logo khamenei

رہبر انقلاب اسلامی:

یقیناً آبنائے ہرمز کی مینجمنٹ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کریں گے۔

یقیناً آبنائے ہرمز کی مینجمنٹ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کریں گے۔

رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے رہبر شہید آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے چہلم کے موقع پر جمعرات 9 اپریل 2026 کو ایک پیغام جاری کیا ہے۔ پیغام میں رہبر شہید کی بعض خصوصیات، مسلط کردہ تیسری جنگ اور بعض دیگر اہم موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پیغام حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

انّا فَتَحْنا لَکَ فَتْحاً مُبیناً لیَغْفرَ لَکَ اللہُ ما تَقَدَّمَ من ذَنبکَ وَ ما تَاَخَّرَ وَ یُتمَّ نعْمَتَتُ عَلَیْکَ وَ یَھْدیَکَ صراطاً مُستقیماً وَ یَنصُرَکَ اللہُ نَصْراً عَزیزاً.

اسلام اور ایران کے دشمنوں کے سب سے بڑے جرائم میں سے ایک اور اس قوم کی تاریخ کے سنگین ترین عمومی آلام میں سے ایک کو چالیس دن گزر چکے ہیں، انقلاب اسلامی کے عظیم الشان رہبر، پدر ملت ایران، امت اسلامی کے قائد اور موجودہ دور میں حق پسندوں کے پیشوا، ایران اور مزاحمتی محاذ کے سید الشہداء، خامنہ ای کبیر (قَدَّس‌ اللہ نَفسَہُ‌ الزَّکیَّہ) کی جانکاہ شہادت کا درد۔

چالیس دن سے ہمارے شہید قائد کی بلند مرتبت روح اللہ کے قرب میں اولیاء، صدیقین اور شہداء کی مہمان ہے اور اسی دوران یا اس کے بعد، اسلام کے اصحاب، کمانڈروں اور سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد، اور چند دن روز کے نوزائیدہ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک مظلوم ہم وطن بھی اس عظیم فیض (شہادت) کو حاصل کر چکے ہیں۔

چالیس شب و روز سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے پیشوا کو اپنی میقات (وعدہ گاہ) میں بلا لیا ہے لیکن اس بار کلیم اللہ کے عہد کے برخلاف، رہبر شہید کے ساتھی اور ان کی امت حق کے قیام اور باطل کے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اور سامری اور اس کے بچھڑے کے سامنے مضبوط پہاڑوں کی طرح ڈٹ گئی اور جارحین اور فرعونیوں کے سروں پر پگھلی ہوئی آگ کی طرح برسی۔

چالیس شب و روز سے دنیا کے مستکبرین نے اپنے مکارانہ اور جھوٹے نقاب چہروں سے ہٹا دیے ہیں اور قتل و ظلم، جارحیت اور جھوٹ، تکبر و طفل کشی، اور آمریت و فساد کا کریہہ اور شیطانی چہرہ دکھا دیا ہے۔

لیکن اس کے مقابل، چالیس شب و روز سے خمینی کبیر کے غیرت مند فرزندوں اور شہید عزیز خامنہ ای کے پیروکاروں اور خالص محمدی اسلام کے ماننے والوں نے مثالی ہمت اور شجاعت کے ساتھ میدانوں، سڑکوں اور جنگی محاذوں میں موجودگی برقرار رکھی ہے اور دشمن کے وحشیانہ حملوں کے نقصانات کے باوجود، تیسری مسلط کردہ جنگ کو "تیسرے مقدس دفاع کے کارنامے" میں بدل دیا ہے۔ ایران کی بیدار اور ہوشیار قوم نے اگرچہ یہ دکھا اٹھایا کہ وہ اپنے شہید قائد کی جدائی کے بڑے غم میں سوگوار ہے لیکن عاشورائے حسینی کے بلاواسطہ ورثہ داروں کی پیروی کرتے ہوئے، اس رنج و الم کو جنگي کارنامہ اور اس سوگ کو رجز بنا لیا۔ اور ان سب باتوں نے از سر تا پا مسلح دشمن کو حیرت اور بے بسی میں مبتلا کر دیا اور دنیا کے آزاد منش انسانوں کو داد و تحسین پر مجبور کر دیا ہے۔ اس بار مستکبرین کی جہالت اور نادانی کا نتیجہ یہ نکلا کہ مارچ 2026 ایران اور اسلامی انقلاب کی طاقت کے ابھر کر سامنے آنے اور اس کے نام کی سربلندی کے ایک نئے باب کا آغاز بن گیا اور اسلامی مملکت ایران کا پرچم نہ صرف ہماری زمینی حدود میں بلکہ پوری دنیا کے حق پسندوں کے دلوں کی گہرائیوں میں لہرا اٹھا۔

یہ مناسبت اس بات کا مناسب موقع ہے کہ اختصار سے اس عظیم الشان رہبر کا تعارف کرایا جائے۔ بات اس شخص کی ہے جو جتنا مشہور تھا، اتنا پہچانا نہیں گیا۔ سب جانتے ہیں کہ ہمارے شہید رہبر، ایک وقت شناس اور بابصیرت فقیہ، انتھک اور پہاڑ کی طرح مضبوط مجاہد، ربانی اور باعمل عالم، ذکر و تہجد اور بارگاہ الہی میں گریہ و زاری کرنے والے، معصومین (علیہم السلام) سے توسل کرنے والے اور دل کی گہرائیوں سے الہی وعدوں پر ایمان رکھنے والے تھے۔ ان کی دیگر خصوصیات میں ایران سے عشق اور ایران عزیز کی زیادہ سے زیادہ آزادی و خودمختاری کے لیے مسلسل کوشش تھی، جس کے ساتھ ساتھ وہ اتحاد اور قومی یکجہتی پر تاکید کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اسلامی نظام کے قیام اور اس کی بقا کی کوشش میں گزاری اور اسی کے ساتھ ان کی نظر میں عوام کے بغیر اسلامی جمہوریہ بے معنی تھی۔ طاقت اور اقتدار کے باوجود، وہ معاملات میں بڑی گہری سوچ اور باریک بینی رکھتے تھے۔ وہ ملک کی صلاحیتوں، خاص طور پر نوجوانوں پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی اور اس کے سائے میں ہونے والی پیشرفت کو اہمیت دیتے تھے۔ شہداء کے معزز اہل خانہ، جنگ میں اپنے اعضائے جسمانی کا نذرانہ پیش کرنے والے جانبازوں اور مقدس دفاع میں کسی بھی طرح شرکت کرنے والوں کا خاص احترام کرتے تھے۔ ان کے پاس مختلف میدانوں کے قیمتی تجربات تھے جن میں سے کئی تو عشروں پر محیط گرانقدر تجربے تھے اسی طرح ان میں دیگر متعدد خصوصیات تھیں جن کی فہرست طویل ہے۔ ان دنوں بعض میڈیا چینلز میں بار بار ان کے فن اور ہنر شناسی کی بات ہو رہی ہے۔ یہ عنصر اگرچہ اکیلے ہی کسی کی شخصیت کے لیے بڑی قدر پیدا کر سکتا ہے اور یقیناً ہمارے رہبر عزیز میں یہ حقیقی معنی میں اور اعلیٰ سطح پر موجود تھا لیکن یہ عنصر ان میں پائے جانے والے دیگر عناصر اور کمالات کے مقابلے میں چھوٹا نظر آتا ہے۔ میں ذاتی طور پر ان کے کئی کمالات سے واقف ہوں:

ان کا ایک بڑا ہنر جس پر کم توجہ دی گئی ہے، وہ عوام کے بڑے گروہوں اور سماجی طبقوں کے افکار، جذبات اور احساسات کی تعمیر کے ذریعے معاشرے کی تربیت اور پرورش کا ہنر تھا۔

ان کا دوسرا ہنر  ہدف کو مد نظر رکھ کر ایسے ادارے بنانا تھا جو انھوں نے اپنی قیادت کے ابتدائی برسوں میں دور رس آفاق پر نظر رکھتے ہوئے انجام دیا۔

ان کا ایک اور ہنر ملک کے فوجی ڈھانچے کو طاقتور بنانا تھا جس کے مثبت اثرات سے ایرانی قوم حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں میں مطلع اور مستفید ہوئی۔ اسی طرح سائنسی و اسٹریٹجک معاملات اور پالیسی سازی کے مختلف پہلوؤں میں ایجاد اور جدت طرازی کی قوت و صلاحیت ان کا ایک اور ہنر تھا، جس کی ایک جھلک نظام کی بنیادی پالیسیوں کی تدوین میں نظر آتی ہے۔ اسی کے ساتھ بروقت الفاظ اور اچھوتی تراکیب بنا کر نئے معنی پیدا کرنے کی استعداد، جن میں سے ہر ایک، معانی کا لشکر لیے ہوتا تھا اور اس سے عمومی بیانیہ تیار ہوتا تھا۔ اسی طرح وہ ہنر جو سختیوں اور امتحانوں میں ان کی بلند روح کے منجھ جانے سے اور حق کے راستے میں صبر و استقامت کی وجہ سے حاصل ہوا تھا، وہ آگے کے واقعات کی پیش بینی کا ہنر تھا کیونکہ "اَلمُؤمنُ یَنْظُرُ بنور اللہ" (مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔)" اور بہت سے دوسرے ہنر جنھیں بیان کرنا اس مختصر پیغام میں ممکن نہیں ہے۔

ان تمام کمالات اور خوبیوں کا سرچشمہ، اللہ کی خاص عنایات اور ہمارے آقا (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) اور ان کے پاکیزہ آبا و اجداد کی خصوصی عنایت کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ اگر اختصار سے کہا جائے تو شاید ان عنایات اور توجہات کے ان کی طرف مبذول ہونے کی وجہ کلمۂ حق کی سربلندی کے لیے ان کی مسلسل اور مخلصانہ جدوجہد ہے لیکن خاص طور پر پہلوی حکومت کے غدار نظام کے خلاف مجاہدت کی سختیوں کے علاوہ، انھوں نے فریضے کی ادائیگی کے راستے میں ایک اور خاص موقع سے بہت فائدہ اٹھایا جس کا عام لوگوں کو علم نہیں۔ تقدیر کچھ یوں تھی کہ اس نوجوان سید نے، جو علم کے شدید پیاسے اور عمل کے طالب تھے، اس وقت جب ان کے والد بزرگوار کی بینائی ختم ہو رہی تھی، قم میں عالی مرتبت اساتذہ کے سامنے برسوں تک زانوئے ادب تہہ کرنے کے بعد علمی پیشرفت اور مستقبل کی تعمیر کے تمام ظاہری مواقع کو چھوڑ دیا اور اللہ کے فضل پر بھروسہ کرتے ہوئے خود کو والد کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ اس ایثار کے نتیجے میں الہی فضل یوں ظاہر ہوا کہ اچانک علی خامنہ ای تیس سال سے کم عمر میں خراسان سے سورج کی طرح ابھرے اور جلد ہی فکر و مجاہدت کے ایک اہم ستون بن گئے اور ساتھ ہی مروجہ علوم میں بھی نمایاں پیشرفت کی، یہاں تک کہ سنہ 1970 کی دہائی میں ساواک (شاہی خفیہ ایجنسی) نے انھیں "خراسان کا خمینی" قرار دیا تھا۔ مجھے اس بات پر زور دینا چاہیے کہ ان کی باطنی اور ظاہری پیشرفت کا یہ سلسلہ اگلے مراحل میں بھی جاری رہا۔ اب بڑوں کے رویے اور خاص طور پر ایسی شخصیت سے سبق سیکھنے کے مقام پر، یہ بہت مناسب ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے مخلصانہ خیر خواہی اور ساتھ دینے کو اپنا طریقۂ کار بنائیں کیونکہ یہ خصوصیت اور اس کے ساتھ اللہ کی وسیع رحمت پر نظر رکھنا، حق کے پرچم تلے کھڑے ہونے والوں اور باطل کے پرچم کے گرد جمع ہونے والوں کے درمیان ایک اہم فرق ہے۔ یقیناً اس طریقے پر چلنا آسمان کے دروازے کھولنے والا اور ہر قسم کی الہی اور غیبی امداد نازل کرنے والا ہوگا، رحمت کی بارش سے لے کر دشمن پر غلبے اور یہاں تک کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی تک۔

ان ایام میں بار بار سنا جا رہا ہے کہ عزیز عوام کے مختلف گروہ بجا طور پر حسرت کے ساتھ اس زمانے کی اس لاثانی شخصیت کو یاد کر رہے ہیں اور آہستہ آہستہ ان کی عظیم شخصیت کے تابناک گوہر کے مزید پہلو ظاہر ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ان کے خاص افعال کی پیروی کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے، منجملہ ہمارے عزیز عوام نے شہادت کے وقت ان کی بند مٹھی سے سبق سیکھے اور اب یہی بند مٹھی بعض لوگوں کے لیے عقیدے کی ایک مشترکہ علامت بن گئی ہے۔ اس طرح ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ شہید کا اثر زندہ فرد سے زیادہ ہوتا ہے اور توحید، حق پسندی اور ظلم و فساد کے خلاف ان کی پکار، ان کی زندگی کے دور سے زیادہ گونجدار اور ان کا پیغام زیادہ موثر ہو گیا ہے اور اس عظیم شہید کی دلی خواہش، جو اس قوم اور دیگر مسلمان قوموں کی سعادت سے عبارت تھی، پہلے سے زیادہ حقیقت کے قریب ہو گئی ہے۔

ہم وطن بھائیو اور بہنو! آج اور تیسرے مقدس دفاع کے کارنامے کے اس لمحے تک، یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ آپ ایران کے عظیم عوام، اس میدان کے حتمی فاتح رہے ہیں۔

آج ایک عظیم طاقت کے طور پر اسلامی جمہوریہ کے ابھرنے اور سامراجیوں کے زوال کا آغاز ہر ایک کی نظروں کے سامنے ہے۔ یہ بلا شبہ ایک الہی نعمت ہے جو ہمارے شہید رہبر اور دیگر سرخ کفن پوش شہداء، مظلوم ہم وطنوں اور میناب کے "شجرۂ طیبہ" اسکول کے مرجھائے ہوئے پھولوں کے خون کی برکت سے اور بارگاہ الہی میں عوام کے تضرع و توسل، میدانوں، محلّوں اور مسجدوں میں ان کی مجاہدانہ موجودگی کے نتیجے میں اور اسی طرح سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، فوج، پولیس، (انٹیلیجنس اداروں کے اہلکاروں)گمنام سپاہیوں اور سرحدی محافظوں کی بے لوث اور مخلصانہ قربانیوں کی بدولت ایرانی قوم کو عطا ہوئی ہے۔ اس نعمت کا بھی دوسری نعمتوں کی طرح شکر ادا کرنا چاہیے تاکہ یہ باقی رہے اور بڑھتی جائے کیونکہ "لَئن شَکَرتُم لازیدَنَّکُم" (اگر تم شکر کرو گے تو میں تمھیں اور زیادہ نعمتیں عطا کروں گا۔") اس نعمت کا عملی شکر، "طاقتور ایران" کے حصول کے لیے بغیر رکے ہوئے مسلسل کوشش ہے۔

جو کچھ اس مرحلے میں، رہبر شہید کے اس نعرے اور اسٹریٹجک ہدف تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے وہ ہمارے عزیز عوام کی موجودگی کا تسلسل ہے جیسا کہ پچھلے چالیس دنوں میں رہا۔ یہ موجودگی اس منزلت کا ایک اہم ستون ہے جس پر اب مقتدر ایران فائز ہو گیا ہے۔

لہذا دشمن کے ساتھ مذاکرات کے ارادے کے اعلان سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ سڑکوں پر موجودگی کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے بلکہ اگر بالفرض، فوجی جنگ کے میدان میں خاموشی کا دور آ بھی گیا ہو تو ان تمام عوام کی ذمہ داری جو میدانوں، محلّوں اور مسجدوں میں موجود ہو سکتے ہیں، پہلے سے زیادہ سنگین نظر آتی ہے۔ یقیناً میدانوں میں آپ کے نعرے، مذاکرات کے نتیجے پر اثر انداز ہوتے ہیں، جیسا کہ "جان فدا برائے ایران" (ایران پر جان فدا کرنے والا) کیمپین کی دسیوں لاکھ کی حیرت انگیز اور بڑھتی ہوئی تعداد بھی اس میدان میں اثر انداز ہونے والے عناصر میں سے ہے۔ اللہ تعالی کے اذن سے، ان کرداروں اور ان کے تسلسل کے نتیجے میں، جو منظر نامہ ملت ایران کے سامنے ہے، وہ عزت، سربلندی اور خوشحالی سے بھرپور ایک درخشاں اور شاندار عہد کے آغاز کی نوید دیتا ہے۔ ہمارے رہبر شہید نے جب قیادت سنبھالی تھی، تو اسلامی جمہوریہ کا نظام ایک ایسے پودے کی طرح تھا جس پر اسلام اور ایران کے دشمنوں نے کئی زخم لگائے تھے تاہم اس نے ان سب کو بخوبی برداشت کیا تھا۔ لیکن جب قریب 37 سال بعد انھوں نے امت کی قیادت کی مسند چھوڑی، تو ایک ایسا "شجرۂ طیبہ" پیچھے چھوڑا جس کی جڑیں مضبوط ہیں اور اس کی شاخیں خطے اور دنیا کے اہم حصوں پر سایہ فگن ہیں۔ "زیادہ سے زیادہ طاقتور ایران" کی سوچ کے حصول کا راستہ معاشرے کے مختلف طبقوں کے درمیان اتحاد سے گزرتا ہے جس پر وہ بار بار تاکید کرتے تھے۔ اس اتحاد کے ایک نمایاں حصے نے ان چالیس دنوں میں عملی جامہ پہنا: لوگوں کے دل ایک دوسرے کے قریب آئے، مختلف رجحانات رکھنے والے طبقوں کے درمیان جمی ہوئی برف پگھلنا شروع ہوئی، سب وطن کے پرچم تلے اکٹھا ہوئے اور دن بدن اس مجمع کی تعداد اور معیار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بہت سے وہ لوگ جو ابھی تک اس طرح کی موجودگی تک نہیں پہنچ پائے، وہ دل سے میدانوں میں موجود ہجوم کے ساتھ ہم آواز ہیں۔

ان دنوں بہت سے لوگ دور رس آفاق پر نظریں جما کر ایک تمدنی نگاہ کو محسوس کر رہے ہیں اور اپنے لیے کوئی خیالی نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی حقیقتوں پر مبنی تصویر بنا رہے ہیں۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو کچھ عرصے پہلے تک ان تھوڑے سے لوگوں میں دیکھی جاتی تھی جن کے سربراہ رہبر شہید تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دیکھنے والا اس قوم کی تیز رفتار اور معجزانہ پیشرفت کو محسوس کرتا ہے اور یہ بات بے وجہ نہیں ہے کہ حالیہ دنوں میں جب اس دور کا مشہور رہبر، حکیم اور بلند مرتبہ فقیہ آپ سے اس بارے میں بات کرتا ہے تو بارہا، رندھ جانے والا گلا، کلام جاری رکھنے میں آڑے آ جاتا ہے۔

اسی مختصر سے پیغام میں، میں ایران کے جنوبی ہمسایوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ایک معجزہ دیکھ رہے ہیں۔ تو صحیح طریقے سے دیکھیں، صحیح طریقے سے سمجھیں، صحیح جگہ کھڑے ہوں اور شیطانوں کے جھوٹے وعدوں پر ہمیشہ شک کریں۔ ہم اب بھی آپ کی طرف سے مناسب ردعمل کے منتظر ہیں تاکہ ہم اپنی برادری اور خیر خواہی آپ کو دکھا سکیں۔ یہ تب تک ممکن نہیں جب تک آپ ان مستکبروں اور سامراجیوں سے منہ نہ موڑ لیں جو آپ کی تذلیل اور استحصال کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ یہ بات سبھی جان لیں کہ اللہ کے اذن سے ہم ان تخریب کار حملہ آوروں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے جنھوں نے ہمارے ملک پر حملہ کیا۔ ہمیں پہنچائے گئے ایک ایک نقصان کا ہرجانہ، شہیدوں کا خوں بہا اور اس جنگ کے جانبازوں کی دیت (خوں بہا) ہم ضرور مانگیں گے اور یقیناً آبنائے ہرمز کی مینجمنٹ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کریں گے۔ ہم جنگ کے خواہاں نہیں تھے اور نہ ہیں لیکن کسی بھی صورت میں اپنے مسلّمہ حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے اور ہم اس سلسلے میں پورے مزاحمتی محاذ کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اس وقت، اس چیز کے ہمیں ملنے کے مرحلے تک جو ہماری ہے، اول، سبھی عوام ایک دوسرے کا خیال رکھیں تاکہ جنگ کے قدرتی اثرات کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمیوں کا دباؤ مختلف طبقوں پر کم پڑے۔ البتہ یہ کمیاں، جو بعض اوقات آپ کے سامنے والے محاذ پر کہیں زیادہ موجود ہیں، حکومت اور دیگر اداروں میں آپ کے بھائیوں اور بہنوں کی کوششوں سے کافی حد تک مینیج کر لی گئی ہیں۔

دوسرے، اپنے کانوں کی حفاظت جو کہ دماغ اور دل کی کھڑکی ہے، دشمن کے حمایت یافتہ یا ان کے ہم نوا میڈیا کے مقابلے میں ضروری ہے۔ یقیناً وہ میڈیا ملک اور ملت ایران کا خیر خواہ نہیں ہے اور یہ بات بارہا ثابت ہو چکی ہے۔ اس لیے یا تو ہم ان کا استعمال بالکل ترک کر دیں یا کم از کم ان کی پیش کردہ ہر چیز کو شدید شک و شبہے کی نظر سے دیکھیں۔

تیسرے، اگرچہ عزیز قوم اپنے عظیم الشان رہبر کی شہادت کے سرکاری سوگ کی مدت ختم ہونے پر سوگ کا لباس اتار دے گی لیکن ان کے پاکیزہ خون اور دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے تمام شہداء کے خون کا بدلہ لینے کا پختہ عزم اپنے روح اور دل میں زندہ رکھے گی اور مسلسل اس کے پورا ہونے کا انتظار کرے گی۔

آخر میں اپنے آقا عجّل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی بارگاہ میں عرض کرتا ہوں کہ ہم اللہ پر ایمان، ائمہ معصومین علیہم السلام سے توسل اور اپنے شہید قائد کی پیروی کرتے ہوئے آپ کے پرچم تلے کفر اور استکبار کے محاذ کے سامنے کھڑے ہیں اور اس راستے میں ملک کی عزت و آزادی اور اسلام و اسلامی انقلاب کی سربلندی کے لیے ہم نے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے گرانقدر شہداء پیش کیے ہیں اور دیگر نقصانات بھی اٹھائے ہیں۔ اب ہم پورے وجود کے ساتھ دشمن پر حتمی غلبے کے لیے، خواہ مذاکرات کے میدان میں ہو یا جنگ کے میدان میں، آپ کی خاص دعا کے منتظر ہیں اور پرامید ہیں کہ جلد سے جلد ہم اور ہمارے دشمن دونوں اس کے معجزانہ اثر کا مشاہدہ کریں، ان شاء اللہ۔

والسّلام علیکم و رحمت‌ اللہ و برکاتہ

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

9 اپریل 2026

9 اپریل 2026