "خون دلی کہ لعل شد" کے ہوسا، جرمن اور قزاقی زبان کے ترجموں کی رونمائی کی گئی۔ اس تقریب کے موقع پر ایک انٹرویو میں، ڈاکٹر مہاجرانی نے خاص طور پر کتابوں کی نمائش کے ایام میں شہید خامنہای جیسے کتاب دوست رہبر کی عدم موجودگی کا ذکر کیا اور ان کتابوں کے ترجمے کی ضرورت پر زور دیا جو اسلامی انقلاب کے رہبروں کی شخصیت کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں۔
19 مئی 2026

