امریکا سے نہیں ڈرنا چاہیے اور ایرانی قوم نہیں ڈرتی۔ قوم کے سبھی طبقوں میں شجاعت کی جو یہ روح، اللہ پر توکل اور جوش و جذبہ ہے، اس سے یہ قوم فتحیاب ہوگی، اپنے اہداف حاصل کرے گی اور دشمنوں کو جھکا کر رہے گی۔ کوئی بھی دشمن، ایرانی قوم کو اس راہ پر چلنے سے نہیں روک سکتا، جو اسلام نے اس کے سامنے رکھی ہے۔ بس یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ علی ابن ابی طالب کی طرح دشمن کی کثرت سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ امام خامنہ ای 19 جنوری 1992
11 مارچ 2026
دشمن پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آ گیا ہے، خطے میں فوجی سازوسامان کی ترسیل سے لے کر سیاسی دھمکیوں اور بڑبولے پن تک اور شاید سب سے وسیع اور پیچیدہ، بے تحاشا اور ہمہ گير نفسیاتی اور میڈیا آپریشنز تک۔ طریقے اور اسٹریٹیجیز مختلف ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کر رہے ہیں لیکن ہدف ایک ہی ہے؛ سامراجی پالیسیاں مسلط کرنا اور ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا۔ وہی چیز جس کا اعلان امریکی صدر نے بارہ روزہ جنگ کے دوران "غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے" کی صورت میں کیا تھا اور اس کا خواب دیکھا تھا لیکن آخر کار ایران کی مسلح فورسز کی مردانہ وار استقامت اور ایرانی عوام کی مزاحمت و قومی اتحاد کے نتیجے میں دشمن کو پسپائی اختیار کرنے اور جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا۔
25 فروری 2026
انسانوں کے سلسلے میں امیر المومنین کا احساس بے نظیر ہے، صرف مسلمانوں اور اپنے پیروکاروں کے ہی بارے میں نہیں بلکہ سبھی انسانوں کے بارے میں آپ کا احساس اوج پر ہے۔
7 جنوری 2026
امیرالمؤمنین کی عبادت، ان کی نماز، ان کی گڑگڑاہٹ، خدا سے ان کی باتیں، فرشتوں تک کو متحیر کر دیتی تھیں۔
6 جنوری 2026
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت اور شہید سلیمانی کی برسی پر شہید سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے اہل خانہ اور بارہ روزہ جنگ میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے 3 جنوری 2026 کی اپنی ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے خطاب کرتے ہوئے مولائے کائنات کی جائے پیدایش اور حضرت ہی عظیم صفات پر گفتگو کی۔ انہوں نے شہید سلیمانی کی شخصیت اور خصوصیات پر روشنی ڈالی ساتھ ہی در پیش مسائل و حالات کا جائزہ لیا۔ خطاب حسب ذیل ہے:
5 جنوری 2026
رہبر انقلاب اسلامی نے مولی الموحدین امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے یوم ولادت با سعادت اور الحاج قاسم سلیمانی، ابو مہدی المہندس اور ان کے دیگر ساتھیوں کی چھٹی برسی کے موقع پر سنیچر 3 جنوری 2026 کی صبح بارہ روزہ جنگ میں شہید ہونے والوں (شہدائے اقتدار) کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔
3 جنوری 2026
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت پر سنیچر 3 جنوری 2026 کی صبح شہید قاسم سلیمانی کے اہل خانہ، ان کے ہمراہ شہید ہونے والے ان کے ساتھیوں کے اہل خانہ اور شہدائے اقتدار کے بعض اہل خانہ نے حسینیۂ امام خمینی میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی۔
3 جنوری 2026
امیر المومنین کی عدالت کے بارے میں تو کوئی لب کشائی ہی نہیں کر سکتا۔ عدل علی کی توصیف ممکن ہی نہیں ہے۔ ان کا ایک جملہ ہے جس میں وہ فرماتے ہیں: "اگر مجھے سخت ترین ایذائیں دیں، میرے برہنہ جسم کو کانٹوں پر گھسیٹیں تب بھی یہ سب میرے لیے اس سے بہتر ہے کہ میں قیامت کے دن خدا سے اس حال میں ملوں کہ کسی پر مجھ سے ظلم ہوا ہو! آپ غور کیجیے کہ یہ باتیں کون کر رہا ہے؟ وہ جس کی حکومت دریائے جیحون سے دریائے نیل تک پھیلی ہوئی ہے۔ یعنی ایران، افغانستان، عراق اور مصر اس میں شامل تھے۔ یہ امیر المومنین کا عدل ہے۔ امام خامنہ ای 25 جون 2024
2 جنوری 2026
امیرالمومنین علیہ السلام کا سیاسی طرز عمل ان کے معنوی و اخلاقی طرز عمل سے الگ نہیں ہے۔ امیرالمومنین کی سیاست، روحانیت و اخلاقیات سے آمیختہ ہے بلکہ یہ (سیاست) علی کی معنویت و روحانیت اور ان کے اخلاق سے ہی ماخوذ ہے۔ امام خامنہ ای 11 ستمبر 2009
12 جنوری 2025
امیرالمومنین علیہ السلام نے خلافت کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد لمحہ بھر کے لئے بھی انصاف کے نفاذ سے ہاتھ نہیں کھینچا۔ آپ انصاف کی راہ پر سختی کے ساتھ ڈٹے رہے اور بعد میں اسی راہ پر چلتے ہوئے شہید ہوگئے: "قتل فى محراب عبادتہ لشدّۃ عدلہ" (امیرالمومنین محراب عبادت میں اپنے شدید انصاف کے سبب شہید کر دیے گئے۔) امام خامنہ ای 287 اکتوبر 1998
15 ستمبر 2024
امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت اور ولایت کا مسئلہ، کفار کی مایوسی کا موجب قرار دیا گیا ہے: "آج کافر آپ کے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے۔" (سورۂ مائدہ، آیت نمبر 203) ایک دوسری جگہ یہ آیت مبارکہ ہے: "اور جو تولاّ رکھے، اللہ سے، اس کے رسول سے اور صاحبانِ ایمان سے (وہ اللہ کا گروہ ہے) اور بے شک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے۔" (سورۂ مائدہ، آیت 56) امام خامنہ ای 29 اگست 2018
8 ستمبر 2024
امیر المومنین علیہ السلام تاریک اور اندھیری رات میں پیغمبر کے بستر پر سونے کے لیے تیار ہو گئے تاکہ پیغمبر اس گھر اور اس شہر سے باہر نکل جائيں۔ اس رات، اس بستر پر سونے والے کا مارا جانا، قریب قریب یقینی اور قطعی تھا۔
7 ستمبر 2024