بیسویں صدی کے اواسط میں سامراج مخالف تحریکوں کے دوران دنیا کے سیاسی نقشے میں ایک بڑی تبدیلی آئی تھی، آج بھی اسی طرح ایک بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔
30 جون 2026
تبدیلی لانے کی ایک شرط دشمن اور دشمنیوں سے خوف زدہ نہ ہونا ہے۔ خداوند قدیر نے اپنے پیغمبر سے فرمایا ہے: اور آپ لوگوں (کی طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ (سورۂ احزاب، آیت 37) لوگوں سے ڈرنا نہیں چاہیے، ان کی اُن کی باتوں سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک اقدام صحیح، اہم، ٹھوس اور نپے تلے انداز میں انجام پا رہا ہے تو ان باتوں کا خیال نہیں کرنا چاہیے۔ بیرونی دشمنوں کی بھی پروا نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا فکری محاذ یہی ہے کہ جب بھی ملک میں کچھ اہم، صحیح اور منطقی فیصلے کیے جائیں تو یہ اپنے وسیع پروپیگنڈوں کے ذریعے ان پر طرح طرح کے سوال کھڑے کر دیں اور اس پروپیگنڈہ سامراج کے ذریعے جو صیہونیوں کے ہاتھ میں ہے، ان کی سرکوبی کر دیں، انھیں نابود کر دیں اور تباہ کردیں۔ امام خامنہ ای 3 جون 2020
19 جنوری 2026
اس چالیس پینتالیس سال کے عرصے میں ان سے جو بھی ہو سکا، انھوں نے کیا، یعنی ایک ملک کے خلاف ایسا کوئي بھی ممکنہ معاندانہ کام نہیں تھا جو انھوں نے نہ کیا ہو لیکن شکست کھائی۔
10 جنوری 2026
یہ بین الاقوامی انارکی یقینی طور پر انھیں پشیمان کر دے گی، امریکا نے داعش کو انارکی پیدا کرنے کے لیے وجود عطا کیا، خود اس کا دامن بھی جل گیا۔
11 نومبر 2025
امریکا اور مغرب، تسلط پسندی کے خواہاں ہیں ورنہ آپ سے کیا مطلب ہے کہ آپ ایران کے میزائیلوں کے بارے میں اظہار خیال کریں؟ کیا آپ یہ بات تسلیم کریں گے کہ ہم کہیں کہ جب تک یورپ کے پاس میزائيل اور ایٹمی ہتھیار ہے، وہ ہم سے جنگ کے لیے تیار رہے؟
10 نومبر 2025
رہبر انقلاب کے افکار و نظریات کے تناظر میں "ہم اور مغرب" نامی کانفرنس کی اختتامی تقریب اسلامی جمہوریہ ایران کے نشریاتی ادارے کے کانفرنس سینٹر میں پیر 10 نومبر 2025 کو ملک کے بعض پروفیسرز، مفکرین اور اہم علمی و سیاسی شخصیات کی شرکت سے منعقد ہوئی۔
10 نومبر 2025
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 13 آبان مطابق 4 نومبر عالمی سامراج کے خلاف مجاہدت کے قومی دن کی مناسبت سے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا وطالبات سے 3 نومبر 2025 کو اپنے خطاب میں اس تاریخی دن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ آپ نے امریکہ اور اسلامی جمہوریہ کے تعلقات کے ماضی، حال اور مستقبل کے سلسلے میں تجزیاتی گفتگو کی۔ خطاب حسب ذیل ہے:
4 نومبر 2025
امریکا کی سامراجی فطرت اور انقلاب کی خود مختارانہ فطرت آپس میں میل نہیں کھاتی تھی۔ اسلامی جمہوریہ اور ایران کا اختلاف ایک ٹیکٹکل اختلاف نہیں ہے، ایک جزوی اختلاف نہیں ہے، بلکہ ایک بنیادی اختلاف ہے۔
4 نومبر 2025
پوچھا جاتا ہے کہ کیا ہم امریکہ سے ہمیشہ تعلقات منقطع رکھیں گے؟ امریکہ کا استکباری مزاج سرینڈر کے سوا کسی اور چیز کو قبول ہی نہیں کرتا۔ امریکہ کے موجودہ صدر نے یہ زبان سے کہہ کر درحقیقت امریکہ کی حقیقت بے نقاب کی ہے۔ ایران جیسی عظیم قوم کے لیے سرینڈر ہونے کا کیا مطلب ہے؟
3 نومبر 2025