صدام کی مسلط کردہ جنگ میں ایران کی فتح روز روشن کی مانند نمایاں ہے
گزشتہ دو صدیوں میں شاہی حکومتوں کے دور میں، طاغوتی حکومتوں کے دور میں جو جنگیں ہوئیں ان میں ایران کو ہمیشہ شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ ان جنگوں میں بھی جن میں ایران نے غیر جانبداری کا اعلان کیا تھا۔
ایران نے پہلی عالمی جنگ میں بھی اور دوسری عالمی جنگ میں بھی غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا مگر دونوں جنگوں کے دوران ایران پر قبضہ ہو گیا۔
دوسری عالمی جنگ میں اسی شہر تہران میں امریکی فورسز اور سوویت یونین کی فورسز سڑکوں پر پریڈ کرتی تھیں۔ تین ممالک کے سربراہ بغیر اجازت، بغیر ویزا اور بغیر پیشگی اطلاع کے ایران آ گئے اور یہاں آکر میٹنگ کی۔ شاہ ایران محمد رضا میٹنگ میں گیا تو اس کی بے عزتی بھی کی۔
میٹنگ میں تین سربراہ بیٹھے تھے۔ جب شاہ میٹنگ ہال میں پہنچا تو دو لوگ چرچل اور روزولٹ اپنی کرسی سے اٹھے تک نہیں۔ ایک کرسی رکھوا دی تھی جس پر شاہ جاکر بیٹھ گیا۔ صرف اسٹالن اپنی کرسی سے اٹھا۔ ملک کی یہ حالت تھی۔ روس سے جنگ میں قفقاز کا علاقہ ہاتھ سے نکل گیا۔ برطانیہ نے بوشہر میں، جنوبی علاقوں میں، خلیج فارس میں ہمیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔
مگر صدام ایران کے خلاف اپنی جنگ میں ہماری سرزمین کا ایک انچ ٹکڑا بھی الگ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا جبکہ اسے امریکہ، سوویت یونین اور نیٹو کی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔
21 ستمبر 2020
23 ستمبر 2020

